🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
49. باب بدء الخلق - ذكر البيان بأن لا قدرة للشيطان على ابن آدم إلا على الوسوسة فقط-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر بیان کہ شیطان کو ابن آدم پر کوئی قدرت نہیں سوائے وسوسہ ڈالنے کے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6188
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَسْرُورِ بْنِ سَيَّارٍ بِأَرْغِيَانَ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ الأَزْرَقُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَجُلا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِِنِّي لأَجِدُ فِي صَدْرِيَ الشَّيْءَ لأَنْ أَكُونَ حُمَمَةً أَحَبُّ إِِلَيَّ مِنْ أَنْ أَتَكَلَّمَ بِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي رَدَّ أَمْرَهُ إِِلَى الْوَسْوَسَةِ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے اپنے ذہن میں ایسا خیال محسوس ہوتا ہے کہ میں جل کر کوئلہ ہو جاؤں، یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ پسندیدہ ہے کہ میں اس خیال کے بارے میں کوئی بات کروں، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «اللهُ أَكْبَرُ، اللهُ أَكْبَرُ، الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِي رَدَّ كَيْدَهُ إِلَى الْوَسْوَسَةِ» ”اللہ اکبر، اللہ اکبر، ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے جس نے اس کے معاملے کو وسوسے کی طرف لوٹا دیا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6188]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 147، 6188، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 10434، وأبو داود فى (سننه) برقم: 5112، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2128، 3222، والطيالسي فى (مسنده) برقم: 2827، والطبراني فى(الكبير) برقم: 10838، والطبراني فى (الصغير) برقم: 1090» «رقم طبعة با وزير 6155»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن صحيح - «الظلال» (658). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الصحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
50. باب بدء الخلق - ذكر الإخبار عن وضع إبليس التاج على رأس من كان أعظم فتنة من جنوده-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر خبر کہ ابلیس اس سپاہی کے سر پر تاج رکھتا ہے جو اس کے لشکروں میں سب سے بڑا فتنہ ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6189
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِِذَا أَصْبَحَ إِِبْلِيسُ، بَثَّ جُنُودَهُ، فَيَقُولُ: مَنْ أَضَلَّ الْيَوْمَ مُسْلِمًا أَلْبَسْتُهُ التَّاجَ، قَالَ: فَيَخْرُجُ هَذَا، فَيَقُولُ: لَمْ أَزَلْ بِهِ حَتَّى طَلَّقَ امْرَأَتَهُ، فَيَقُولُ: أَوْشَكَ أَنْ يَتَزَوَّجَ، وَيَجِيءُ هَذَا، فَيَقُولُ: لَمْ أَزَلْ بِهِ حَتَّى عَقَّ وَالِدَيْهِ، فَيَقُولُ: أَوْشَكَ أَنْ يَبَرَّ، وَيَجِيءُ هَذَا، فَيَقُولُ: لَمْ أَزَلْ بِهِ حَتَّى أَشْرَكَ، فَيَقُولُ: أَنْتَ أَنْتَ، وَيَجِيءُ، فَيَقُولُ: لَمْ أَزَلْ بِهِ حَتَّى زَنَى، فَيَقُولُ: أَنْتَ أَنْتَ، وَيَجِيءُ هَذَا، فَيَقُولُ: لَمْ أَزَلْ بِهِ حَتَّى قَتَلَ، فَيَقُولُ: أَنْتَ أَنْتَ، وَيُلْبِسُهُ التَّاجَ" .
