صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
50. ذكر البيان بأن الصديق والفاروق يكونان في الجنة سيدي كهول الأمم فيها-
- ذکر بیان کہ صدیق اور فاروق جنت میں امتوں کے بڑوں کے سردار ہوں گے
حدیث نمبر: 6904
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ إِِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُقَيْلِ بْنِ خُوَيْلِدٍ ، حَدَّثَنَا خُنَيْسُ بْنُ بَكْرِ بْنِ خُنَيْسٍ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرَ سَيِّدَا كُهُولِ أَهْلِ الْجَنَّةِ مِنَ الأَوَّلِينَ وَالآخِرِينَ، إِِلا النَّبِيِّينَ وَالْمُرْسَلِينَ" .
عون بن ابوجحیفہ اپنے والد (رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”ابوبکر اور عمر (رضی اللہ عنہما) جنت کے تمام پہلے والے اور بعد والے عمر رسیدہ افراد کے سردار ہیں، البتہ انبیاء اور مرسلین کا معاملہ مختلف ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6904]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6904، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 100، والطبراني فى(الكبير) برقم: 257، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 4174» «رقم طبعة با وزير 6865»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح - «الصحيحة» (824).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح
51. ذكر رضا المصطفى صلى الله عليه وسلم عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه في صحبته إياه-
- ذکر کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی صحبت سے دنیا سے رخصت ہونے کے وقت راضی تھے
حدیث نمبر: 6905
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا قَطَنُ بْنُ الْغُبَرِيُّ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الضُّبَعِيُّ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ: كَانَ أَبُو لُؤْلُؤَةَ عَبْدًا لِلْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، وَكَانَ يَصْنَعُ الأَرْحَاءَ، وَكَانَ الْمُغِيرَةِ يَسْتَغِلُّهُ كُلَّ يَوْمٍ بِأَرْبَعَةِ دَرَاهِمَ، فَلَقِيَ أَبُو لُؤْلُؤَةَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، إِِنَّ الْمُغِيرَةَ قَدْ أَثْقَلَ عَلَيَّ غَلَّتِي، فَكَلِّمْهُ يُخَفِّفْ عَنِّي، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ : اتَّقِ اللَّهَ، وَأَحْسِنْ إِِلَى مَوْلاكَ، فَغَضِبَ الْعَبْدُ، وَقَالَ: وَسِعَ النَّاسَ كُلَّهُمْ عَدْلُكَ غَيْرِي، فَأَضْمَرَ عَلَى قَتْلِهِ، فَاصْطَنَعَ خَنْجَرًا لَهُ رَأْسَانِ وَسَمَّهُ، ثُمَّ أَتَى بِهِ الْهُرْمُزَانَ، فَقَالَ: كَيْفَ تَرَى هَذَا؟ فَقَالَ: إِِنَّكَ لا تَضْرِبُ بِهَذَا أَحَدًا إِِلا قَتَلْتَهُ، قَالَ: وَتَحَيَّنَ أَبُو لُؤْلُؤَةَ عُمَرَ، فَجَاءَهُ فِي صَلاةِ الْغَدَاةِ، حَتَّى قَامَ وَرَاءَ عُمَرَ، وَكَانَ عُمَرُ إِِذَا أُقِيمَتِ الصَّلاةُ، يَقُولُ: أَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ، فَقَالَ كَمَا كَانَ يَقُولُ، فَلَمَّا كَبَّرَ وَجَأَهُ أَبُو لُؤْلُؤَةَ فِي كَتِفِهِ، وَوَجَأَهُ فِي خَاصِرَتِهِ، فَسَقَطَ عُمَرُ وَطَعَنَ بِخَنْجَرِهِ ثَلاثَةَ عَشَرَ رَجُلا، فَهَلَكَ مِنْهُمْ سَبْعَةٌ، وَحُمِلَ عُمَرُ فَذُهِبَ بِهِ إِِلَى مَنْزِلِهِ، وَصَاحَ النَّاسُ حَتَّى كَادَتْ تَطْلُعُ الشَّمْسُ، فَنَادَى النَّاسَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، الصَّلاةَ الصَّلاةَ، قَالَ: فَفَزِعُوا إِِلَى الصَّلاةِ، فَتَقَدَّمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ، فَصَلَّى بِهِمْ بِأَقْصَرِ سُورَتَيْنِ فِي الْقُرْآنِ، فَلَمَّا قَضَى صَلاتَهُ تَوَجَّهُوا إِِلَى عُمَرَ، فَدَعَا عُمَرُ بِشَرَابٍ لَيَنْظُرَ مَا قَدْرُ جُرْحِهِ، فَأُتِيَ بِنَبِيذٍ فَشَرِبَهُ، فَخَرَجَ مِنْ جُرْحِهِ فَلَمْ يَدْرِ أَنَبِيذٌ هُوَ أَمْ دَمٌ، فَدَعَا بِلَبَنٍ فَشَرِبَهُ فَخَرَجَ مِنْ جُرْحِهِ، فَقَالُوا لا بَأْسَ عَلَيْكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَ: إِِنْ يَكُنِ الْقَتْلُ بَأْسًا، فَقَدْ قُتِلْتُ، فَجَعَلَ النَّاسُ يُثْنُونَ عَلَيْهِ، يَقُولُونَ: جَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، كُنْتَ وَكُنْتَ، ثُمَّ يَنْصَرِفُونَ وَيَجِيءُ قَوْمٌ آخَرُونَ، فَيُثْنُونَ عَلَيْهِ، فَقَالَ عُمَرُ: أَمَا وَاللَّهِ عَلَى مَا تَقُولُونَ، وَدِدْتُ أَنِّي خَرَجْتُ مِنْهَا كَفَافًا لا عَلَيَّ وَلا لِي، وَإِِنَّ صُحْبَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَلِمَتْ لِي، فَتَكَلَّمَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ وَكَانَ عِنْدَ رَأْسِهِ، وَكَانَ خَلِيطَهُ كَأَنَّهُ مِنْ أَهْلِهِ، وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يُقْرِئُهُ الْقُرْآنَ، فَتَكَلَّمَ ابْنُ عَبَّاسٍ، فَقَالَ:" لا وَاللَّهِ، لا تَخْرُجُ مِنْهَا كَفَافًا، لَقَدْ صَحِبْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَحِبْتَهُ وَهُوَ عَنْكَ رَاضٍ بِخَيْرِ مَا صَحِبَهُ صَاحِبٌ، كُنْتَ لَهُ، وَكُنْتَ لَهُ، وَكُنْتَ لَهُ، حَتَّى قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَنْكَ رَاضٍ"، ثُمَّ صَحِبْتَ خَلِيفَةَ رَسُولِ اللَّهِ، فَكُنْتَ تُنَفِّذُ أَمْرَهُ، وَكُنْتَ لَهُ، وَكُنْتَ لَهُ، ثُمَّ وَلِيتَهَا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْتَ، فَوَلِيتَهَا بِخَيْرِ مَا وَلِيَهَا وَالٍ، وَكُنْتَ تَفْعَلُ، وَكُنْتَ تَفْعَلُ، فَكَانَ عُمَرُ يَسْتَرِيحُ إِِلَى حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: كَرِّرْ عَلَيَّ حَدِيثَكَ، فَكَرَّرَ عَلَيْهِ، فَقَالَ عُمَرُ: أَمَا وَاللَّهِ عَلَى مَا تَقُولُ" لَوْ أَنَّ لِي طِلاعَ الأَرْضِ ذَهَبًا، لافْتَدَيْتُ بِهِ الْيَوْمَ مِنْ هَوْلِ الْمَطْلَعِ"، قَدْ جَعَلْتُهَا شُورَى فِي سِتَّةٍ: عُثْمَانَ، وَعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، وَطَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، وَالزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، وَسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، وَجَعَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ مَعَهُمْ مُشِيرًا، وَلَيْسَ مِنْهُمْ، وَأَجَّلَهُمْ ثَلاثًا، وَأَمَرَ صُهَيْبًا أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ ، رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَرِضْوَانُهُ.
ابورافع بیان کرتے ہیں: ابولؤلؤ نامی شخص سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کا غلام تھا، وہ چکیاں تیار کرتا تھا، سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ اس سے روزانہ چار درہم خراج وصول کرتے تھے۔ ابولؤلؤ کی ملاقات سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ہوئی، اس نے کہا: اے امیر المؤمنین! سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ نے مجھ پر بہت زیادہ تاوانِ خراج عائد کیا ہوا ہے، آپ ان سے بات کیجیے کہ وہ میرے لیے تخفیف کر دیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: تم اللہ سے ڈرو اور اپنے آقا کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ اس پر وہ غلام غصے میں آ گیا اور بولا: آپ کا عدل میرے علاوہ باقی سب لوگوں کے لیے ہے! اس نے اپنے ذہن میں یہ طے کیا کہ وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو شہید کر دے گا، اس نے ایک خنجر لیا جو دو دھاری تھا، اس نے اسے زہر آلود کیا، پھر وہ اسے لے کر ہرمزان کے پاس آیا اور بولا: اس کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟ اس نے کہا: یہ تم جسے بھی مارو گے اسے قتل کر دو گے۔ تو ابولؤلؤ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو (شہید کرنے کا) ارادہ کیا، وہ صبح کی نماز میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پیچھے کھڑا ہو گیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا یہ معمول تھا کہ جب نماز کے لیے اقامت کہہ دی جاتی تو وہ یہ کہتے تھے: تم لوگ اپنی صفیں درست کر لو؛ انہوں نے اپنے معمول کے مطابق یہ کلمہ کہا، پھر جب انہوں نے تکبیر کہی تو ابولؤلؤ نے ان کے کندھے پر وار کیا اور ان کے پہلو پر وار کیا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ گر پڑے، اس نے اس خنجر کے ذریعے تیرہ اور آدمیوں کو بھی زخمی کیا جن میں سے سات لوگ فوت بھی ہو گئے تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اٹھا کر ان کے گھر کی طرف لایا گیا، لوگ چیخ و پکار کرنے لگے، یہاں تک کہ سورج کے طلوع ہونے کا وقت قریب آیا تو سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے لوگوں میں اعلان کیا: اے لوگو! نماز، نماز۔ راوی کہتے ہیں: تو لوگ گھبرا کر نماز کی طرف آئے، سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ آگے بڑھے، انہوں نے قرآن کی سب سے چھوٹی سورتوں کے ذریعے ان لوگوں کو نماز پڑھائی۔ جب انہوں نے نماز مکمل کر لی تو یہ لوگ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی طرف آئے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مشروب منگوایا تاکہ اس بات کا جائزہ لیں کہ زخم کی مقدار کیا ہے، تو نبیذ لائی گئی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے وہ پی تو وہ ان کے زخم سے باہر آ گئی، لیکن یہ پتا نہیں چلتا تھا کہ کیا یہ نبیذ ہے یا خون ہے، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دودھ منگوا کر اسے پیا تو وہ ان کے زخم سے باہر آ گیا۔ لوگوں نے کہا: اے امیر المؤمنین! آپ پر کوئی حرج نہیں ہے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر تو قتل ہونا حرج ہے، تو میں تو قتل ہو گیا۔ پھر لوگ ان کی تعریف کرنے لگے اور یہ کہنے لگے: اے امیر المؤمنین! اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا کرے، آپ ایسے تھے اور ویسے تھے، پھر وہ لوگ چلے گئے اور دوسرے لوگ آ گئے اور ان کی تعریف کرتے رہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! تم لوگ جو کہہ رہے ہو اس کے باوجود میری یہ آرزو ہے کہ میں اس (حکومت) کے معاملے سے برابری کی بنیاد پر چھوٹ جاؤں، نہ میرے ذمے کچھ ہو اور نہ ہی مجھے کچھ ملے، بے شک اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا صحابی ہونا میری سلامتی کے لیے کافی ہے۔ پھر سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے گفتگو شروع کی جو ان کے سرہانے موجود تھے، وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے اتنے قریبی تھے جیسے ان کے خاندان کے فرد ہوں۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما انہیں قرآن کی تلاوت پڑھ کر سنایا کرتے تھے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے گفتگو کرتے ہوئے کہا: جی نہیں، اللہ کی قسم! آپ برابری کی بنیاد پر اس معاملے سے نہیں نکلیں گے، آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اختیار کی، آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آپ سے اس طرح راضی تھے جیسے اس سب سے بہتر شخص سے راضی ہوں جو آپ کے ساتھ رہا، آپ کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں یہ مقام تھا، یہ مقام تھا، یہ مقام تھا، یہاں تک کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آپ سے راضی تھے، اس کے بعد آپ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ کے ساتھ رہے، آپ ان کی حکومت کے معاملے کو نافذ کرتے رہے، آپ نے ان کے لیے یہ کیا، ان کے لیے یہ کیا۔ اے امیر المؤمنین! اس کے بعد آپ حکمران بن گئے، تو آپ اتنے اچھے حکمران بنے جتنا کوئی بھی شخص اچھا حکمران ہو سکتا ہے، آپ نے یہ کیا اور وہ کیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی گفتگو سے آرام محسوس ہوا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: تم اپنی بات میرے سامنے دہراؤ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ان کے سامنے یہ بات دہرائی، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! تم جو کچھ کہہ رہے ہو اس کے باوجود (میں یہ سمجھتا ہوں) کہ اگر میرے لیے تمام روئے زمین سونے کی ہو جائے، تو میں اسے آج کے دن موت کی ہولناکی کے مقابلے میں فدیے کے طور پر دے دوں، میں نے چھ آدمیوں کی مجلس شوریٰ قائم کر دی ہے: عثمان، علی بن ابوطالب، طلحہ بن عبیداللہ، زبیر بن عوام، عبدالرحمن بن عوف اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہم۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو ان حضرات کے ساتھ مشیر کے طور پر مقرر کیا لیکن ان کا حصہ نہیں بنایا، آپ نے ان حضرات کو تین دن کی مہلت دی (وہ تین دن کے اندر اپنے میں سے کسی کو خلیفہ منتخب کر لیں)۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ کو یہ ہدایت کی کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھاتے رہیں، اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کی رضامندی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پر نازل ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6905]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6905، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 4538، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6921، 16114، وأحمد فى (مسنده) برقم: 131، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 2731، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 3901» «رقم طبعة با وزير 6866»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر التعليق المتقدم. * [أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى] قال الشيخ: هو أبو يعلى الموصلي، صاحب «المسند»، والحديث فيه (5/ 116 / 2731). وسنده صحيح على شرط مسلم. ورواه الحاكم (3/ 91) من طريق أخرى عن جعفر بن سليمان؛ إلى قول عمر: فقد قتلت.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح
52. ذكر عثمان بن عفان الأموي رضي الله عنه-
- ذکر عثمان بن عفان اموی رضی اللہ عنہ
حدیث نمبر: 6906
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتِ: اسْتَأْذَنَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ فِي مِرْطٍ وَاحِدٍ، فَأَذِنَ لَهُ، فَقَضَى إِِلَيْهِ حَاجَتَهُ وَهُوَ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ فِي الْمِرْطِ، ثُمَّ خَرَجَ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عَلَيْهِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَأَذِنَ لَهُ فَقَضَى إِِلَيْهِ حَاجَتَهُ، وَأَنَا عَلَى تِلْكَ الْحَالِ فِي الْمِرْطِ، ثُمَّ خَرَجَ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عَلَيْهِ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَأَصْلَحَ عَلَيْهِ ثِيَابَهُ، وَجَلَسَ، فَقَضَى إِِلَيْهِ حَاجَتَهُ، ثُمَّ خَرَجَ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اسْتَأْذَنَ عَلَيْكَ أَبُو بَكْرٍ فَقَضَى إِِلَيْكَ حَاجَتَهُ وَأَنْتَ عَلَى حَالِكَ تِلْكَ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عَلَيْكَ عُمَرُ فَقَضَى إِِلَيْكَ حَاجَتَهُ وَأَنْتَ عَلَى ذَلِكَ الْحَالِ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عَلَيْكَ عُثْمَانُ، فَأَصْلَحْتَ ثِيَابَكَ وَاحْتَفَظْتَ، فَقَالَ: يَا عَائِشَةُ،" إِِنَّ عُثْمَانَ رَجُلٌ حَيِيٌّ، وَلَوْ أَذِنْتُ لَهُ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ، خَشِيتُ أَنْ لا يَقْضِيَ إِِلَيَّ حَاجَتَهُ" .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں اندر آنے کی اجازت مانگی، میں اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک ہی چادر میں تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی ضرورت کو پورا کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی حالت میں چادر کے اندر ہی رہے، پھر وہ تشریف لے گئے، پھر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں اندر آنے کی اجازت مانگی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی ضرورت کو پورا کیا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی حالت میں چادر میں تشریف فرما رہے، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ چلے گئے، پھر سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں اندر آنے کی اجازت مانگی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کپڑے ٹھیک کیے اور سیدھے ہو کر بیٹھ گئے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی ضرورت پوری کی، پھر وہ تشریف لے گئے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں اندر آنے کی اجازت مانگی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی ضرورت کو پورا کیا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی حالت میں رہے، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں اندر آنے کی اجازت مانگی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی ضرورت کو پورا کیا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی حالت میں رہے، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں اندر آنے کی اجازت مانگی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کپڑے ٹھیک کیے اور سیدھے ہو کر بیٹھ گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عائشہ! عثمان ایک شرم والا شخص ہے، اگر میں اسے اسی حالت میں اجازت دے دیتا تو مجھے اندیشہ تھا کہ وہ اپنی حاجت میرے سامنے بیان نہ کرتا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6906]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2401، 2402، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6906، 6907، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3292، وأحمد فى (مسنده) برقم: 521» «رقم طبعة با وزير 6867»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (1687): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح
53. ذكر تعظيم المصطفى صلى الله عليه وسلم عثمان إذ الملائكة كانت تعظمه-
- ذکر کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمان کی تعظیم کی کیونکہ فرشتوں نے ان کی تعظیم کی
حدیث نمبر: 6907
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ إِِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ السَّكُونِيُّ ، حَدَّثَنَا إِِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي حَرْمَلَةَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، وَأَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُضْطَجِعًا فِي بَيْتِهِ كَاشِفًا عَنْ فَخِذَيْهِ، فَاسْتَأْذَنَ أَبُو بَكْرٍ فَأَذِنَ لَهُ وَهُوَ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ، فَتَحَدَّثَ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُمَرُ فَأَذِنَ لَهُ، وَهُوَ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ، فَتَحَدَّثَ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُثْمَانُ، فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَوَّى ثِيَابَهُ، فَدَخَلَ فَتَحَدَّثَ، فَلَمَّا خَرَجَ، قَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، دَخَلَ أَبُو بَكْرٍ، فَلَمْ تَهَشَّ لَهُ وَلَمْ تُبَالِ بِهِ، ثُمَّ دَخَلَ عُمَرُ، فَلَمْ تَهَشَّ لَهُ وَلَمْ تُبَالِ بِهِ، ثُمَّ دَخَلَ عُثْمَانُ، فَجَلَسْتَ فَسَوَّيْتَ ثِيَابَكَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلا أَسْتَحِي مِنْ رَجُلٍ تَسْتَحِي مِنْهُ الْمَلائِكَةُ" .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں زانوں سے کپڑا ہٹا کر لیٹے ہوئے تھے، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اندر آنے کی اجازت مانگی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی حالت میں رہے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بات چیت کرتے رہے، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اندر آنے کی اجازت مانگی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھی اجازت عطا کر دی لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی حالت میں رہے اور وہ بات چیت کرتے رہے، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اندر آنے کی اجازت مانگی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کپڑے ٹھیک کر لیے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اندر آئے اور وہ بات چیت کرتے رہے، جب وہ چلے گئے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے دریافت کیا: یا رسول اللہ! پہلے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے حرکت نہیں کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی کوئی خاص پرواہ نہیں کی، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے بھی حرکت نہیں کی اور ان کی بھی کوئی خاص پرواہ نہیں کی، پھر جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اندر آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کپڑے بھی ٹھیک کیے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ایک ایسے شخص سے حیا کیوں نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6907]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2401، 2402، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6906، 6907، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3292، وأحمد فى (مسنده) برقم: 521» «رقم طبعة با وزير 6868»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» -أيضا-: م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
54. ذكر إثبات الشهادة لعثمان بن عفان رضوان الله عليه وقد فعل-
- ذکر عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے لیے شہادت کی تصدیق، اور یہ ہوا
حدیث نمبر: 6908
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، حَدَّثَهُمْ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَعِدَ أُحُدًا، فَتَبِعَهُ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ، فَرَجَفَ بِهِمْ، فَقَالَ: " اثْبُتْ، نَبِيٌّ، وَصِدِّيقٌ، وَشَهِيدَانِ" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم احد پہاڑ پر چڑھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہم بھی چڑھے، تو وہ احد حرکت کرنے لگا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ٹھہرے رہو (تمہارے اوپر) ایک نبی، ایک صدیق اور دو شہید موجود ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6908]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3675، 3686، 3699، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6865، 6908، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 8079، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4651، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3697، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12289» «رقم طبعة با وزير 6869»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: خ - تقدم (6826). تنبيه!! رقم (6826) = (6865) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري
55. ذكر بيعة المصطفى صلى الله عليه وسلم عثمان بن عفان في بيعة الرضوان بضربه صلى الله عليه وسلم إحدى يديه على الأخرى عنه-
- ذکر کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعت رضوان میں عثمان بن عفان کے لیے اپنا ایک ہاتھ دوسرے پر مار کر بیعت کی
حدیث نمبر: 6909
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ كُلَيْبِ بْنِ وَائِلٍ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ ابْنَ عُمَرَ عَنْ عُثْمَانَ، أَشَهِدَ بَدْرًا؟ فَقَالَ: لا، فَقَالَ: أَشَهِدَ بَيْعَةَ الرِّضْوَانِ؟ فَقَالَ: لا، قَالَ: كَانَ فِيمَنْ تَوَلَّى يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ الرَّجُلُ: اللَّهُ أَكْبَرُ، ثُمَّ انْصَرَفَ، فَقِيلَ لابْنِ عُمَرَ: مَا صَنَعْتَ؟ يَنْطَلِقُ هَذَا فَيُخْبِرُ النَّاسَ أَنَّكَ تَنَقَّصْتَ عُثْمَانَ، قَالَ: رُدُّوهُ عَلَيَّ، فَلَمَّا جَاءَ، قَالَ: تَحْفَظُ مَا سَأَلْتَنِي عَنْهُ؟ فَقَالَ: " سَأَلْتُكَ عَنْ عُثْمَانَ، أَشَهِدَ بَدْرًا؟ فَقُلْتَ: لا، قَالَ: فَإِِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ يَوْمَ بَدْرٍ فِي حَاجَةٍ لَهُ، وَضَرَبَ لَهُ بِسَهْمٍ، وَقَالَ: وَسَأَلْتُكَ: أَشَهِدَ بَيْعَةَ الرِّضْوَانِ؟ فَقُلْتَ: لا، قَالَ: إِِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ فِي حَاجَةٍ لَهُ، ثُمَّ ضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى يَدِهِ، أَيَّتُهُمَا خَيْرٌ: يَدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ يَدُ عُثْمَانَ؟ قَالَ: وَسَأَلْتُكَ: هَلْ كَانَ فِيمَنْ تَوَلَّى يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ؟ فَقُلْتَ: نَعَمْ، قَالَ: فَإِِنَّ اللَّهَ يَقُولُ: إِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّيْطَانُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُوا وَلَقَدْ عَفَا اللَّهُ عَنْهُمْ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ حَلِيمٌ سورة آل عمران آية 155، اذْهَبْ فَاجْهَدْ عَلَى جَهْدِكَ" .
حبیب بن ابوملیکہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے بارے میں دریافت کیا کہ کیا وہ غزوہ بدر میں شریک ہوئے تھے؟ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے جواب دیا: جی نہیں۔ اس نے دریافت کیا: کیا وہ بیعت رضوان میں شریک ہوئے تھے؟ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے جواب دیا: جی نہیں۔ انہوں نے دریافت کیا کہ کیا وہ ان لوگوں میں شامل تھے جو اس دن پیچھے ہٹ گئے تھے جب دو گروہ ایک دوسرے کے آمنے سامنے آئے تھے؟ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے جواب دیا: جی ہاں۔ اس شخص نے کہا: «اللهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“، پھر وہ شخص چلا گیا۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا گیا: یہ آپ نے کیا کیا؟ اب یہ شخص جائے گا اور لوگوں کو بتائے گا کہ آپ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی تنقیص کرتے ہیں، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اسے میرے پاس بلا کر لاؤ۔ جب وہ شخص آیا، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: تم نے جس چیز کے بارے میں مجھ سے دریافت کیا تھا، تمہیں وہ بات یاد ہے؟ اس نے جواب دیا: جی ہاں، میں نے آپ سے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے بارے میں دریافت کیا تھا کہ کیا وہ غزوہ بدر میں شریک ہوئے تھے، تو آپ نے جواب دیا کہ جی نہیں، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ بدر کے موقع پر سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو اپنے کسی کام سے بھیجا تھا اور سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے لیے (غزوہ بدر کے مال غنیمت میں) حصہ مقرر کیا تھا، اس شخص نے کہا: میں نے آپ سے یہ سوال کیا تھا کہ کیا وہ بیعت رضوان میں شریک ہوئے تھے، تو آپ نے جواب دیا کہ جی نہیں، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے ذاتی کام کے سلسلے میں بھیجا تھا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ پر رکھ کر (سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف سے بیعت کی تھی)، تو یہ بتاؤ کہ کون سا ہاتھ زیادہ بہتر تھا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ یا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا ہاتھ؟ اس شخص نے کہا: میں نے آپ سے دریافت کیا تھا کہ کیا وہ اس دن پیچھے ہٹنے والوں میں شامل تھے جب دو گروہ ایک دوسرے کے مدمقابل آئے تھے، تو آپ نے جواب دیا کہ جی ہاں، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے: ﴿إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ إِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّيْطَانُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُوا ۖ وَلَقَدْ عَفَا اللَّهُ عَنْهُمْ ۗ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ حَلِيمٌ﴾ ﴿انہوں نے جو کچھ کیا تھا اس میں سے کسی چیز کے عوض میں شیطان نے انہیں پھسلا دیا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے ان سے درگزر کیا بے شک اللہ تعالیٰ مغفرت کرنے والا اور بردبار ہے۔﴾ [سورة آل عمران: 155] (پھر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس شخص سے فرمایا): اب تم جاؤ اور اپنی طرف سے پوری کوشش کر لو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6909]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3130، 3698، 4066، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6909، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 4564، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2726، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3706، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 12839، وأحمد فى (مسنده) برقم: 5876» «رقم طبعة با وزير 6870»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (2437).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
56. ذكر أمر المصطفى صلى الله عليه وسلم أن يبشر عثمان بن عفان بالجنة-
- ذکر کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمان بن عفان کو جنت کی بشارت دینے کا حکم دیا
حدیث نمبر: 6910
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا إِِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي حَائِطٍ وَأَنَا مَعَهُ، فَجَاءَ رَجُلٌ فَاسْتَفْتَحَ، فَقَالَ: " افْتَحْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ"، فَإِِذَا هُوَ أَبُو بَكْرٍ، ثُمَّ جَاءَ آخَرُ فَاسْتَفْتَحَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" افْتَحْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ"، فَإِِذَا هُوَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، ثُمَّ جَاءَ آخَرُ فَاسْتَفْتَحَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" افْتَحْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ"، فَإِِذَا هُوَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ .
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک باغ میں موجود تھے، میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، اسی دوران ایک شخص آیا، اس نے دروازہ کھولنے کے لیے کہا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے لیے دروازہ کھول دو اور اسے جنت کی خوشخبری دے دو۔“ تو وہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تھے، پھر ایک اور شخص آیا، اس نے دروازہ کھولنے کے لیے کہا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے لیے دروازہ کھول دو اور اسے جنت کی خوشخبری دے دو۔“ تو وہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تھے، پھر ایک اور شخص آیا اور اس نے دروازہ کھولنے کے لیے کہا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے لیے دروازہ کھول دو اور اسے جنت کی خوشخبری دے دو۔“ تو وہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6910]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3674، 3693، 3695، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2403، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6910، 6911، 6912، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 8076، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3710، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19818» «رقم طبعة با وزير 6871»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح الأدب المفرد» (758): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
57. ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن بشرى عثمان بن عفان بالجنة كان ذلك في الوقت الذي قال ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم قبل أن يلي الخلافة وكان منه ما كان-
- ذکر خبر جو اس دعوے کو رد کرتی ہے کہ عثمان بن عفان کی جنت کی بشارت اس وقت دی گئی جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہا، اس سے پہلے کہ وہ خلافت سنبھالیں اور جو کچھ ہوا
حدیث نمبر: 6911
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُكْرَمِ بْنِ خَالِدٍ الْبَرْتِيُّ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنِي أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِي: احْفَظِ الْبَابَ، فَجَاءَ رَجُلٌ يَسْتَأْذِنُ، فَقَالَ: " ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ"، فَإِِذَا أَبُو بَكْرٍ، ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ يَسْتَأْذِنُ، فَقَالَ:" ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ"، فَإِِذَا عُمَرُ، ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ يَسْتَأْذِنُ، قَالَ: فَسَكَتَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ:" ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ عَلَى بَلْوًى شَدِيدَةٍ تُصِيبُهُ"، فَإِِذَا عُثْمَانُ .
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”دروازے کا دھیان رکھنا۔“ پھر ایک شخص آیا، اس نے اندر آنے کی اجازت مانگی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے اجازت دے دو اور اسے جنت کی خوشخبری دے دو۔“ تو وہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تھے۔ پھر ایک اور شخص آیا، اس نے اندر آنے کی اجازت مانگی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے اجازت دے دو اور اسے جنت کی خوشخبری دے دو۔“ وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تھے۔ پھر ایک اور شخص آیا، اس نے اندر آنے کی اجازت مانگی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے اجازت دے دو، اسے جنت کی خوشخبری دے دو اور ساتھ اسے ایک شدید آزمائش کا شکار ہونا پڑے گا جو اسے لاحق ہوگی۔“ تو وہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6911]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3674، 3693، 3695، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2403، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6910، 6911، 6912، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 8076، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3710، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19818» «رقم طبعة با وزير 6872»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما قبله: ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري
58. ذكر سؤال عثمان بن عفان الصبر على ما أوعد من البلوي التي تصيبه-
- ذکر عثمان بن عفان کا اس آزمائش پر صبر مانگنا جو ان پر آئے گی
حدیث نمبر: 6912
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ غِيَاثٍ الرَّاسِبِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ النَّهْدِيُّ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ ، عَن رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ كَانَ مُتَّكِئًا فِي حَائِطٍ مِنْ حِيطَانِ الْمَدِينَةِ، وَهُوَ يَقُولُ بِعُودٍ فِي الْمَاءِ وَالطِّينِ يَنْكُتُ بِهِ، فَجَاءَ رَجُلٌ فَاسْتَفْتَحَ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " افْتَحْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ"، فَإِِذَا هُوَ أَبُو بَكْرٍ، فَفَتَحْتُ لَهُ وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ، ثُمَّ اسْتَفْتَحَ آخَرُ، فَقَالَ:" افْتَحْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ"، فَإِِذَا هُوَ عُمَرُ، فَفَتَحْتُ لَهُ وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ، ثُمَّ اسْتَفْتَحَ آخَرُ فَجَلَسَ سَاعَةً، ثُمَّ قَالَ:" افْتَحْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ عَلَى بَلْوًى"، قَالَ: فَفَتَحْتُ لَهُ، فَإِِذَا هُوَ عُثْمَانُ ، فَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ وَقُلْتُ لَهُ الَّذِي قَالَ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ صَبْرًا، أَوْ قَالَ: اللَّهُ الْمُسْتَعَانُ.
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ کے ایک باغ میں ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک چھڑی کے ذریعے پانی اور مٹی کرید رہے تھے، اسی دوران ایک شخص آیا، اس نے دروازہ کھولنے کے لیے کہا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے لیے کھول دو اور اسے جنت کی خوشخبری دے دو۔“ تو وہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے، میں نے ان کے لیے دروازہ کھولا اور انہیں جنت کی خوشخبری دی، پھر ایک اور شخص نے دروازہ کھولنے کے لیے کہا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے لیے دروازہ کھول دو اور اسے جنت کی خوشخبری دے دو۔“ تو وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تھے، میں نے ان کے لیے دروازہ کھول دیا اور انہیں جنت کی خوشخبری دی، پھر ایک اور شخص نے دروازہ کھولنے کے لیے کہا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ دیر کے لیے بیٹھے رہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس کے لیے دروازہ کھول دو اور اسے جنت کی خوشخبری دے دو، لیکن اسے ایک آزمائش کا سامنا کرنا پڑے گا۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے ان کے لیے دروازہ کھول دیا تو وہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ تھے، میں نے انہیں جنت کی خوشخبری دی اور انہیں وہ بات بیان کی جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمائی تھی، تو انہوں نے کہا: اے اللہ! (میں تجھ سے) صبر کا سوال کرتا ہوں، (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) «اللَّهُ الْمُسْتَعَانُ» ”اللہ تعالیٰ سے ہی مدد حاصل کی جا سکتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6912]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3674، 3693، 3695، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2403، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6910، 6911، 6912، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 8076، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3710، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19818» «رقم طبعة با وزير 6873»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما قبله: ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
59. ذكر الخبر الدال على أن الخليفة بعد عمر بن الخطاب عثمان بن عفان رضي الله عنهما-
- ذکر خبر جو اس بات کی دلیل ہے کہ عمر بن خطاب کے بعد خلیفہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہما تھے
حدیث نمبر: 6913
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلاعِيُّ بِحِمْصَ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى ، قَالا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ كَانَ يُحَدِّثُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِِنِّي أُرِيتُ اللَّيْلَةَ رَجُلٌ صَالِحٌ: أَنَّ أَبَا بَكْرٍ نِيطَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنِيطَ عُمَرُ بِأَبِي بَكْرٍ، وَنِيطَ عُثْمَانُ بِعُمَرَ" ، قَالَ جَابِرٌ: فَلَمَّا قُمْنَا مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْنَا: أَمَّا الرَّجُلُ الصَّالِحُ فَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَمَّا مَا ذَكَرَ مِنْ نَوْطِ بَعْضِهِمْ بِبَعْضٍ، فَهُمْ وُلاةُ هَذَا الأَمْرِ الَّذِي بَعَثَ اللَّهُ بِهِ نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”گزشتہ رات (خواب میں) مجھے ایک نیک شخص دکھایا گیا، یہ کہ ابوبکر اللہ کے رسول کے ساتھ ہے اور عمر ابوبکر کے ساتھ ہے اور عثمان عمر کے ساتھ ہے۔“ سیدنا جابر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جب ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے اٹھ گئے تو ہم نے کہا: نیک آدمی سے مراد تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہوں گے، لیکن جہاں تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کا ذکر کیا ہے کہ ان میں سے ایک دوسرے کے ساتھ تھا تو یہ حکومت کا معاملہ ہوگا جس کے ہمراہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو مبعوث کیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6913]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6913، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 4465، 4577، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4636، وأحمد فى (مسنده) برقم: 15049، والطحاوي فى (شرح مشكل الآثار) برقم: 3347» «رقم طبعة با وزير 6874»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - «الظلال» (2/ 537 / 1134).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
Null