🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
29. باب بدء الخلق - ذكر الإخبار عن سبب ائتلاف الناس وافتراقهم-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر خبر کہ لوگوں کے اتحاد اور افتراق کی وجہ کیا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6168
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الأَرْوَاحُ جُنُودٌ مُجَنَّدَةٌ، فَمَا تَعَارَفَ مِنْهَا ائْتَلَفَ، وَمَا تَنَاكَرَ مِنْهَا اخْتَلَفَ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”روحیں گروہوں کی شکل میں رہتی ہیں، ان میں سے جو (عالمِ ارواح میں) ایک دوسرے سے شناسا ہوتی ہیں وہ دنیا میں بھی ایک دوسرے سے مانوس ہوتی ہیں اور جو ایک دوسرے سے شناسا نہیں ہوتی ہیں وہ دنیا میں بھی ایک دوسرے سے لاتعلق رہتی ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6168]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2638، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6168، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4834، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8050، 10978، 11112، والبزار فى (مسنده) برقم: 9068، 9374» «رقم طبعة با وزير 6135»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «المشكاة» (5004 / التحقيق الثاني): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
30. باب بدء الخلق - ذكر إلقاء الله جل وعلا النور على من شاء من خلقه هدايته-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر کہ اللہ جل وعلا اپنی مخلوق میں سے جسے چاہتا ہے اس پر نور ڈالتا ہے ہدایت کے لیے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6169
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الدَّيْلَمِيِّ ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمَرُو ، فَقُلْتُ: إِِنَّهُمْ يَزْعُمُونَ أَنَّكَ تَقُولُ: الشَّقِيُّ مَنْ شَقِيَ فِي بَطْنِ أُمِّهِ؟، فَقَالَ: لا أُحِلُّ لأَحَدٍ يَكْذِبُ عَلَيَّ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِِنَّ اللَّهَ خَلَقَ خَلْقَهُ فِي ظُلْمَةٍ، وَأَلْقَى عَلَيْهِمْ مِنْ نُورِهِ، فَمَنْ أَصَابَهُ مِنْ ذَلِكَ النُّورِ، اهْتَدَى، وَمَنْ أَخْطَأَ، ضَلَّ" ، فَلِذَلِكَ أَقُولُ: جَفَّ الْقَلَمُ عَلَى عِلْمِ اللَّهِ جَلَّ وَعَلا.
عبداللہ بن دیلمی بیان کرتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے عرض کیا: لوگ یہ کہتے ہیں کہ آپ فرماتے ہیں کہ وہ شخص بدبخت ہوتا ہے جو اپنی ماں کے پیٹ میں بدبخت ہو، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں کسی شخص کے لیے یہ بات حلال قرار نہیں دیتا کہ وہ میری طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کرے، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو تاریکی میں پیدا کیا، پھر ان پر اپنا نور ڈالا، تو ان میں سے جسے وہ نور ملا وہ ہدایت پا گیا اور جس تک وہ نور نہیں پہنچا وہ گمراہ ہو گیا، اسی وجہ سے میں یہ کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علم کے حوالے سے (تقدیر مقرر ہو چکی ہے اور) قلم خشک ہو چکا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6169]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 939، 1334، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1633، 5357، 6169، 6170، 6420، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 84، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2642، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2136، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1408، 3377، وسعيد بن منصور فى (سننه) ترقيم الدرالسلفية برقم:، 814، والدارقطني فى (سننه) برقم: 4610، 4613، وأحمد فى (مسنده) برقم: 6754» «رقم طبعة با وزير 6136»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «المشكاة» (101)، «الصحيحة» (1076)، «الظلال» (241 - 244). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
31. باب بدء الخلق - ذكر الإخبار عن علم الله جل وعلا من يصيبه من ذلك النور أو يخطئه عند خلقه الخلق في الظلمة-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر خبر کہ اللہ جل وعلا کا علم کہ کون اس نور سے متاثر ہوتا ہے یا کون اس سے محروم رہتا ہے جب وہ مخلوق کو تاریکی میں بناتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6170
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ سُلَيْمَانَ بِالْفُسْطَاطِ ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنِ ابْنِ الدَّيْلَمِيِّ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو : بَلَغَنِي أَنَّكَ تَقُولُ: إِِنَّ الْقَلَمَ قَدْ جَفَّ، قَالَ: فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا خَلَقَ النَّاسَ فِي ظُلْمَةٍ، ثُمَّ أَخَذَ نُورًا مِنْ نُورِهِ، فَأَلْقَاهُ عَلَيْهِمْ، فَأَصَابَ مَنْ شَاءَ، وَأَخْطَأَ مَنْ شَاءَ، وَقَدْ عَلِمَ مَنْ يُخْطِئُهُ مِمَّنْ يُصِيبُهُ، فَمَنْ أَصَابَهُ مِنْ نُورِهِ شَيْءٌ، اهْتَدَى، وَمَنْ أَخْطَأَهُ، فَقَدْ ضَلَّ" ، فَفِي ذَلِكَ مَا أَقُولُ: إِِنَّ الْقَلَمَ قَدْ جَفَّ.