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب صبح ہوتی ہے تو شیطان اپنا لشکر پھیلا دیتا ہے اور یہ کہتا ہے: آج جو شخص کسی مسلمان کو گمراہ کرے گا میں اسے تاج پہناؤں گا۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ان میں سے ایک شخص آتا ہے اور یہ کہتا ہے: میں نے آج پوری کوشش کی، یہاں تک کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی، شیطان کہتا ہے: ہو سکتا ہے وہ شخص دوسری شادی کر لے۔ پھر دوسرا شخص آتا ہے اور کہتا ہے: میں نے آج پوری کوشش کی، یہاں تک کہ ایک آدمی نے اپنے ماں باپ کی نافرمانی کی، شیطان کہتا ہے: ہو سکتا ہے کہ وہ بعد میں فرمانبردار بن جائے۔ ایک اور شیطان آتا ہے وہ یہ کہتا ہے: میں نے آج پوری کوشش کی کہ ایک آدمی نے شرک کر لیا، شیطان کہتا ہے: تم واقعی تم ہو! پھر ایک اور آتا ہے اور کہتا ہے: میں نے پوری کوشش کی، یہاں تک کہ ایک آدمی نے زنا کر لیا، شیطان کہتا ہے: تم نے واقعی کام کیا ہے! ایک اور آتا ہے وہ یہ کہتا ہے: میں نے آج پوری کوشش کی یہاں تک کہ ایک آدمی نے قتل کر دیا، تو شیطان کہتا ہے: تم نے واقعی ہی کام کیا ہے! پھر وہ اپنا تاج اسے پہنا دیتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6189]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6189، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 8119، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 35968» «رقم طبعة با وزير 6156»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (1280). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
51. باب بدء الخلق - ذكر الإخبار عما كان بين آدم ونوح صلوات الله عليهما من القرون-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر خبر کہ آدم اور نوح صلوات اللہ علیہما کے درمیان کتنی نسلیں تھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6190
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ زَنْجُوَيْهِ ، حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلامٍ ، عَنْ أَخِيهِ زَيْدِ بْنِ سَلامٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَلامٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ ، أَنَّ رَجُلًَا، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَبِيٌّ كَانَ آدَمُ؟، قَالَ:" نَعَمْ، مُكَلَّمٌ"، قَالَ: فَكَمْ كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ نُوحٍ؟، قَالَ:" عَشَرَةُ قُرُونٍ" ، أَبُو تَوْبَةَ اسْمُهُ: الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ.
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا سیدنا آدم علیہ السلام نبی تھے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: ”جی ہاں، ان کے ساتھ کلام بھی کیا گیا۔“ اس نے دریافت کیا کہ ان کے اور سیدنا نوح علیہ السلام کے درمیان کتنا وقت ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دس صدیاں۔“ ابوتوبہ نامی راوی کا نام ربیع بن نافع ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6190]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6190، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 3057، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22719، والطبراني فى(الكبير) برقم: 7545، 7871، 7891، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 403» «رقم طبعة با وزير 6157»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (2668). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
52. باب بدء الخلق - ذكر البيان بأن كل نبي من الأنبياء كانت له بطانتان معلومتان-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر بیان کہ ہر نبی کے دو معلوم ساتھی ہوتے تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6191
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ نَبِيٍّ إِِلا وَلَهُ بِطَانَتَانِ: بِطَانَةٌ تَأْمُرُهُ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَاهُ عَنِ الْمُنْكَرِ، وَبِطَانَةٌ لا تَأْلُوهُ خَبَالا، فَمَنْ وُقِيَ شَرَّهَا، فَقَدْ وُقِيَ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہر نبی کے ساتھ دو فرشتے ہوتے ہیں، جس میں سے ایک اسے نیکی کا حکم دیتا ہے اور برائی سے منع کرتا ہے اور ایک کسی چیز کی پرواہ نہیں کرتا، تو جس شخص کو اس کے شر سے بچا لیا گیا اسے (خراب ہونے سے) بچا لیا گیا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6191]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2038، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6191، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 7271، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4212، وأبو داود فى (سننه) برقم: 5128، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2369، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3180، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 20375، 20381، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7359» «رقم طبعة با وزير 6158»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (1643 و 2270). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط البخاري
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
53. باب بدء الخلق - ذكر البيان بأن حكم الخلفاء في البطانتين اللتين وصفناهما حكم الأنبياء سواء-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر بیان کہ ہمارے بیان کردہ دونوں ساتھیوں کے بارے میں خلفاء کا حکم انبیاء کے حکم کے برابر ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6192
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا بَعَثَ اللَّهُ مِنْ نَبِيٍّ، وَلا اسْتَخْلَفَ مِنْ خَلِيفَةٍ، إِِلا كَانَتْ لَهُ بِطَانَتَانِ: بِطَانَةٌ تَأْمُرُهُ بِالْخَيْرِ وَتَحُضُّهُ عَلَيْهِ، وَبِطَانَةٌ تَأْمُرُهُ بِالشَّرِّ وَتَحُضُّهُ عَلَيْهِ، وَالْمَعْصُومُ مَنْ عَصَمَ اللَّهُ" .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ نے جس نبی کو مبعوث کیا اور اس کے بعد جس کو بھی اس کا خلیفہ بنایا، تو اس کے ساتھ دو (فرشتے) ہوتے ہیں، ان میں سے ایک اسے نیکی کا حکم دیتا ہے اور اس کی ترغیب دیتا ہے اور ایک اسے برائی کا حکم دیتا ہے اور اس کی ترغیب دیتا ہے، جسے اللہ تعالیٰ محفوظ رکھے وہی محفوظ رہتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6192]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 6611، 7198، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6192، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4213، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 20372، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11517» «رقم طبعة با وزير 6159»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
54. باب بدء الخلق - ذكر البيان بأن الأنبياء كان لهم حواريون يهدون بهديهم بعدهم-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر بیان کہ انبیاء کے حواری ہوتے تھے جو ان کے بعد ان کی ہدایت پر چلتے تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6193
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَتَّابٍ الأَعْيُنُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ فُضَيْلٍ الْخَطْمِيُّ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا كَانَ مِنْ نَبِيٍّ إِِلا كَانَ لَهُ حَوَارِيُّونَ يُهْدُونَ بِهَدْيِهِ، وَيَسْتَنُّونَ بِسُنَّتِهِ، ثُمَّ يَكُونُ مِنْ بَعْدِهِمْ أَقْوَامٌ يَقُولُونَ مَا لا يَفْعَلُونَ، وَيَفْعَلُونَ مَا يُنْكِرُونَ، فَمَنْ جَاهَدَهُمْ بِيَدِهِ، فَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَمَنْ جَاهَدَهُمْ بِلِسَانِهِ، فَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَمَنْ جَاهَدَهُمْ بِقَلْبِهِ، فَهُوَ مُؤْمِنٌ، لَيْسَ وَرَاءَ ذَلِكَ مِنَ الإِِيمَانِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ" .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”ہر نبی کے کچھ حواری ہوتے ہیں جو اس کی ہدایت کی پیروی کرتے ہیں اور اس کی سنت پر عمل پیرا ہوتے ہیں، پھر اس کے بعد کچھ لوگ آ جاتے ہیں جو ایسی باتیں کرتے ہیں جن پر وہ (خود) عمل نہیں کرتے اور ایسے کام کرتے ہیں، جنہیں وہ خود گناہ قرار دیتے ہیں، تو جو شخص اپنے ہاتھ کے ذریعے ان کے ساتھ جہاد کرے گا وہ مومن ہو گا، جو اپنی زبان کے ذریعے جہاد کرے گا وہ مومن ہو گا، جو شخص اپنے دل کے ذریعے جہاد کرے گا وہ مومن ہو گا اور پھر اس کے بعد رائی کے دانے کے وزن جتنا بھی ایمان نہیں ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6193]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 50، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 177، 6193، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 20235، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4449، 4465، 4488، والبزار فى (مسنده) برقم: 1896، والطبراني فى(الكبير) برقم: 9784، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 9107» «رقم طبعة با وزير 6160»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م (1/ 50 - 51). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
55. باب بدء الخلق - ذكر البيان بأن الأنبياء صلوات الله عليهم أولاد علات-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر بیان کہ انبیاء صلوات اللہ علیہم مختلف ماؤں سے تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6194
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ فِي الأُولَى وَالآخِرَةِ"، قَالُوا: وَكَيْفَ ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ:" الأَنْبِيَاءُ إِِخْوَةٌ مِنْ عَلاتٍ، أُمَّهَاتُهُمْ شَتَّى، وَدِينُهُمْ وَاحِدٌ، وَلَيْسَ بَيْنَنَا نَبِيٌّ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”دنیا اور آخرت میں، میں سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے سب سے زیادہ قریب ہوں۔“ لوگوں نے دریافت کیا: وہ کیسے، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انبیاء علاتی بھائی ہیں جن کی مائیں مختلف ہیں لیکن ان کا دین ایک ہے، لیکن ہمارے (یعنی میرے اور سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے درمیان) کوئی اور نبی نہیں ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6194]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3442، 3443، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2365، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6194، 6195، 6406، 6814، 6821، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 4175، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4324، 4675، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7645» «رقم طبعة با وزير 6161»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (2182)، ويأتي أتم منه (6775 و 6782). تنبيه!! رقم (6775) = (6814) من «طبعة المؤسسة». رقم (6782) = (6821) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
56. باب بدء الخلق - ذكر البيان بأن قوله صلى الله عليه وسلم وليس بيننا نبي أراد به بينه وبين عيسى صلوات الله على نبينا وعليه-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر بیان کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کہ ہمارے اور ان کے درمیان کوئی نبی نہیں سے مراد ان کے اور عیسیٰ صلوات اللہ علیہ کے درمیان ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6195
أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ بِحَرَّانَ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِعِيسَى، الأَنْبِيَاءُ أَبْنَاءُ عَلاتٍ، وَلَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَ عِيسَى نَبِيٌّ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے سب سے زیادہ قریب ہوں، انبیاء علاتی بھائی ہیں، میرے اور سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے درمیان کوئی اور نبی نہیں ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6195]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3442، 3443، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2365، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6194، 6195، 6406، 6814، 6821، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 4175، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4324، 4675، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7645» «رقم طبعة با وزير 6162»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
57. باب بدء الخلق - ذكر البيان بأن كل نبي من الأنبياء كانت له دعوة مستجابة في أمته كان يدعو بها-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر بیان کہ ہر نبی کی اپنی امت کے لیے ایک دعا تھی جو قبول ہوتی تھی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6196
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةً دَعَاهَا فِي أُمَّتِهِ، وَإِِنِّي اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لأُمَّتِي" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہر نبی کی ایک مخصوص دعا ہے، جو وہ اپنی امت کے لیے کرتا ہے اور میں نے اپنی دعا کو اپنی امت کی شفاعت کے لیے سنبھال کے رکھا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6196]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 6305، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 200، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6196، 6480، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 20832، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12571» «رقم طبعة با وزير 6163»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «ظلال الجنة» (797). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط البخاري
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
58. باب بدء الخلق - ذكر السبب الذي من أجله استحق قوم صالح العذاب من الله جل وعلا-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر وجہ جس کی بنا پر قوم صالح کو اللہ جل وعلا سے عذاب ملا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6197
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: لَمَّا جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحِجْرَ قَالَ: " لا تَسْأَلُوا نَبِيَّكُمُ الآيَاتِ، هَؤُلاءِ قَوْمُ صَالِحٍ سَأَلُوا نَبِيَّهُمْ آيَةً، فَكَانَتِ النَّاقَةُ تَرِدُ عَلَيْهِمْ مِنْ هَذَا الْفَجِّ، وَتَصْدُرُ مِنْ هَذَا الْفَجِّ، فَيَشْرَبُونَ مِنْ لَبَنِهَا يَوْمَ وُرُودِهَا مِثْلَ مَا غَبَّهُمْ مِنْ مَائِهِمْ، فَعَقَرُوهَا، فَوُعِدُوا ثَلاثَةَ أَيَّامٍ، وَكَانَ وَعْدٌ غَيْرُ مَكْذُوبٍ، فَأَخَذَتْهُمُ الصَّيْحَةُ، فَلَمْ يَبْقَ تَحْتَ أَدِيمِ السَّمَاءِ رَجُلٌ إِِلا أَهْلَكَتْ، إِِلا رَجُلٌ فِي الْحَرَمِ مَنَعَهُ الْحَرَمُ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ هُوَ؟، قَالَ:" أَبُو رِغَالٍ أَبُو ثَقِيفٍ" .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قومِ ثمود کی بستی کے پاس تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اپنے نبی سے معجزات کے بارے میں مطالبہ نہ کرنا کیونکہ سیدنا صالح علیہ السلام کی قوم نے اپنے نبی سے معجزے کا مطالبہ کیا، تو اس راستے سے ایک اونٹنی نکل کر ان کے پاس آئی، وہ اس راستے سے واپس چلی جایا کرتی تھی، وہ لوگ اس اونٹنی کا دودھ پیا کرتے تھے جس دن وہ اونٹنی پانی پینے کے لیے آتی تھی اتنا ہی جتنا وہ ان کے پانی پر وقفہ کے ساتھ آتی تھی ہوتا تھا، ان لوگوں نے اس اونٹنی کے پاؤں کاٹ دیے، تو ان لوگوں کے ساتھ تین دن کے اندر (عذاب آنے کا) وعدہ کیا گیا، یہ ایک ایسا وعدہ تھا جس کی خلاف ورزی نہیں ہونی تھی، تو ایک زبردست آواز نے انہیں اپنی گرفت میں لے لیا، اس وقت آسمان کے نیچے موجود ہر شخص ہلاکت کا شکار ہو گیا ماسوائے اس شخص کے جو حرم کی حدود کے اندر تھا، حرم نے انہیں اللہ کے عذاب سے محفوظ رکھا۔“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ کون شخص تھا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ثقیف قبیلے کا جدِ امجد ابورغال۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6197]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6197، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 3267، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14377» «رقم طبعة با وزير 6164»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني ضعيف - «تخريج فقه السيرة» (408). * [أَبُو رِغَالٍ أَبُو ثَقِيفٍ] قال الشيخ: زاد أحمد: «فلما خرج من الحرم؛ أصابه ما أصاب قومه». فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں