المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
33. الِاعْتِكَافُ
اعتکاف کا بیان۔
حدیث نمبر: 1624
أخبرنا إسماعيل بن محمد بن إسماعيل الفقيه بالرَّيّ، حدثنا أبو حاتم محمد بن إدريس، حدثنا محمد بن عبد الله الرَّقَاشي، حدثنا وُهَيب، حدثنا خالد الحذَّاء، عن عِكرمة، عن ابن عباسٍ، قال: رُخِّص للشيخ الكبير أن يفطِر ويُطعِم عن كلِّ يومٍ مسكينًا، ولا قضاءَ عليه (2) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انتہائی بوڑھے شخص کے لیے یہ رخصت دی گئی ہے کہ وہ روزہ نہ رکھے اور ہر دن کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلا دے، اور اس پر روزے کی قضا لازم نہیں ہے۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1624]
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1624]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،وهيب: هو ابن خالد بن عجلان، وخالد الحذّاء: هو ابن مهران.» [ترقيم الرساله 1624] [ترقيم الشركة 1613]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
34. قِيَامُ اللَّيْلِ فِي رَمَضَانَ
قِيَامُ اللَّيْلِ فِي رَمَضَانَ
حدیث نمبر: 1625
أخبرنا عبد الله بن محمد البَلْخي ببغداد، حدثنا أبو إسماعيل السُّلَمي، حدثنا عبد الله بن صالح، حدثني معاوية بن صالح، حدثني أبو طلحة نُعيم بن زياد الأنصاري، قال: سمعتُ النُّعمان بن بَشِير، على مِنبَر حمص يقول: قُمنا مع رسول الله ﷺ في شهر رمضان ليلةَ ثلاثٍ وعشرين إلى ثُلُث الليل، ثم قمنا معه ليلةَ خمسٍ وعشرين إلى نصف الليل، ثم قُمنا معه ليلةَ سبعٍ وعشرين إلى نصف الليل، حتى ظننَّا أن لا نُدرِكَ الفَلاحَ، وكنا نُسمِّيها الفلاحَ وأنتم تُسمُّون السُّحور (1) .
هذا حديث صحيح على شرظ البخاري (2) ، ولم يُخرجاه. وفيه الدليلُ الواضح أنَّ صلاة التراويح في مساجد المسلمين سُنةٌ مسنونة، وقد كان عليُّ بن أبي طالب يحثُّ عمرَ على إقامة هذه السُّنَّة إلى أن أقامها. هذا آخر ما انتهى إليه علمي من الأحاديث الصحيحة في أبواب كتاب الصيام مما لم يُخرجه الشيخان ﷽ [أول كتاب المناسك]
هذا حديث صحيح على شرظ البخاري (2) ، ولم يُخرجاه. وفيه الدليلُ الواضح أنَّ صلاة التراويح في مساجد المسلمين سُنةٌ مسنونة، وقد كان عليُّ بن أبي طالب يحثُّ عمرَ على إقامة هذه السُّنَّة إلى أن أقامها. هذا آخر ما انتهى إليه علمي من الأحاديث الصحيحة في أبواب كتاب الصيام مما لم يُخرجه الشيخان ﷽ [أول كتاب المناسك]
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ حمص کے منبر پر بیان فرما رہے تھے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ماہِ رمضان میں تیئیسویں رات کو ایک تہائی رات گزرنے تک قیام (تراویح) کے لیے کھڑے رہے، پھر ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پچیسویں رات کو آدھی رات تک کھڑے رہے، پھر ستائیسویں رات کو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آدھی رات تک قیام کیا یہاں تک کہ ہمیں اندیشہ ہونے لگا کہ کہیں ہم سے «فلاح» چھوٹ نہ جائے؛ ہم اسے فلاح کہتے تھے جبکہ تم اسے سحور (سحری) کہتے ہو۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ اس حدیث میں اس بات کی واضح دلیل موجود ہے کہ مسلمانوں کی مساجد میں نمازِ تراویح کا باجماعت اہتمام ایک مسنون سنت ہے، اور سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اس سنت کے قیام پر ابھارتے رہتے تھے یہاں تک کہ انہوں نے اسے باقاعدہ قائم کر دیا۔ یہ روزے کے ابواب کی ان صحیح احادیث کا اختتام ہے جنہیں شیخین نے روایت نہیں کیا۔ [کتاب المناسک کا آغاز] [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1625]
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ اس حدیث میں اس بات کی واضح دلیل موجود ہے کہ مسلمانوں کی مساجد میں نمازِ تراویح کا باجماعت اہتمام ایک مسنون سنت ہے، اور سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اس سنت کے قیام پر ابھارتے رہتے تھے یہاں تک کہ انہوں نے اسے باقاعدہ قائم کر دیا۔ یہ روزے کے ابواب کی ان صحیح احادیث کا اختتام ہے جنہیں شیخین نے روایت نہیں کیا۔ [کتاب المناسک کا آغاز] [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1625]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل عبد الله بن صالح - وهو المصري كاتب الليث بن سعد - فهو حسن في المتابعات والشواهد، وقد توبع. أبو إسماعيل السلمي: اسمه محمد بن إسماعيل. وأخرجه أحمد 30/ (18402)، والنسائي (1301) من طريق زيد بن الحباب، عن معاوية بن صالح، بهذا الإسناد.» [ترقيم الرساله 1625] [ترقيم الشركة 1614]
الحكم على الحديث: حديث صحيح