ابن دیلمی بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے کہا: مجھے پتہ چلا ہے کہ آپ یہ کہتے ہیں: قلم خشک ہو چکا ہے، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بتایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو تاریکی میں پیدا کیا پھر اس نے اپنے نور میں سے نور لیا اور اسے ان لوگوں پر ڈالا، تو جسے اس نے چاہا اس تک وہ نور پہنچ گیا اور جسے اس نے چاہا اس تک نور نہیں پہنچا، حالانکہ وہ یہ بات جانتا تھا کہ یہ نور کس تک نہیں پہنچے گا اور کس تک پہنچے گا، تو جس تک وہ نور پہنچ گیا اس نے ہدایت پا لی اور جس تک نہیں پہنچا وہ گمراہ ہو گیا۔“ (سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما نے فرمایا) اسی وجہ سے میں یہ کہتا ہوں قلم خشک ہو چکا ہے (یعنی تقدیر کا فیصلہ طے ہو چکا ہے)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6170]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 939، 1334، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1633، 5357، 6169، 6170، 6420، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 84، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2642، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2136، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1408، 3377، وسعيد بن منصور فى (سننه) ترقيم الدرالسلفية برقم:، 814، والدارقطني فى (سننه) برقم: 4610، 4613، وأحمد فى (مسنده) برقم: 6754» «رقم طبعة با وزير 6137»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - وهو مكرر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
32. باب بدء الخلق - ذكر الإخبار بعدد الناس وأوصاف أعمالهم-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر خبر کہ لوگوں کی تعداد اور ان کے اعمال کی اوصاف کیا ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6171
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ النَّحْوِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الرُّكَيْنُ بْنُ الرَّبِيعِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَمِّهِ ، عَنْ خُرَيْمِ بْنِ فَاتِكٍ الأَسَدِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " النَّاسُ أَرْبَعَةٌ، وَالأَعْمَالُ سِتَّةٌ: مُوجِبَتَانِ وَمِثْلٌ بِمِثْلٍ، وَحَسَنَةٌ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا، وَحَسَنَةٌ بِسَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ، وَالنَّاسُ مُوَسَّعٌ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ، وَمُوَسَّعٌ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا، مَقْتُورٌ عَلَيْهِ فِي الآخِرَةِ، وَمَقْتُورٌ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا مُوَسَّعٌ عَلَيْهِ فِي الآخِرَةِ، وَمَقْتُورٌ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ، وَشَقِيٌّ فِي الدُّنْيَا، وَشَقِيٌّ فِي الآخِرَةِ، وَالْمُوجِبَتَانِ مَنْ قَالَ: لا إِِلَهَ إِِلا اللَّهُ، أَوْ قَالَ: مُؤْمِنًَا بِاللَّهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ، وَمَنْ مَاتَ وَهُوَ يُشْرِكُ بِاللَّهِ دَخَلَ النَّارَ، وَمَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَعَمِلَهَا، كُتِبَتْ لَهُ عَشَرَةُ أَمْثَالِهَا، وَمَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا، كُتِبَتْ لَهُ حَسَنَةٌ، وَمَنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا، كُتِبَتْ لَهُ حَسَنَةٌ، وَمَنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ فَعَمِلَهَا، كُتِبَتْ لَهُ سَيِّئَةٌ وَاحِدَةٌ غَيْرُ مُضَعَّفَةٍ، وَمَنْ أَنْفَقَ نَفَقَةً فَاضِلَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَبِسَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ" .
سیدنا خریم بن فاتک اسدی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”لوگ چار طرح کے ہوتے ہیں اور اعمال چھ قسم کے ہوتے ہیں؛ (جنت اور جہنم کو) واجب کرنے والے اعمال، جن کا بدلہ برابر برابر ہو، جس میں ایک نیکی کا بدلہ دس گنا ہو اور ایک نیکی کا بدلہ سات سو گنا ہو۔ کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جنہیں دنیا اور آخرت میں کشادگی نصیب ہوتی ہے، کچھ کو دنیا میں کشادگی نصیب ہوتی ہے اور آخرت میں تنگی نصیب ہو گی، کچھ کو دنیا میں تنگی نصیب ہوتی ہے اور آخرت میں کشادگی نصیب ہو گی، کچھ کو دنیا اور آخرت دونوں میں تنگی نصیب ہو گی، کچھ لوگ دنیا میں بدبخت ہوتے ہیں اور آخرت میں بھی بدبخت ہوتے ہیں۔ دو واجب کرنے والی چیزیں (یہ ہیں): جو شخص یہ کہے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) جو اللہ پر ایمان رکھے وہ جنت میں داخل ہو گا، جو شخص ایسی حالت میں مرے کہ وہ کسی کو اللہ کا شریک ٹھہراتا ہو گا وہ جہنم میں داخل ہو گا، جو شخص نیکی کا ارادہ کر کے اس پر عمل کر لے اسے اس کا دس گنا اجر ملے گا اور جو شخص کسی نیکی کا ارادہ کر کے اس پر عمل نہ کرے اس کے نامہ اعمال میں ایک نیکی نوٹ کی جائے گی، جو شخص کسی برائی کا ارادہ کر کے اس پر عمل نہ کرے اس کے نامہ اعمال میں ایک نیکی نوٹ کی جائے گی، جو شخص کسی برائی کا ارادہ کر کے اس پر عمل کر لے اس کے نامہ اعمال میں ایک برائی نوٹ کی جائے گی، اس میں کوئی اضافہ نہیں ہو گا اور جو شخص اضافی چیز کو خرچ کرے گا، تو اس کا بدلہ سات سو گنا تک ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6171]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4647، 6171، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2455، 2456، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3186، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1625، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19202» «رقم طبعة با وزير 6138»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (2604). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
33. باب بدء الخلق - ذكر تمثيل المصطفى صلى الله عليه وسلم الناس بالإبل المائة-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی تشبیہ سو اونٹوں سے دی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6172
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِِنَّمَا النَّاسُ كَإِِبِلِ مِائَةٍ، لا يَجِدُ الرَّجُلَ فِيهَا رَاحِلَةً" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”لوگوں کی مثال ایسے ایک سو اونٹوں کی طرح ہے جن میں آدمی کو ایک بھی سواری نہیں ملتی۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6172]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 6498، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2547، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5797، 6172، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2872، 2873، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3990، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 17863، 20518، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4604» «رقم طبعة با وزير 6139»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الروض النضير» (502): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
34. باب بدء الخلق - ذكر البيان بأن الله جل وعلا يجعل أهل الجنة والنار وهم في أصلاب آبائهم ضد قول من رأى ضده-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر بیان کہ اللہ جل وعلا جنت اور جہنم کے لوگوں کو ان کے آباء کی پشتوں میں بناتا ہے، اس کے خلاف جو اس کے برعکس کہتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6173
أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا إِِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أُتِيَ بِصَبِيٍّ مِنَ الأَنْصَارِ يُصَلِّي عَلَيْهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عُصْفُورٌ مِنْ عَصَافِيرِ الْجَنَّةِ؟ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَوَلا تَدْرِينَ أَنَّ اللَّهَ خَلَقَ لِلْجَنَّةِ خَلْقًا، فَجَعَلَهُمْ لَهَا أَهْلا وَهُمْ فِي أَصْلابِ آبَائِهِمْ، وَخَلَقَ النَّارَ، وَخَلَقَ لَهَا أَهْلا وَهُمْ فِي أَصْلابِ آبَائِهِمْ؟" .
ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک انصاری بچے کو لایا گیا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی نماز جنازہ ادا کریں، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ تو جنت کی ایک چڑیا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم یہ بات نہیں جانتی کہ اللہ تعالیٰ نے جنت کے لیے مخصوص مخلوق کو پیدا کیا ہے، اس نے ان لوگوں کو جنت کا اہل بنایا ہے اس وقت جب وہ اپنے آباؤ اجداد کی پشتوں میں تھے، اس نے جہنم کو بھی پیدا کیا اور جہنم کے اہل افراد بھی پیدا کیے جبکہ وہ اپنے آباؤ اجداد کی پشتوں میں تھے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6173]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2662، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 138، 6173، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1946، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 2085، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4713، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 82، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24766، والطيالسي فى (مسنده) برقم: 1679، والحميدي فى (مسنده) برقم: 267» «رقم طبعة با وزير 6140»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - مضى (138). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
35. باب بدء الخلق - ذكر خبر أوهم من لم يحكم صناعة العلم أنه يضاد خبر عائشة الذي ذكرناه-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر خبر جو علم کی صنعت میں غیر ماہر کو یہ وہم دلاتی ہے کہ یہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی ہمارے ذکر کردہ خبر کے خلاف ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6174
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، وَشُعَيْثُ بْنُ مُحْرِزٍ ، قَالا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الأَعْمَشِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ الصَّادِقُ الْمَصْدُوقُ:" إِِنَّ خَلْقَ أَحَدِكُمْ يُجْمَعُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا وَأَرْبَعِينَ لَيْلَةً، ثُمَّ يَكُونُ عَلَقَةً مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ يَكُونُ مُضْغَةً مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ يَبْعَثُ اللَّهُ إِِلَيْهِ مَلَكًا فَيُؤْمَرُ بِأَرْبَعِ كَلِمَاتٍ، فَيَقُولُ: اكْتُبْ عَمَلَهُ وَأَجَلَهُ وَرِزْقَهُ وَشَقِيٌّ أَوْ سَعِيدٌ، وَإِِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجَنَّةِ إِِلا ذِرَاعٌ، فَيَغْلِبُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ الَّذِي سَبَقَ، فَيُخْتَمُ لَهُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ، وَإِِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا إِِلا ذِرَاعٌ، فَيَغْلِبُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ الَّذِي سَبَقَ، فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، فَيَدْخُلُ الْجَنَّةَ" .
