صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
17. ذكر الإباحة للمرء أن يسترقي إذا عانه أخوه المسلم-
- ذکر اجازت کہ انسان اپنے مسلمان بھائی کی نظر کی وجہ سے رقیت کرے
حدیث نمبر: 6104
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ السِّنْدِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: " رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرُّقْيَةِ مِنَ الْعَيْنِ، وَالنَّمْلَةِ، وَالْحُمَةِ" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”نظر لگنے پر، چیونٹی کے کاٹنے پر، بھڑ کے کاٹنے پر دم کرنے کی اجازت دی تھی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقى والتمائم/حدیث: 6104]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 5705، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 220، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6104، 6430، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 8365، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 7499، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3884، 3889، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2056، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3513، 3516، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 19602، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2487» «رقم طبعة با وزير 6072»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح
18. ذكر الأمر لمن رأى بأخيه شيئا حسنا أن يبرك له فيه فإن عانه توضأ له-
- ذکر حکم کہ جو اپنے بھائی میں کوئی اچھی چیز دیکھے وہ اس کے لیے برکت مانگے، اور اگر اسے نظر لگے تو اس کے لیے وضو کرے
حدیث نمبر: 6105
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ أَبَا أُمَامَةَ ، يَقُولُ: اغْتَسَلَ أَبِي سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ بِالْخَرَّارِ فَنَزَعَ جُبَّةً كَانَتْ عَلَيْهِ، وَعَامِرُ بْنُ رَبِيعَةَ يَنْظُرُ، قَالَ: وَكَانَ سَهْلٌ رَجُلا أَبْيَضَ حَسَنَ الْجِلْدِ، قَالَ: فَقَالَ عَامِرُ بْنُ رَبِيعَةَ: مَا رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ، وَلا جِلْدَ عَذْرَاءَ، فَوعِكَ سَهْلٌ مَكَانَهُ، فَاشْتَدَّ وَعَكُهُ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ أَنَّ سَهْلا وُعِكَ، وَأَنَّهُ غَيْرُ رَائِحٍ مَعَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَأَتَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَهُ سَهْلٌ الَّذِي كَانَ مِنْ شَأْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَلامَ يَقْتُلُ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ، أَلا بَرَّكْتَ؟ إِنَّ الْعَيْنَ حَقٌّ، تَوَضَّأْ لَهُ"، فَتَوَضَّأَ لَهُ عَامِرُ بْنُ رَبِيعَةَ، فَرَاحَ سَهْلٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ" .
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ میرے والد سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ نے خرار کے مقام پر غسل کیا، انہوں نے اپنے جسم پر موجود جبہ اتارا تو عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ نے انہیں دیکھ لیا، راوی کہتے ہیں کہ سیدنا سہل رضی اللہ عنہ گورے چٹے شخص تھے اور ان کی جلد بہت خوبصورت تھی، عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے آج جو (خوبصورت جلد) دیکھی ہے اس طرح کی جلد تو کسی کنواری لڑکی کی بھی نہیں ہوتی، تو سیدنا سہل رضی اللہ عنہ اسی جگہ بیمار ہو گئے اور ان کو تیز بخار ہو گیا، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ سیدنا سہل رضی اللہ عنہ کو بخار ہو گیا ہے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کے قابل بھی نہیں ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں تشریف لائے، سیدنا سہل رضی اللہ عنہ نے انہیں عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ والے واقعہ کے بارے میں بتایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی شخص کیوں اپنے بھائی کو قتل کرنا چاہتا ہے؟ کیا تمہیں پتہ نہیں ہے نظر لگنا حق ہے، تم اس کے لیے وضو کرو۔“ عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ نے ان کے لیے وضو کیا تو سیدنا سہل رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ چلتے ہوئے آئے یوں جیسے انہیں کوئی تکلیف نہیں تھی (یعنی ان کی بیماری ختم ہو گئی)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقى والتمائم/حدیث: 6105]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مالك فى (الموطأ) برقم: 3459، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6105، 6106، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 5790، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3509، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 19677، 19678، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16227» «رقم طبعة با وزير 6073»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «المشكاة» (4562)، «الصحيحة» (2572)، «الروض النضير» (1194).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
رجاله ثقات رجال الشيخين غير محمد بن أبي أمامة
19. ذكر وصف الوضوء الذي ذكرناه لمن وصفناه-
- ذکر وصف اس وضو کی جو ہم نے اس کے لیے بیان کی
حدیث نمبر: 6106
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ يَعْقُوبَ بِحِمْصَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْبَهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ الْوُحَاظِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى الْكَلْبِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، أَنَّ عَامِرَ بْنَ رَبِيعَةَ أَخَا بَنِي عَدِيِّ بْنِ كَعْبٍ، رَأَى سَهْلَ بْنَ حُنَيْفٍ وَهُوَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْخَرَّارِ يَغْتَسِلُ، فَقَالَ: وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ، وَلا جِلْدَ مُخَبَّأَةٍ، قَالَ: فَلُبِطَ سَهْلٌ، فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ لَكَ فِي سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، لا يَرْفَعُ رَأْسَهُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ تَتَّهِمُونَ مِنْ أَحَدٍ؟" قَالُوا: نَعَمْ، عَامِرُ بْنُ رَبِيعَةَ رَآهُ يَغْتَسِلُ، فَقَالَ: وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ، وَلا جِلْدَ مُخَبَّأَةٍ، فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامِرَ بْنَ رَبِيعَةَ فَتَغَيَّظَ عَلَيْهِ، وَقَالَ: " عَلامَ يَقْتُلُ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ، أَلا تُبَرِّكُ؟ اغْتَسِلْ لَهُ"، فَغَسَلَ لَهُ عَامِرٌ، فَرَاحَ سَهْلٌ مَعَ الرَّكْبِ لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ قَالَ: وَالْغُسْلُ أَنْ يُؤْتَى بِالْقَدَحِ، فَيُدْخِلَ الْغَاسِلُ كَفَّيْهِ جَمِيعًا فِيهِ، ثُمَّ يَغْسِلُ وَجْهَهُ فِي الْقَدَحِ، ثُمَّ يُدْخِلُ يَدَهُ الْيُمْنَى، فَيَغْسِلُ صَدْرَهُ فِي الْقَدَحِ، ثُمَّ يُدْخِلُ يَدَهُ فَيَغْسِلُ ظَهْرَهُ، ثُمَّ يَأْخُذُ بِيَدِهِ الْيُسْرَى يَفْعَلُ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ يَغْسِلُ رُكْبَتَيْهِ، وَأَطْرَافَ أَصَابِعِهِ مِنْ ظَهْرِ الْقَدَمِ، وَيَفْعَلُ ذَلِكَ بِالرِّجْلِ الْيُسْرَى، ثُمَّ يُعْطِي ذَلِكَ الإِنَاءَ قَبْلَ أَنْ يَضَعَهُ بِالأَرْضِ الَّذِي أَصَابَهُ الْعَيْنُ، ثُمَّ يَمُجُّ فِيهِ، وَيَتَمَضْمَضُ، وَيُهَرِيقُ عَلَى وَجْهِهِ، وَيَصُبُّ عَلَى رَأْسِهِ، وَيُكْفِئُ الْقَدَحَ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِهِ .
سیدنا ابوامامہ بن سہل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ عامر بن ربیعہ، جن کا تعلق بنو عدی بن کعب سے تھا، انہوں نے سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کو دیکھا جو اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ خرار کے مقام پر موجود تھے، وہ غسل کرنے لگے تو عامر بن ربیعہ نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے کسی پردہ نشین عورت کی بھی اتنی خوبصورت جلد نہیں دیکھی، تو سیدنا سہل رضی اللہ عنہ اسی وقت بیمار ہو گئے، انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا، عرض کی گئی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سہل بن حنیف کا کچھ کریں گے؟ یہ اپنا سر بھی نہیں اٹھا رہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم کسی پر الزام عائد کرتے ہو؟“ لوگوں نے عرض کی: جی ہاں، عامر بن ربیعہ نے انہیں غسل کرتے دیکھا تو یہ کہا: اللہ کی قسم! میں نے تو کسی پردہ نشین عورت کی بھی اتنی اچھی جلد نہیں دیکھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عامر بن ربیعہ کو بلایا اور ان پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: ”تم میں سے کوئی ایک کیوں اپنے بھائی کو قتل کرنا چاہتا ہے؟ کیا تم برکت کی دعا نہیں دے سکتے تھے؟ تم اس کے لیے غسل کرو“۔ عامر نے ان کے لیے غسل کیا تو سیدنا سہل رضی اللہ عنہ سواروں کے ساتھ روانہ ہو گئے، یوں جیسے انہیں کوئی تکلیف نہیں تھی (یعنی ان کی بیماری ختم ہو گئی)۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ غسل کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ پیالہ لایا جائے، غسل کرنے والا شخص اپنے دونوں ہاتھ اس میں داخل کرے، پھر وہ اپنے چہرے کو اس پیالے میں دھوئے (یعنی چہرے کو دھونے والا پانی دوبارہ پیالے میں گرے)، پھر وہ اپنا دایاں ہاتھ اس میں داخل کرے اور اپنے سینے کو پیالے میں دھوئے، وہ اپنا ہاتھ داخل کرے اور اپنی پشت کو دھوئے، اپنا بایاں ہاتھ لے اور اسی طرح کرے، اسی طرح دو گھٹنے دھوئے اور اپنی انگلیوں کے کنارے تک دھوئے، اسی طرح وہ اپنے بائیں پاؤں کے ساتھ کرے، پھر وہ برتن زمین پر رکھنے سے پہلے اس شخص کو دے جسے نظر لگی ہے، پھر وہ اس میں کلی کرے اور اپنے چہرے پر وہ پانی ڈالے اور اپنے سر پر وہ بہائے اور پھر اپنی پشت کے پیچھے کی طرف اس پیالے کو الٹا دے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقى والتمائم/حدیث: 6106]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مالك فى (الموطأ) برقم: 3459، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6105، 6106، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 5790، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3509، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 19677، 19678، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16227» «رقم طبعة با وزير 6074»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح - دون قول الزهري: والغسل أن يؤتى ... ؛ فإنه معضل - انظر التعليق. * [قَالَ: وَالْغُسْلُ ... ] قال الشيخ: قلت: القائل؛ هو ابن شهاب الزُّهري، كما جاء التصريح به في «مصنف ابن أبي شيبة» (3647)، و «المعجم الكبير» للطبراني (6/ 98)، و «السنن الكبرى» للبيهقي (9/ 352)؛ والسند إليه حسن.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح
20. ذكر الأمر بالاغتسال لمن عانه أخوه المسلم-
- ذکر حکم کہ جو اپنے مسلمان بھائی کی نظر سے متاثر ہو اس کے لیے غسل کیا جائے
حدیث نمبر: 6107
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ صَاعِقَةُ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَضْرَمِيُّ ، حَدَّثَنَا وهَيْبٌ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْعَيْنُ حَقٌّ، وَلَوْ كَانَ شَيْءٌ سَابِقَ الْقَدَرِ لَسَبَقَتْهُ الْعَيْنُ، وَإِذَا اسْتُغْسِلْتُمْ فَاغْسِلُوا" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”نظر کا لگنا برحق ہے، اگر کوئی چیز تقدیر پر سبقت لے جا سکتی ہوتی تو نظر اس پر سبقت لے جاتی اور جب تم سے غسل کرنے کے لیے کہا جائے تو تم غسل کر لیا کرو (یعنی نظر کے اثرات دور کرنے کے لیے ایسا کرو)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقى والتمائم/حدیث: 6107]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2188، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6107، 6108، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 7593، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 7573، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2062، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 19675، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2516» «رقم طبعة با وزير 6075»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (1251 و 1252)، «الكلم الطيب» (242): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الصحيح
حدیث نمبر: 6108
حَدَّثَنَاهُ الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ خِرَاشٍ ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا وهَيْبٌ ، مِثْلَهُ.
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقى والتمائم/حدیث: 6108]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2188، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6107، 6108، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 7593، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 7573، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2062، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 19675، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2516» «رقم طبعة با وزير 6075/*»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
تنبيه!! هذه المتابعة لم يحكم عليها الشيخ الألباني رحمه الله. - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
21. ذكر الخبر المدحض قول من كره استعمال الرقى عند الحوادث تحدث-
- ذکر خبر جو اس دعوے کو رد کرتی ہے کہ حوادث کے وقت رقیت کا استعمال ناپسندیدہ ہے
حدیث نمبر: 6109
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى السَّخْتِيَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مِسْعَرُ بْنُ كِدَامٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْبَدُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنْ عَائِشَةَ : أن رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ يَأْمُرَهَا أَنْ تَسْتَرْقِيَ مِنَ الْعَيْنِ" .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں یہ ہدایت کرتے تھے: ”ہم نظر لگنے کا دم کر دیا کریں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقى والتمائم/حدیث: 6109]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 5738، 5741، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2193، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6101، 6103، 6109، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 8361، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3512، 3517، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 19642، 19643، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24652» «رقم طبعة با وزير 6076»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - مضى قريبا (6071). تنبيه!! رقم (6071) = (6103) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
22. ذكر إباحة أخذ الراقي الأجرة على رقيته التي وصفناها-
- ذکر اجازت کہ راقی اپنی ہمارے بیان کردہ رقیت پر اجرت لے
حدیث نمبر: 6110
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ الصَّلْتِ التَّمِيمِيِّ ، عَنْ عَمِّهِ ، أَنَّهُ مَرَّ بِقَوْمٍ عِنْدَهُمْ مَجْنُونٌ مُوثَقٌ فِي الْحَدِيدِ، فَقَالَ لَهُ بَعْضُهُمْ: عِنْدَكَ شَيْءٌ تُدَاوِي هَذَا بِهِ؟ فَإِنَّ صَاحِبَكُمْ قَدْ جَاءَ بِخَيْرٍ، قَالَ: فَقَرَأْتُ عَلَيْهِ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ، كُلَّ يَوْمٍ مَرَّتَيْنِ، فَبَرَأَ، فَأَعْطَاهُ مِائَةَ شَاةٍ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ لَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلْ، فَمَنْ أَكَلَ بِرُقْيَةِ بَاطِلٍ، فَقَدْ أَكَلْتَ بِرُقْيَةِ حَقٍّ" .
خارجہ بن صلت تیمی اپنے چچا رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ وہ کسی قوم کے پاس سے گزرے جن میں ایک پاگل شخص تھا جسے لوہے میں باندھا گیا تھا، ان میں سے کسی نے کہا: کیا آپ کے پاس کوئی ایسی چیز ہے جس کے ذریعے آپ اس کا علاج کر سکیں؟ کیونکہ آپ کے ساتھی بھلائی لے کر آئے ہیں۔ راوی کہتے ہیں: تو میں نے تین دن تک اس پر سورہ فاتحہ پڑھ کر دم کیا، روزانہ میں دو مرتبہ اس کو دم کرتا تھا تو وہ ٹھیک ہو گیا، پھر اس شخص نے انہیں ایک سو بکریاں دیں، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے کھا لو، کیونکہ جو شخص باطل دم کے ذریعے کھاتا ہے (وہ ممنوع ہے)، تم تو حق کے دم کے ذریعے کھانے لگے ہو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقى والتمائم/حدیث: 6110]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6110، 6111، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2062، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 7492، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3420، والدارقطني فى (سننه) برقم: 4810، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22251» «رقم طبعة با وزير 6077»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح - انظر ما بعده.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن
حدیث نمبر: 6111
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ زَكَرِيَّا ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ الصَّلْتِ التَّمِيمِيِّ ، عَنْ عَمِّهِ ، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ أَقْبَلَ رَاجِعًا مِنْ عِنْدِهِ، فَمَرَّ عَلَى قَوْمٍ عِنْدَهُمْ رَجُلٌ مُوثَقٌ بِالْحَدِيدِ، فَقَالَ أَهْلُهُ: إِنَّهُ قَدْ حُدِّثْنَا أَنَّ مَلِكَكُمْ هَذَا قَدْ جَاءَ بِخَيْرٍ، فَهَلْ عِنْدَكَ شَيْءٌ تَرْقِيهِ؟ فَرَقَيْتُهُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، فَبَرَأَ، فَأَعْطَوْنِي مِائَةَ شَاةٍ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " خُذْهَا، فَلَعَمْرِي لَمَنْ أَكَلَ بِرُقْيَةِ بَاطِلٍ، فَقَدْ أَكَلْتَ بِرُقْيَةِ حَقٍّ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خُذْهَا" أَرَادَ بِهِ جَوَازَ ذَلِكَ الشَّيْءِ الْمَأْخُوذِ، مَعَ جَوَازِ اسْتِعْمَالِهِ فِي الْمُسْتَقْبَلِ، لأَنَّ الشَّاءَ أَخَذَهَا الرَّاقِي قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ سَأَلَ بَعْدَ ذَلِكَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خُذْهَا" أَرَادَ بِهِ جَوَازَ فِعْلِ الْمَاضِي وَالْمُسْتَقْبَلِ مَعًا، وَعَمُّ خَارِجَةَ بْنِ الصَّلْتِ عِلاقَةُ بْنُ صُحَارٍ السَّلِيطِيُّ، وَسَلِيطٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ.
