سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
23. باب الدُّعَاءِ
باب: دعا کا بیان۔
حدیث نمبر: 1496
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" اسْمُ اللَّهِ الْأَعْظَمُ فِي هَاتَيْنِ الْآيَتَيْنِ وَإِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ لا إِلَهَ إِلا هُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ سورة البقرة آية 163، وَفَاتِحَةِ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ الم {1} اللَّهُ لا إِلَهَ إِلا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ {2} سورة آل عمران آية 1-2".
اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کا اسم اعظم (عظیم نام) ان دونوں آیتوں «وإلهكم إله واحد لا إله إلا هو الرحمن الرحيم» ۱؎ اور سورۃ آل عمران کی ابتدائی آیت «الله لا إله إلا هو الحي القيوم» ۲؎ میں ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1496]
شہر بن حوشب، سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کا اسمِ اعظم ان دو آیتوں میں ہے: ﴿وَإِلهُكُم إِلٰهٌ واحِدٌ لا إِلٰهَ إِلّا هُوَ الرَّحمٰنُ الرَّحيمُ﴾ [سورة البقرة: 163] اور سورہ آلِ عمران کی ابتدائی آیات میں: ﴿الم * اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ﴾ [سورة آل عمران: 1-2] “ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1496]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الدعوات 65 (3478)، سنن ابن ماجہ/الدعاء 9 (3855)، (تحفة الأشراف:15767)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/461) (حسن لغیرہ)» (اس کے راوی عبیداللہ القدَّاح ضعیف ہیں، نیز شہر بن حوشب میں بھی کلام ہے، ترمذی نے حدیث کو صحیح کہا ہے، اس کی شاہد ابو امامة کی حدیث ہے، جس سے تقویت پاکر یہ حدیث حسن ہوئی) (ملاحظہ ہو: سلسلة ا لاحادیث الصحیحة: 746و صحیح ابی داود: 5؍ 234)
وضاحت: وضاحت: سورة البقرة: (۱۶۳) وضاحت: سورة آل عمران: (۱،۲)
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (2291)
أخرجه الترمذي (3478 وسنده حسن)
مشكوة المصابيح (2291)
أخرجه الترمذي (3478 وسنده حسن)
حدیث نمبر: 1497
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: سُرِقَتْ مِلْحَفَةٌ لَهَا، فَجَعَلَتْ تَدْعُو عَلَى مَنْ سَرَقَهَا، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لَا تُسَبِّخِي عَنْهُ". قَالَ أَبُو دَاوُد: لَا تُسَبِّخِي: أَيْ لَا تُخَفِّفِي عَنْهُ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ان کا ایک لحاف چرا لیا گیا تو وہ اس کے چور پر بد دعا کرنے لگیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے: ”تم اس کے گناہ میں کمی نہ کرو“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «لا تسبخي» کا مطلب ہے «لا تخففي عنه» یعنی اس کے گناہ میں تخفیف نہ کرو۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1497]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ان کا ایک لحاف چوری ہو گیا تو وہ چور پر بد دعا کرنے لگیں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے ”اس کے گناہ کو ہلکا مت کر۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں «لَا تُسَبِّخِي» کے معنی «لَا تُخَفِّفِي» ہیں، یعنی ”ہلکا نہ کر، کم نہ کر۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1497]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف:17377)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/45، 136)، ویأتي برقم (4909) (حسن) (ملاحظہ ہو: ضعیف ابی داود2/90، والصحیحة: 3413)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
ضعيف
وانظر الحديث الآتي (4909)
حبيب عنعن
وللحديث شاھد ضعيف عند أحمد (215/6)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 60
ضعيف
وانظر الحديث الآتي (4909)
حبيب عنعن
وللحديث شاھد ضعيف عند أحمد (215/6)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 60
حدیث نمبر: 1498
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: اسْتَأْذَنْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعُمْرَةِ، فَأَذِنَ لِي، وَقَالَ:" لَا تَنْسَنَا يَا أُخَيَّ مِنْ دُعَائِكَ"، فَقَالَ كَلِمَةً مَا يَسُرُّنِي أَنَّ لِي بِهَا الدُّنْيَا، قَالَ شُعْبَةُ: ثُمَّ لَقِيتُ عَاصِمًا بَعْدُ بِالْمَدِينَةِ فَحَدَّثَنِيهِ، وَقَالَ:" أَشْرِكْنَا يَا أُخَيَّ فِي دُعَائِكَ".
عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عمرہ کرنے کی اجازت طلب کی، جس کی آپ نے مجھے اجازت دے دی اور فرمایا: ”میرے بھائی! مجھے اپنی دعاؤں میں نہ بھولنا“، آپ نے یہ ایسی بات کہی جس سے مجھے اس قدر خوشی ہوئی کہ اگر ساری دنیا اس کے بدلے مجھے مل جاتی تو اتنی خوشی نہ ہوتی۔ (راوی حدیث) شعبہ کہتے ہیں: پھر میں اس کے بعد عاصم سے مدینہ میں ملا۔ انہوں نے مجھے یہ حدیث سنائی اور اس وقت «لا تنسنا يا أخى من دعائك» کے بجائے «أشركنا يا أخى في دعائك» کے الفاظ کہے ”اے میرے بھائی ہمیں بھی اپنی دعاؤں میں شریک رکھنا“۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1498]
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عمرہ کرنے کی رخصت چاہی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اجازت دے دی اور فرمایا: ”میرے پیارے بھائی! ہمیں اپنی دعا میں مت بھولنا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے الفاظ فرمائے کہ مجھے ان کے بدلے دنیا بھی ملے تو پسند نہیں۔ شعبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں بعد میں جناب عاصم سے مدینہ میں ملا تو انہوں نے مجھے یہ حدیث بیان کی۔ ان کے الفاظ یہ تھے: ”میرے عزیز بھائی! ہمیں اپنی دعا میں شریک رکھنا۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1498]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الدعوات 110 (3562)، سنن ابن ماجہ/المناسک 5 (2894)، (تحفة الأشراف:10522)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/29) (ضعیف)» (اس کے راوی عاصم ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
ضعيف
ترمذي (3562) ابن ماجه (8294)
عاصم بن عبيد اللّٰه : ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 60
ضعيف
ترمذي (3562) ابن ماجه (8294)
عاصم بن عبيد اللّٰه : ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 60
حدیث نمبر: 1499
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، قَالَ: مَرَّ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَدْعُو بِأُصْبُعَيَّ، فَقَالَ:" أَحِّدْ أَحِّدْ" وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ.
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے، میں اس وقت اپنی دو انگلیوں سے اشارہ کرتے ہوئے دعا مانگ رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک انگلی سے کرو، ایک انگلی سے کرو“ اور آپ نے شہادت کی انگلی سے اشارہ کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1499]
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے اور میں اپنی دو انگلیاں اٹھائے دعا کر رہا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک سے، ایک سے۔“ اور انگشت شہادت سے اشارہ فرمایا۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1499]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/السہو 37 (1274)، (تحفة الأشراف:3850)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الدعوات (3552) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي (1274)
الأعمش مدلس وعنعن وللحديث شواھد ضعيفة عند الترمذي (3557) وابن أبي شيبة (10 / 383 ح 29685) وأحمد (3/ 183 ح 12901) وغيرھم
فالحديث ضعيف والإشارة بالإصبع الواحدة السبابة صحيح انظر كتابي : نيل المقصود في تحقيق سنن أبي داود (991)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 60
إسناده ضعيف
نسائي (1274)
الأعمش مدلس وعنعن وللحديث شواھد ضعيفة عند الترمذي (3557) وابن أبي شيبة (10 / 383 ح 29685) وأحمد (3/ 183 ح 12901) وغيرھم
فالحديث ضعيف والإشارة بالإصبع الواحدة السبابة صحيح انظر كتابي : نيل المقصود في تحقيق سنن أبي داود (991)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 60
24. باب التَّسْبِيحِ بِالْحَصَى
باب: کنکریوں سے تسبیح گننے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1500
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبِي هِلَالٍ حَدَّثَهُ، عَنْ خُزَيْمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهَا، أَنَّهُ دَخَلَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى امْرَأَةٍ وَبَيْنَ يَدَيْهَا نَوًى أَوْ حَصًى تُسَبِّحُ بِهِ، فَقَالَ:" أُخْبِرُكِ بِمَا هُوَ أَيْسَرُ عَلَيْكِ مِنْ هَذَا، أَوْ أَفْضَلُ، فَقَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ فِي السَّمَاءِ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ فِي الْأَرْضِ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ بَيْنَ ذَلِكَ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ مَا هُوَ خَالِقٌ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ مِثْلُ ذَلِكَ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ مِثْلُ ذَلِكَ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مِثْلُ ذَلِكَ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ مِثْلُ ذَلِكَ".
