🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
80. ذكر وصف ما كان يقاتل عليه علي بن أبي طالب رضي الله عنه قدام المصطفى صلى الله عليه وسلم-
- ذکر وصف کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کس چیز کے لیے لڑتے تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6934
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا إِِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ يَوْمَ خَيْبَرَ: " لأَدْفَعَنَّ الْيَوْمَ اللِّوَاءَ إِِلَى رَجُلٍ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَيْهِ، قَالَ عُمَرُ: فَمَا أَحْبَبْتُ الإِِمَارَةَ إِِلا يَوْمَئِذٍ، فَتَطَاوَلْتُ لَهَا، فَقَالَ لِعَلِيٍّ: قُمْ، فَدَفَعَ اللِّوَاءَ إِِلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ لَهُ: اذْهَبْ وَلا تَلْتَفِتْ حَتَّى يَفْتَحَ اللَّهُ عَلَيْكَ، فَمَشَى هُنَيْهَةً، ثُمَّ قَامَ وَلَمْ يَلْتَفِتْ لِلْعَزْمَةِ، فَقَالَ: عَلَى مَا أُقَاتِلُ النَّاسَ؟ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَاتِلْهُمْ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لا إِِلَهَ إِِلا اللَّهُ، فَإِِذَا قَالُوهَا فَقَدْ عَصَمُوا دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِِلا بِحَقِّهَا، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ غزوہ خیبر کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: آج میں جھنڈا ایسے شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے فتح نصیب کرے گا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے صرف اسی دن امیر بننے کی خواہش کی، میں اس کے لیے منتظر رہا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تم اٹھو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ جھنڈا ان کے سپرد کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم جاؤ اور ادھر ادھر متوجہ نہ ہونا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ تمہیں فتح نصیب کر دے۔ وہ تھوڑی ہی دور گئے تھے پھر ٹھہر گئے، انہوں نے ادھر ادھر نہیں دیکھا اور دریافت کیا: میں کس بنیاد پر لوگوں کے ساتھ لڑائی کروں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ان کے ساتھ لڑائی کرو، یہاں تک کہ وہ اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، جب وہ یہ کلمہ پڑھ لیں گے تو وہ اپنی جانوں اور اپنے مالوں کو محفوظ کر لیں گے، البتہ ان کے حق کا معاملہ مختلف ہے ان کا حساب اللہ کے ذمے ہو گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6934]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2405، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6933، 6934، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 8095، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 2474، وأحمد فى (مسنده) برقم: 9112» «رقم طبعة با وزير 6895»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (407/ 12): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
81. ذكر إثبات محبة الله جل وعلا ورسوله صلى الله عليه وسلم علي بن أبي طالب رضي الله عنه وقد فعل-
- ذکر کہ اللہ جل وعلا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے محبت کی تصدیق، اور یہ ہوا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6935
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا إِِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ ، عَنْ أبيه ، قَالَ: خَرَجْنَا إِِلَى خَيْبَرَ، وَكَانَ عَمِّي عَامِرٌ يَرْتَجِزُ بِالْقَوْمِ، وَهُوَ يَقُولُ: وَاللَّهِ لَوْلا اللَّهُ مَا اهْتَدَيْنَا وَلا تَصَدَّقْنَا وَلا صَلَّيْنَا وَنَحْنُ عَنْ فَضْلِكَ مَا اسْتَغْنَيْنَا فَثَبِّتِ الأَقْدَامَ إِِنْ لاقَيْنَا وَأَنْزِلَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ هَذَا؟ قَالُوا: عَامِرٌ، قَالَ: غَفَرَ لَكَ رَبُّكَ يَا عَامِرُ، وَمَا اسْتَغْفَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرَجُلٍ خَصَّهُ إِِلا اسْتُشْهِدَ، قَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ مَتَّعْتَنَا بِعَامِرٍ، فَلَمَّا قَدِمْنَا خَيْبَرَ، خَرَجَ مَرْحَبٌ يَخْطِرُ بِسَيْفِهِ وَهُوَ مَلِكُهُمْ، وَهُوَ يَقُولُ: قَدْ عَلِمَتْ خَيْبَرُ أَنِّي مَرْحَبُ شَاكِي السِّلاحِ بَطَلٌ مُجَرَّبُ إِِذَا الْحُرُوبُ أَقْبَلَتْ تَلَهَّبُ فَنَزَلَ عَامِرٌ، فَقَالَ: قَدْ عَلِمَتْ خَيْبَرُ أَنِّي عَامِرُ شَاكِي السِّلاحِ بَطَلٌ مُغَامِرُ فَاخْتَلَفَا ضَرْبَتَيْنِ، فَوَقَعَ سَيْفُ مَرْحَبٍ فِي فَرَسِ عَامِرٍ فَذَهَبَ لِيَسْفُلَ لَهُ فَرَجَعَ سَيْفُهُ عَلَى نَفْسِهِ، فَقَطَعَ أَكْحَلَهُ، فَكَانَتْ مِنْهَا نَفْسُهُ، وَإِِذَا نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُونَ: بَطَلَ عَمَلُ عَامِرٍ، قَتَلَ نَفْسَهُ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بَطَلَ عَمَلُ عَامِرٍ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ قَالَ هَذَا؟ قَالَ: قُلْتُ: نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِكَ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بَلْ لَهُ أَجْرُهُ مَرَّتَيْنِ، ثُمَّ أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِِلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ أَرْمَدُ، فَقَالَ:" لأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ الْيَوْمَ رَجُلا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، وَيُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ"، فَجِئْتُ بِهِ أَقُودُهُ وَهُوَ أَرْمَدُ، حَتَّى أَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَصَقَ فِي عَيْنِهِ فَبَرَأَ، وَأَعْطَاهُ الرَّايَةَ وَخَرَجَ مَرْحَبٌ، فَقَالَ: قَدْ عَلِمَتْ خَيْبَرُ أَنِّي مَرْحَبُ شَاكِي السِّلاحِ بَطَلٌ مُجَرَّبُ إِِذَا الْحُرُوبُ أَقْبَلَتْ تَلَهَّبُ فَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ: أَنَا الَّذِي سَمَّتْنِي أُمِّي حَيْدَرَهْ كَلَيْثِ غَابَاتٍ كَرِيهِ الْمَنْظَرَةْ أُوفِيهِمْ بِالصَّاعِ كَيْلَ السَّنْدَرَةْ قَالَ: فَضَرَبَهُ، فَفَلَقَ رَأْسَ مَرْحَبٍ فَقَتَلَهُ ، وَكَانَ الْفَتْحُ عَلَى يَدَيْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: هَكَذَا أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ: فِي فَرَسِ عَامِرٍ، وَإِِنَّمَا هُوَ فِي تُرْسِ عَامِرٍ.
ایاس بن سلمہ بن اکوع اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ہم لوگ خیبر کی طرف روانہ ہوئے، میرے چچا سیدنا عامر رضی اللہ عنہ ان لوگوں کو رجز پڑھ کر سنا رہے تھے، وہ یہ پڑھ رہے تھے: «وَاللَّهِ لَوْلَا اللَّهُ مَا اهْتَدَيْنَا، وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا، وَإِنَّا لَا نَسْتَغْنِي عَنْ فَضْلِكَ، فَثَبِّتِ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَيْنَا، وَأَنْزِلِ السَّكِينَةَ عَلَيْنَا» اللہ کی قسم! اگر اللہ تعالیٰ نہ ہوتا تو ہم ہدایت حاصل نہ کرتے، ہم صدقہ نہ کرتے اور ہم نماز نہ پڑھتے اور ہم تیرے فضل سے بے نیاز نہیں ہو سکتے، جب ہمارا (دشمن سے) سامنا ہو تو ہمیں ثابت قدم رکھنا اور ہم پر سکینت نازل کرنا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: یہ کون شخص ہے؟ لوگوں نے بتایا: یہ عامر ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عامر! تمہارا پروردگار تمہاری مغفرت کرے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی بطور خاص کسی شخص کے لیے دعائے مغفرت کرتے تھے تو وہ شخص شہید ہو جاتا تھا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں عامر کے ذریعے نفع حاصل کرنے دیتے (یعنی ان کے زندہ رہنے کی دعا دیتے) تو بہتر تھا۔ (راوی کہتے ہیں:) جب ہم خیبر آ گئے تو مرحب اپنی تلوار لہراتا ہوا نکلا، وہ ان کا بادشاہ تھا، وہ یہ کہہ رہا تھا: «قَدْ عَلِمَتْ خَيْبَرُ أَنِّي مَرْحَبُ، شَاكِي السِّلَاحِ بَطَلٌ مُجَرَّبُ، إِذَا الْحُرُوبُ أَقْبَلَتْ تَلَهَّبُ» خیبر یہ بات جانتا ہے کہ میں مرحب ہوں، میں ہتھیار لہراتا ہوں اور تجربہ کار بہادر ہوں، اس وقت جب جنگ بھڑک اٹھتی ہے۔ تو سیدنا عامر رضی اللہ عنہ میدان میں اترے اور انہوں نے کہا: «قَدْ عَلِمَتْ خَيْبَرُ أَنِّي عَامِرُ، شَاكِي السِّلَاحِ بَطَلٌ مُغَامِرُ» خیبر یہ بات جانتا ہے کہ میں عامر ہوں، میں ہتھیار اٹھائے ہوئے تجربہ کار بہادر ہوں۔ ان دونوں نے ایک دوسرے پر حملہ کیا، تو مرحب کی تلوار سیدنا عامر رضی اللہ عنہ کے گھوڑے کو لگی، پھر وہ بے قابو ہوئے تو ان کی تلوار پلٹ کر انہیں ہی لگ گئی، اس تلوار نے ان کی رگ کو کاٹ دیا، اسی وجہ سے ان کا انتقال ہو گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے یہ کہا: عامر کا عمل باطل ہو گیا، کیونکہ اس نے خودکشی کی ہے؛ میں روتا ہوا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! سیدنا عامر رضی اللہ عنہ کا عمل باطل ہو گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: کس نے یہ کہا ہے؟ میں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے کچھ لوگ کہہ رہے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں! بلکہ اسے دو مرتبہ اجر ملے گا۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی طرف بھیجا، میں ان کے پاس آیا تو ان کی آنکھیں دکھ رہی تھیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آج میں جھنڈا اس شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے اور اللہ اور اس کے رسول اس سے محبت رکھتے ہیں۔ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر ساتھ لایا، ان کی آنکھیں دکھ رہی تھیں، میں انہیں لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا لعابِ دہن انہیں لگایا تو وہ ٹھیک ہو گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جھنڈا عطا کیا، پھر مرحب نکلا اور پھر اس نے یہی شعر پڑھے: «قَدْ عَلِمَتْ خَيْبَرُ أَنِّي مَرْحَبُ، شَاكِي السِّلَاحِ بَطَلٌ مُجَرَّبُ، إِذَا الْحُرُوبُ أَقْبَلَتْ تَلَهَّبُ» خیبر یہ بات جانتا ہے کہ میں مرحب ہوں، ہتھیار لہرائے ہوئے ہوں اور تجربہ کار جنگجو ہوں، اس وقت جب جنگ کی بھٹی بھڑک اٹھتی ہے۔ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: «أَنَا الَّذِي سَمَّتْنِي أُمِّي حَيْدَرَهْ، كَلَيْثِ غَابَاتٍ كَرِيهِ الْمَنْظَرَهْ، أُوفِيهِمُ بِالصَّاعِ كَيْلَ السَّنْدَرَهْ» میں وہ شخص ہوں جس کی ماں نے اس کا نام حیدر رکھا ہے، جو جنگل کے شیر کی طرح ہے، جسے دیکھنے سے ڈر لگتا ہے، میں سندرہ (یعنی ماپنے کے بڑے برتن) کے ذریعے ماپ کر پورا صاع دیتا ہوں (یعنی دشمنوں کو بڑی تیزی سے قتل کر دیتا ہوں)۔ راوی کہتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس پر وار کر کے مرحب کا سر چیر کر اسے مار دیا، تو فتح سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں نصیب ہوئی۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابوخلیفہ نے یہ الفاظ اسی طرح نقل کیے ہیں کہ سیدنا عامر رضی اللہ عنہ کے گھوڑے پر وار کیا، حالانکہ اصل یہ ہے کہ سیدنا عامر رضی اللہ عنہ کی ڈھال پر وار کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6935]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2477، 2960، 2975، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1802، وابن الجارود فى "المنتقى"، 1153، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3196، 4529، 5276، 6935، 7173، 7175، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 4362، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2538، 2752، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1592، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3195، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 11669، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16766» «رقم طبعة با وزير 6896»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح - «فقه السيرة» (343): م، وهذ تمام الحديث الآتي (7129). تنبيه!! رقم (7129) = (7173) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
82. ذكر وصف خروج علي بن أبي طالب رضي الله عنه برايته إلى أعداء الله الكفرة-
- ذکر وصف کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا اپنے پرچم کے ساتھ اللہ کے کافر دشمنوں کی طرف نکلنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6936
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ إِِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي إِِسْحَاقَ ، عَنْ هُبَيْرَةَ بْنِ يَرِيمَ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ قَامَ، فَخَطَبَ النَّاسَ، فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، " لَقَدْ فَارَقَكُمْ أَمْسِ رَجُلٌ مَا سَبَقَهُ الْأَوَّلُونََ وَلا يُدْرِكُهُ الآخِرُونَ، لَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْعَثُهُ الْمَبْعَثَ، فَيُعْطِيهِ الرَّايَةَ، فَمَا يَرْجِعُ حَتَّى يَفْتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ، جِبْرِيلُ عَنْ يَمِينِهِ، وَمِيكَائِيلُ عَنْ شِمَالِهِ، مَا تَرَكَ بَيْضَاءَ وَلا صَفْرَاءَ إِِلا سَبْعَ مِائَةِ دِرْهَمٍ فَضَلَتْ مِنْ عَطَائِهِ، أَرَادَ أَنْ يَشْتَرِيَ بِهَا خَادِمًا" .
ہبیرہ بن یریم بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو سنا، وہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا (یہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے یوم شہادت سے اگلے دن کی بات ہے): اے لوگو! کل تم سے ایک ایسا شخص جدا ہو گیا جس سے کوئی سبقت نہیں لے جا سکا اور بعد والے اس تک پہنچ بھی نہیں سکتے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مہم پر روانہ کیا اور انہیں جھنڈا عطا کیا، تو وہ اس وقت تک واپس نہیں آئے جب تک اللہ تعالیٰ نے انہیں فتح نصیب نہیں کر دی، جبرائیل ان کے دائیں طرف تھے اور میکائیل ان کے بائیں طرف تھے، انہوں نے سفید اور زرد (یعنی سونے اور چاندی) میں سے کچھ نہیں چھوڑا صرف سات سو درہم ہیں جو ان کی تنخواہ میں سے بچ گئے تھے اور ان کا ارادہ یہ تھا کہ وہ اس کے ذریعے کوئی خادم خرید لیں گے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6936]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6936، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 4713، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 8354، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1741» «رقم طبعة با وزير 6897»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (2496).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
رجاله ثقات رجال الشيخين غير هبيرة بن يريم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
83. ذكر قتال علي بن أبي طالب رضي الله عنه على تأويل القرآن كقتال المصطفى صلى الله عليه وسلم على تنزيله-
- ذکر کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا قرآن کی تاویل پر لڑنا جیسے مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے نزول پر لڑتے تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6937
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِِنَّ مِنْكُمْ مَنْ يُقَاتِلُ عَلَى تَأْوِيلِ الْقُرْآنِ، كَمَا قَاتَلْتُ عَلَى تَنْزِيلِهِ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: لا، قَالَ عُمَرُ: أَنَا هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: لا، وَلَكِنْ خَاصِفُ النَّعْلِ، قَالَ: وَكَانَ أَعْطَى عَلِيًّا نَعْلَهُ يَخْصِفُهُ" .
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: تم میں سے ایک شخص ایسا ہے جو قرآن کی تفسیر کے لیے لڑے گا، جس طرح میں نے اس کے نازل ہونے کی بنیاد پر لڑائی کی تھی۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! وہ میں ہوں گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! وہ میں ہوں گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں، بلکہ وہ جوتے کو گانٹھنے والا ہو گا۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اپنا جوتا دیا تھا تاکہ وہ اسے گانٹھ دیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6937]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6937، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 4647، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 8488، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11430» «رقم طبعة با وزير 6898»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (2487).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
84. ذكر وصف القوم الذين قاتلهم علي بن أبي طالب رضي الله عنه على تأويل القرآن-
- ذکر وصف کہ ان لوگوں کی جن سے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے قرآن کی تاویل پر لڑا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6938
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ الْمَرْوَزِيُّ بِالْبَصْرَةِ، حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ ، وَأَبِي عَمْرِو بْنِ الْعَلاءِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيِّ ، قَالَ: ذَكَرَ عَلِيٌّ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ الْخَوَارِجَ، فَقَالَ: " فِيهِمْ رَجُلٌ مُخْدَجُ الْيَدِ أَوْ مُودَنُ الْيَدِ، لَوْلا أَنْ تَبْطَرُوا، لأَخْبَرْتُكُمْ بِمَا وَعَدَ اللَّهُ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَنْ قَتَلَهُمْ" ، قَالَ: فَقُلْتُ لِعَلِيٍّ: أَسَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: إِِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ، إِِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ، إِِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ.
عبیدہ سلمانی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے خارجیوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ان میں ایک ایسا شخص ہو گا جس کا ایک ہاتھ چھوٹا ہو گا (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) ایک ہاتھ نامکمل ہو گا، اگر تم لوگ فخر کا اظہار نہ کرو تو میں تم لوگوں کو بتاتا ہوں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے ساتھ جنگ کرنے والوں کے لیے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی کیا وعدہ کیا ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: کیا آپ نے خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ بات سنی ہے؟ انہوں نے فرمایا: جی ہاں، ربِ کعبہ کی قسم! جی ہاں، ربِ کعبہ کی قسم! جی ہاں، ربِ کعبہ کی قسم! [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6938]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1066، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6938، 6939، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 8712، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 8509، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4763، 4768، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 167، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4010، والدارقطني فى (سننه) برقم: 3250، وأحمد فى (مسنده) برقم: 636» «رقم طبعة با وزير 6899»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الروض النضير» (699)، «ظلال الجنة» (912). [تنبيه هام!! ] ما بين المعقوفتين سقط من «طبعة المؤسسة» فوقع فيها «مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ الْمَرْوَزِيُّ» والصواب «أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ الْمَرْوَزِيُّ» والتصحيح من «طبعة باوزير». وقد روى المؤلف أكثر من حديث عن هذا الراوي بهذا الاسم، انظر ما تقدم (77 و 719 و 2087) - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
85. ذكر البيان بأن الخوارج من أبغض خلق الله جل وعلا إليه-
- ذکر بیان کہ خوارج اللہ جل وعلا کے نزدیک سب سے زیادہ مبغوض مخلوق ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6939
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ وَذَكَرَ ابْنُ سَلْمٍ آخَرَ مَعَهُ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَشَجِّ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَدَّثَهُ أَنَّ الْحَرُورِيَّةَ لَمَّا خَرَجَتْ وَهُوَ مَعَ عَلِيٍّ، فَقَالُوا: لا حُكْمَ إِِلا لِلَّهِ، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: كَلِمَةُ حَقٍّ أُرِيدَ بِهَا بَاطِلٌ، إِِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَفَ أُنَاسًا إِِنِّي لأَعْرِفُ وَصْفَهُمْ فِي هَؤُلاءِ: " يَقُولُونَ الْحَقَّ بِأَلْسِنَتِهِمْ، لا يَجُوزُ هَذَا مِنْهُمْ وَأَشَارَ إِِلَى حَلْقِهِ، مِنْ أَبْغَضِ خَلْقِ اللَّهِ إِِلَيْهِ، فِيهِمْ أَسْوَدُ إِِحْدَى يَدَيْهِ حَلَمَةُ ثَدْيٍ" ، فَلَمَّا قَتَلَهُمْ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: انْظُرُوا، فَنَظَرُوا فَلَمْ يَجِدُوا، فَقَالَ: ارْجِعُوا، فَوَاللَّهِ مَا كَذَبْتُ وَلا كُذِبْتُ، مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاثًا، ثُمَّ وَجَدُوهُ فِي خَرِبَةٍ، فَأَتَوْا بِهِ حَتَّى وَضَعُوهُ بَيْنَ يَدَيْهِ، قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: وَأَنَا حَاضِرٌ ذَلِكَ مِنْ أَمْرِهِمْ وَقَوْلِ عَلِيٍّ فِيهِمْ.
سیدنا عبیداللہ بن ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب حروریہ (یعنی خارجیوں) نے ظہور کیا تو وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے، ان لوگوں نے کہا: «لَا حُكْمَ إِلَّا لِلَّهِ» ثالث صرف اللہ تعالیٰ ہو سکتا ہے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: الفاظ حق ہیں لیکن اس کے ذریعے باطل مفہوم مراد لیا جا رہا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کا حلیہ بیان کیا تھا، میں ان لوگوں میں وہی حلیہ دیکھ رہا ہوں: یہ لوگ اپنی زبانوں کے ذریعے حق بیان کرتے ہیں (یعنی قرآن پڑھتے ہیں) لیکن وہ اس سے آگے نہیں جاتا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنے حلق کی طرف اشارہ کر کے یہ کہا: اور وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کی مخلوق کے سب سے زیادہ ناپسندیدہ لوگ ہیں، ان میں ایک سیاہ فام شخص ہے جس کا ایک ہاتھ عورت کی چھاتی کی طرح ہے، جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کو قتل کر دیا تو فرمایا: اس بات کا جائزہ لو، جب انہوں نے جائزہ لیا تو انہیں وہ شخص نہیں ملا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم لوگ واپس جاؤ، اللہ کی قسم! نہ تو میں نے غلط بیانی کی ہے اور نہ ہی میرے ساتھ غلط بیانی کی گئی ہے، یہ بات انہوں نے دو یا شاید تین مرتبہ ارشاد فرمائی، پھر ایسا شخص ان لوگوں کو ایک کھنڈر میں مل گیا، وہ لوگ اسے لے کر آئے یہاں تک کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے سامنے رکھ دیا۔ عبیداللہ نامی راوی کہتے ہیں: میں ان (خوارج) کے واقعہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ان کے بارے میں اس بیان کے وقت موجود تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6939]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1066، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6938، 6939، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 8712، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 8509، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4763، 4768، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 167، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4010، والدارقطني فى (سننه) برقم: 3250، وأحمد فى (مسنده) برقم: 636» «رقم طبعة با وزير 6900»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: م (3/ 112 - 113).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
86. ذكر دعاء المصطفى صلى الله عليه وسلم بالشفاء لعلي بن أبي طالب رضي الله عنه من علته-
- ذکر کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے لیے اس کی بیماری سے شفا کی دعا کی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6940
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، وَمُحَمَّدٌ ، قَالا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنْتُ شَاكِيًا، فَمَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَقُولُ: اللَّهُمَّ إِِنْ كَانَ أَجْلِي قَدْ حَضَرَ فَأَرِحْنِي، وَإِِنْ كَانَ مُتَأَخِّرًا فَارْفَعْنِي، وَإِِنْ كَانَ بَلاءً فَصَبِّرْنِي، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَيْفَ قُلْتَ؟ فَأَعَادَ عَلَيْهِ، قَالَ:" فَضَرَبَهُ بِرِجْلِهِ، وَقَالَ: اللَّهُمَّ عَافِهِ، أَوِ اشْفِهِ" ، شُعْبَةُ الشَّاكُّ، قَالَ: فَمَا اشْتَكَيْتُ وَجَعِي ذَلِكَ بَعْدُ.
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں بیمار ہو گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے تو میں یہ کہہ رہا تھا: «اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ أَجَلِي قَدْ حَضَرَ فَأَرِحْنِي، وَإِنْ كَانَ مُتَأَخِّرًا فَارْفَعْنِي، وَإِنْ كَانَ بَلَاءً فَصَبِّرْنِي» اے اللہ! اگر میری موت کا وقت آ چکا ہے تو مجھے راحت عطا کر دے اور اگر ابھی موت کا وقت دور ہے تو مجھے (ٹھیک کر کے) کھڑا کر دے اور اگر یہ کوئی آزمائش ہے تو مجھے صبر عطا کر۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم نے کیا کہا ہے؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ کلمات دہرا دیے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا پاؤں انہیں مارا اور یہ کہا: «اللَّهُمَّ عَافِهِ» اے اللہ! اسے عافیت عطا کر (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) «اللَّهُمَّ اشْفِهِ» اسے شفا عطا کر۔ یہ شک شعبہ نامی راوی کو ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اس کے بعد مجھے کبھی درد کے حوالے سے شکایت نہیں ہوئی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6940]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6940، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 4262، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 10830، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3564، وأحمد فى (مسنده) برقم: 647» «رقم طبعة با وزير 6901»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - «المشكاة» (6098).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
Null
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
87. ذكر تخفيف الله جل وعلا عن هذه الأمة بعلي بن أبي طالب رضي الله عنه الصدقة بين يدي نجواهم-
- ذکر کہ اللہ جل وعلا نے اس امت سے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ذریعے نجوٰی سے پہلے صدقہ کے ذریعے تخفیف کی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6941
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا الأَشْجَعِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ الثَّقَفِيِّ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَلْقَمَةَ الأَنْمَارِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نَاجَيْتُمُ الرَّسُولَ فَقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيْ نَجْوَاكُمْ صَدَقَةً سورة المجادلة آية 12، قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا تَرَى دِينَارًا؟ قُلْتُ: لا يُطِيقُونَهُ، قَالَ: فَكَمْ؟ قُلْتُ: شَعِيرَةٌ، قَالَ: إِِنَّكَ لَزَهِيدٌ، فَنَزَلَتْ أَأَشْفَقْتُمْ أَنْ تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيْ نَجْوَاكُمْ صَدَقَات سورة المجادلة آية 13 ٍ الآيَةَ ، قَالَ:" فَبِي خَفَّفَ اللَّهُ عَنْ هَذِهِ الأُمَّةِ".
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نَاجَيْتُمُ الرَّسُولَ فَقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيْ نَجْوَاكُمْ صَدَقَةً﴾ [سورة المجادلة: 12] اے ایمان والو! جب تم رسول کے ساتھ سرگوشی میں کوئی بات کرو تو اپنی سرگوشی سے پہلے کوئی چیز نذر پیش کر دیا کرو۔ (اس سے مراد نذر پیش کرنا تھا) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت کیا: تمہاری کیا رائے ہے یہ نذر ایک دینار ہونی چاہیے؟ میں نے کہا: لوگ اس کی طاقت نہیں رکھیں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: پھر کتنی ہونی چاہیے؟ میں نے کہا: کچھ جَو ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم زیادہ کم کر رہے ہو، تو یہ آیت نازل ہوئی: ﴿أَأَشْفَقْتُمْ أَن تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيْ نَجْوَاكُمْ صَدَقَاتٍ﴾ [سورة المجادلة: 13] کیا تم اس بات سے ڈر گئے کہ تم اپنی سرگوشی سے پہلے نذر پیش کرو۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، تو میری وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس امت کی تخفیف کر دی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6941]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6941، 6942، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 3815، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 8484، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3300، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 400» «رقم طبعة با وزير 6902»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - «الترمذي» (3297).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6942
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ أَبُو صَخْرَةَ بِبَغْدَادَ بَيْنَ الصُّورَيْنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَاسِمُ بْنُ يَزِيدَ الْجَرْمِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ عُثْمَانَ الثَّقَفِيِّ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ الْغَطَفَانِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَلْقَمَةَ الأَنْمَارِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نَاجَيْتُمُ الرَّسُولَ فَقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيْ نَجْوَاكُمْ صَدَقَةً سورة المجادلة آية 12، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ: يَا عَلِيُّ،" مُرْهُمْ أَنْ يَتَصَدَّقُوا"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بِكَمْ؟ قَالَ: بِدِينَارٍ، قَالَ: لا يُطِيقُونَهُ، قَالَ: فَبِنِصْفِ دِينَارٍ، قَالَ: لا يُطِيقُونَهُ، قَالَ: فَبِكَمْ؟ قَالَ: بِشَعِيرَةٍ، قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ: إِِنَّكَ لَزَهِيدٌ، قَالَ: فَأَنْزَلَ اللَّهُ: أَأَشْفَقْتُمْ أَنْ تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيْ نَجْوَاكُمْ صَدَقَاتٍ فَإِذْ لَمْ تَفْعَلُوا وَتَابَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ فَأَقِيمُوا الصَّلاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ سورة المجادلة آية 13 ، قَالَ: فَكَانَ عَلِيٌّ، يَقُولُ:" بِي خُفِّفَ عَنْ هَذِهِ الأُمَّةِ".
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت: ﴿اے ایمان والو! جب تم رسول سے سرگوشی کرو تو نذر پیش کر دو﴾ [سورة المجادلة: 12] نازل ہوئی، تو راوی بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے دریافت فرمایا: اے علی! ان لوگوں سے کہو کہ وہ صدقہ کریں (یعنی نذر پیش کریں)۔ انہوں نے دریافت کیا: یا رسول اللہ! کتنا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک دینار۔ میں نے عرض کی: لوگ اس کی طاقت نہیں رکھیں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نصف دینار۔ انہوں نے عرض کی: لوگ اس کی بھی طاقت نہیں رکھیں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر کتنا ہونا چاہیے؟ انہوں نے عرض کی: کچھ جَو ہوں۔ راوی کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تم بہت زیادہ کمی کر رہے ہو۔ راوی کہتے ہیں: پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿کیا تم اس بات سے ڈر گئے کہ سرگوشی سے پہلے نذر پیش کرو جب تم ایسا نہیں کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہاری توبہ کو قبول کرے گا تم لوگ نماز قائم کرو زکوۃ ادا کرو﴾ [سورة المجادلة: 13] ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ یہ فرماتے تھے: میری وجہ سے اس امت سے تخفیف ہوئی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6942]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6941، 6942، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 3815، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 8484، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3300، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 400» «رقم طبعة با وزير 6903»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
88. ذكر الخبر الدال على أن الخليفة بعد عثمان بن عفان كان علي بن أبي طالب رضوان الله عليهما ورحمته وقد فعل-
- ذکر خبر جو اس بات کی دلیل ہے کہ عثمان بن عفان کے بعد خلیفہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہما تھے اور اس پر اللہ کی رحمت، اور یہ ہوا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6943
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ الْجَوْهَرِيُّ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ ، عَنْ سَفِينَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " الْخِلافَةُ بَعْدِي ثَلاثُونَ سَنَةً، ثُمَّ تَكُونُ مُلْكًا" ، قَالَ: أَمْسِكْ خِلافَةَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَنَتَيْنِ، وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَشْرًا، وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ، وَعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سِتًّا، قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ: قُلْتُ لِحَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ: سَفِينَةُ الْقَائِلُ: أَمْسِكْ؟ قَالَ: نَعَمْ.
سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: میرے بعد خلافت 30 سال تک ہوگی پھر ملوکیت ہوگی۔ (راوی بیان کرتے ہیں) تم سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت کے دو سال، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دس سال، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے 12 سال، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے چھ سال شمار کر لو تو (یہ پورے 30 سال ہو جائیں گے)۔ علی بن زیاد کہتے ہیں: میں نے حماد بن سلمہ سے دریافت کیا: یہ لفظ تم شمار کر لو یہ سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ کے الفاظ ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6943]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6657، 6943، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 4464، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 8099، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4646، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2226، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22337» «رقم طبعة با وزير 6904»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح - تقدم (6623). تنبيه!! رقم (6623) = (6657) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں