سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
26. باب فِي الاِسْتِغْفَارِ
باب: توبہ و استغفار کا بیان۔
حدیث نمبر: 1526
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، وَعَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، وَسَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، أَنَّ أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَلَمَّا دَنَوْا مِنْ الْمَدِينَةِ كَبَّرَ النَّاسُ وَرَفَعُوا أَصْوَاتَهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّكُمْ لَا تَدْعُونَ أَصَمَّ وَلَا غَائِبًا، إِنَّ الَّذِي تَدْعُونَهُ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ أَعْنَاقِ رِكَابِكُمْ"، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا أَبَا مُوسَى، أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ؟" فَقُلْتُ: وَمَا هُوَ؟ قَالَ:" لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ".
ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھا، جب لوگ مدینہ کے قریب پہنچے تو لوگوں نے تکبیر کہی اور اپنی آوازیں بلند کیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگو! تم کسی بہرے یا غائب کو آواز نہیں دے رہے ہو، بلکہ جسے تم پکار رہے ہو وہ تمہارے اور تمہاری سواریوں کی گردنوں کے درمیان ہے ۱؎“، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوموسیٰ! کیا میں تمہیں جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ نہ بتاؤں؟“، میں نے عرض کیا: وہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ «لا حول ولا قوة إلا بالله» ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1526]
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔ جب ہم مدینہ کے قریب پہنچے تو لوگوں نے «اللهُ أَكْبَرُ»، «اللهُ أَكْبَرُ» کہنا شروع کر دیا اور اپنی آوازیں اونچی کیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگو! تم کسی بہرے یا غائب کو نہیں پکار رہے ہو، بیشک جسے تم پکارتے ہو وہ تمہارے اور تمہاری سواریوں کی گردنوں کے درمیان (نہایت قریب ہے، لہٰذا چیختے چلانے کی ضرورت نہیں) ہے۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوموسیٰ! کیا میں تمہیں جنت کا ایک خزانہ نہ بتاؤں؟“ میں نے عرض کیا: ”وہ کیا ہے؟“ فرمایا: ” «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ» ”کسی برائی سے بچنا اور دور رہنا اور کسی نیکی اور خیر کی ہمت پانا اللہ کے بغیر ممکن نہیں۔“” [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1526]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجہاد 131 (2992)، والمغازي 38 (4205)، والدعوات 50 (6384)، 66 (6409)، والقدر 7 (6610)، والتوحید 9 (7386)، صحیح مسلم/الذکر والدعاء 13 (2704)، سنن الترمذی/الدعوات 3 (3374)، 58 (3461)، سنن النسائی/الیوم واللیلة (536، 537، 538)، سنن ابن ماجہ/الأدب 59 (3824)، (تحفة الأشراف:9017)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/394، 399، 400، 402، 407، 417، 418) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ اللہ رب العزت کے علم و قدرت اور سمع کی رو سے ہے، رہی اس کی ذات تو وہ عرش کے اوپر مستوی اور بلند و بالا ہے، نیز اس حدیث سے ذکر سری کی ذکر جہری پر فضیلت ثابت ہوتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح ق دون قوله إن الذي تدعونه بينكم وبين أعناق ركائبكم وهو منكر
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
أصله متفق عليه انظر البخاري (2992) ومسلم (2704)
أصله متفق عليه انظر البخاري (2992) ومسلم (2704)
حدیث نمبر: 1527
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، أَنَّهُمْ كَانُوا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمْ يَتَصَعَّدُونَ فِي ثَنِيَّةٍ، فَجَعَلَ رَجُلٌ كُلَّمَا عَلَا الثَّنِيَّةَ نَادَى لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّكُمْ لَا تُنَادُونَ أَصَمَّ وَلَا غَائِبًا"، ثُمَّ قَالَ:" يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ" فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور ایک پہاڑی پر چڑھ رہے تھے، ایک شخص تھا، وہ جب بھی پہاڑی پر چڑھتا تو «لا إله إلا الله والله أكبر» پکارتا، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ کسی بہرے اور غائب کو نہیں پکار رہے ہو“۔ پھر فرمایا: اے عبداللہ بن قیس! پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث بیان کی۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1527]
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ وہ لوگ اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور ایک گھاٹی پر چڑھ رہے تھے، ایک آدمی جب بھی کسی گھاٹی پر چڑھتا تو خوب اونچی آواز سے کہتا «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ» تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم کسی بہرے یا غائب کو نہیں پکارتے ہو۔“ (وہ سمیع اور قریب ہے، چلاتے کیوں ہو؟) پھر فرمایا: ”اے عبداللہ بن قیس!“ (ابوموسیٰ اشعری) اور مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی بیان کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1527]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف:9017) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6610) صحيح مسلم (2704)
حدیث نمبر: 1528
حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي مُوسَى بِهَذَا الْحَدِيثِ، وَقَالَ فِيهِ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، ارْبَعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ".
اس سند سے بھی ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے یہی حدیث روایت کی ہے البتہ اس میں یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگو! اپنے اوپر آسانی کرو“۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1528]
ابوعثمان نے سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث روایت کی ہے اور اس میں کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگو! اپنے آپ پر رحم کرو (چلاؤ نہیں)۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1528]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1526، (تحفة الأشراف:9017) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6206) صحيح مسلم (2704)
حدیث نمبر: 1529
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شُرَيْحٍ الْإِسْكَنْدَرَانِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلَانِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَلِيٍّ الْجَنْبِيَّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ قَالَ: رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کہے: «رضيت بالله ربا وبالإسلام دينا وبمحمد رسولا» ”میں اللہ کے رب ہونے، اسلام کے دین ہونے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے پر راضی ہوا“ تو جنت اس کے لیے واجب گئی“۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1529]
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص «رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا» ”میں اللہ کے رب ہونے پر، اسلام کے دین ہونے پر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے پر راضی ہوں“ کہے، اس کے لیے جنت واجب ہو گئی۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1529]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابوداود، (تحفة الأشراف:4268)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الإمارة 31 (1884)، سنن النسائی/الجہاد 18 (3133) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1530
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ صَلَّى عَلَيَّ وَاحِدَةً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ عَشْرًا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو مجھ پر ایک بار درود (صلاۃ) بھیجے گا اللہ اس پر دس رحمت نازل کرے گا“۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1530]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص ایک بار مجھ پر درود (صلاۃ) پڑھتا ہے، اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل کرتا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1530]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصلاة 17 (408)، سنن الترمذی/الصلاة 235 (الوتر 20) (485)، سنن النسائی/السہو55 (1297)، (تحفة الأشراف:13974)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/373، 375، 485)، سنن الدارمی/الرقاق 58 (2814) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (408)
حدیث نمبر: 1531
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ مِنْ أَفْضَلِ أَيَّامِكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَأَكْثِرُوا عَلَيَّ مِنَ الصَّلَاةِ فِيهِ فَإِنَّ صَلَاتَكُمْ مَعْرُوضَةٌ عَلَيَّ"، قَالَ: فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَكَيْفَ تُعْرَضُ صَلَاتُنَا عَلَيْكَ وَقَدْ أَرَمْتَ، قَالَ: يَقُولُونَ: بَلِيتَ، قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى حَرَّمَ عَلَى الْأَرْضِ أَجْسَادَ الْأَنْبِيَاءِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِمْ".
اوس بن اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جمعہ کا دن تمہارے بہترین دنوں میں سے ہے، لہٰذا اس دن میرے اوپر کثرت سے درود (صلاۃ) بھیجا کرو، اس لیے کہ تمہارے درود مجھ پر پیش کئے جاتے ہیں“، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ قبر میں بوسیدہ ہو چکے ہوں گے تو ہمارے درود (صلاۃ) آپ پر کیسے پیش کئے جائیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے زمین پر انبیاء کرام کے جسم حرام کر دئیے ہیں“۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1531]
سیدنا اوس بن اوس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے افضل دنوں میں سے جمعے کا دن فضیلت والا ہے، سو اس دن مجھ پر کثرت سے درود پڑھا کرو۔ بلاشبہ تمہارا درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے۔“ صحابہ نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! ہمارا درود آپ پر کیسے پیش کیا جائے گا حالانکہ آپ کا جسم (قبر میں) بوسیدہ ہو چکا ہو گا؟“ فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ نے انبیاء علیہم السلام کے جسم زمین پر حرام کر دیے ہیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1531]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظرحدیث رقم: 1047، (تحفة الأشراف:1736) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
انظر الحديث السابق (1047)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 61
إسناده ضعيف
انظر الحديث السابق (1047)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 61
27. باب النَّهْىِ عَنْ أَنْ يَدْعُوَ الإِنْسَانُ عَلَى أَهْلِهِ وَمَالِهِ
باب: اپنے مال اور اپنی اولاد کے لیے بددعا منع ہے۔
حدیث نمبر: 1532
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَيَحْيَى بْنُ الْفَضْلِ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالُوا: حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ مُجَاهِدٍ أَبُو حَزْرَةَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَدْعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ، وَلَا تَدْعُوا عَلَى أَوْلَادِكُمْ، وَلَا تَدْعُوا عَلَى خَدَمِكُمْ، وَلَا تَدْعُوا عَلَى أَمْوَالِكُمْ، لَا تُوَافِقُوا مِنَ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى سَاعَةَ نَيْلٍ فِيهَا عَطَاءٌ فَيَسْتَجِيبَ لَكُمْ". قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا الْحَدِيثُ مُتَّصِلٌ، عُبَادَةُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ لَقِيَ جَابِرًا.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ نہ اپنے لیے بد دعا کرو اور نہ اپنی اولاد کے لیے، نہ اپنے خادموں کے لیے اور نہ ہی اپنے اموال کے لیے، کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ گھڑی ایسی ہو جس میں دعا قبول ہوتی ہو اور اللہ تمہاری بد دعا قبول کر لے“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث متصل ہے کیونکہ عبادہ بن ولید کی ملاقات جابر بن عبداللہ سے ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1532]
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے آپ کو بد دعا نہ دو، اپنی اولاد کو بد دعا نہ دو، اپنے خادموں کو بد دعا نہ دو اور اپنے مالوں کو بد دعا نہ دو، ایسا نہ ہو کہ وہ اللہ کی طرف سے عطا و قبولیت کی گھڑی ہو (ادھر تم کوئی بد دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ اسے) تمہارے لیے قبول کر لے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث متصل ہے، عبادہ بن ولید بن عبادہ نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1532]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:2361) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
رواه مسلم (3008) وانظر الحديثين السابقين (485، 634)
رواه مسلم (3008) وانظر الحديثين السابقين (485، 634)
28. باب الصَّلاَةِ عَلَى غَيْرِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی دوسرے پر درود بھیجنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1533
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ امْرَأَةً قَالَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صَلِّ عَلَيَّ وَعَلَى زَوْجِي، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَلَّى اللَّهُ عَلَيْكِ وَعَلَى زَوْجِكِ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ایک عورت نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: میرے اور میرے شوہر کے لیے رحمت کی دعا فرما دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «صلى الله عليك وعلى زوجك» ”اللہ تجھ پر اور تیرے شوہر پر رحمت نازل فرمائے“۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1533]
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک عورت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: ”میرے اور میرے شوہر کے لیے دعائے رحمت فرما دیجیے“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْكِ وَعَلَى زَوْجِكِ» ”اللہ تجھ پر اور تیرے شوہر پر اپنی رحمتیں (اور برکتیں) نازل فرمائے۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1533]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابوداود، (تحفة الأشراف:3118)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/ الشمائل (179)، سنن النسائی/الیوم اللیلة (423) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
29. باب الدُّعَاءِ بِظَهْرِ الْغَيْبِ
باب: اپنے مسلمان بھائی کے لیے غائبانہ دعا کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1534
حَدَّثَنَا رَجَاءُ بْنُ الْمُرَجَّى، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ ثَرْوَانَ، حَدَّثَنِي طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ كَرِيزٍ، حَدَّثَتْنِي أُمُّ الدَّرْدَاءِ، قَالَتْ: حَدَّثَنِي سَيِّدِي أَبُو الدَّرْدَاءِ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِذَا دَعَا الرَّجُلُ لِأَخِيهِ بِظَهْرِ الْغَيْبِ، قَالَتِ الْمَلَائِكَةُ: آمِينَ وَلَكَ بِمِثْلٍ".
ام الدرادء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں مجھ سے میرے شوہر ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جب کوئی اپنے بھائی کے لیے غائبانے (غائبانہ) میں دعا کرتا ہے تو فرشتے آمین کہتے ہیں اور کہتے ہیں: تیرے لیے بھی اسی جیسا ہو“۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1534]
سیدہ ام الدرداء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میرے آقا سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”جب کوئی شخص اپنے بھائی کے لیے غائبانہ دعا کرتا ہے تو فرشتے کہتے ہیں «آمِينَ» ”اے اللہ! قبول فرما“ اور تجھے بھی یہ کچھ حاصل ہو۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1534]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الذکر والدعاء 23 (2732)، (تحفة الأشراف:10988)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/المناسک 5 (2895)، مسند احمد (5/195) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2732)
حدیث نمبر: 1535
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ أَسْرَعَ الدُّعَاءِ إِجَابَةً دَعْوَةُ غَائِبٍ لِغَائِبٍ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے جلد قبول ہونے والی دعا وہ ہے جو غائب کسی غائب کے لیے کرے“۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1535]
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہت جلد قبول ہونے والی دعا یہ ہے کہ انسان کسی غیر موجود کے لیے غائبانہ دعا کرے۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1535]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/البر والصلة 50 (1980)، (تحفة الأشراف:8852) (ضعیف)» (اس کے راوی عبد الرحمن بن زیاد افریقی ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (1980)
الإفريقي ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 61
إسناده ضعيف
ترمذي (1980)
الإفريقي ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 61