سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
29. باب الدُّعَاءِ بِظَهْرِ الْغَيْبِ
باب: اپنے مسلمان بھائی کے لیے غائبانہ دعا کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1536
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" ثَلَاثُ دَعَوَاتٍ مُسْتَجَابَاتٌ لَا شَكَّ فِيهِنَّ: دَعْوَةُ الْوَالِدِ، وَدَعْوَةُ الْمُسَافِرِ، وَدَعْوَةُ الْمَظْلُومِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین دعائیں ضرور قبول ہوتی ہیں، ان کی قبولیت میں کوئی شک نہیں: باپ کی دعا، مسافر کی دعا، مظلوم کی دعا“۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1536]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین دعاؤں کے قبول ہونے میں شک نہیں۔ باپ کی دعا، مسافر کی دعا اور مظلوم کی دعا۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1536]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/البروالصلة 7 (1905)، والدعوات 48 (3448)، سنن ابن ماجہ/الدعاء 11 (3862)، (تحفة الأشراف: 14873)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/258، 348، 434، 478، 517، 523) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (2250)
يحيي بن أبي كثير صرح بالسماع عند أحمد (2/348 ح 8564) وأبو جعفر المؤذن حسن الحديث حسن له الترمذي وابن حجر العسقلاني
مشكوة المصابيح (2250)
يحيي بن أبي كثير صرح بالسماع عند أحمد (2/348 ح 8564) وأبو جعفر المؤذن حسن الحديث حسن له الترمذي وابن حجر العسقلاني
30. باب مَا يَقُولُ إِذَا خَافَ قَوْمًا
باب: دشمن کا ڈر ہو تو کیا دعا پڑھے؟
حدیث نمبر: 1537
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا خَافَ قَوْمًا، قَالَ:" اللَّهُمَّ إِنَّا نَجْعَلُكَ فِي نُحُورِهِمْ، وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شُرُورِهِمْ".
ابوموسیٰ عبداللہ بن قیس اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کسی قوم سے خوف ہوتا تو فرماتے: «اللهم إنا نجعلك في نحورهم ونعوذ بك من شرورهم» ”اے اللہ! ہم تجھے ان کے بالمقابل کرتے ہیں اور ان کی برائیوں سے تیری پناہ طلب کرتے ہیں“۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1537]
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کسی قوم سے کوئی اندیشہ ہوتا تو اس طرح دعا کرتے: «اللَّهُمَّ إِنَّا نَجْعَلُكَ فِي نُحُورِهِمْ وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شُرُورِهِمْ» ”اے اللہ! ہم تجھے ان کے مقابلے میں پیش کرتے ہیں اور ان کی شرارتوں سے تیری پناہ میں آتے ہیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1537]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف:9127)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الیوم واللیلة (601)، مسند احمد (4/414، 415) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
قتادة عنعن ولم يسمع من أ بي بردة
انظر جامع التحصيل (ص 255)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 61
إسناده ضعيف
قتادة عنعن ولم يسمع من أ بي بردة
انظر جامع التحصيل (ص 255)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 61
31. باب فِي الاِسْتِخَارَةِ
باب: استخارہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 1538
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُقَاتِلٍ، خَالُ الْقَعْنَبِيِّ وَمُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، الْمَعْنَى وَاحِدٌ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الْمَوَالِ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا الِاسْتِخَارَةَ كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ، يَقُولُ لَنَا:" إِذَا هَمَّ أَحَدُكُمْ بِالْأَمْرِ فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ مِنْ غَيْرِ الْفَرِيضَةِ، وَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ الْعَظِيمِ، فَإِنَّكَ تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ وَتَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الْأَمْرَ يُسَمِّيهِ بِعَيْنِهِ الَّذِي يُرِيدُ خَيْرٌ لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَمَعَادِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي فَاقْدُرْهُ لِي وَيَسِّرْهُ لِي وَبَارِكْ لِي فِيهِ، اللَّهُمَّ وَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُهُ شَرًّا لِي مِثْلَ الْأَوَّلِ فَاصْرِفْنِي عَنْهُ وَاصْرِفْهُ عَنِّي وَاقْدِرْ لِي الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ، ثُمَّ رَضِّنِي بِهِ، أَوْ قَالَ: فِي عَاجِلِ أَمْرِي وَآجِلِهِ". قَالَ ابْنُ مَسْلَمَةَ، وَابْنُ عِيسَى: عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابَرٍ.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں استخارہ سکھاتے جیسے ہمیں قرآن کی سورۃ سکھاتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے فرماتے: ”جب تم میں سے کوئی کسی کام کا ارادہ کرے تو فرض کے علاوہ دو رکعت نفل پڑھے اور یہ دعا پڑھے: «اللهم إني أستخيرك بعلمك وأستقدرك بقدرتك وأسألك من فضلك العظيم فإنك تقدر ولاأقدر وتعلم ولا أعلم وأنت علام الغيوب اللهم إن كنت تعلم أن هذا الأمر ۱؎ خير لي في ديني ومعاشي ومعادي وعاقبة أمري فاقدره لي ويسره لي وبارك لي فيه اللهم وإن كنت تعلمه شرا لي فاصرفني عنه واصرفه عني واقدر لي الخير حيث كان ثم رضني به» ”اے اللہ! میں تجھ سے تیرے علم کے وسیلے سے خیر طلب کرتا ہوں، تجھ سے تیری قدرت کے وسیلے سے قوت طلب کرتا ہوں، تجھ سے تیرے بڑے فضل میں سے کچھ کا سوال کرتا ہوں، تو قدرت رکھتا ہے مجھ کو قدرت نہیں۔ تو جانتا ہے، میں نہیں جانتا، تو پوشیدہ چیزوں کا جاننے والا ہے، اے اللہ! اگر تو جانتا ہے کہ یہ معاملہ یا یہ کام ۱؎ میرے واسطے دین و دنیا، آخرت اور انجام کار کے لیے بہتر ہے تو اسے میرا مقدر بنا دے اور اسے میرے لیے آسان بنا دے اور میرے لیے اس میں برکت عطا کر، اے اللہ! اور اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام میرے لیے دین، دنیا، آخرت اور انجام میں برا ہے تو مجھ کو اس سے پھیر دے اور اسے مجھ سے پھیر دے اور جہاں کہیں بھلائی ہو، اسے میرے لیے مقدر کر دے، پھر مجھے اس پر راضی فرما“۔ ابن مسلمہ اور ابن عیسیٰ کی روایت میں «عن محمد بن المنكدر عن جابر» ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1538]
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں استخارے کی (اس اہتمام سے) تعلیم فرماتے تھے جیسے کہ قرآن کی کوئی سورت۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں فرماتے: ”جب تم میں سے کوئی کسی کام کا ارادہ کرے تو اسے چاہیے کہ فرضوں کے علاوہ دو رکعتیں پڑھے اور یوں دعا کرے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ، وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ، وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ الْعَظِيمِ، فَإِنَّكَ تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ، وَتَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ، وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الْأَمْرَ خَيْرٌ لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي، فَاقْدُرْهُ لِي، وَيَسِّرْهُ لِي، ثُمَّ بَارِكْ لِي فِيهِ، وَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الْأَمْرَ شَرٌّ لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي، فَاصْرِفْهُ عَنِّي، وَاصْرِفْنِي عَنْهُ، وَاقْدُرْ لِي الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ، ثُمَّ أَرْضِنِي» ”اے اللہ! میں تیرے علم کے واسطے سے خیر اور بھلائی چاہتا ہوں اور تیری قدرت کے واسطے سے قدرت طلب کرتا ہوں اور تیرے فضل عظیم کا سوال کرتا ہوں۔ بے شک تو قدرت رکھتا ہے اور میں قدرت نہیں رکھتا۔ تو جانتا ہے اور میں نہیں جانتا اور تو تمام غیبوں اور پوشیدہ امور سے پوری طرح باخبر ہے۔ اے اللہ! اگر تیرے علم میں یہ معاملہ (یہاں اپنے کام کا نام لے) میرے دین، دنیا، آخرت اور انجام کے لحاظ سے بہتر ہے تو اسے میرے حق میں مقدر فرما دے، اسے میرے لیے آسان کر دے اور مجھے اس میں برکت دے۔ اور اگر یہ معاملہ (یہاں اپنے کام کا نام لے) تیرے علم کے مطابق میرے لیے برا ہے، دین، دنیا، آخرت یا انجام کے لحاظ سے، تو مجھے اس سے پھیر دے اور اس کو مجھ سے پھیر دے اور میرے لیے خیر مقدر فرما دے جہاں بھی ہو، پھر مجھے اس پر راضی کر دے۔““ راوی نے کہا یا شاید «خَيْرٌ لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَمَعَادِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي» کی بجائے «فِي عَاجِلِ أَمْرِي وَآجِلِهِ» کے لفظ فرمائے: ”یعنی میرے معاملے میں یہ جلد یا بدیر، بہتر ہو۔“ ابن مسلمہ اور ابن عیسیٰ اس سند کو لفظ «عَنْ» سے بیان کرتے ہیں۔ «عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ جَابِرٍ» [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1538]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/التہجد 25 (1162)، والدعوات 48 (6382)، والتوحید 10 (7390)، سنن الترمذی/الصلاة 237 (480)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 188 (1383)، سنن النسائی/النکاح 27 (3255)، (تحفة الأشراف:3055)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/344) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہاں پر اس کام کا نام لے یا صرف دل میں اس کا خیال کر لے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1162)
32. باب فِي الاِسْتِعَاذَةِ
باب: (بری باتوں سے اللہ کی) پناہ مانگنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1539
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَعَوَّذُ مِنْ خَمْسٍ: مِنَ الْجُبْنِ، وَالْبُخْلِ، وَسُوءِ الْعُمُرِ، وَفِتْنَةِ الصَّدْرِ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ".
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پانچ چیزوں بزدلی، بخل، بری عمر (پیرانہ سالی)، سینے کے فتنے اور قبر کے عذاب سے پناہ مانگا کرتے تھے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1539]
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پانچ باتوں سے اللہ کی پناہ مانگا کرتے تھے: ”بزدلی، بخیلی، انتہائی بڑھاپے اور لاچاری کی عمر سے، سینے کے فتنے سے (حسد، کینہ اور برے اخلاق و عقائد سے) اور عذاب قبر سے۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1539]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الاستعاذة 2 (5445)، سنن ابن ماجہ/الدعاء 3 (3844)، (تحفة الأشراف:10617)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/54)، (ضعیف)»
وضاحت: ۱؎: بری عمر سے مراد وہ عمر ہے جس میں آدمی نہ عبادت کرنے کے لائق رہتا ہے اور نہ دنیا کے کام کاج کی طاقت رکھتا ہے، وہ لوگوں پر بار ہوتا ہے، اور سینے کے فتنے سے مراد بری موت ہے جو بغیر توبہ کے ہوئی ہو یا حسد کینہ اور کبیرہ وغیرہ امراض قلب ہیں۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (3844)
أبو إسحاق عنعن وللحديث شواھد ضعيفة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 61
إسناده ضعيف
ابن ماجه (3844)
أبو إسحاق عنعن وللحديث شواھد ضعيفة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 61
حدیث نمبر: 1540
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، أَخْبَرَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ، وَالْكَسَلِ، وَالْجُبْنِ، وَالْبُخْلِ، وَالْهَرَمِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: «اللهم إني أعوذ بك من العجز، والكسل، والجبن، والبخل، والهرم، وأعوذ بك من عذاب القبر، وأعوذ بك من فتنة المحيا والممات» ”اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں عاجزی سے، سستی سے، بزدلی سے، بخل اور کنجوسی سے اور انتہائی بڑھاپے سے اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں عذاب قبر سے اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں زندگی اور موت کے فتنوں سے ۱؎“۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1540]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ، وَالْكَسَلِ، وَالْجُبْنِ، وَالْبُخْلِ، وَالْهَرَمِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ» ”اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں عاجز آ جانے سے، کسل مندی و سستی سے، بزدلی، بخیلی اور انتہائی بڑھاپے سے اور تیری پناہ چاہتا ہوں قبر کے عذاب سے اور زندگی اور موت کے فتنے سے۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1540]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجہاد 25 (2823)، وتفسیر سورة النحل 1 (4707)، والدعوات 38 (6367)، 42 (6371)، صحیح مسلم/الذکر 15 (2706)، سنن النسائی/الاستعاذہ 6 (5454)، مسند احمد (3/113، 117، 208، 214، 231)، (تحفة الأشراف:873)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الدعوات 71 (3480) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: زندگی کا فتنہ: بیماری، مال و اولاد کا نقصان، یا کثرت مال ہے جو اللہ سے غافل کر دے، یا کفر والحاد، شرک و بدعت اور گمراہی ہے، اور موت کا فتنہ مرنے کے وقت کی شدت اور خوف و دہشت ہے، یا خاتمہ کا برا ہونا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2823) صحيح مسلم (2706)
حدیث نمبر: 1541
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ سَعِيدٌ الزُّهْرِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كُنْتُ أَخْدِمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكُنْتُ أَسْمَعُهُ كَثِيرًا، يَقُولُ:" اللَّهُمَّ أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ، وَالْحَزَنِ، وَضَلْعِ الدَّيْنِ، وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ" وَذَكَرَ بَعْضَ مَا ذَكَرَهُ التَّيْمِيُّ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرتا تھا تو میں اکثر آپ کو یہ دعا پڑھتے سنتا تھا: «اللهم إني أعوذ بك من الهم والحزن وضلع الدين وغلبة الرجال» ”اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں اندیشے اور غم سے، قرض کے بوجھ سے اور لوگوں کے تسلط سے“ اور انہوں نے بعض ان چیزوں کا ذکر کیا جنہیں تیمی ۱؎ نے ذکر کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1541]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بکثرت سنتا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کرتے تھے: «اَللَّهُمَّ أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ، وَالْحَزَنِ، وَضَلْعِ الدَّيْنِ، وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ» ”اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں پریشانی اور غم سے، قرضے کے بوجھ سے اور لوگوں (ظالموں) کے غلبے اور زور آوری سے۔“ نیز کچھ وہ بھی ذکر کیا جسے تیمی (معتمر بن سلیمان) نے (اوپر والی حدیث میں) بیان کیا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1541]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الدعوات 40 (6369)، سنن الترمذی/الدعوات 71 (3484)، سنن النسائی/الاستعاذة 7 (5455) (تحفة الأشراف: 1115)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/122، 220، 226، 240) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: تیمی سے مراد اس سے پہلے والی حدیث کی سند کے راوی معتمر بن سلیمان تیمی ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6369)
حدیث نمبر: 1542
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعَلِّمُهُمْ هَذَا الدُّعَاءَ كَمَا يُعَلِّمُهُمُ السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ، يَقُولُ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں یہ دعا اسی طرح سکھاتے جس طرح قرآن کی سورۃ سکھاتے تھے، فرماتے: «اللهم إني أعوذ بك من عذاب جهنم وأعوذ بك من عذاب القبر وأعوذ بك من فتنة المسيح الدجال وأعوذ بك من فتنة المحيا والممات» ”اے اللہ میں تیری پناہ مانگتا ہوں جہنم کے عذاب سے، تیری پناہ مانگتا ہوں قبر کے عذاب سے، تیری پناہ مانگتا ہوں مسیح دجال کے فتنے سے اور تیری پناہ مانگتا ہوں زندگی اور موت کی آزمایشوں سے“۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1542]
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں یہ دعا اس طرح سکھاتے تھے جیسے کہ قرآن: «اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ» ”اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں جہنم کے عذاب سے، قبر کے عذاب سے، مسیح دجال کے فتنے سے اور زندگی و موت کے فتنے سے۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1542]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساجد 25 (590)، سنن النسائی/الجنائز 115 (2065)، سنن الترمذی/الدعوات 70 (3494)، (تحفة الأشراف: 5752)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/ القرآن 8 (33)، مسند احمد (1/242، 258، 298، 311) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (590)
حدیث نمبر: 1543
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا عِيسَى، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو بِهَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ النَّارِ، وَعَذَابِ النَّارِ، وَمِنْ شَرِّ الْغِنَى، وَالْفَقْرِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کلمات کے ساتھ دعا مانگتے: «اللهم إني أعوذ بك من فتنة النار، وعذاب النار، ومن شر الغنى، والفقر» ”اے اللہ! میں جہنم کے فتنے جہنم کے عذاب اور دولت مندی و فقر کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں“۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1543]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کلمات سے دعا فرمایا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ النَّارِ وَعَذَابِ النَّارِ وَمِنْ شَرِّ الْغِنَى وَالْفَقْرِ» ”اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں آگ کے فتنے سے اور آگ کے عذاب سے، مالداری کے شر سے اور فقیری کے شر سے۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1543]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابوداود، (تحفة الأشراف:17138)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الدعاء 25 (589)، سنن الترمذی/الدعوات 72 (3489)، سنن النسائی/الاستعاذة 16 (5468) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6368) صحيح مسلم (589 بعد ح 2705)
حدیث نمبر: 1544
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْفَقْرِ، وَالْقِلَّةِ، وَالذِّلَّةِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ أَنْ أَظْلِمَ أَوْ أُظْلَمَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھتے تھے: «اللهم إني أعوذ بك من الفقر، والقلة، والذلة، وأعوذ بك من أن أظلم أو أظلم» ”اے اللہ! میں فقر، قلت مال اور ذلت سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں کسی پر ظلم کروں یا کوئی مجھ پر ظلم کرے ۱؎“۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1544]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا فرمایا کرتے تھے: ” «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْفَقْرِ، وَالْقِلَّةِ، وَالذِّلَّةِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ أَنْ أَظْلِمَ أَوْ أُظْلَمَ» ”اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں محتاجی سے، قلت سے اور ذلت سے، اور تیری پناہ چاہتا ہوں اس بات سے کہ میں ظلم کا ارتکاب کروں یا مجھ پر ظلم کیا جائے۔“” [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1544]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الاستعاذہ 13 (5462)، (تحفة الأشراف:13385)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الدعاء 3 (3838)، مسند احمد (2/305، 325، 354) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: بعض حدیثوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فقر اور مسکنت کو طلب کیا ہے اور بعض میں اس سے پناہ مانگی ہے، مرغوب و مطلوب اور پسندیدہ فقر وہ ہے جس میں مال کی کمی ہو لیکن دل غنی ہو، اور دنیا کی حرص و لالچ نہ ہو، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے فقر سے پناہ مانگی ہے جس میں آدمی واجبی ضروریات زندگی کے حاصل کرنے سے عاجز ہو، اور جس سے عبادت میں خلل پڑتا ہو، اور قلت سے مراد نیکیوں کی کمی ہے نہ کہ مال کی، یا مال کی اتنی کمی ہے جو قوت لایموت اور ناگزیر ضرورتوں کو بھی کافی نہ ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (2467)
أخرجه النسائي (5462 وسنده صحيح)
مشكوة المصابيح (2467)
أخرجه النسائي (5462 وسنده صحيح)
حدیث نمبر: 1545
حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْفٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ دَاوُدَ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ مِنْ دُعَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ زَوَالِ نِعْمَتِكَ، وَتَحْوِيلِ عَافِيَتِكَ، وَفُجَاءَةِ نَقْمَتِكَ، وَجَمِيعِ سُخْطِكَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعا تھی: «اللهم إني أعوذ بك من زوال نعمتك، وتحويل عافيتك، وفجاءة نقمتك، وجميع سخطك» ”اے اللہ! میں تیری نعمت کے زوال سے، تیری دی ہوئی عافیت کے پلٹ جانے سے، تیرے ناگہانی عذاب سے اور تیرے ہر قسم کے غصے سے تیری پناہ مانگتا ہوں“۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1545]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں میں سے یہ دعا تھی: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ زَوَالِ نِعْمَتِكَ وَتَحْوِيلِ عَافِيَتِكَ وَفُجَاءَةِ نَقْمَتِكَ وَجَمِيعِ سُخْطِكَ» ”اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں اس بات سے کہ تیری کوئی نعمت چھن جائے یا تیری دی ہوئی تندرستی و راحت پلٹ جائے یا کوئی ناگہانی عذاب آ جائے۔ اور تیرے تمام غصے اور ناراضیوں سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1545]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الذکر والدعاء 26 (2739)، (تحفة الأشراف:7255) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2739)