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک عورت ۱؎ کے پاس گئے، اس کے سامنے گٹھلیاں یا کنکریاں رکھی تھیں، جن سے وہ تسبیح گنتی تھی ۲؎، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہیں ایک ایسی چیز بتاتا ہوں جو تمہارے لیے اس سے زیادہ آسان ہے یا اس سے افضل ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس طرح کہا کرو: «سبحان الله عدد ما خلق في السماء وسبحان الله عدد ما خلق في الأرض وسبحان الله عدد ما خلق بين ذلك وسبحان الله عدد ما هو خالق والله أكبر مثل ذلك والحمد لله مثل ذلك . ولا إله إلا الله مثل ذلك . ولا حول ولا قوة إلا بالله مثل ذلك» ۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1500]
عائشہ بنت سعد بن ابی وقاص اپنے والد (سیدنا سعد رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتی ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک عورت کے پاس آئے جب کہ اس عورت کے سامنے گٹھلیاں تھیں یا کنکریاں، وہ ان کے ساتھ تسبیح پڑھ رہی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں وہ چیز نہ بتاؤں جو تمہارے لیے آسان تر یا افضل ہو؟“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «سُبْحَانَ اللّٰهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ فِي السَّمَاءِ وَسُبْحَانَ اللّٰهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ فِي الْأَرْضِ وَسُبْحَانَ اللّٰهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ بَيْنَ ذٰلِكَ وَسُبْحَانَ اللّٰهِ عَدَدَ مَا هُوَ خَالِقٌ» ”اللہ کی تسبیح ہے اس مخلوق کی تعداد میں جو اس نے آسمان میں پیدا کی، اللہ کی تسبیح ہے اس مخلوق کی تعداد میں جو اس نے زمین میں پیدا کی، اللہ کی تسبیح ہے اس مخلوق کی تعداد میں جو اس نے ان دونوں کے مابین پیدا کی، اللہ کی تسبیح ہے اس مخلوق کی تعداد میں جو وہ پیدا کرے گا۔“ اور «اَللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ بہت بڑا ہے“ اسی کے مثل، اور «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”تمام تعریف اللہ ہی کے لیے ہے“ اسی کے مثل، اور «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“ اسی کے مثل، اور «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ» ”اللہ کی مدد کے بغیر نہ گناہوں سے بچنے کی طاقت ہے نہ نیکی کرنے کی ہمت“ اسی کے مثل۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1500]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الدعوات 114 (3568)، (تحفة الأشراف:3954) (ضعیف)» (اس کے راوی خزیمہ مجہول ہیں)
وضاحت: ۱؎: وہ ام المومنین صفیہ رضی اللہ عنہا، یا ام المومنین جویریہ رضی اللہ عنہا تھیں۔ ۲؎: مروجہ تسبیح جس میں سو دانے ہوتے ہیں، اور ان میں ایک امام ہوتا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، صحابہ کرام اور سلف صالحین سے ثابت نہیں ہے، انگلیوں پر تسبیح مسنون ہے، ملاحظہ ہو اگلی حدیث نمبر (۱۵۰۱)۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (2311)
أخرجه الترمذي (3568 وسنده حسن) خزيمة: حسن الحديث
مشكوة المصابيح (2311)
أخرجه الترمذي (3568 وسنده حسن) خزيمة: حسن الحديث
حدیث نمبر: 1501
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ هَانِئِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ حُمَيْضَةَ بِنْتِ يَاسِرٍ، عَنْ يُسَيْرَةَ، أَخْبَرَتْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَمَرَهُنَّ أَنْ يُرَاعِينَ بِالتَّكْبِيرِ وَالتَّقْدِيسِ وَالتَّهْلِيلِ، وَأَنْ يَعْقِدْنَ بِالْأَنَامِلِ فَإِنَّهُنَّ مَسْئُولَاتٌ مُسْتَنْطَقَاتٌ".
یسیرہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ تکبیر، تقدیس اور تہلیل کا اہتمام کیا کریں اور اس بات کا کہ وہ انگلیوں کے پوروں سے گنا کریں اس لیے کہ انگلیوں سے (قیامت کے روز) سوال کیا جائے گا اور وہ بولیں گی ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1501]
سیدہ یسیرہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں (صحابیات کو) حکم دیا تھا کہ: ”وہ اللہ کی تکبیر «اَللّٰهُ أَكْبَرُ»، تقدیس «سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوْسِ» اور تہلیل «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» کی پابندی اختیار کریں اور یہ کہ اپنی انگلیوں پر شمار کیا کریں، کیونکہ ان سے سوال ہو گا اور یہ بلوائی جائیں گی۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1501]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الدعوات 121 (3583)، (تحفة الأشراف:18301)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/370، 371) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: «يوم تشهد عليهم ألسنتهم وأيديهم وأرجلهم بما كانوا يعملون» (سورۃ النور 24) ” جس دن ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ اور پاؤں ان کے خلاف گواہی دیں گے “، تو جس طرح ہاتھ اور پاؤں وغیرہ اعضاء برے اعمال کی گواہی دیں گے اسی طرح اچھے اعمال کی بھی گواہی دیں گے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (2316)
أخرجه الترمذي (3583 وسنده حسن)
مشكوة المصابيح (2316)
أخرجه الترمذي (3583 وسنده حسن)
حدیث نمبر: 1502
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ فِي آخَرِينَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَثَّامٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَعْقِدُ التَّسْبِيحَ"، قَالَ ابْنُ قُدَامَةَ:" بِيَمِينِهِ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسبیح گنتے دیکھا (ابن قدامہ کی روایت میں ہے): ”اپنے دائیں ہاتھ پر“۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1502]
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ (کی انگلیوں) پر تسبیح شمار کرتے تھے۔“ (استاذ) ابن قدامہ نے وضاحت کی کہ ”اپنے دائیں ہاتھ سے۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1502]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الدعوات 25 (3411)، 72 (3486)، سنن النسائی/السہو 97 (1356)، (تحفة الأشراف:8637) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
الأعمش عنعن في ھذا اللفظ وصح الحديث بلفظ: ’’ رأيت النبي ﷺ يعقد التسبيح ‘‘ (ت 3411)
وصححه الذھبي في تلخيص المستدرك (1/ 547)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 60
إسناده ضعيف
الأعمش عنعن في ھذا اللفظ وصح الحديث بلفظ: ’’ رأيت النبي ﷺ يعقد التسبيح ‘‘ (ت 3411)
وصححه الذھبي في تلخيص المستدرك (1/ 547)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 60
حدیث نمبر: 1503
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أُمَيَّةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِ جُوَيْرِيَةَ وَكَانَ اسْمُهَا بُرَّةَ، فَحَوَّلَ اسْمَهَا، فَخَرَجَ وَهِيَ فِي مُصَلَّاهَا، وَرَجَعَ وَهِيَ فِي مُصَلَّاهَا، فَقَالَ:" لَمْ تَزَالِي فِي مُصَلَّاكِ هَذَا؟" قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ:" قَدْ قُلْتُ بَعْدَكِ أَرْبَعَ كَلِمَاتٍ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ لَوْ وُزِنَتْ بِمَا قُلْتِ لَوَزَنَتْهُنَّ: سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ عَدَدَ خَلْقِهِ وَرِضَا نَفْسِهِ وَزِنَةَ عَرْشِهِ وَمِدَادَ كَلِمَاتِهِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جویریہ رضی اللہ عنہا کے پاس سے نکلے (پہلے ان کا نام برہ تھا ۱؎ آپ نے اسے بدل دیا)، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نکل کر آئے تب بھی وہ اپنے مصلیٰ پر تھیں اور جب واپس اندر گئے تب بھی وہ مصلیٰ پر تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تم جب سے اپنے اسی مصلیٰ پر بیٹھی ہو؟“، انہوں نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تمہارے پاس سے نکل کر تین مرتبہ چار کلمات کہے ہیں، اگر ان کا وزن ان کلمات سے کیا جائے جو تم نے (اتنی دیر میں) کہے ہیں تو وہ ان پر بھاری ہوں گے: «سبحان الله وبحمده عدد خلقه ورضا نفسه وزنة عرشه ومداد كلماته» ”میں پاکی بیان کرتا ہوں اللہ کی اور اس کی تعریف کرتا ہوں اس کی مخلوق کی تعداد کے برابر، اس کی مرضی کے مطابق، اس کے عرش کے وزن اور اس کے کلمات کی سیاہی کے برابر“۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1503]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا کے ہاں سے نکلے، اس سے پہلے ان کا نام ”برہ“ (نیک اور صالحہ) تھا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام تبدیل کر دیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں سے نکلے اور وہ اپنے مصلے پر تھیں، پھر واپس تشریف لائے تو (دیکھا کہ) وہ اپنے مصلے ہی پر ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تم اس وقت سے اپنے مصلے ہی پر ہو؟“ وہ کہنے لگیں: ”ہاں!“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تمہارے (ہاں سے جانے کے) بعد چار کلمات تین بار کہے ہیں، اگر ان کو تمہاری تسبیحات اور ذکر سے وزن کیا جائے تو یہ (میرے کلمات) بھاری ہو جائیں گے، یعنی «سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهِ، عَدَدَ خَلْقِهِ، وَرِضَا نَفْسِهِ، وَزِنَةَ عَرْشِهِ، وَمِدَادَ كَلِمَاتِهِ» ”پاکیزگی ہے اللہ کی اس کی تعریفوں کے ساتھ، اس قدر جتنی کہ اس کی مخلوق ہے اور اتنی کہ اس سے وہ راضی ہو جائے اور اس کے عرش کے وزن کے برابر اور اس قدر جتنی کہ اس کے کلمات کی روشنائی ہے۔““ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1503]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الذکر والدعاء 19 (2140 و 2726)، (تحفة الأشراف:6358)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/افتتاح 94 (1353)، سنن الترمذی/الدعاء 104(3555)، سنن ابن ماجہ/الأدب 56 (2808)، مسند احمد (1/258، 316، 326، 353) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اسی طرح زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا کا نام بھی برہ تھا، اس کو بدل کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زینب رکھ دیا، اس لئے کہ معلوم نہیں کہ اللہ کے نزدیک کون برہ (نیکوکار) ہے اور کون فاجرہ (بدکار) ہے، انسان کو آپ اپنی تعریف و تقدیس مناسب نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2726)
حدیث نمبر: 1504
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَائِشَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ أَبُو ذَرٍّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ذَهَبَ أَصْحَابُ الدُّثُورِ بِالْأُجُورِ يُصَلُّونَ كَمَا نُصَلِّي وَيَصُومُونَ كَمَا نَصُومُ، وَلَهُمْ فُضُولُ أَمْوَالٍ يَتَصَدَّقُونَ بِهَا وَلَيْسَ لَنَا مَالٌ نَتَصَدَّقُ بِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا أَبَا ذَرٍّ، أَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ تُدْرِكُ بِهِنَّ مَنْ سَبَقَكَ، وَلَا يَلْحَقُكَ مَنْ خَلْفَكَ إِلَّا مَنْ أَخَذَ بِمِثْلِ عَمَلِكَ؟" قَالَ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" تُكَبِّرُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَتَحْمَدُهُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَتُسَبِّحُهُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَتَخْتِمُهَا بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، غُفِرَتْ لَهُ ذُنُوبُهُ وَلَوْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! مال والے تو ثواب لے گئے، وہ نماز پڑھتے ہیں، جس طرح ہم پڑھتے ہیں، روزے رکھتے ہیں جس طرح ہم رکھتے ہیں، البتہ ان کے پاس ضرورت سے زیادہ مال ہے، جو وہ صدقہ کرتے ہیں اور ہمارے پاس مال نہیں ہے کہ ہم صدقہ کریں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوذر! کیا میں تمہیں ایسے کلمات نہ سکھاؤں جنہیں ادا کر کے تم ان لوگوں کے برابر پہنچ سکتے ہو، جو تم پر (ثواب میں) بازی لے گئے ہیں، اور جو (ثواب میں) تمہارے پیچھے ہیں تمہارے برابر نہیں ہو سکتے، سوائے اس شخص کے جو تمہارے جیسا عمل کرے“، انہوں نے کہا: ضرور، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نماز کے بعد (۳۳) بار «الله اكبر» (۳۳) بار «الحمد الله» (۳۳) بار «سبحان الله» کہا کرو، اور آخر میں «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير» پڑھا کرو ”جو ایسا کرے گا) اس کے تمام گناہ بخش دئیے جائیں گے اگرچہ وہ سمندر کے جھاگ کے برابر ہوں“۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1504]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! یہ مال و دولت والے تو اجر و ثواب لے گئے (اور ہم خالی رہ گئے)، وہ نمازیں پڑھتے ہیں جیسے کہ ہم پڑھتے ہیں، وہ روزے رکھتے ہیں جیسے کہ ہم رکھتے ہیں اور ان کے پاس زائد اموال ہیں جو وہ صدقہ کرتے ہیں لیکن ہمارے پاس نہیں ہیں کہ صدقہ کریں۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوذر! کیا میں تمہیں ایسے کلمات نہ سکھا دوں جن سے تم اپنے سے آگے بڑھنے والوں کو پالو اور پیچھے رہنے والے تمہیں نہ پا سکیں الا یہ کہ کوئی تمہاری طرح کا عمل کرے؟“ انہوں نے کہا: ”ہاں اے اللہ کے رسول!“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نماز کے بعد تینتیس 33 بار «اللَّهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“، تینتیس 33 بار «الْحَمْدُ لِلَّهِ» ”تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں“ اور تینتیس 33 بار «سُبْحَانَ اللَّهِ» ”اللہ پاک ہے“ کہا کرو اور ان کا اختتام «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہی ہے اور اسی کے لیے تمام تعریف ہے، اور وہ ہر چیز پر خوب قادر ہے“ پر ہو، اس سے اس کے گناہ بخش دیے جائیں گے اگرچہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1504]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:14588)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المساجد 26 (595)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 32 (926)، موطا امام مالک/القرآن 7 (22)، سنن الدارمی/الصلاة 90 (1393) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لكن قوله غفرت له ... مدرج
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
25. باب مَا يَقُولُ الرَّجُلُ إِذَا سَلَّمَ
باب: آدمی سلام پھیرے تو کیا پڑھے؟
حدیث نمبر: 1505
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ وَرَّادٍ مَوْلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، كَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ: أَيُّ شَيْءٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِذَا سَلَّمَ مِنَ الصَّلَاةِ، فَأَمْلَاهَا الْمُغِيرَةُ عَلَيْهِ، وَكَتَبَ إِلَى مُعَاوِيَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ".
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے انہیں لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے سلام پھیرتے تو کیا پڑھتے تھے؟ اس پر مغیرہ نے معاویہ کو لکھوا کے بھیجا، اس میں تھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير، اللهم لا مانع لما أعطيت ولا معطي لما منعت ولا ينفع ذا الجد منك الجد» ”کوئی معبود برحق نہیں سوائے اللہ کے، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے بادشاہت ہے، اسی کے لیے حمد ہے، وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اے اللہ! جو تو دے، اسے کوئی روک نہیں سکتا اور جو تو روک دے، اسے کوئی دے نہیں سکتا اور مالدار کو اس کی مال داری نفع نہیں دے سکتی“ پڑھتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1505]
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ کو خط لکھا اور دریافت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے سلام کے بعد کیا پڑھا کرتے تھے؟ تو سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف لکھوا بھیجا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھا کرتے تھے: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ» ”اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی ساجھی نہیں۔ ملک اسی کا ہے۔ تعریف اسی کی ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ اے اللہ! جو تو عنایت فرما دے اسے کوئی نہیں روک سکتا اور جو تو روک لے وہ کوئی دے نہیں سکتا اور کسی بھی مالدار کو تیرے مقابلے میں اس کا مال فائدہ نہیں دے سکتا۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1505]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 155 (844)، والزکاة 53 (1477)، والدعوات 18 (6330)، والرقاق 22 (6473)، والقدر 12 (6615)، والاعتصام 3 (7292)، صحیح مسلم/المساجد 26 (593)، سنن النسائی/السہو 85 (1342)، (تحفة الأشراف:11535)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/245، 247، 250، 251، 254، 255)، سنن الدارمی/الصلاة 88 (1389) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (844) صحيح مسلم (593)