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ بات بتائی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سچے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق بھی کی گئی: ”کسی بھی شخص کے نطفے کو اس کی ماں کے پیٹ میں چالیس دن تک (نطفے کی شکل میں) رکھا جاتا ہے، پھر وہ اتنے ہی عرصے تک جما ہوا خون بن کر رہتا ہے، پھر وہ اتنے ہی عرصے تک گوشت کے ٹکڑے کی شکل میں رہتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ اس کی طرف ایک فرشتے کو بھیجتا ہے جسے چار باتوں کا حکم دیا جاتا ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: تم اس کے عمل، اس کی موت، اس کا رزق اور اس کے بدبخت یا نیک بخت ہونے کو نوٹ کرو۔ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں) ایک شخص اہل جنت کے سے عمل کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے درمیان ایک بالشت کا فاصلہ باقی رہ جاتا ہے، پھر تقدیر کا لکھا ہوا اس پر غالب آ جاتا ہے اور اس کے لیے اہل جہنم کی مہر لگا دی جاتی ہے (یا اس کا خاتمہ اہل جہنم پر ہوتا ہے) اور ایک شخص اہل جہنم کے سے عمل کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ اس کے اور جہنم کے درمیان ایک بالشت کا فاصلہ رہ جاتا ہے، تو تقدیر کا لکھا ہوا اس پر غالب آ جاتا ہے اور وہ اہل جنت کا سا عمل کر کے جنت میں داخل ہو جاتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6174]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3208، 3332، 6594، 7454، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2643، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6174، 6177، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 11182، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4708، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2137، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 76، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 15519، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3623» «رقم طبعة با وزير 6141»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «ظلال الجنة» (175 و 176)، «الإرواء» (2143): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
36. باب بدء الخلق - ذكر البيان بأن الحكم الحقيقي بما للعبد عند الله لا ما يعرف الناس بعضهم من بعض-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر بیان کہ اللہ کے ہاں بندے کا اصلی حکم وہی ہے جو اس کے پاس ہے، نہ کہ جو لوگ ایک دوسرے سے جانتے ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6175
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ ابْنُ مَوْهِبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ:" إِِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّاسِ، وَإِِنَّهُ لِمَنْ أَهْلِ النَّارِ، وَإِِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّاسِ، وَإِِنَّهُ لِمَنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ" .
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”ایک شخص اہل جنت کے سے عمل کرتا ہے جو اس کے اور لوگوں کے درمیان معاملے کے حوالے سے ہوتے ہیں، حالانکہ وہ شخص جہنمی ہوتا ہے اور ایک شخص اپنے اور لوگوں کے درمیان معاملے کے حوالے سے اہل جہنم کا سا عمل کرتا ہے، حالانکہ وہ اہل جنت میں سے ہوتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6175]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2898، 4202، 4207، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 112، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6175، وأحمد فى (مسنده) برقم: 23276» «رقم طبعة با وزير 6142»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «ظلال الجنة» (216). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
37. باب بدء الخلق - ذكر البيان بأن تفصيل هذا الحكم يكون للمرء عند خاتمة عمله دون ما ينقلب فيه في حياته-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر بیان کہ اس حکم کی تفصیل انسان کے عمل کے اختتام پر ہوتی ہے، نہ کہ اس کی زندگی میں جو تبدیلیاں آتی ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6176
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ الزَّمَانَ الطَّوِيلَ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، ثُمَّ يَخْتِمُ اللَّهُ لَهُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ، فَيَجْعَلُهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ، وَإِِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ الزَّمَانَ الطَّوِيلَ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ، ثُمَّ يَخْتِمُ اللَّهُ لَهُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، فَيَجْعَلُهُ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”ایک شخص طویل عرصے تک اہل جنت کے سے عمل کرتا رہتا ہے، لیکن پھر اللہ تعالیٰ اس کا خاتمہ اہل جہنم کے سے عمل پر کرتا ہے اور اسے اہل جہنم میں شامل کر دیتا ہے، اور ایک شخص طویل عرصے تک اہل جہنم کے سے عمل کرتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ اس کا خاتمہ اہل جنت کے سے عمل کے ذریعے کرتا ہے اور اسے اہل جنت میں شامل کر دیتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6176]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2651، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6176، وأحمد فى (مسنده) برقم: 10429، والبزار فى (مسنده) برقم: 8198، 8317، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 2448، 2780» «رقم طبعة با وزير 6143»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
38. باب بدء الخلق - ذكر خبر قد يوهم من لم يطلب العلم من مظانه أنه مضاد لخبر ابن مسعود الذي ذكرناه-
مخلوقات کے آغاز (پیدائش) کا بیان - ذکر خبر جو علم کے اصلی ذرائع سے نہ مانگنے والے کو یہ وہم دلاتی ہے کہ یہ ابن مسعود کی ہمارے ذکر کردہ خبر کے خلاف ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6177
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْمِصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ ، أَنَّ عَامِرَ بْنَ وَاثِلَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ مَسْعُودٍ، يَقُولُ: الشَّقِيُّ مَنْ شَقِيَ فِي بَطْنِ أُمِّهِ، وَالسَّعِيدُ مَنْ وُعِظَ بِغَيْرِهِ، فَأَتَى رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَالُ لَهُ: حُذَيْفَةُ بْنُ أُسَيْدٍ الْغِفَارِيُّ ، فَحَدَّثَ بِذَلِكَ مِنْ قَوْلِ ابْنِ مَسْعُودٍ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِِذَا مَرَّ بِالنُّطْفَةِ ثِنْتَانِ وَأَرْبَعُونَ لَيْلَةً، بَعَثَ اللَّهُ إِِلَيْهَا مَلَكًا فَصَوَّرَهَا، وَخَلَقَ سَمْعَهَا وَبَصَرَهَا وَجِلْدَهَا وَلَحْمَهَا وَعِظَامَهَا، ثُمَّ يَقُولُ: يَا رَبِّ، ذَكَرٌ أَمْ أُثْنَى؟ فَيَقْضِي رَبُّكَ مَا يَشَاءُ وَيُكْتُبُ الْمَلَكُ، ثُمَّ يَقُولُ: يَا رَبِّ، أَجَلُهُ؟ فَيَقْضِي رَبُّكَ مَا يَشَاءُ وَيَكْتُبُهُ الْمَلَكُ، ثُمَّ يَقُولُ: يَا رَبِّ، رِزْقُهُ؟ فَيَقْضِي رَبُّكَ مَا يَشَاءُ، فَيَأْخُذُ الْمَلَكُ بِالصَّحِيفَةِ فِي يَدِهِ، فَلا يُزَادُ فِي أَمْرٍ وَلا يُنْقَصُ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خَلَقَ سَمْعَهَا"، مِنْ أَلْفَاظِ التَّعَارُفِ لا أَنَّ الْمَلَكَ يَخْلُقُ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ”بدبخت شخص وہ ہوتا ہے جو ماں کے پیٹ میں بدبخت ہو، نیک بخت وہ ہوتا ہے جسے دوسرے کے ذریعے نصیحت کی جا سکے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک صاحب تشریف لائے ان کا نام سیدنا حذیفہ بن اسید غفاری رضی اللہ عنہما تھا، انہیں یہ بات سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے قول کے طور پر بتائی گئی، تو انہوں نے بتایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جب نطفے کو بیالیس (42) دن گزر جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف ایک فرشتے کو بھیجتا ہے جو اس کی شکل و صورت متعین کرتا ہے، اس کی سماعت و بصارت، اس کی کھال، اس کا گوشت اور اس کی ہڈیاں بناتا ہے، پھر وہ دریافت کرتا ہے: اے پروردگار! کیا یہ لڑکا ہو گا یا لڑکی ہو گی؟ تو تمہارے پروردگار نے جو چاہا ہوتا ہے وہ فیصلہ سنا دیتا ہے، فرشتہ اسے نوٹ کر لیتا ہے، پھر وہ دریافت کرتا ہے: پروردگار! اس کی موت کا وقت کیا ہو گا؟ تمہارے پروردگار نے جو چاہا ہوتا ہے وہ فیصلہ سنا دیتا ہے، فرشتہ اسے نوٹ کر لیتا ہے، پھر وہ عرض کرتا ہے: پروردگار! اس کا رزق کتنا ہو گا؟ تو تمہارے پروردگار نے جو چاہا ہوتا ہے وہ فیصلہ بتا دیتا ہے، تو فرشتہ وہ صحیفہ اپنے ہاتھ میں لے لیتا ہے، اب اس معاملے میں کوئی اضافہ یا کمی نہیں ہو سکتی۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”اس نے اس کی سماعت کو پیدا کیا“ یہ الفاظ لوگوں کے محاورے کے اعتبار سے ہیں، اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ فرشتہ اس چیز کو پیدا کرتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6177]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3208، 3332، 6594، 7454، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2643، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6174، 6177، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 11182، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4708، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2137، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 76، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 15519، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3623» «رقم طبعة با وزير 6144»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «ظلال الجنة» (177). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں