🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
76. باب قتل الحيوان - ذكر الأمر بقتل الأوزاغ إذ هن من الفواسق-
جانور کے قتل (مارنے) کا بیان - ذکر اس حکم کا کہ ہنس کو مارا جائے کیونکہ یہ فاسقوں میں سے ہیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5635
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ:" أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ الْوَزَغِ، وَسَمَّاهُ فُوَيْسِقًا" .
عامر بن سعد اپنے والد سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چھپکلی کو مارنے کا حکم دیا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے «الفُوَيْسِقَةُ» ”چھوٹا فاسق“ (جانور) کا نام دیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5635]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3306، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2238، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5635، وأبو داود فى (سننه) برقم: 5262، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10162، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1542» «رقم طبعة با وزير 5606»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح لغيره - «الصحيحة» (3572): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
77. باب قتل الحيوان - ذكر إباحة إطلاق اسم الفسق على غير أولاد آدم والشياطين-
جانور کے قتل (مارنے) کا بیان - ذکر اس بات کی اجازت کہ فسق کا نام آدم کے اولاد اور شیاطین کے علاوہ دیگر پر بھی رکھا جا سکتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5636
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الطَاهِرِ بْنُ السَّرْحِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، وَيُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْوَزَغُ فُوَيْسِقٌ" ، وَهَذَا غَرِيبٌ، قَالَهُ الشَّيْخُ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”چھپکلی چھوٹا فاسق (جانور) ہے۔“ (یہ روایت غریب ہے، یہ بات شیخ نے بیان کی ہے)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5636]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1831، 3306، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2239، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3963، 5636، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2886، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3230، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 10161، وأحمد فى (مسنده) برقم: 25207» «رقم طبعة با وزير 5607»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق - تقدم (3952). تنبيه!! رقم (3952) = (3963) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
78. باب قتل الحيوان - ذكر الأمر بقتل المرء الحية إذا رآها في داره بعد إعلامه إياها ثلاثة أيام ولاء-
جانور کے قتل (مارنے) کا بیان - ذکر اس حکم کا کہ اگر آدمی کسی سانپ کو اپنے گھر میں دیکھے تو تین دن اطلاع دینے کے بعد اسے مارے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5637
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ صَيْفِيٍّ مَوْلَى ابْنِ أَفْلَحَ، عَنْ أَبِي السَّائِبِ مَوْلَى هِشَامِ بْنِ زُهْرَةَ، أَنَّهُ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ فِي بَيْتِهِ، قَالَ: فَوَجَدْتُهُ يُصَلِّي، فَجَلَسْتُ أَنْتَظِرُهُ حَتَّى قَضَى صَلاتَهُ، فَسَمِعْتُ تَحْرِيكًا تَحْتَ السَّرِيرِ فِي بَيْتِهِ، فَإِذَا حَيَّةٌ، فَقُمْتُ لأَقْتُلَهَا، فَأَشَارَ إِلَيَّ أَنِ اجْلِسْ، فَلَمَّا انْصَرَفَ، أَشَارَ إِلَى بَيْتٍ فِي الدَّارِ، وَقَالَ: تَرَى هَذَا الْبَيْتَ؟ قَالَ: فَقُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" إِنَّهُ كَانَ فِيهِ فَتًى مِنَّا حَدِيثَ عَهْدٍ بِعُرْسٍ، فَخَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْخَنْدَقِ، فَكَانَ ذَلِكَ الْفَتَى يَسْتَأْذِنُهُ بِأَنْصَافِ النَّهَارِ، وَيَرْجِعُ إِلَى أَهْلِهِ، قَالَ: فَاسْتَأْذَنَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا، فَقَالَ لَهُ: خُذْ سِلاحَكَ، فَإِنِّي أَخْشَى عَلَيْكَ، فَأَخَذَ سِلاحَهُ ثُمَّ ذَهَبَ، فَإِذَا هُوَ بِامْرَأَتِهِ بَيْنَ الْبَابَيْنِ، فَهَيَّأَ لَهَا الرُّمْحَ لِيَطْعَنَهَا بِهِ، وَأَصَابَتْهُ الْغَيْرَةُ، فَقَالَتِ: اكْفُفْ عَنْكَ رُمْحَكَ حَتَّى تَرَى مَا فِي بَيْتِكَ، فَدَخَلَ، فَإِذَا حَيَّةٌ عَظِيمَةٌ مُنْطَوِيَةٌ عَلَى فِرَاشِهِ، فَأَهْوَى إِلَيْهَا، فَانْتَظَمَهَا فِيهِ، ثُمَّ خَرَجَ بِهِ، فَرَكَزَهُ فِي الدَّارِ، فَاضْطَرَبَتِ الْحَيَّةُ فِي رَأْسِ الرُّمْحِ، وَخَرَّ الْفَتَى صَرِيعًا، فَمَا يُدْرَى أَيُّهُمَا كَانَ أَسْرَعَ مَوْتًا، الْفَتَى أَمِ الْحَيَّةُ، قَالَ: فَجِئْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ، وَقُلْنَا: ادْعُ اللَّهَ أَنْ يُحْيِيَهُ، فَقَالَ: اسْتَغْفِرُوا لِصَاحِبِكُمْ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ بِالْمَدِينَةِ جِنًّا قَدْ أَسْلَمُوا، فَإِنْ رَأَيْتُمْ مِنْهَا شَيْئًا، فَآذِنُوهُ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ، فَإِنْ بَدَا لَكُمْ بَعْدَ ذَلِكَ، فَاقْتُلُوهُ، فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ" .
ابوسائب بیان کرتے ہیں: میں سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے گھر میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے انہیں نماز ادا کرتے ہوئے پایا۔ میں ان کی نماز ختم ہونے کے انتظار میں بیٹھ گیا۔ میں نے ان کے گھر میں پلنگ کے نیچے کسی چیز کی حرکت کرنے کی آواز سنی تو وہ ایک سانپ تھا۔ میں اسے مارنے کے لیے اٹھنے لگا تو سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے مجھے اشارہ کیا کہ میں بیٹھ جاؤں، جب وہ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو انہوں نے گھر میں موجود کمرے کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: تم اس کمرے کو دیکھ رہے ہو؟ میں نے جواب دیا: جی ہاں! انہوں نے فرمایا: اس میں ہم میں سے ایک نوجوان رہتا تھا جس کی نئی نئی شادی ہوئی تھی۔ وہ نوجوان دوپہر کے وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لے کر اپنے گھر واپس چلا جاتا تھا۔ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک دن اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”تم اپنا ہتھیار ساتھ لے کر جاؤ کیونکہ مجھے تمہارے حوالے سے اندیشہ ہے“۔ اس نے اپنا ہتھیار لیا اور چلا گیا۔ جب وہ گھر پہنچا تو اس کی بیوی دروازے سے باہر کھڑی ہوئی تھی۔ اس نے وہ نیزہ اسے مارنے کا ارادہ کیا، اسے غصہ آ گیا تھا۔ اس خاتون نے کہا: اپنے نیزے کو روک لو پہلے یہ دیکھ لو گھر کے اندر کیا ہے۔ جب وہ گھر کے اندر داخل ہوا تو وہاں ایک بڑا سا سانپ موجود تھا جو فرش پر لیٹا ہوا تھا۔ وہ شخص اس سانپ کی طرف بڑھا، اس نے اس نیزے میں اس کو پرو دیا پھر وہ اسے لے کر باہر آیا اور اس نے صحن میں اسے گاڑ دیا۔ نیزے کے سرے پر موجود سانپ میں حرکت ہوئی۔ (اس نے نوجوان کو ڈس لیا تو نوجوان تیزی سے نیچے گرا یہ اندازہ نہیں ہو سکا کہ دونوں میں سے کون پہلے مرا ہے وہ نوجوان یا وہ سانپ)، راوی بیان کرتے ہیں: پھر ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا۔ ہم نے عرض کی: آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجیے کہ وہ اس نوجوان کو زندہ کر دے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم لوگ اپنے ساتھی کے لیے دعائے مغفرت کرو“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مدینہ منورہ میں کچھ جنات رہتے ہیں جو مسلمان ہو چکے ہیں، جب تم ان میں سے کسی کو (سانپ کی شکل میں) دیکھو تو اسے تین دن تک آگاہ کرو، اگر اس کے بعد وہ تمہارے سامنے آئے تو اسے مار دو کیونکہ وہ شیطان ہو گا“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5637]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2236، ومالك فى (الموطأ) برقم: 3581، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5637، 5641، 6157، وأبو داود فى (سننه) برقم: 5256، 5257، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1484، 1484 م، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11247» «رقم طبعة با وزير 5608»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م (7/ 40 - 41). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
79. باب قتل الحيوان - ذكر وصف الحيات التي أبيح قتلها للمرء-
جانور کے قتل (مارنے) کا بیان - ذکر ان سانپوں کی صفت جنہیں مارنا جائز ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5638
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، وَغَيْرُهُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " اقْتُلُوا الْحَيَّاتِ، وَاقْتُلُوا ذَا الطُّفْيَتَيْنِ وَالأَبْتَرَ، فَإِنَّهُمَا يَلْتَمِسَانِ الْبَصَرَ، وَيُسْقِطَانِ الْحَبَلَ" . قَالَ قَالَ ابْنُ وَهْبٍ ، وَأَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَشَجِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ، وَقَالَ: " فَمَنْ وَجَدَ ذَا الطُّفْيَتَيْنِ وَالأَبْتَرَ، فَلَمْ يَقْتُلْهُمَا، فَلَيْسَ مِنَّا" .
سالم بن عبداللہ اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”سانپوں کو مار دو (بطور خاص) دو دھاری دم کٹے ہوئے (کو ضرور مارو) کیونکہ یہ بینائی کو ختم کر دیتے ہیں اور حمل کو ضائع کر دیتے ہیں۔“ ابن وہب کہتے ہیں: ایک اور سند کے ساتھ سالم کے حوالے سے ان کے والد کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: ”جو شخص دو دھاری یا دم کٹے ہوئے سانپ کو پائے اور اسے نہ مارے وہ ہم میں سے نہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5638]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3297، 3310، 3312، 4016، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2233، ومالك فى (الموطأ) برقم: 3579، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5638، 5639، 5642، 5643، 5645، وأبو داود فى (سننه) برقم: 5252، 5253، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1483، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3535، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4646» «رقم طبعة با وزير 5609»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (3991): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
80. باب قتل الحيوان - ذكر الزجر عن قتل مسخ الجن من الحيات التي تأوي الدور-
جانور کے قتل (مارنے) کا بیان - ذکر اس کی ممانعت کہ جن سے بنے سانپوں کو جو گھر میں رہتے ہیں قتل کیا جائے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5639
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ أَبَا لُبَابَةَ ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ قَتْلِ الْحَيَّاتِ الَّتِي تَكُونُ فِي الْبُيُوتِ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابولبابہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”گھروں میں موجود سانپوں کو مارنے کا حکم دیا ہے“۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5639]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3297، 3310، 3312، 4016، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2233، ومالك فى (الموطأ) برقم: 3579، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5638، 5639، 5642، 5643، 5645، وأبو داود فى (سننه) برقم: 5252، 5253، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1483، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3535، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4646» «رقم طبعة با وزير 5610»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
81. باب قتل الحيوان - ذكر الخبر المصرح بصحة ما ذكرت أن من الحيات التي تكون في الدور من مسخ الجن-
جانور کے قتل (مارنے) کا بیان - ذکر اس خبر کا جس میں واضح کیا گیا کہ جو سانپ گھر میں ہوتے ہیں وہ جن کے مسخ ہیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5640
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى بِعَسْكَرِ مُكْرَمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْحَيَّاتُ مِنْ مَسْخِ الْجَانِّ، كَمَا مُسِخَتِ الْخَنَازِيرُ وَالْقِرَدَةُ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”سانپ جنوں کی مسخ شدہ شکل ہے جس طرح خنزیر بندر مسخ شدہ (مخلوق) ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5640]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5640، والضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 355، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3317، والطبراني فى(الكبير) برقم: 11946، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 4269» «رقم طبعة با وزير 5611»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (1824). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
82. باب قتل الحيوان - ذكر العلامة التي يفرق بها بين مسخ الجن وبين الحيات عند قتلهن-
جانور کے قتل (مارنے) کا بیان - بیان کیا گیا کہ جن کی شکل بدل چکی ہو اور سانپ میں تمیز کرنے کی علامت کیا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5641
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي يَحْيَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَذِهِ هَوَامٌّ مِنَ الْجِنِّ، فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ فِي بَيْتِهِ شَيْئًا، فَلْيُحَرِّجْ عَلَيْهِ ثَلاثَ مَرَّاتٍ، فَإِنْ رَآهَا بَعْدَ ذَلِكَ، فَلْيَقْتُلْهَا، فَإِنَّمَا هِيَ شَيْطَانٌ" ، مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي يَحْيَى: هُوَ وَالِدُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَحْيَى صَاحِبِ الشَّافِعِيِّ.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جنات سے تعلق رکھنے والے یہ جانور (یعنی سانپ) جب ان میں سے کوئی شخص اسے اپنے گھر میں دیکھے تو وہ تین مرتبہ اسے تنبیہ کرے، وہ اس کے بعد بھی اسے دیکھے تو اسے مار دے کیونکہ وہ شیطان ہو گا۔“ محمد بن ابویحییٰ نامی راوی ابراہیم بن محمد بن ابویحییٰ کے والد ہیں، جو امام شافعی رحمہ اللہ کے شاگرد تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5641]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2236، ومالك فى (الموطأ) برقم: 3581، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5637، 5641، 6157، وأبو داود فى (سننه) برقم: 5256، 5257، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1484، 1484 م، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11247» «رقم طبعة با وزير 5612»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر (5608). تنبيه!! رقم (5608) = (5637) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
83. باب قتل الحيوان - ذكر العلة التي من أجلها أمر بقتل الحيات التي ليست من مسخ الجان-
جانور کے قتل (مارنے) کا بیان - بیان کیا گیا کہ وہ سبب جس کی بنا پر غیر جن نما سانپ کو قتل کرنا لازم ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5642
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " اقْتُلُوا الْحَيَّاتِ، وَاقْتُلُوا ذَا الطُّفْيَتَيْنِ، وَالأَبْتَرَ، فَإِنَّهُمَا يَلْتَمِسَانِ الْبَصَرَ، وَيَسْتَسْقِطَانِ الْحَبَلَ".
سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہما کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”سانپوں کو مار دو، بطورِ خاص دو دھاری والے اور دم کٹے ہوئے سانپ کو مار دو، کیونکہ یہ بینائی کو رخصت کر دیتے ہیں اور حمل کو ضائع کر دیتے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5642]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3297، 3310، 3312، 4016، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2233، ومالك فى (الموطأ) برقم: 3579، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5638، 5639، 5642، 5643، 5645، وأبو داود فى (سننه) برقم: 5252، 5253، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1483، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3535، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4646» «رقم طبعة با وزير 5613»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق - مضى قريبا (5609). تنبيه!! رقم (5609) = (5638) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
84. باب قتل الحيوان - ذكر الخبر الدال على أن النهي عن قتل ذوات البيوت من الحيات إنما هو مستثنى عن جملة الأمر بقتلهن-
جانور کے قتل (مارنے) کا بیان - بیان کیا گیا کہ گھروں میں رہنے والے سانپ کے قتل سے منع صرف عام حکم سے مستثنیٰ ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5643
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ سَالِمًا أَخْبَرَهُ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " اقْتُلُوا الْحَيَّاتِ، وَاقْتُلُوا ذَا الطُّفْيَتَيْنِ وَالأَبْتَرَ، فَإِنَّهُمَا يَلْتَمِسَانِ الْبَصَرَ، وَيَسْتَسْقِطَانِ الْحَبَلَ" ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: مَا كُنْتُ أَدَعُ حَيَّةً إِلا قَتَلْتُهَا، حَتَّى رَآنِي أَبُو لُبَابَةَ بْنُ عَبْدِ الْمُنْذِرِ، وَزَيْدُ بْنُ الْخَطَّابِ وَأَنَا أُطَارِدُ حَيَّةً مِنْ حَيَّاتِ الْبُيُوتِ، فَنَهَيَانِي عَنْ قَتْلِهَا، فَقُلْتُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِقَتْلِهِنَّ، فَقَالا: إِنَّهُ" نَهَى عَنْ قَتْلِ ذَوَاتِ الْبُيُوتِ".
سالم بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے انہیں یہ بتایا کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”سانپوں کو مار دو، (بطورِ خاص) دو دھاری اور دم کٹے سانپ کو مار دو، کیونکہ یہ نگاہ کو اچک لیتے ہیں اور حمل کو ضائع کر دیتے ہیں۔“ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: مجھے جو بھی سانپ نظر آتا تھا، میں اسے مار دیتا تھا، یہاں تک کہ ایک مرتبہ سیدنا ابولبابہ بن عبدالمندر اور سیدنا زید بن خطاب رضی اللہ عنہما نے مجھے دیکھا، میں اس وقت گھر میں نکل آنے والے ایک سانپ کا پیچھا کر رہا تھا، انہوں نے مجھے اسے مارنے سے منع کر دیا۔ میں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مارنے کا حکم دیا ہے۔ ان دونوں نے فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھروں میں نکل آنے والے سانپوں کو مارنے سے منع کیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5643]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3297، 3310، 3312، 4016، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2233، ومالك فى (الموطأ) برقم: 3579، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5638، 5639، 5642، 5643، 5645، وأبو داود فى (سننه) برقم: 5252، 5253، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1483، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3535، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4646» «رقم طبعة با وزير 5614»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله: م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
85. باب قتل الحيوان - ذكر الزجر عن ترك المرء قتل ذي الطفيتين من الحيات-
جانور کے قتل (مارنے) کا بیان - زجر بیان کیا گیا کہ انسان دو ٹانگ والے سانپ کو قتل نہ چھوڑے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5644
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَشَجِّ ، عَنْ عَجْلانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَا سَالَمْنَاهُنَّ مُنْذُ حَارَبْنَاهُنَّ، يَعْنِي الْحَيَّاتَ، وَمَنْ تَرَكَ قَتْلَ شَيْءٍ مِنْهُنَّ خِيفَةً، فَلَيْسَ مِنَّا" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب سے ہم نے ان سے لڑائی شروع کی ہے ہم نے انہیں سالم نہیں رہنے دیا۔ (راوی کہتے ہیں: یعنی سانپوں کے بارے میں آپ نے یہ بات ارشاد فرمائی) اور جو شخص خوف کی وجہ سے ان میں سے کسی ایک کو مارنے کو ترک کرتا ہے وہ ہم میں سے نہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الحظر والإباحة/حدیث: 5644]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5644، وأبو داود فى (سننه) برقم: 5248، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7483، والحميدي فى (مسنده) برقم: 1190» «رقم طبعة با وزير 5615»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن صحيح - «المشكاة» (4139 / التحقيق الثاني). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں