سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
23. باب الدُّعَاءِ
باب: دعا کا بیان۔
حدیث نمبر: 1486
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْبَهْرَانِيُّ، قَالَ: قَرَأْتُهُ فِي أَصْلِ إِسْمَاعِيلَ يَعْنِي ابْنَ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنِي ضَمْضَمٌ، عَنْ شُرَيْحٍ، حَدَّثَنَا أَبُو ظَبْيَةَ، أَنَّ أَبَا بَحْرِيَّةَ السَّكُونِيّ حَدَّثَهُ، عَنْ مَالِكِ بْنِ يَسَارٍ السَّكُونِيِّ ثُم الْعَوْفِيّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا سَأَلْتُمُ اللَّهَ فَاسْأَلُوهُ بِبُطُونِ أَكُفِّكُمْ وَلَا تَسْأَلُوهُ بِظُهُورِهَا". قَالَ أَبُو دَاوُد: وقَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ: لَهُ عِنْدَنَا صُحْبَةٌ، يَعْنِي مَالِكَ بْنَ يَسَارٍ.
مالک بن یسار سکونی عوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم اللہ سے مانگو تو اپنی سیدھی ہتھیلیوں سے مانگو اور ان کی پشت سے نہ مانگو“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: سلیمان بن عبدالحمید نے کہا: ہمارے نزدیک انہیں یعنی مالک بن یسار کو صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1486]
ابو بحریہ سکونی، مالک بن یسار سکونی عوفی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم اللہ سے سوال کرو (دعا کرو) تو اپنے ہاتھوں کی ہتھیلیوں سے مانگا کرو، ہاتھوں کی پشت سے نہ مانگا کرو۔“ امام ابو داؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سلیمان بن عبدالحمید نے کہا کہ ہمارے علم کے مطابق مالک بن یسار رضی اللہ عنہ کو شرف صحابیت حاصل ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1486]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف:11209) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (2242)
وللحديث شاھد انظر مجمع الزوائد (10/169)
مشكوة المصابيح (2242)
وللحديث شاھد انظر مجمع الزوائد (10/169)
حدیث نمبر: 1487
حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ، حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ نَبْهَانَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَدْعُو هَكَذَا بِبَاطِنِ كَفَّيْهِ وَظَاهِرِهِمَا".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دونوں طرح سے دعا مانگتے دیکھا اپنی دونوں ہتھیلیاں سیدھی کر کے بھی اور ان کی پشت اوپر کر کے بھی ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1487]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ اپنے ہاتھوں کی ہتھیلیوں کی جانب سے اور پشت کی جانب سے بھی دعا کرتے تھے۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1487]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:1317) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی عام حالات میں ہتھیلیوں کا اندرونی حصہ چہرہ کی طرف اور استسقاء میں اندرونی حصہ زمین کی طرف اور پشت چہرہ کی طرف کر کے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح بلفظ جعل ظاهر كفيه مما يلي وجهه وباطنهما مما يلي الأرض
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عمر بن نبھان : ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 59
إسناده ضعيف
عمر بن نبھان : ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 59
حدیث نمبر: 1488
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا عِيسَى يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ يَعْنِي ابْنَ مَيْمُونٍ صَاحِبَ الْأَنْمَاطِ، حَدَّثَنِي أَبُو عُثْمَانَ،عَنْ سَلْمَانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ رَبَّكُمْ تَبَارَكَ وَتَعَالَى حَيِيٌّ كَرِيمٌ يَسْتَحْيِي مِنْ عَبْدِهِ إِذَا رَفَعَ يَدَيْهِ إِلَيْهِ أَنْ يَرُدَّهُمَا صِفْرًا".
سلمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا رب بہت باحیاء اور کریم (کرم والا) ہے، جب اس کا بندہ اس کے سامنے اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتا ہے تو انہیں خالی لوٹاتے ہوئے اسے اپنے بندے سے شرم آتی ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1488]
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ تمہارا رب بہت حیا والا اور سخی ہے، بندہ جب اس کی طرف اپنے ہاتھ اٹھاتا ہے تو اسے حیا آتی ہے کہ انہیں خالی لوٹا دے۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1488]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الدعوات 105 (3556)، سنن ابن ماجہ/الدعاء 13 (3865)، (تحفة الأشراف:4494)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/438) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
وله شاھد حسن عند امالي المحاملي (433 وسنده حسن، /نديم ظهير)
وله شاھد حسن عند امالي المحاملي (433 وسنده حسن، /نديم ظهير)
حدیث نمبر: 1489
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ يَعْنِي ابْنَ خَالِدٍ، حَدَّثَنِي الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" الْمَسْأَلَةُ: أَنْ تَرْفَعَ يَدَيْكَ حَذْوَ مَنْكِبَيْكَ أَوْ نَحْوَهُمَا، وَالِاسْتِغْفَارُ: أَنْ تُشِيرَ بِأُصْبُعٍ وَاحِدَةٍ، وَالِابْتِهَالُ: أَنْ تَمُدَّ يَدَيْكَ جَمِيعًا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مانگنا یہ ہے کہ تم اپنے دونوں ہاتھ اپنے کندھوں کے بالمقابل یا ان کے قریب اٹھاؤ، اور استغفار یہ ہے کہ تم صرف ایک انگلی سے اشارہ کرو اور ابتہال (عاجزی و گریہ وزاری سے دعا مانگنا) یہ ہے کہ تم اپنے دونوں ہاتھ پوری طرح پھیلا دو۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1489]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”سوال (یعنی دعا کا ادب) یہ ہے کہ تم اپنے ہاتھ اپنے کندھوں کے برابر یا اس کے قریب بلند کرو۔ اور استغفار یہ ہے کہ اپنی ایک انگلی سے اشارہ کرو اور ابتہال (عجز و انکساری) یوں ہے کہ اپنے دونوں ہاتھوں کو لمبا کرو۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1489]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:5356) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (2256)
انظر الحديث الآتي (1491)
مشكوة المصابيح (2256)
انظر الحديث الآتي (1491)
حدیث نمبر: 1490
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ عَبَّاسٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ فِيهِ: وَالِابْتِهَالُ هَكَذَا: وَرَفَعَ يَدَيْهِ وَجَعَلَ ظُهُورَهُمَا مِمَّا يَلِي وَجْهَهُ.
اس سند سے بھی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے: ”ابتہال اس طرح ہے“ اور انہوں نے دونوں ہاتھ اتنے بلند کئے کہ ہتھیلیوں کی پشت اپنے چہرے کے قریب کر دی۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1490]
عباس بن عبداللہ بن معبد بن عباس رضی اللہ عنہما نے اس مذکورہ حدیث کو بیان کیا تو اس میں کہا کہ: ”ابتہال (عجز و انکسار اور دعا میں مبالغہ) ایسے ہے“ اور (عملاً) اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور ان کی پشت کو اپنے چہرے کی طرف کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1490]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:5356) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (2256)
انظر الحديث الآتي (1491)
مشكوة المصابيح (2256)
انظر الحديث الآتي (1491)
حدیث نمبر: 1491
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَخِيهِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
اس سند سے بھی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، پھر راوی نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1491]
عباس بن عبداللہ بن معبد بن عباس اپنے بھائی ابراہیم بن عبداللہ سے، وہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور ”اسی کی مانند ذکر کیا۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1491]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:5356، 18880) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
حدیث نمبر: 1492
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ حَفْصِ بْنِ هَاشِمِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ إِذَا دَعَا فَرَفَعَ يَدَيْهِ مَسَحَ وَجْهَهُ بِيَدَيْهِ".
یزید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب دعا مانگتے تو اپنے دونوں ہاتھ اوپر اٹھاتے اور انہیں اپنے چہرے پر پھیرتے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1492]
سائب بن یزید رضی اللہ عنہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب دعا کرتے اور اپنے ہاتھ اٹھاتے تو اپنے چہرے پر پھیر لیا کرتے تھے۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1492]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف:11828)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/221) (ضعیف)» (اس کے راوی ابن لھیعہ ضعیف ہیں اور حفص بن ہاشم مجہول ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
حفص بن هاشم مجهول
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 59
إسناده ضعيف
حفص بن هاشم مجهول
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 59
حدیث نمبر: 1493
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ رَجُلًا يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ أَنِّي أَشْهَدُ أَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، الْأَحَدُ، الصَّمَدُ، الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ، فَقَالَ:" لَقَدْ سَأَلْتَ اللَّهَ بِالِاسْمِ الَّذِي إِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى، وَإِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ".
بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو کہتے سنا: «اللهم إني أسألك أني أشهد أنك أنت الله لا إله إلا أنت، الأحد، الصمد، الذي لم يلد ولم يولد ولم يكن له كفوا أحد» ”اے اللہ! میں تجھ سے مانگتا ہوں اس وسیلے سے کہ: میں گواہی دیتا ہوں کہ تو ہی اللہ ہے، تیرے سوا کوئی اور معبود نہیں، تو تنہا اور ایسا بے نیاز ہے جس نے نہ تو جنا ہے اور نہ ہی وہ جنا گیا ہے اور نہ اس کا کوئی ہمسر ہے“ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے اللہ سے اس کا وہ نام لے کر مانگا ہے کہ جب اس سے کوئی یہ نام لے کر مانگتا ہے تو عطا کرتا ہے اور جب کوئی دعا کرتا ہے تو قبول فرماتا ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1493]
عبداللہ بن بریدہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ان کے والد (بریدہ رضی اللہ عنہ) کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دعا کرتے سنا وہ کہہ رہا تھا: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ أَنِّي أَشْهَدُ أَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، الْأَحَدُ الصَّمَدُ، الَّذِي ﴿لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ * وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ﴾ [سورة الإخلاص: 3-4] » ”اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اس بنا پر کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ تو ہی اللہ ہے، تیرے سوا اور کوئی معبود نہیں، تو اکیلا ہے، بے نیاز ہے جس نے ﴿نہ جنا اور نہ جنا ہی گیا * اور کوئی بھی اس کی برابری کرنے والا نہیں﴾ [سورة الإخلاص: 3-4] ۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے اللہ سے اس کے نام سے سوال کیا ہے کہ جب اس سے اس نام سے مانگا جائے تو عنایت فرماتا ہے، دعا کی جائے تو قبول کرتا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1493]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الدعوات 64 (3475)، سنن ابن ماجہ/الدعاء 9 (3857)، (تحفة الأشراف:1998)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/349، 350، 360) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (2289، 2293)
مشكوة المصابيح (2289، 2293)
حدیث نمبر: 1494
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ الرَّقِّيِّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ فِيهِ:" لَقَدْ سَأَلْتَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ بِاسْمِهِ الْأَعْظَمِ".
اس سند سے بھی بریدہ رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے: «لقد سألت الله عزوجل باسمه الأعظم» ”تو نے اللہ سے اس کے اسم اعظم (عظیم نام) کا حوالہ دے کر سوال کیا“۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1494]
مالک بن مغول رحمہ اللہ نے یہی حدیث بیان کی، اس میں کہا: ”بیشک اس نے اللہ عز وجل سے اس کے بڑے نام (اسم اعظم کے واسطے) سے سوال کیا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1494]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف:1998) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (2293)
أخرجه الترمذي (3475)
مشكوة المصابيح (2293)
أخرجه الترمذي (3475)
حدیث نمبر: 1495
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْحَلَبِيُّ، حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ، عَنْ حَفْصٍ يَعْنِي ابْنَ أَخِي أَنَسٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا وَرَجُلٌ يُصَلِّي، ثُمَّ دَعَا: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّ لَكَ الْحَمْدُ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ الْمَنَّانُ بَدِيعُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ، يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَقَدْ دَعَا اللَّهَ بِاسْمِهِ الْعَظِيمِ الَّذِي إِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ، وَإِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى".
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے اور ایک شخص نماز پڑھ رہا تھا، (نماز سے فارغ ہو کر) اس نے دعا مانگی: «اللهم إني أسألك بأن لك الحمد لا إله إلا أنت المنان بديع السموات والأرض يا ذا الجلال والإكرام يا حى يا قيوم» ”اے اللہ! میں تجھ سے مانگتا ہوں اس وسیلے سے کہ: ساری و حمد تیرے لیے ہے، تیرے سوا کوئی اور معبود نہیں، تو ہی احسان کرنے والا اور آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والا ہے، اے جلال اور عطاء و بخشش والے، اے زندہ جاوید، اے آسمانوں اور زمینوں کو تھامنے والے!“ یہ سن کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے اللہ سے اس کے اس اسم اعظم (عظیم نام) کے حوالے سے دعا مانگی ہے کہ جب اس کے حوالے سے دعا مانگی جاتی ہے تو وہ دعا قبول فرماتا ہے اور سوال کیا جاتا ہے تو وہ دیتا ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1495]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور ایک آدمی نماز پڑھ رہا تھا۔ اس نے دعا کی: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّ لَكَ الْحَمْدَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ الْمَنَّانُ بَدِيعُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ» ”اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اس لیے کہ تیری ہی تعریف ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو بے انتہا احسان کرنے والا ہے، آسمان و زمین کو بے مادہ و بے نمونہ پیدا کرنے والا ہے۔ اے جلال و اکرام والے! اے زندہ! اے نگرانی کرنے والے!“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تحقیق اس نے اللہ سے اس کے اس عظیم نام کے واسطے سے دعا کی ہے جس سے دعا کی جائے تو وہ قبول کرتا ہے، مانگا جائے تو دیتا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1495]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/السہو 58 (1299)، (تحفة الأشراف:551)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الدعوات 100 (3544)، سنن ابن ماجہ/الدعاء 9 (3858)، مسند احمد (3/120، 158، 245) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (2290)
أخرجه النسائي (1301 وسنده صحيح)
مشكوة المصابيح (2290)
أخرجه النسائي (1301 وسنده صحيح)