خارجہ بن صلت تیمی اپنے چچا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، جب وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت سے واپس جا رہے تھے تو ان کا گزر ایک قوم کے پاس سے ہوا جہاں ایک شخص لوہے میں بندھا ہوا تھا، اس کے رشتے داروں نے یہ کہا: ہمیں یہ بات پتہ چلی ہے کہ آپ کے آقا بھلائی لے کر آئے ہیں، تو کیا آپ کے پاس کوئی ایسی چیز ہے جس کے ذریعے آپ اسے دم کر دیں؟ میں نے اس شخص کو سورہ فاتحہ پڑھ کر دم کیا تو وہ ٹھیک ہو گیا، ان لوگوں نے مجھے ایک سو بکریاں دیں، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے حاصل کر لو، میری زندگی کی قسم! جو شخص باطل دم کے ذریعے کھاتا ہے (وہ غلط ہے)، تم تو حق کے دم کے ذریعے کھا رہے ہو۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”تم اسے حاصل کر لو“ اس سے مراد یہ ہے کہ جو چیز حاصل کی گئی ہے اسے جائز قرار دیا جائے اور مستقبل میں بھی ایسا عمل کرنے کو جائز قرار دیا جائے، کیونکہ دم کرنے والے صاحب نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے سے پہلے وہ بکریاں حاصل کر لی تھیں، اس کے بعد اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”انہیں حاصل کر لو“ اس سے مراد یہ ہے کہ ماضی میں جو فعل کیا گیا وہ بھی جائز ہے اور اگر آئندہ کیا جائے تو وہ بھی جائز ہو گا۔ خارجہ بن صلت کے چچا کا نام سیدنا علاقہ بن صحار سلیطی رضی اللہ عنہ ہے اور یہ سلیط بن تمیم کی ایک شاخ ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقى والتمائم/حدیث: 6111]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6110، 6111، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2062، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 7492، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3420، والدارقطني فى (سننه) برقم: 4810، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22251» «رقم طبعة با وزير 6078»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح - «الصحيحة» (2027)، «التعليق على الروضة الندية»، «البيوع».
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
Null
23. ذكر الإباحة للمرء أخذ الأجرة المشترطة في البداية على الرقى-
- ذکر اجازت کہ انسان رقیت پر شروع میں طے شدہ اجرت لے
حدیث نمبر: 6112
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ السَّخْتِيَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ، فَمَرَرْنَا عَلَى أَهْلِ أَبْيَاتٍ، فَاسْتَضَفْنَاهُمْ، فَأَبَوْا أَنْ يُضَيِّفُونَا، فَنَزَلُوا بِالْعَرَاءِ، فَلُدِغَ سَيِّدُهُمْ، فَأَتَوْنَا فَقَالُوا: هَلْ فِيكُمْ أَحَدٌ يَرْقِي؟ قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، أَنَا أَرْقِي، قَالُوا: ارْقِ صَاحِبَنَا، قُلْتُ: لا، قَدِ اسْتَضَفْنَاكُمْ فَأَبَيْتُمْ أَنْ تُضَيِّفُونَا، قَالُوا: فَإِنَّا نَجْعَلُ لَكُمْ جُعْلا، قَالَ: فَجَعَلُوا لِي ثَلاثِينَ شَاةً، قَالَ: فَأَتَيْتُهُ، فَجَعَلْتُ أَمْسَحُهُ، وَأَقْرَأُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ حَتَّى بَرَأَ، فَأَخَذْنَا الشَّاءَ، فَقُلْنَا: نَأْخُذُهَا وَنَحْنُ لا نُحْسِنُ نَرْقِي؟ فَمَا نَحْنُ بِالَّذِي نَأْكُلُهَا حَتَّى نَسْأَلَ عَنْهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَيْنَاهُ، فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ، قَالَ: فَجَعَلَ يَقُولُ:" وَمَا يُدْرِيكَ أَنَّهَا رُقْيَةٌ؟" قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا دَرَيْتُ أَنَّهَا رُقْيَةٌ، شَيْءٌ أَلْقَاهُ اللَّهُ فِي نَفْسِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُوا، وَاضْرِبُوا لِيَّ مَعَكُمْ بِسَهْمٍ" .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک مہم پر روانہ کیا، ہمارا گزر ایک بستی کے پاس سے ہوا، ہم نے انہیں مہمان نوازی کے لیے کہا تو انہوں نے ہماری مہمان نوازی کرنے سے انکار کر دیا، ہم لوگوں نے آبادی سے باہر ایک جگہ پڑاؤ کیا، ان لوگوں کے سردار کو کسی زہریلی چیز نے کاٹ لیا، وہ لوگ ہمارے پاس آئے، انہوں نے کہا: کیا آپ کے درمیان کوئی ایسا شخص ہے جو دم کرتا ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں، میں دم کرتا ہوں، ان لوگوں نے کہا: ہمارے ساتھی کو دم کر دیجیے، میں نے کہا: جی نہیں، ہم نے تمہیں مہمان نوازی کے لیے کہا تھا تم نے ہماری مہمان نوازی کرنے سے انکار کر دیا تھا، ان لوگوں نے کہا: ہم آپ کو اس کا معاوضہ دیں گے۔ راوی کہتے ہیں: تو انہوں نے ہمیں تیس (30) بکریاں دینے کا معاہدہ کیا، میں اس شخص کے پاس آیا، میں نے اس پر ہاتھ پھیرنا شروع کیا اور سورۃ فاتحہ پڑھ کر دم کرنا شروع کیا، یہاں تک کہ وہ شخص ٹھیک ہو گیا، تو ہم نے بکریاں حاصل کر لیں، ہم نے سوچا کہ ہم نے بکریاں تو لے لی ہیں لیکن ہمیں باقاعدہ طور پر دم کرنا نہیں آتا، اس لیے ہم ان بکریوں کو اس وقت تک نہیں کھائیں گے جب تک ان کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت نہیں کرتے، پھر ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”تمہیں کیسے پتا چلا کہ سورہ فاتحہ کا دم بھی ہوتا ہے؟“ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے نہیں پتا تھا کہ اس کا دم بھی ہوتا ہے، یہ تو ایک چیز ہے جو اللہ تعالیٰ نے میرے ذہن میں ڈال دی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے کھاؤ اور اپنے ساتھ میرا بھی حصہ رکھو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقى والتمائم/حدیث: 6112]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2276، 5007، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2201، وابن الجارود فى "المنتقى"، 641، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6112، 6113، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2061، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3418، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2063، 2064، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2156، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 11792، والدارقطني فى (سننه) برقم: 3034، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11141» «رقم طبعة با وزير 6079»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (1556).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
حدیث نمبر: 6113
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَخِيهِ مَعْبَدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: نَزَلْنَا مَنْزِلا، فَأَتَتْنَا امْرَأَةٌ، فَقَالَتْ: إِنَّ سَيِّدَ الْحَيِّ سُلَيْمٌ لُدِغَ، فَهَلْ فِيكُمْ مِنْ رَاقٍ؟ فَقَالَ: فَقَامَ مَعَهَا رَجُلٌ مِنَّا، كُنَّا نَظُنُّهُ يُحْسِنُ رُقْيَةً، فَرَقَى بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَبَرَأَ، فَأَعْطَوْهُ غَنَمًا، وَسَقَوْهُ لَبَنًا، قَالَ: فَقُلْتُ لا تُحَرِّكُوهُ حَتَّى نَأْتِيَ نَأْتِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: " مَا كَانَ يُدْرِيهِ أَنَّهَا رُقْيَةٌ؟ اقْسِمُوا وَاضْرِبُوا لِي بِسَهْمٍ مَعَكُمْ" .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نے ایک جگہ پڑاؤ کیا، ایک عورت ہمارے پاس آئی اور بولی: ”اس قبیلے کے سردار کو کسی زہریلی چیز نے کاٹ لیا ہے، کیا تمہارے درمیان کوئی دم کرنے والا ہے؟“ راوی کہتے ہیں: تو ہم میں سے ایک شخص اٹھ کر اس کے ساتھ چلا گیا، ہم اس کے بارے میں یہ گمان کرتے تھے کہ یہ اچھا دم کر لیتا ہے، اس نے سورہ فاتحہ پڑھ کر دم کیا تو وہ شخص ٹھیک ہو گیا، ان لوگوں نے ہمیں بکریاں دیں اور ہمیں دودھ بھی پلایا۔ راوی کہتے ہیں: میں نے کہا: ”تم لوگ انہیں حرکت نہ دو جب تک ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر نہیں ہو جاتے۔“ پھر ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”تمہیں کیسے پتہ چلا کہ اس سورت کا دم بھی ہوتا ہے؟ تم لوگ ان کو تقسیم کر لو اور اپنے ساتھ میرا بھی حصہ رکھو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقى والتمائم/حدیث: 6113]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2276، 5007، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2201، وابن الجارود فى "المنتقى"، 641، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6112، 6113، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2061، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3418، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2063، 2064، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2156، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 11792، والدارقطني فى (سننه) برقم: 3034، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11141» «رقم طبعة با وزير 6080»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين