🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
89. ذكر وصف تزويج علي بن أبي طالب فاطمة رضي الله عنها وقد فعل-
- ذکر وصف کہ علی بن ابی طالب کا فاطمہ رضی اللہ عنہا سے نکاح، اور یہ ہوا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6944
أَخْبَرَنَا أَبُو شَيْبَةَ دَاوُدُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ بْنِ دَاوُدَ بْنِ يَزِيدَ الْبَغْدَادِيُّ بِالْفُسْطَاطِ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى الأَسْلَمِيُّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: جَاءَ أَبُو بَكْرٍ إِِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَعَدَ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ عَلِمْتَ مُنَاصَحَتِي وَقِدَمِي فِي الإِِسْلامِ وَإِِنِّي وَإِِنِّي، قَالَ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: تُزَوِّجُنِي فَاطِمَةَ، قَالَ: فَسَكَتَ عَنْهُ، فَرَجَعَ أَبُو بَكْرٍ إِِلَى عُمَرَ، فَقَالَ لَهُ: قَدْ هَلَكْتُ وَأُهْلِكْتُ، قَالَ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: خَطَبْتُ فَاطِمَةَ إِِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَعْرَضَ عَنِّي، قَالَ: مَكَانَكَ حَتَّى آتِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَطْلُبُ مِثْلَ الَّذِي طَلَبْتَ، فَأَتَى عُمَرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَعَدَ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ عَلِمْتَ مُنَاصَحَتِي وَقِدَمِي فِي الإِِسْلامِ، وَإِِنِّي وَإِِنِّي، قَالَ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: تُزَوِّجُنِي فَاطِمَةَ، فَسَكَتَ عَنْهُ، فَرَجَعَ إِِلَى أَبِي بَكْرٍ، فَقَالَ لَهُ: إِِنَّهُ يَنْتَظِرُ أَمْرَ اللَّهِ فِيهَا، قُمْ بِنَا إِِلَى عَلِيٍّ حَتَّى نَأْمُرَهُ يَطْلُبُ مِثْلَ الَّذِي طَلَبْنَا، قَالَ عَلِيٌّ: فَأَتَيَانِي وَأَنَا أُعَالِجُ فَسِيلا لِي، فَقَالا: إِِنَّا جِئْنَاكَ مِنْ عِنْدِ ابْنِ عَمِّكِ بِخِطْبَةٍ، قَالَ عَلِيٌّ: فَنَبَّهَانِي لأَمْرٍ، فَقُمْتُ أَجُرُّ رِدَائِي حَتَّى أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَعَدْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ " قَدْ عَلِمْتَ قِدَمِي فِي الإِِسْلامِ وَمُنَاصَحَتِي، وَإِِنِّي وَإِِنِّي، قَالَ: وَمَا ذَاكَ؟ قُلْتُ: تُزَوِّجُنِي فَاطِمَةَ، قَالَ: وَعِنْدَكَ شَيْءٌ؟ قُلْتُ: فَرَسِي وَبَدَنِي، قَالَ: أَمَّا فَرَسُكَ فَلا بُدَّ لَكَ مِنْهُ، وَأَمَّا بَدَنُكَ فَبِعْهَا، قَالَ: فَبِعْتُهَا بِأَرْبَعِ مِائَةٍ وَثَمَانِينَ، فَجِئْتُ بِهَا حَتَّى وَضَعْتُهَا فِي حِجْرِهِ، فَقَبَضَ مِنْهَا قَبْضَةً، فَقَالَ: أَيْ بِلالُ، ابْتَغِنَا بِهَا طِيبًا، وَأَمَرَهُمْ أَنْ يُجَهِّزُوهَا فَجَعَلَ لَهَا سَرِيرًا مُشْرَطًا بِالشَّرْطِ وَوِسَادَةً مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ، وَقَالَ لِعَلِيٍّ: إِِذَا أَتَتْكَ فَلا تُحْدِثْ شَيْئًا، حَتَّى آتِيَكَ، فَجَاءَتْ مَعَ أُمِّ أَيْمَنَ حَتَّى قَعَدَتْ فِي جَانِبِ الْبَيْتِ وَأَنَا فِي جَانِبٍ، وَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: هَا هُنَا أَخِي؟ قَالَتْ أُمُّ أَيْمَنَ: أَخُوكَ وَقَدْ زَوَّجْتَهُ ابْنَتَكَ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ، فَقَالَ لِفَاطِمَةَ: إِِيتِينِي بِمَاءٍ، فَقَامَتْ إِِلَى قَعْبٍ فِي الْبَيْتِ فَأَتَتْ فِيهِ بِمَاءٍ، فَأَخَذَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَجَّ فِيهِ، ثُمَّ قَالَ لَهَا: تَقَدَّمِي، فَتَقَدَّمَتْ، فَنَضَحَ بَيْنَ ثَدْيَيْهَا وَعَلَى رَأْسِهَا، وَقَالَ: اللَّهُمَّ إِِنِّي أُعِيذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، ثُمَّ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهَا: أَدْبِرِي، فَأَدْبَرَتْ، فَصَبَّ بَيْنَ كَتِفَيْهَا، وَقَالَ: اللَّهُمَّ إِِنِّي أُعِيذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، ثُمَّ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِِيتُونِي بِمَاءٍ، قَالَ عَلِيٌّ: فَعَلِمْتُ الَّذِي يُرِيدُ، فَقُمْتُ فَمَلأْتُ الْقَعْبَ مَاءً وَأَتَيْتُهُ بِهِ، فَأَخَذَهُ وَمَجَّ فِيهِ، ثُمَّ قَالَ لِي: تَقَدَّمْ، فَصَبَّ عَلَى رَأْسِي وَبَيْنَ ثَدْيَيَّ، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ إِِنِّي أُعِيذُهُ بِكَ وَذُرِّيَّتَهُ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، ثُمَّ قَالَ: أَدْبِرْ، فَأَدْبَرْتُ، فَصَبَّهُ بَيْنَ كَتِفَيَّ، وَقَالَ: اللَّهُمَّ إِِنِّي أُعِيذُهُ بِكَ وَذُرِّيَّتَهُ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، ثُمَّ قَالَ لِعَلِيٍّ: ادْخُلْ بِأَهْلِكَ، بِسْمِ اللَّهِ وَالْبَرَكَةِ" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھ گئے اور عرض کی: یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم میری خیرخواہی اور میرے قدیم اسلام ہونے سے واقف ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: تو پھر کیا ہوا؟ انہوں نے عرض کی: آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ میری شادی کر دیں۔ راوی کہتے ہیں: تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: میں ہلاکت کا شکار ہو گیا، مجھے ہلاکت کا شکار کر دیا گیا۔ انہوں نے دریافت کیا: وہ کیسے؟ انہوں نے کہا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے لیے نکاح کا پیغام بھیجا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے اعراض کیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ اپنی جگہ پر رہیں، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جاتا ہوں اور وہی گزارش کرتا ہوں جو آپ نے کی تھی۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھ گئے۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم میری خیرخواہی اور قدیم اسلام ہونے سے واقف ہیں، میرے اندر یہ یہ خوبیاں ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: تو کیا ہوا؟ انہوں نے عرض کی: آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی میرے ساتھ شادی کر دیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس واپس گئے اور انہیں بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے حکم کا انتظار کر رہے ہیں، آپ ہمارے ساتھ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس چلیں، تاکہ وہ وہی گزارش کریں جو ہم نے کی تھی۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: وہ دونوں صاحبان (رضی اللہ عنہما) میرے پاس آئے، میں اس وقت اپنے کھجور کے چھوٹے درختوں میں کام کر رہا تھا۔ ان دونوں نے کہا: ہم آپ کے چچازاد (یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ) کی طرف سے پیغامِ نکاح لے کر آپ کے پاس آئے ہیں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: ان دونوں نے مجھے صورتِ حال کے بارے میں متنبہ کیا تو میں اپنی چادر کو گھسیٹتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا، یہاں تک کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھ گیا، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسلام میں میرے قدیم ہونے اور میری خیرخواہی سے واقف ہیں، میرے اندر یہ یہ خوبیاں ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: تو پھر کیا ہوا؟ میں نے عرض کی: آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ میری شادی کر دیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے؟ میں نے عرض کی: میرا گھوڑا ہے اور میرا اونٹ ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہاں تک تمہارے گھوڑے کا تعلق ہے، تو وہ تمہارے پاس رہنا ضروری ہے، البتہ جہاں تک تمہارے اونٹ کا تعلق ہے اسے تم فروخت کر دو۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں، تو میں نے 480 (درہم یا دینار) کے عوض میں اسے فروخت کر دیا، میں وہ لے کر آیا اور اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جھولی میں رکھ دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مٹھی میں لیا اور فرمایا: اے بلال! اس کے ذریعے تم ہمارے لیے خوشبو خریدو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو ہدایت کی کہ وہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا جہیز تیار کریں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے ایک پلنگ بنوایا اور ایک تکیہ بنوایا جو چمڑے کا بنا ہوا تھا اس کے اندر کھجور کے پتے بھرے ہوئے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: جب وہ تمہارے پاس آئے تو تم میرے آنے سے پہلے اس کے ساتھ کوئی بات نہ کرنا۔ پھر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا کے ساتھ (سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے گھر) آ گئیں، یہاں تک کہ وہ گھر کے ایک کونے میں بیٹھ گئیں اور میں دوسرے کونے میں بیٹھ گیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا یہاں میرا بھائی ہے؟ سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا نے عرض کی: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بھائی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صاحب زادی کی شادی ان کے ساتھ کر دی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر کے اندر تشریف لائے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہا: میرے پاس پانی لے کر آؤ۔ تو وہ گھر میں موجود پانی کے برتن کی طرف گئیں اور اس میں پانی لے آئیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لیا، اس میں سے ایک مرتبہ کلی کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: آگے آؤ!۔ وہ آگے بڑھیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سینے اور سر پر وہ پانی چھڑکا اور یہ فرمایا: (یعنی یہ دعا کی) «اللَّهُمَّ إِنِّي أُعِيذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ» اے اللہ! میں اسے اور اس کی اولاد کو مردود شیطان سے تیری پناہ میں دیتا ہوں۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: تم دوسری طرف رخ کرو۔ انہوں نے دوسری طرف رخ کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے دونوں کندھوں کے درمیان بھی پانی چھڑکا اور فرمایا: (یعنی دعا کی) «اللَّهُمَّ إِنِّي أُعِيذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ» اے اللہ! میں اسے اور اس کی اولاد کو مردود شیطان سے تیری پناہ میں دیتا ہوں۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس پانی لے کر آؤ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے وہ کام کیا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے تھے، میں اٹھا اور میں نے وہ برتن پانی سے بھر لیا، میں وہ برتن لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں کلی کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: آگے آؤ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سر اور سینے پر پانی چھڑکا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی: «اللَّهُمَّ إِنِّي أُعِيذُهُ بِكَ وَذُرِّيَّتَهُ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ» اے اللہ! میں اسے اور اس کی اولاد کو مردود شیطان سے تیری پناہ میں دیتا ہوں۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دوسری طرف رخ کرو۔ پھر میں نے دوسری طرف رخ کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے دونوں کندھوں کے درمیان پانی چھڑکا اور دعا کی: «اللَّهُمَّ إِنِّي أُعِيذُهُ بِكَ وَذُرِّيَّتَهُ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ» اے اللہ! میں اسے اور اس کی اولاد کو مردود شیطان سے تیری پناہ میں دیتا ہوں۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «ادْخُلْ عَلَى أَهْلِكَ بِاسْمِ اللَّهِ وَالْبَرَكَةِ» تم اللہ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے اور برکت کے ہمراہ اپنی بیوی کے ساتھ رہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6944]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6944، والبزار فى (مسنده) برقم: 6911، والطبراني فى(الكبير) برقم: 1021» «رقم طبعة با وزير 6905»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف الإسناد، منكر المتن.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
90. ذكر ما أعطى علي رضي الله عنه في صداق فاطمة-
- ذکر کہ علی رضی اللہ عنہ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کے مہر میں کیا دیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6945
حَدَّثَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ حَمَّادٍ سَجَّادَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: لَمَّا تَزَوَّجَ عَلِيٌّ فَاطِمَةَ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَعْطِهَا شَيْئًا، قَالَ: مَا عِنْدِي شَيْءٌ، قَالَ: فَأَيْنَ دِرْعُكَ الْحُطَمِيَّةُ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے کچھ دو۔ انہوں نے عرض کی: میرے پاس کوئی چیز نہیں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہاری حطمیہ زرہ کہاں ہے؟ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6945]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6945، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2125، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 14576» «رقم طبعة با وزير 6906»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1849).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
91. ذكر وصف الدرع الحطمية التي ذكرناها-
- ذکر اس درع حطمیہ کی وصف جو ہم نے ذکر کی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6946
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الشَّرْقِيِّ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ زَاجٌ ، حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ قَاضِي سَمَرَقَنْدَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ سَمِعَهُ، يَقُولُ: " مَا اسْتَحَلَّ عَلِيٌّ فَاطِمَةَ إِِلا بِبَدَنٍ مِنْ حَدِيدٍ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے مہر میں لوہے کی بنی ہوئی زرہ دی تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6946]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6946، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3375، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 600، 602، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 14463، وأحمد فى (مسنده) برقم: 613، والحميدي فى (مسنده) برقم: 38» «رقم طبعة با وزير 6907»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
92. ذكر وصف ما جهزت به فاطمة حين زفت إلى علي بن أبي طالب رضي الله عنهما-
- ذکر وصف کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو جب علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہما کے پاس زفاف کے لیے لایا گیا تو اس کے ساتھ کیا جہیز تھا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6947
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ الْخَلالُ بِوَاسِطَ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَيُّوبَ الصَّرِيفِينِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ: " جَهَّزَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاطِمَةَ فِي خَمِيلَةٍ وَوِسَادَةِ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: الْخَمِيلَةُ: قَطِيفَةٌ بَيْضَاءُ مِنَ الصُّوفِ، وَصَرِيفِينُ: قَرْيَةٌ بِوَاسِطَ.
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو جہیز میں ایک «خَمِيلَة» چادر اور چمڑے سے بنا ہوا تکیہ دیا تھا، جس کے اندر کھجور کے پتے بھرے ہوئے تھے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) «خَمِيلَة» اون سے بنی ہوئی سفید چادر کو کہتے ہیں اور «صَرِيفِينَ» واسط میں ایک بستی کا نام ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6947]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3113، 3705، 5361، 5362، 6318، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2727، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5524، 5529، 6921، 6922، 6947، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2771، 4751، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3384، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2988، 5062، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3408، 3409، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4152، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 14835، وأحمد فى (مسنده) برقم: 606» «رقم طبعة با وزير 6908»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - «التعليق الرغيب» (4/ 119).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده جيد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
93. ذكر الإخبار عما قال المصطفى صلى الله عليه وسلم لأبي بكر وعمر عند خطبتهما إليه ابنته فاطمة عند إعراضه عنهما فيه-
- ذکر خبر کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو بکر اور عمر سے کیا کہا جب انہوں نے ان سے اپنی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا کے لیے خطبہ مانگا اور انہوں نے اس میں ان سے اعراض کیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6948
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ بِنَسَا، حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أبيه ، قَالَ: " خَطَبَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فَاطِمَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِِنَّهَا صَغِيرَةٌ، فَخَطَبَهَا عَلِيٌّ، فَزَوَّجَهَا مِنْهُ" .
ابن بریدہ اپنے والد رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے لیے شادی کا پیغام بھیجا لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ چھوٹی ہے، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان کے لیے پیغام بھیجا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی شادی سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کر دی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6948]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6948، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2720، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3221، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 5310، 8454» «رقم طبعة با وزير 6909»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «المشكاة» (6095).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
94. ذكر إبراهيم ابن رسول الله صلى الله عليه وسلم-
- ذکر ابراہیم بن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6949
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، وَحَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْحَوْضِيُّ ، قَالا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءِ ، يَقُولُ: لَمَّا تُوُفِّيَ إِِبْرَاهِيمُ بْنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِِنَّ لَهُ مُرْضِعًا فِي الْجَنَّةِ".
سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحب زادے سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے لیے جنت میں ایک دودھ پلانے والی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6949]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1382، 3255، 6195، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6949، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 6909، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6890، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18791» «رقم طبعة با وزير 6910»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الضعيفة» تحت الحديث (3202): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
95. ذكر محبة المصطفى صلى الله عليه وسلم لابنه إبراهيم-
- ذکر کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنے بیٹے ابراہیم سے محبت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6950
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، وَالأَشَجُّ ، قَالا: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:" مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَرْحَمُ بِالْعِيَالِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ إِِبْرَاهِيمُ ابْنُهُ مُسْتَرْضِعًا فِي عَوَالِي الْمَدِينَةِ، فَكَانَ يَنْطَلِقُ وَنَحْنُ مَعَهُ، فَيَدْخُلُ الْبَيْتَ، وَكَانَ ظِئْرُهُ قَيْنًا، فَيَأْخُذُهُ فَيُقَبِّلُهُ وَيَرْجِعُ"، قَالَ عَمْرٌو: فَلَمَّا مَاتَ إِِبْرَاهِيمُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِِنَّ ابْنِي إِِبْرَاهِيمَ كَانَ فِي الثَّدْيِ، وَإِِنَّ لَهُ ظِئْرَيْنِ تُكْمِلانِ رَضَاعَهُ فِي الْجَنَّةِ" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ اور کسی کو اپنے گھر والوں کے لیے زیادہ رحم دل نہیں دیکھا۔ سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحب زادے تھے، وہ مدینہ منورہ کے نواحی علاقے میں (کسی گھر میں) دودھ پیتے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے جایا کرتے تھے، ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جاتے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں داخل ہوئے، سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کا رضاعی باپ ایک لوہار تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس بچے کو لیتے، اسے بوسہ دیتے اور واپس تشریف لے آتے۔ عمرو نامی راوی کہتے ہیں کہ جب سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میرا بیٹا ابراہیم ابھی دودھ پیتا بچہ تھا، جنت میں اس کی رضاعت مکمل کرنے کے لیے دو دودھ پلانے والیاں ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6950]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2316، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6950، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12285» «رقم طبعة با وزير 6911»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (2493): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
96. ذكر فاطمة الزهراء ابنة المصطفى صلى الله عليه وسلم ورضي عنها وقد فعل-
- ذکر فاطمہ زہرا، مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی، رضی اللہ عنہا اور اس پر رحمت، اور یہ ہوا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6951
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَيْرُ نِسَاءِ الْعَالَمِينَ: مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ، وَخَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ، وَفَاطِمَةُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَآسِيَةُ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمام جہان کی خواتین میں سب سے بہتر مریم بنت عمران، خدیجہ بنت خویلد، فاطمہ بنت محمد اور فرعون کی بیوی آسیہ ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6951]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6951، 7003، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 4773، 4774، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3878، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12586» «رقم طبعة با وزير 6912»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح لغيره - «الصحيحة» (1508).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
97. ذكر البيان بأن فاطمة تكون في الجنة سيدة النساء فيها خلا مريم-
- ذکر بیان کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا جنت میں عورتوں کی سردار ہوگی سوائے مریم کے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6952
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قُلْتُ لِفَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رَأَيْتُكِ أَكْبَبْتِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ فَبَكَيْتِ، ثُمَّ أَكْبَبْتِ عَلَيْهِ الثَّانِيَةَ فَضَحِكْتِ، قَالَتْ: " أَكْبَبْتُ عَلَيْهِ، فَأَخْبَرَنِي أَنَّهُ مَيِّتٌ فَبَكَيْتُ، ثُمَّ أَكْبَبْتُ عَلَيْهِ الثَّانِيَةَ، فَأَخْبَرَنِي أَنِّي أَوَّلُ أَهْلِهِ لُحُوقًَا بِهِ، وَأَنِّي سَيِّدَةُ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ إِِلا مَرْيَمَ بِنْتَ عِمْرَانَ فَضَحِكَتُ" .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے فاطمہ بنت رسول اللہ رضی اللہ عنہا سے کہا: میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کے دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر جھک گئیں اور پھر رونے لگیں، پھر آپ دوسری مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر جھکیں اور ہنسنے لگیں۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے بتایا: جب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھکی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہونے لگا ہے، تو میں رونے لگ پڑی، پھر میں دوسری مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھکی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں میں، میں سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آ کر ملوں گی اور یہ کہ میں اہل جنت کی تمام خواتین کی سردار ہوں، صرف سیدہ مریم بنت عمران کا حکم مختلف ہے، اس بات پر میں ہنس پڑی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6952]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3623، 3625، 3715، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2450، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6952، 6953، 6954، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 4759، وأبو داود فى (سننه) برقم: 5217، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3872، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1621، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 13710، وأحمد فى (مسنده) برقم: 25121» «رقم طبعة با وزير 6913»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح - «الصحيحة» (2948).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
98. ذكر إخبار المصطفى صلى الله عليه وسلم فاطمة أنها أول لاحق به من أهله بعد وفاته-
- ذکر کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کو خبر دی کہ وہ ان کے اہل میں سے سب سے پہلے ان کے بعد ان سے ملے گی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6953
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ إِِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا إِِسْرَائِيلُ ، عَنْ مَيْسَرَةَ بْنِ حَبِيبٍ ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ ، عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ:" مَا رَأَيْتُ أَحَدًا كَانَ أَشْبَهَ كَلامًا وَحَدِيثًا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فَاطِمَةَ ، وَكَانَتْ إِِذَا دَخَلَتْ عَلَيْهِ، قَامَ إِِلَيْهَا وَقَبَّلَهَا، وَرَحَّبَ بِهَا، وَأَخَذَ بِيَدِهَا، وَأَجْلَسَهَا فِي مَجْلِسِهِ، وَكَانَتْ هِيَ إِِذَا دَخَلَ عَلَيْهَا قَامَتْ إِِلَيْهِ فَقَبَّلَتْهُ وَأَخَذَتْ بِيَدِهِ، فَدَخَلَتْ عَلَيْهِ فِي مَرَضِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ، فَأَسَرَّ إِِلَيْهَا فَبَكَتْ، ثُمَّ أَسَرَّ إِِلَيْهَا فَضَحِكَتْ، فَقَالَتْ: كُنْتُ أَحْسَبُ أَنَّ لِهَذِهِ الْمَرْأَةِ فَضْلا عَلَى النَّاسِ، فَإِِذَا هِيَ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ بَيْنَا هِيَ تَبْكِي إِِذَا هِيَ تَضْحَكُ، فَلَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سَأَلْتُهَا عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَتْ: أَسَرَّ إِِلَيَّ أَنَّهُ مَيِّتٌ فَبَكَيْتُ، ثُمَّ أَسَرَّ إِِلَيَّ فَأَخْبَرَنِي أَنِّي أَوَّلُ أَهْلِهِ لُحُوقًا بِهِ فَضَحِكَتْ" .
ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے ایسا کوئی شخص نہیں دیکھا، جو بات چیت کرنے اور گفتگو میں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے زیادہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشابہت رکھتا ہو۔ جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تشریف لاتی تھیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لیے کھڑے ہو جاتے تھے، ان کا بوسہ لیتے تھے، انہیں خوش آمدید کہتے تھے، ان کا ہاتھ پکڑ لیتے تھے اور انہیں اپنی جگہ پر بٹھاتے تھے؛ اور جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں تشریف لے جاتے تھے، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھڑی ہو جاتی تھیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا بوسہ لیتی تھیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑتی تھیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ بیماری جس کے دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا، اس کے دوران سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سرگوشی میں ان کے ساتھ کوئی بات کی تو وہ رونے لگ پڑیں، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سرگوشی میں ان کے ساتھ کوئی بات چیت کی تو وہ ہنسنے لگ پڑیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں یہ سمجھتی تھی اس خاتون کو دیگر لوگوں پر فضیلت حاصل ہے (یعنی یہ دوسروں سے زیادہ سمجھدار ہے) لیکن یہ تو ایک عورت ثابت ہوئی، ابھی رو رہی تھی اور ابھی ہنسنے لگ پڑی، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا تو میں نے ان سے اس بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے بتایا: پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سرگوشی میں مجھے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہونے والا ہے تو میں رو پڑی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سرگوشی میں مجھے یہ بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل خانہ میں سب سے پہلے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے آ ملوں گی تو میں ہنس پڑی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6953]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3623، 3625، 3715، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2450، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6952، 6953، 6954، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 4759، وأبو داود فى (سننه) برقم: 5217، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3872، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1621، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 13710، وأحمد فى (مسنده) برقم: 25121» «رقم طبعة با وزير 6914»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «المشكاة» (4689)، «نقد نصوص حديثية» (44 - 45).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں