🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
96. باب قتل الحيوان - ذكر البيان بأن استثناء المصطفى صلى الله عليه وسلم كلب الحرث والماشية من بين عموم الإمساك لم يرد به النفي عما وراءه-
جانور کے قتل (مارنے) کا بیان - ذکر بیان کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھیت اور مویشی کے کتے کو عام رکھنے سے مستثنیٰ کیا، اس سے اس کے علاوہ کی نفی مراد نہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5655
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُغَفَّلِ ، قَالَ: قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيُّمَا قَوْمٍ اتَّخَذُوا كَلْبًا لَيْسَ بِكَلْبِ صَيْدٍ أَوْ زَرْعٍ، أَوْ مَاشِيَةٍ، نَقَصَ مِنْ أُجُورِهِمْ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ" .
سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو لوگ بھی ایسا کتا پالتے ہیں جو شکار کرنے کے لیے، یا کھیت کی حفاظت کے لیے، یا جانوروں کی حفاظت کے لیے نہ ہو، تو ان کے اجر میں سے روزانہ ایک قیراط کم ہوتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5655]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 280، 280، 1573، 1573، وابن الجارود فى "المنتقى"، 59، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1298، 5650، 5655، 5656، 5659، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 67، وأبو داود فى (سننه) برقم: 74، 2845، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1486، 1489، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 365، 3200، 3201، 3205، والدارقطني فى (سننه) برقم: 191، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17061» «رقم طبعة با وزير 5626»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - مضى قريباً (5621). تنبيه!! رقم (5621) = (5650) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
97. باب قتل الحيوان - ذكر الإخبار عما أراد المصطفى صلى الله عليه وسلم زجره عن قتل الكلاب-
جانور کے قتل (مارنے) کا بیان - ذکر خبر کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوں کو مارنے سے روکنے کا کیا ارادہ کیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5656
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلامٍ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ: كُنَّا فِي جَنَازَةِ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ الْعَلاءِ، وَمَعَنَا شُعْبَةُ، فَلَمَّا دُفِنَ، قَالَ شُعْبَةُ حَدَّثَنِي هَذَا وَأَشَارَ إِلَى قَبْرِ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ الْعَلاءِ ، قَالَ: قُلْتُ لِلْحَسَنِ : مَنْ حَدَّثَكَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَوْلا أَنَّ الْكِلابَ أُمَّةٌ مِنَ الأُمَمِ، لأَمَرْتُ بِقَتْلِهَا"؟ فَقَالَ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُغَفَّلِ ، وَاللَّهِ الَّذِي لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ حَدَّثَنِي فِي هَذَا الْمَسْجِدِ، وَأَوْمَأَ إِلَى مَسْجِدِ الْجَامِعِ. قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: اسْمُ أَبِي سُفْيَانَ: سَعْدٌ، وَلَقَبُهُ سُلْسٌ، وَلَيْسَ لأَبِي سُفْيَانَ بْنِ الْعَلاءِ فِي الدُّنْيَا حَدِيثٌ مُسْنَدٌ غَيْرَ هَذَا، وَهُوَ أَخُو أَبِي عَمْرِو بْنِ الْعَلاءِ، وَأَبُو عَمْرِو بْنُ الْعَلاءِ اسْمُهُ زَبَّانُ، وَهُمْ أَرْبَعَةٌ: أَبُو مُعَاذٍ، وَعُمَرُ.
سید بن عبید بیان کرتے ہیں: ہم لوگ ابوسفیان بن علاء کے جنازے میں شریک ہوئے، ہمارے ساتھ شعبہ بھی تھے، جب ابوسفیان کو دفن کر دیا گیا تو شعبہ نے ابوسفیان کی قبر کی طرف اشارہ کر کے کہا: ان صاحب نے مجھے حدیث بیان کی ہے، یہ کہتے ہیں: میں نے حسن سے کہا: آپ کو کس نے یہ حدیث بیان کی ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اگر کتے ایک باقاعدہ قسم کی مخلوق نہ ہوتے تو میں انہیں مار دینے کا حکم دیتا۔“ تو انہوں نے جواب دیا: سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے، اس ذات کی قسم! جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے، انہوں نے اس مسجد میں مجھے یہ حدیث بیان کی تھی، حسن نے جامع مسجد کی طرف اشارہ کر کے یہ بات بیان کی تھی۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابوسفیان نامی راوی کا نام سعد ہے اور ان کا لقب ”سلس“ ہے، ابوسفیان بن علاء کے حوالے سے دنیا میں اس کے علاوہ اور کوئی مسند حدیث موجود نہیں ہے، یہ ابوعمرو بن علاء کے بھائی تھے اور عمرو بن علاء کا نام زبان تھا، یہ چار بھائی تھے، (ان کے علاوہ دو بھائیوں کے نام) ابومعاذ اور عمر ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5656]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 280، 280، 1573، 1573، وابن الجارود فى "المنتقى"، 59، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1298، 5650، 5655، 5656، 5659، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 67، وأبو داود فى (سننه) برقم: 74، 2845، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1486، 1489، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 365، 3200، 3201، 3205، والدارقطني فى (سننه) برقم: 191، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17061» «رقم طبعة با وزير 5627»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «غاية المرام» (148). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
98. باب قتل الحيوان - ذكر إرادة المصطفى صلى الله عليه وسلم الأمر بقتل الكلاب كلها-
جانور کے قتل (مارنے) کا بیان - ذکر ارادہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کہ تمام کتوں کو مارنے کا حکم دیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5657
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُغَفَّلِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْلا أَنَّ الْكِلابَ أُمَّةٌ مِنَ الأُمَمِ، لأَمَرْتُ بِقَتْلِهَا، فَاقْتُلُوا مِنْهَا الأَسْوَدَ الْبَهِيمَ، قَالَ: وَأَيُّمَا قَوْمٍ اتَّخَذُوا كَلْبًا لَيْسَ بِكَلْبِ حَرْثٍ، أَوْ صَيْدٍ، أَوْ مَاشِيَةٍ، نَقَصَ مِنْ أَجْرِهِمْ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ"، قَالَ: وَكُنَّا نُؤْمَرُ أَنْ نُصَلِّيَ فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ، وَلا نُصَلِّيَ فِي أَعْطَانِ الإِبِلِ، فَإِنَّهَا خُلِقَتْ مِنَ الشَّيَاطِينِ .
سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر کتے ایک باقاعدہ قسم کی مخلوق نہ ہوتے تو میں انہیں مار دینے کا حکم دیتا، البتہ تم ان میں سے سیاہ فام کتے کو مار دیا کرو۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو لوگ کوئی ایسا کتا پالتے ہیں جو کھیت کی حفاظت یا شکار یا جانوروں کی حفاظت کے لیے نہ ہو تو ان کے اجر میں سے روزانہ ایک قیراط کم ہوتا ہے۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ ہمیں اس بات کا حکم دیا گیا تھا کہ ہم بکریوں کے باڑے میں نماز ادا کر سکتے ہیں، البتہ ہم اونٹوں کے باڑے میں نماز ادا نہ کریں کیونکہ ”وہ شیاطین سے پیدا کیے گئے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5657]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1702، 5657، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 734، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 816، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 769، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4423، 4424، 4428، 4429، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17062» «رقم طبعة با وزير 5628»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - المصدر نفسه. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
99. باب قتل الحيوان - ذكر العلة التي من أجلها أمر صلى الله عليه وسلم بقتل الأسود البهيم من الكلاب-
جانور کے قتل (مارنے) کا بیان - ذکر وجہ جس کی بنا پر صلی اللہ علیہ وسلم نے سیاہ بھاری کتوں کو مارنے کا حکم دیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5658
أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَوْلا أَنَّ الْكِلابَ أُمَّةٌ مِنَ الأُمَمِ، لأَمَرْتُ بِقَتْلِهَا، وَلَكِنِ اقْتُلُوا الْكَلْبَ الأَسْوَدَ الْبَهِيمَ، فَإِنَّهُ شَيْطَانٌ" .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اگر کتے ایک باقاعدہ قسم کی مخلوق نہ ہوتے تو میں انہیں مار دینے کا حکم دیتا، البتہ تم ان میں سے سیاہ فام کتے کو مار دو کیونکہ وہ شیطان ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5658]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1572، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5651، 5658، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2846، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 11148، 11149، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14718» «رقم طبعة با وزير 5629»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح لغيره - «غاية المرام» (114/ 148)، «صحيح أبي داود» (2535). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
100. باب قتل الحيوان - ذكر الإباحة لصاحب الحرث اقتناء الكلاب لينتفع بها-
جانور کے قتل (مارنے) کا بیان - ذکر اجازت کہ کھیت کے مالک کو کتوں کو رکھنے کی اجازت ہے تاکہ وہ ان سے نفع اٹھائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5659
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بِحَرَّانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمِّي ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَخَّصَ فِي كَلْبِ الْحَرْثِ" .
سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”کھیت (کی حفاظت کے لیے) کتا پالنے کی اجازت دی ہے“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5659]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 280، 280، 1573، 1573، وابن الجارود فى "المنتقى"، 59، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1298، 5650، 5655، 5656، 5659، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 67، وأبو داود فى (سننه) برقم: 74، 2845، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1486، 1489، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 365، 3200، 3201، 3205، والدارقطني فى (سننه) برقم: 191، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17061» «رقم طبعة با وزير 5630»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح لغيره - «صحيح أبي داود» (2535): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
101. باب ما جاء في التباغض والتحاسد والتدابر والتشاجر والتهاجر بين المسلمين - ذكر الزجر عن التباغض والتحاسد والتدابر بين المسلمين-
مسلمانوں کے درمیان بغض، حسد، منہ موڑنے، جھگڑنے اور قطع تعلقی کے بارے میں وارد احادیث کا بیان - ذکر منع کہ مسلمانوں کے درمیان بغض، حسد، دشمنی، جھگڑا اور ہجرت سے روکا گیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5660
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لا تَبَاغَضُوا، وَلا تَحَاسَدُوا، وَلا تَدَابَرُوا، وَكُونُوا عِبَادًا لِلَّهِ إِخْوَانًا، وَلا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلاثٍ" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو، آپس میں حسد نہ رکھو، ایک دوسرے سے پیٹھ نہ پھیرو۔ اللہ کے بندو! بھائی بھائی بن کر رہو۔ کسی بھی مسلمان کے لیے یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ تین دن سے زیادہ اپنے بھائی سے لاتعلق رہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5660]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 6065، 6076، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2559، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5660، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4910، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1935، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 14891، 21123، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12256» «رقم طبعة با وزير 5631»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (2029): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
102. باب ما جاء في التباغض والتحاسد والتدابر والتشاجر والتهاجر بين المسلمين - ذكر الزجر عن المشاحنة بين المسلمين إذ الغفران يكون عن المشاحن بعيدا-
مسلمانوں کے درمیان بغض، حسد، منہ موڑنے، جھگڑنے اور قطع تعلقی کے بارے میں وارد احادیث کا بیان - ذکر منع مسلمانوں کے درمیان دشمنی سے، کیونکہ مغفرت دشمنی کرنے والوں سے دور ہوتی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5661
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تُفْتَحُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ كُلَّ يَوْمِ اثْنَيْنِ وَخَمِيسٍ، فَيَغْفِرُ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا لِكُلِّ عَبْدٍ لا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا، إِلا رَجُلا بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ شَحْنَاءُ، فَيُقَالُ: أَنْظِرُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا، أَنْظِرُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہر پیر اور جمعرات کے دن جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہر اس بندے کی مغفرت کر دیتا ہے جو کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہراتا ہو، صرف اس آدمی کی مغفرت نہیں ہوتی جس کی اپنے کسی بھائی کے ساتھ ناراضگی چل رہی ہو۔ یہ حکم دیا جاتا ہے: ان دونوں کا جائزہ لیتے رہو جب تک یہ صلح نہیں کرتے (ان کی مغفرت نہیں ہو گی)، ان دونوں کا جائزہ لیتے رہو جب تک یہ صلح نہیں کرتے (ان کی مغفرت نہیں ہو گی)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5661]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2565، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2120، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3644، 5661، 5663، 5666، 5667، 5668، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4916، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2023، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6487، 6488، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7754» «رقم طبعة با وزير 5632»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «غاية المرام» (412): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الصحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
103. باب ما جاء في التباغض والتحاسد والتدابر والتشاجر والتهاجر بين المسلمين - ذكر الزجر عن الهجران بين المسلمين أكثر من ثلاث ليال-
مسلمانوں کے درمیان بغض، حسد، منہ موڑنے، جھگڑنے اور قطع تعلقی کے بارے میں وارد احادیث کا بیان - ذکر منع کہ مسلمانوں کے درمیان تین راتوں سے زیادہ ہجرت نہ کی جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5662
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ الْحَارِثِ وَهُوَ ابْنُ أَخِي عَائِشَةَ لأُمِّهَا، أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ، قَالَ فِي بَيْعٍ أَوْ عَطَاءٍ أَعْطَتْهُ: وَاللَّهِ لَتَنْتَهِيَنَّ عَائِشَةُ، أَوْ لأَحْجُرَنَّ عَلَيْهَا، قَالَتْ عَائِشَةُ حِينَ بَلَغَهَا ذَلِكَ: إِنَّ لِلَّهِ عَلَيَّ نَذْرًا أَنْ لا أُكَلِّمَ ابْنَ الزُّبَيْرِ أَبَدًا، فَاسْتَشْفَعَ ابْنَ الزُّبَيْرِ حِينَ طَالَتْ هِجْرَتُهَا لَهُ إِلَيْهَا، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: وَاللَّهِ لا أُشَفِّعُ فِيهِ أَحَدًا، وَلا أَحْنَثُ فِي نَذْرِي الَّذِي نَذَرْتُ أَبَدًا، فَلَمَّا طَالَ ذَلِكَ عَلَى ابْنِ الزُّبَيْرِ، كَلَّمَ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ، وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الأَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ يَغُوثَ، وَهُمَا مِنْ بَنِي زُهْرَةَ، فَقَالَ لَهُمَا: نَشَدْتُكُمَا بِاللَّهِ إِلا أَدْخَلْتُمَانِي عَلَى عَائِشَةَ، فَإِنَّهُ لا يَحِلُّ لَهَا أَنْ تَنْذِرَ فِي قَطِيعَتِي، فَأَقْبَلَ الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الأَسْوَدِ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَقَدِ اشْتَمَلا عَلَيْهِ بِبُرْدَيْهِمَا، حَتَّى اسْتَأْذَنَا عَلَى عَائِشَةَ، فَقَالا: السَّلامُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِيهٍ نَدْخُلُ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ؟ فَقَالَتْ عَائِشَةُ: ادْخُلا، فَقَالا: كُلُّنَا؟ قَالَتْ: نَعَمْ، ادْخُلُوا كُلُّكُمْ، وَلا تَعْلَمُ عَائِشَةُ أَنَّ مَعَهُمَا ابْنَ الزُّبَيْرِ، فَلَمَّا دَخَلُوا، اقْتَحَمَ ابْنُ الزُّبَيْرِ الْحِجَابَ، وَدَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ، فَاعْتَنَقَهَا، وَطَفِقَ يُنَاشِدُهَا وَيَبْكِي، وَطَفِقَ الْمِسْوَرُ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ يُنَاشِدَانِ عَائِشَةَ، وَيَقُولانِ لَهَا:" إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَى عَمَّا عَلِمْتِيهِ، وَإِنَّهُ لا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلاثٍ ، فَلَمَّا أَكْثَرَا عَلَى عَائِشَةَ التَّذْكِرَةَ، طَفِقَتْ تُذَكِّرُهُمْ وَتَبْكِي، وَتَقُولُ: إِنِّي نَذَرْتُ وَالنَّذْرُ شَدِيدٌ، فَلَمْ يَزَالا بِهَا حَتَّى كَلَّمَتِ ابْنَ الزُّبَيْرِ، ثُمَّ أَعْتَقَتْ عَنْ نَذْرِهَا ذَلِكَ أَرْبَعِينَ رَقَبَةً، ثُمَّ كَانَتْ بَعْدَمَا أَعْتَقَتْ أَرْبَعِينَ رَقَبَةً تَبْكِي حَتَّى تَبُلَّ دُمُوعُهَا خِمَارَهَا"، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: عَائِشَةُ هِيَ خَالَةُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، لأَنَّ أُمَّ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ أُخْتُ عَائِشَةَ.
عوف بن حارث جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے قریبی عزیز ہیں، وہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات بتائی کہ ایک مرتبہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے کچھ فروخت کرنے پر یا عطیے کے طور پر کوئی چیز دینے پر سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے یہ کہا کہ اللہ کی قسم! یا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ایسا کرنے سے باز آ جائیں گی یا میں انہیں تصرف کرنے سے روک دوں گا۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا تک جب یہ بات پہنچی تو انہوں نے کہا کہ اللہ کے نام پر مجھ پر یہ نذر لازم ہے، اب میں عبداللہ بن زبیر کے ساتھ کبھی کلام نہیں کروں گی۔ جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی ان سے لاتعلقی زیادہ ہو گئی تو عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے ان کی خدمت میں سفارش پیش کی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ اللہ کی قسم! میں اس کے بارے میں کسی کی سفارش کو قبول نہیں کروں گی اور میں نے جو نذر مانی ہے کبھی اس کی خلاف ورزی نہیں کروں گی۔ جب زیادہ عرصہ گزر گیا تو سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے اس بارے میں سیدنا مسور بن مخرمہ اور سیدنا عبدالرحمن بن اسود رضی اللہ عنہما سے بات کی۔ یہ دونوں صاحبان بنو زہرہ سے تعلق رکھتے تھے۔ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے ان دونوں سے کہا کہ میں آپ دونوں کو اللہ کا واسطہ دے کر یہ کہتا ہوں کہ آپ مجھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں لے جائیں کیونکہ ان کے لیے ایسی نذر ماننا جائز نہیں ہے جس میں وہ مجھ سے تعلق توڑ لیں۔ تو مسور بن مخرمہ اور عبدالرحمن بن اسود رضی اللہ عنہما، عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو ساتھ لے کر گئے۔ ان دونوں نے اپنی چادریں ان پر ڈال دیں اور ان دونوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اندر آنے کی اجازت مانگی۔ ان دونوں نے کہا کہ «السَّلَامُ عَلَى النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم » ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام نازل ہو“ اے ام المؤمنین! کیا ہم اندر آ جائیں؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ تم دونوں آ جاؤ۔ ان دونوں نے عرض کی کہ کیا ہم سب آ جائیں؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ ہاں تم سب آ جاؤ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو اس کا پتا نہیں تھا کہ ان دونوں کے ساتھ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بھی ہیں۔ جب یہ حضرات اندر داخل ہوئے تو سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے پردہ ہٹایا اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ انہوں نے ان کو گلے لگا لیا اور وہ روتے ہوئے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو واسطے دینے لگے۔ سیدنا مسور بن مخرمہ اور سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہما نے بھی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو واسطہ دیا اور ان دونوں نے ان سے کہا کہ آپ نے جو طرز عمل اختیار کیا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع کیا ہے کہ ”کسی بھی مسلمان کے لیے اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ لاتعلق رہنا جائز نہیں ہے۔“ جب ان دونوں صاحبان نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو زیادہ وعظ و نصیحت کی تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں یاد دلانا شروع کیا اور رونا شروع کر دیا اور یہ کہا کہ میں نے نذر مانی ہے اور نذر کا معاملہ شدید ہوتا ہے۔ لیکن وہ دونوں صاحبان ان کے ساتھ مسلسل بات کرتے رہے یہاں تک کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے ساتھ بات چیت کرنا شروع کر دی۔ پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنی نذر کے عوض میں چالیس غلام آزاد کیے۔ چالیس غلام آزاد کرنے کے بعد بھی وہ روتی رہتی تھیں یہاں تک کہ ان کی چادر ان کے آنسوؤں سے تر ہو جایا کرتی تھی۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا، سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی خالہ تھیں کیونکہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی والدہ سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی بہن ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5662]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3505، 6073، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5662، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 11456، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19224» «رقم طبعة با وزير 5633»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: خ (6073 - 6075). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
104. باب ما جاء في التباغض والتحاسد والتدابر والتشاجر والتهاجر بين المسلمين - ذكر الزجر عن أن يهجر المرء أخاه المسلم فوق ثلاث ليال-
مسلمانوں کے درمیان بغض، حسد، منہ موڑنے، جھگڑنے اور قطع تعلقی کے بارے میں وارد احادیث کا بیان - ذکر منع کہ کوئی شخص اپنے مسلمان بھائی سے تین راتوں سے زیادہ ہجرت کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5663
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " تُفْتَحُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ يَوْمَ الاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ، فَيُغْفَرُ لِمَنْ لا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا إِلا الْمُتَهَاجِرَيْنِ، يَقُولُ: رُدُّوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”پیر اور جمعرات کے دن جنت کے دروازے کھولے جاتے ہیں اور ہر اس شخص کی مغفرت ہو جاتی ہے جو کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہراتا ہو، ماسوائے ان دو افراد کے جو ایک دوسرے سے لاتعلق ہوں، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ان دونوں کے معاملے کو یوں ہی رہنے دو جب تک یہ آپس میں صلح نہیں کرتے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5663]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2565، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2120، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3644، 5661، 5663، 5666، 5667، 5668، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4916، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2023، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6487، 6488، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7754» «رقم طبعة با وزير 5634»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - وهو مكرر (5632). تنبيه!! رقم (5632) = (5661) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
105. باب ما جاء في التباغض والتحاسد والتدابر والتشاجر والتهاجر بين المسلمين - ذكر نفي دخول الجنة عمن مات وهو مهاجر لأخيه المسلم فوق الأيام الثلاث-
مسلمانوں کے درمیان بغض، حسد، منہ موڑنے، جھگڑنے اور قطع تعلقی کے بارے میں وارد احادیث کا بیان - ذکر اس بات کی نفی کہ جو شخص اپنے مسلمان بھائی سے تین دنوں سے زیادہ ہجرت کرتے ہوئے مر جائے وہ جنت میں داخل ہوگا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5664
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ ، عَنْ مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةِ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يُصَارِمَ مُسْلِمًا فَوْقَ ثَلاثٍ، وَإِنَّهُمَا نَاكِبَانِ عَنِ الْحَقِّ مَا كَانَا عَلَى صِرَامِهِمَا، وَإِنَّ أَوَّلَهُمَا فَيْئًا يَكُونُ سَبْقُهُ بِالْفَيْءِ كَفَّارَةً لَهُ، وَإِنْ سَلَّمَ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَقْبَلْ سَلامَهُ، رَدَّتْ عَلَيْهِ الْمَلائِكَةُ، وَرَدَّ عَلَى الآخَرِ الشَّيْطَانُ، وَإِنْ مَاتَا عَلَى صِرَامِهِمَا لَمْ يَدْخُلا الْجَنَّةَ وَلَمْ يَجْتَمِعَا فِي الْجَنَّةِ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ:" قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" لَمْ يَدْخُلِ الْجَنَّةَ وَلَمْ يَجْتَمِعَا فِي الْجَنَّةِ": يُرِيدُ بِهِ: إِنْ لَمْ يَتَفَضَّلِ الرَّبُّ جَلَّ وَعَلا عَلَيْهِمَا بِالْعَفْوِ عَنْ إِثْمِ صِرَامِهِمَا ذَلِكَ.
سیدنا ہشام بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”کسی بھی مسلمان کے لیے یہ بات جائز نہیں ہے وہ کسی مسلمان سے تین دن سے زیادہ لاتعلق رہے وہ جب تک اپنی ناراضگی پر ثابت رہتے ہیں۔ اس وقت تک حق سے منہ موڑے رہتے ہیں اور جو شخص ان میں سے (ناراضگی ختم کرنے میں) پہل کرتا ہے تو اس کا پہل کرنا اس کا کفارہ بن جاتا ہے۔ وہ دوسرے شخص کو سلام کرے اور دوسرا شخص اس کے سلام کو قبول نہ کرے تو فرشتے اسے سلام کا جواب دیتے ہیں اور دوسرے شخص کو شیطان سلام کا جواب دیتا ہے اگر وہ دونوں اپنی ناراضگی پر مسلسل رہیں تو وہ دونوں جنت میں داخل نہیں ہوں گے اور جنت میں اکٹھے نہیں ہوں گے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”وہ جنت میں داخل نہیں ہوں گے جنت میں اکٹھے نہیں ہوں گے۔“ اس کے ذریعے مراد یہ ہے: اگر اللہ تعالیٰ ان کی اس ناراضگی پر اپنے فضل کے تحت معافی نہ فرمائے۔ (تو وہ جنت میں داخل نہیں ہوں گے) [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5664]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5664، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16515، 16516، والطيالسي فى (مسنده) برقم: 1319، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 1557، والطبراني فى(الكبير) برقم: 454، 455» «رقم طبعة با وزير 5635»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (7/ 95)، «الصحيحة» (1246). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں