صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
10. باب بدء الخلق - ذكر الإخبار عن وصف بعض تعطف الوحش على أولادها للجزء الواحد من أجزاء الرحمة التي ذكرناها-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر خبر کہ وحشی جانوروں کی اپنی اولاد پر شفقت ہمارے ذکر کردہ رحمت کے ایک جز کی وصف ہے
حدیث نمبر: 6148
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ ابْنَ الْمُسَيَّبِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " جَعَلَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا الرَّحْمَةَ مِائَةَ جُزْءٍ، فَأَمْسَكَ عِنْدَهُ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ، وَأَنْزَلَ فِي الأَرْضِ جُزْءًا وَاحِدًا، فَمِنْ ذَلِكَ الْجُزْءِ يَتَرَاحَمُ الْخَلائِقُ، حَتَّى تَرْفَعَ الدَّابَّةُ حَافِرَهَا عَنْ وَلَدِهَا خَشْيَةَ أَنْ تُصِيبَهُ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اللہ تعالیٰ نے رحمت کے ایک سو جز کیے ہیں جن میں سے ننانوے جز اس نے اپنے پاس رکھ لیے ہیں، ان میں سے ایک جز زمین پر نازل کیا ہے، اس ایک جز کی وجہ سے مخلوق ایک دوسرے پر رحم کرتی ہے، یہاں تک کہ کوئی جانور اپنا پاؤں اپنے بچے پر نہیں دیتا کہ کہیں اسے نقصان نہ پہنچا دے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6148]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3265، 6000، 6469، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2752، ومالك فى (الموطأ) برقم: 3647، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 345، 656، 6147، 6148، 7462، 7463، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 185، 186، 7724، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2589، 3541، 3542، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4293، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7445» «رقم طبعة با وزير 6115»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
11. باب بدء الخلق - ذكر الإخبار بأن كل شيء بمشيئة الله جل وعلا وقدرته سواء كان محبوبا أو مكروها-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر خبر کہ ہر چیز اللہ جل وعلا کی مشیت اور قدرت سے ہے، خواہ وہ پسندیدہ ہو یا ناپسندیدہ
حدیث نمبر: 6149
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَاوُسٍ الْيَمَانِيِّ ، قَالَ: أَدْرَكْتُ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُونَ: كُلُّ شَيْءٍ بِقَدَرٍ، فَسَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّ شَيْءٍ بِقَدَرٍ، حَتَّى الْعَجْزُ وَالْكَيْسُ، أَوِ الْكَيْسُ وَالْعَجْزُ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہر چیز تقدیر کے مطابق ہے، یہاں تک کہ عاجز ہو جانا اور سمجھداری بھی (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) یہاں تک کہ سمجھداری اور عاجز ہو جانا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6149]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2655، ومالك فى (الموطأ) برقم: 3340، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6149، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 20941، وأحمد فى (مسنده) برقم: 5999» «رقم طبعة با وزير 6116»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م (8/ 51 - 52). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده على شرط مسلم
12. باب بدء الخلق - ذكر الإخبار عن الأشياء التي قضى الله أسبابها من غير أن يزيد عليها أو ينقص منها شيئا-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر خبر کہ اللہ نے چیزوں کے اسباب کو مقدر کیا بغیر اس کے کہ اس میں کچھ زیادہ یا کم کیا جائے
حدیث نمبر: 6150
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ بِالرَّقَّةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَزِيرُ بْنُ صُبَيْحٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مَيْسَرَةَ بْنِ حَلْبَسٍ ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَرَغَ اللَّهُ إِِلَى كُلِّ عَبْدٍ مِنْ خَمْسٍ: مِنْ رِزْقِهِ، وَأَجَلِهِ، وَعَمَلِهِ، وَأَثَرِهِ، وَمَضْجَعِهِ" .
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ ہر بندے کے لیے پانچ چیزیں طے کر چکا ہے: اس کا رزق، اس کی موت، اس کا عمل، اس کا نشان اور اس کا ٹھکانہ (یعنی قبر)۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6150]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6150، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22136، 22137، والطيالسي فى (مسنده) برقم: 1077، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 3120» «رقم طبعة با وزير 6117»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح لغيره - «الظلال» (304)، «المشكاة» (113 / التحقيق الثاني). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح
13. باب بدء الخلق - ذكر الإخبار بأن الله جل وعلا قد جعل لقضاياه أسبابا تجري لها-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر خبر کہ اللہ جل وعلا نے اپنے فیصلوں کے لیے اسباب بنائے جن پر وہ عمل کرتے ہیں
حدیث نمبر: 6151
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، عَنْ إِِسْمَاعِيلَ بْنِ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ بْنِ أُسَامَةَ ، عَنْ أَبِي عَزَّةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِِذَا أَرَادَ اللَّهُ قَبْضَ عَبْدٍ بِأَرْضٍ جَعَلَ لَهُ فِيهَا حَاجَةً" .
سیدنا ابوعزہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جب اللہ تعالیٰ کسی سرزمین پر کسی بندے کی روح قبض کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس بندے کے لیے اس علاقے میں کوئی کام پیدا کر دیتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6151]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6151، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 127، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2147، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 896، وأحمد فى (مسنده) برقم: 15779» «رقم طبعة با وزير 6118»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (1221). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
14. باب بدء الخلق - ذكر الإخبار عن استقرار الشمس في كل ليلة من ليالي الدنيا-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر خبر کہ سورج ہر رات دنیا کی راتوں میں ٹھہرتا ہے
حدیث نمبر: 6152
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ جَلَّ وَعَلا: وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَهَا سورة يس آية 38، قَالَ:" مُسْتَقَرُّهَا تَحْتَ الْعَرْشِ" .
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَهَا﴾ [سورة يس: 38] ”سورج اپنی مخصوص گزرگاہ پر چلتا ہے۔“ کے بارے میں دریافت کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی گزرگاہ عرش کے نیچے ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6152]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3199، 4802، 4803، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 159، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6152، 6153، 6154، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2979، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4002، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2186، 3227، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21695» «رقم طبعة با وزير 6119»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
15. باب بدء الخلق - ذكر وصف استقرار الشمس تحت العرش كل ليلة-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر وصف کہ سورج ہر رات عرش کے نیچے ٹھہرتا ہے
حدیث نمبر: 6153
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، أَنْبَأَنَا إِِسْمَاعِيلُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ إِِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " أَتَدْرُونَ أَيْنَ تَذْهَبُ الشَّمْسُ؟"، قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ:" فَإِِنَّهَا تَجْرِي حَتَّى تَنْتَهِيَ إِِلَى مُسْتَقَرِّهَا تَحْتَ الْعَرْشِ، فَتَخِرَّ سَاجِدَةً، فَلا تَزَالُ كَذَلِكَ حَتَّى يُقَالَ لَهَا: ارْتَفِعِي، ارْجِعِي مِنْ حَيْثُ جِئْتِ، فَتَرْجِعُ، فَتَطْلُعُ طَالِعَةً مِنْ مَطْلِعِهَا، ثُمَّ تَجِيءُ حَتَّى تَنْتَهِيَ إِِلَى مُسْتَقَرِّهَا تَحْتَ الْعَرْشِ، فَتَخِرَّ سَاجِدَةً، فَلا تَزَالُ كَذَلِكَ حَتَّى يُقَالَ لَهَا: ارْتَفِعِي، ارْجِعِي مِنْ حَيْثُ جِئْتِ، فَتَرْجِعُ، فَتَطْلُعُ طَالِعَةً مِنْ مَطْلِعِهَا، ثُمَّ تَجِيءُ حَتَّى تَنْتَهِيَ إِِلَى مُسْتَقَرِّهَا تَحْتَ الْعَرْشِ، فَتَخِرَّ سَاجِدَةً، فَلا تَزَالُ كَذَلِكَ حَتَّى يُقَالَ لَهَا: ارْتَفِعِي، ارْجِعِي مِنْ حَيْثُ جِئْتِ، فَتَرْجِعُ، فَتَطْلُعُ مِنْ مَطْلِعِهَا، ثُمَّ تَجْرِي لا يَسْتَنْكِرُ النَّاسُ مِنْهَا شَيْئًا، حَتَّى تَنْتَهِي إِِلَى مُسْتَقَرِّهَا تَحْتَ الْعَرْشِ، فَيُقَالُ لَهَا: ارْتَفِعِي، فَاطْلُعِي مِنْ مَغْرِبِكِ، فَتَطْلُعُ مِنْ مَغْرِبِهَا"، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَتَدْرُونَ مَتَى ذَلِكَ؟ حِينَ لا يَنْفَعُ نَفْسًا إِِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِِيمَانِهَا خَيْرًا" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: هَكَذَا قَالَ إِِسْحَاقُ: عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ إِِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، وَالْمَشْهُورُ هَذَا الْخَبَرُ، عَنْ يُونُسَ بْنِ خَبَّابٍ، عَنْ إِِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ.
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم لوگ جانتے ہو سورج کہاں جاتا ہے؟“ لوگوں نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ چلتا رہتا ہے، یہاں تک کہ یہ عرش کے نیچے اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچ جاتا ہے، تو سجدے میں گر جاتا ہے، اس کے بعد یہ اسی حالت میں رہتا ہے، یہاں تک کہ اسے یہ کہا جاتا ہے: تم اپنے سر کو اٹھاؤ اور وہاں واپس چلے جاؤ جہاں سے تم آئے ہو، تو وہ واپس آتا ہے اور اپنے طلوع ہونے کی جگہ سے طلوع ہوتا ہے، پھر وہ آتا ہے، یہاں تک کہ اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچ جاتا ہے جو عرش کے نیچے ہے، پھر وہ سجدے میں چلا جاتا ہے اور سجدے کی حالت میں رہتا ہے، یہاں تک کہ اسے یہ کہا جاتا ہے: اپنا سر اٹھاؤ اور واپس اسی جگہ چلے جاؤ جہاں سے آئے ہو، تو وہ واپس آ جاتا ہے اور اپنے مخصوص مقام سے طلوع ہوتا ہے، پھر وہ آتا ہے اور عرش کے نیچے اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچ جاتا ہے اور سجدے میں چلا جاتا ہے، پھر وہ اسی حالت میں رہتا ہے، یہاں تک کہ اسے یہ کہا جاتا ہے: تم اپنے سر کو اٹھاؤ اور جہاں سے آئے ہو وہاں واپس چلے جاؤ، وہ واپس چلا جاتا ہے اور اپنے مخصوص مقام سے طلوع ہوتا ہے، پھر وہ چلتا رہتا ہے۔ لوگوں کو اس میں کوئی خرابی نظر نہیں آتی، یہاں تک کہ ایک مرتبہ وہ عرش کے نیچے اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچے گا تو اسے کہا جائے گا: تم سر کو اٹھاؤ اور مغرب کی طرف سے طلوع ہو جاؤ، تو وہ مغرب کی طرف سے طلوع ہو جائے گا۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تم لوگ جانتے ہو ایسا کب ہو گا؟ ﴿لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا﴾ [سورة الأنعام: 158] ”اس وقت جب کسی ایسے شخص کو ایمان لانا فائدہ نہیں دے گا جو اس سے پہلے ایمان نہیں لایا تھا جس نے اپنے ایمان میں بھلائی نہیں کمائی تھی“۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اسحاق نامی راوی نے یہ روایت اسی طرح یونس بن عبید کے حوالے سے ابراہیم تیمی سے نقل کی ہے، حالانکہ مشہور یہ ہے کہ یہ روایت یونس بن خباب کے حوالے سے ابراہیم تیمی سے منقول ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6153]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3199، 4802، 4803، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 159، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6152، 6153، 6154، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2979، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4002، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2186، 3227، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21695» «رقم طبعة با وزير 6120»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
16. باب بدء الخلق - ذكر الإخبار عن استقرار الشمس كل ليلة تحت العرش واستئذانها في الطلوع-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر خبر کہ سورج ہر رات عرش کے نیچے ٹھہرتا ہے اور طلوع ہونے کی اجازت مانگتا ہے
حدیث نمبر: 6154
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْمُلائِيُّ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ عِنْدَ غُرُوبِ الشَّمْسِ فَقَالَ: " أَتَدْرُونَ أَيْنَ تَغْرُبُ الشَّمْسُ؟"، فَقُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ:" تَذْهَبُ حَتَّى تَنْتَهِيَ تَحْتَ الْعَرْشِ عِنْدَ رَبِّهَا، ثُمَّ تَسْتَأْذِنُ، فَيُؤْذَنُ لَهَا، وَتُوشِكُ أَنْ تَسْتَأْذِنَ، فَلا يُؤْذَنُ لَهَا، وَتَسْتَشْفِعَ وَتَطْلُبَ، فَإِِذَا كَانَ ذَلِكَ قِيلَ لَهَا: اطْلَعِي مِنْ مَكَانِكِ، فَهُوَ قَوْلُهُ: وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَهَا ذَلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ سورة يس آية 38" .
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سورج غروب ہونے کے قریب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسجد میں موجود تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ سورج کہاں غروب ہوتا ہے؟“ میں نے عرض کی: اللہ اور اس کے رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ جاتا ہے، یہاں تک کہ یہ عرش کے نیچے اپنے پروردگار کی بارگاہ میں پہنچ جاتا ہے، پھر یہ اجازت مانگتا ہے تو اسے اجازت ملتی ہے، عنقریب ایسا وقت آئے گا یہ اجازت مانگے گا تو اسے اجازت نہیں ملے گی، وہ اس سے سفارش طلب کرتا ہے اور مطالبہ کرتا ہے، جب اس طرح کی صورت حال ہوتی ہے تو اسے کہا جاتا ہے: تم اپنی جگہ سے طلوع ہو جاؤ۔“ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَّهَا ذَلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ﴾ [سورة يس: 38] ”سورج اپنے مخصوص راستے پر چلتا ہے، یہ غالب اور علم رکھنے والی ذات کا مقرر کردہ (نظام) ہے۔“ سے یہی مراد ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6154]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3199، 4802، 4803، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 159، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6152، 6153، 6154، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2979، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4002، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2186، 3227، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21695» «رقم طبعة با وزير 6121»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
17. باب بدء الخلق - ذكر الإخبار عما خلق الله جل وعلا الملائكة والجان منه-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر خبر کہ اللہ جل وعلا نے فرشتوں اور جنوں کو کس چیز سے بنایا
حدیث نمبر: 6155
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خُلِقَتِ الْمَلائِكَةُ مِنْ نُورٍ، وَخُلِقَ الْجَانُّ مِنْ نَارٍ، وَخُلِقَ آدَمُ مِمَّا قَدْ وُصِفَ لَكُمْ" .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”فرشتوں کو نور سے پیدا کیا گیا ہے، جنات کو آگ سے پیدا کیا گیا ہے اور انسانوں کو اس چیز سے پیدا کیا گیا ہے جس کے بارے میں تمہیں بتایا گیا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6155]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2996، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6155، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 17782، وأحمد فى (مسنده) برقم: 25833، 25991» «رقم طبعة با وزير 6122»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (458): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح
18. باب بدء الخلق - ذكر وصف أجناس الجان التي عليها خلقت-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر وصف کہ جنوں کی انواع جن پر وہ بنائے گئے
حدیث نمبر: 6156
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهِبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ حُدَيْرِ بْنِ كُرَيْبٍ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " الْجِنُّ عَلَى ثَلاثَةِ أَصْنَافٍ: صِنْفٌ كِلابٌ وَحَيَّاتٌ، وَصِنْفٌ يَطِيرُونَ فِي الْهَوَاءِ، وَصِنْفٌ يَحُلُّونَ وَيَظْعَنُونَ" .
سیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جنوں کی تین قسمیں ہیں: ایک قسم کتوں اور سانپوں کی شکل میں ہوتی ہے، ایک قسم ہوا میں اڑتے ہیں اور ایک قسم (پڑاؤ) کرتی اور (کوچ) کرتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6156]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6156، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 3723، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 3438، وأخرجه الطحاوي فى (شرح مشكل الآثار) برقم: 2941، وأخرجه الطبراني فى(الكبير) برقم: 573» «رقم طبعة با وزير 6123»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «المشكاة» (4148). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده قوي
19. باب بدء الخلق - ذكر البيان بأن الجن تقتل أولاد آدم إذا شاءت-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر بیان کہ جن اگر چاہیں تو ابن آدم کے بچوں کو قتل کر سکتے ہیں
حدیث نمبر: 6157
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهِبٍ ، عَنِ اللَّيْثِ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ صَيْفِيٍّ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى الأَنْصَارِ أَخْبَرَ بِهِ، عَنْ أَبِي السَّائِبِ ، قَالَ: أَتَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، فَبَيْنَا أَنَا جَالِسٌ عِنْدَهُ، سَمِعْتُ تَحْتَ سَرِيرِهِ تَحْرِيكَ شَيْءٍ، فَنَظَرْتُ، فَإِِذَا حَيَّةٌ، فَقُمْتُ، فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: مَا لَكَ؟، قُلْتُ: حَيَّةٌ هَا هُنَا، قَالَ: فَتُرِيدُ مَاذَا؟، قُلْتُ: أُرِيدُ قَتْلَهَا، قَالَ: فَأَشَارَ إِِلَى بَيْتٍ فِي دَارٍ، فَعَايَنْتُهُ، فَقَالَ: إِِنَّ ابْنَ عَمٍّ لِي كَانَ فِي هَذَا الْبَيْتِ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الأَحْزَابِ اسْتَأْذَنَ إِِلَى أَهْلِهِ، وَكَانَ حَدِيثُ عَهْدٍ بِعُرْسٍ، فَأَذِنَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَمَرَهُ أَنْ يَذْهَبَ بِسِلاحِهِ، فَأَتَى دَارَهُ، فَوَجَدَ امْرَأَتَهُ قَائِمَةً عَلَى بَابِ الْبَيْتِ، فَأَشَارَ إِِلَيْهَا بِالرُّمْحِ، فَقَالَتْ: لا تَعْجَلْ عَلَيَّ حَتَّى تَنْظُرَ مَا أَخْرَجَنِي، فَدَخَلَ الْبَيْتَ، فَإِِذَا حَيَّةٌ مُنْكَرَةٌ، فَطَعَنَهَا بِالرُّمْحِ، ثُمَّ خَرَجَ بِهَا فِي الرُّمْحِ تَرْتَكِضُ. فَقَالَ: لا أَدْرِي أَيَّهُمَا كَانَ أَسْرَعَ مَوْتًا: الرَّجُلُ أَمِ الْحَيَّةُ، فَأَتَى قَوْمُهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَرُدَّ صَاحِبَنَا، فَقَالَ:" اسْتَغْفِرُوا لِصَاحِبِكُمْ"، ثُمَّ قَالَ:" إِِنَّ نَفَرًا مِنَ الْجِنِّ بِالْمَدِينَةِ قَدْ أَسْلَمُوا، فَإِِذَا رَأَيْتُمْ أَحَدًا مِنْهُمْ، فَحَذِّرُوهُ ثَلاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ إِِنْ بَدَا لَكُمْ أَنْ تَقْتُلُوهُ، فَاقْتُلُوهُ بَعْدَ الثَّلاثِ" .
ابوسائب بیان کرتے ہیں: میں سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، میں ان کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ اسی دوران مجھے ان کے پلنگ کے نیچے کسی چیز کے حرکت کرنے کی آواز محسوس ہوئی، میں نے جائزہ لیا تو وہاں سانپ موجود تھا، تو سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: تمہیں کیا ہوا ہے؟ میں نے کہا: یہاں سانپ موجود ہے۔ انہوں نے دریافت کیا: تم کیا کرنا چاہتے ہو؟ میں نے جواب دیا: میں اسے مارنا چاہتا ہوں، تو سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے اس محلے میں موجود ایک گھر کی طرف اشارہ کیا جو مجھے نظر آ رہا تھا۔ انہوں نے فرمایا: میرا چچازاد اس گھر میں رہتا تھا، غزوۂ احزاب کے موقع پر اس نے اپنے گھر جانے کی اجازت مانگی، اس کی نئی نئی شادی ہوئی تھی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اجازت دے دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ہدایت کی کہ وہ اپنے ہتھیار ساتھ لے کر جائے۔ جب وہ اپنے محلہ میں آیا تو اس نے اپنی بیوی کو گھر کے دروازے پر کھڑا ہوا پایا، اس نے نیزے کے ذریعے اس عورت کی طرف اشارہ کیا، اس عورت نے کہا: آپ میرے بارے میں جلد بازی کا مظاہرہ نہ کیجیے، پہلے اس بات کا جائزہ لیں میں کیوں باہر آئی ہوں۔ وہ شخص گھر کے اندر گیا تو وہاں ایک عجیب و غریب سانپ موجود تھا، اس نے اپنے نیزے سے سانپ کو مارا اور پھر اسے اس نیزے میں پرو کر باہر لے آیا، وہ سانپ ہل جل رہا تھا۔ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: مجھے نہیں پتہ کہ ان دونوں میں سے کون پہلے مرا؟ وہ آدمی یا سانپ۔ اس کی قوم کے افراد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے عرض کی: آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ سے دعا کیجیے کہ ہمارے ساتھی کو واپس کر دے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے ساتھی کے لیے دعائے مغفرت کرو۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کچھ جنات مدینہ منورہ میں رہتے ہیں جو اسلام قبول کر چکے ہیں، جب تم ان میں سے کسی کو دیکھو تو تین مرتبہ ڈراؤ، پھر (اس کے بعد بھی اگر) وہ تمہارے سامنے آ جائے، تو تم اسے قتل کرو، تم تین مرتبہ (اسے ڈرانے کے بعد) پھر قتل کرنا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6157]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2236، ومالك فى (الموطأ) برقم: 3581، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5637، 5641، 6157، وأبو داود فى (سننه) برقم: 5256، 5257، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1484، 1484 م، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11247» «رقم طبعة با وزير 6124»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الضعيفة» تحت الحديث (3163). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن