المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
15. عَذَابُ مَنْ أَفْطَرَ قَبْلَ وَقْتِهِ
وقت سے پہلے روزہ افطار کرنے والے کے عذاب کا بیان۔
حدیث نمبر: 1584
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحْر بن نَصْر بن سابِق الخَوْلاني، حدثنا بِشْر بن بكر، حدثنا عبد الرحمن بن يزيد بن جابر، عن سُلَيم بن عامر أبي يحيى الكَلَاعي، قال: حدثني أبو أُمامةَ الباهلي قال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"بَيْنا أنا نائمٌ إذ أتاني رجلان، فأخذا بضَبْعيَّ فأتَيا بي جبلًا وَعْرًا، فقالا لي: اصعَدْ، فقلت: إني لا أُطيقه، فقالا: إنا سنُسهِّلُه لك، فصَعَّدْتُ، حتى إذا كنتُ في سواء الجبل إذا أنا بأصواتٍ شديدةٍ، فقلتُ: ما هذه الأصوات؟ قالوا: هذا عُواءُ أهل النار، ثم انطُلِقَ بي، فإذا أنا بقومٍ مُعلَّقين بعَرَاقيبهم، مُشقَّقةٍ أشداقُهم، تسيلُ أشداقُهم دمًا، قال: قلتُ: من هؤلاء؟ قال: هؤلاء الذين يُفطِرون قبل تَحِلَّة صومِهم" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ایک رات میں سویا ہوا تھا کہ میرے پاس دو آدمی آئے، انہوں نے مجھے بازوؤں سے پکڑا اور مجھے ایک خوفناک پہاڑ پر لے گئے اور مجھے کہنے لگے: اس پر چڑھئیے: میں نے کہا: میں اس پر نہیں چڑھ سکتا۔ انہوں نے کہا: ہم اس پر چڑھنا آپ کے لیے آسان کر دیتے ہیں۔ پھر میں اس پر چڑھنا شروع ہو گیا، جب میں اس کے اوپر پہنچ گیا تو مجھے بہت خوفناک آوازیں سنائی دیں، میں نے پوچھا: یہ کیسی آوازیں ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: یہ دوزخیوں کی آوازیں ہیں۔ پھر میں چلتا رہا تو ایک ایسی قوم کو دیکھا جن کو الٹا لٹکایا ہوا تھا اور ان کے جبڑے پھٹے ہوئے تھے۔ میں نے پوچھا یہ کون ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: یہ وہ لوگ ہیں جو افطاری کے وقت سے پہلے ہی روزہ افطار کیا کرتے تھے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1584]
16. مَنْ أَفْطَرَ فِي رَمَضَانَ نَاسِيًا فَلَا قَضَاءَ عَلَيْهِ وَلَا كَفَّارَةَ
جس نے رمضان میں بھول کر روزہ توڑ دیا اس پر نہ قضا ہے اور نہ کفارہ۔
حدیث نمبر: 1585
أخبرني أبو عبد الرحمن محمد بن عبد الله التاجر، حدثنا أبو حاتم محمد بن إدريس، حدثنا محمد بن عبد الله الأنصاري، حدثنا محمد بن عمرو، عن أبي سَلَمة، عن أبي هريرة، أنَّ النبي ﷺ قال:"مَن أفطَرَ في رمضانَ ناسيًا، فلا قَضاءَ عليه ولا كفَّارةَ" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو رمضان میں بھول کر روزہ توڑ بیٹھے، اس پر قضاء ہے نہ کفارہ۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے اس سند کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1585]
حدیث نمبر: 1586
حدثنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا موسى بن إسحاق بن موسى الخَطْمي (1) ، حدثنا أبي، حدثنا أنس بن عِيَاض عن الحارث بن عبد الرحمن، عن عمِّه، عن أبي هريرةَ قال: قال رسولُ الله ﷺ:"ليسَ الصِّيامُ من الأكل والشرب، إنما الصيامُ من اللَّغْو والرَّفَث، فإن سابَّكَ أحدٌ أو جَهِلَ عليك فقل: إنِّي صائم، إنِّي صائم" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: روزہ صرف کھانے پینے سے رکنے کا نام نہیں ہے، بلکہ لغو اور بے ہودہ باتوں سے بچنا، اصل روزہ ہے۔ اگر کوئی تمہیں گالی دے اور بُرا بھلا کہے، تو تم آگے سے صرف اتنا کہہ دو: میں روزے سے ہوں۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1586]
حدیث نمبر: 1587
أخبرنا أبو بكر بن أبي نصر المروَزي، حدثنا أبو المُوجِّه، حدثنا قُتيبة بن سعيد البَلْخي، حدثنا إسماعيل بن جعفر، حدثنا عمرو بن أبي عمرو، عن أبي سعيد المَقبُري، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"رُبَّ صائمٍ حَظُّه من صيامِه الجُوعُ، ورُبَّ قائمٍ حَظُّه من قيامِه السَّهَر" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بہت سارے روزہ دار ایسے ہوتے ہیں، ان کو روزے سے بھوک کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا اور بہت سارے رات کا قیام کرنے والے ایسے ہوتے ہیں ان کو تھکاوٹ کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کے معیار کے مطابق صحیح ہیں لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1587]
17. جَوَازُ الْقُبْلَةِ لِلصَّائِمِ
روزہ دار کے لیے بوسہ لینے کی اجازت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1588
أخبرنا عبد الرحمن بن حَمْدان الجَلَّاب بهَمَذان، حدثنا أبو حاتم وإبراهيم بن نصر الرّازيّان، قالا: حدثنا أبو الوليد الطيالسي، حدثنا الليث بن سعد، عن بُكَير بن عبد الله بن الأشَجّ، عن عبد الملك بن سعيد بن سُوَيد الأنصاري، عن جابر بن عبد الله، عن عمر بن الخطاب أنه قال: هَشِشْتُ يومًا فقبَّلتُ وأنا صائم، فأتيتُ رسولَ الله ﷺ فقلت: صَنعتُ اليوم أمرًا عظيمًا فقبلتُ وأنا صائم، فقال رسول الله ﷺ:"أرأيتَ لو تَمَضْمَضْتَ ماءً وأنت صائمٌ؟" قال: فقلت: لا بأسَ بذلك، فقال رسول الله ﷺ:"ففيمَ؟" (1) . حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن مجھے خواہش ہوئی اور میں نے (اپنی بیوی کا) بوسہ لے لیا، حالانکہ میں اس وقت روزے سے تھا، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ میں آج بہت بڑے گناہ کا مرتکب ہو گیا ہوں، میں نے روزہ کی حالت میں بوسہ لیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا کیا خیال ہے، روزہ کی حالت میں کلی کرنا کیسا ہے؟ میں نے کہا: اس میں تو کوئی حرج نہیں ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس (بوسہ لینے) میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1588]
18. تَعْجِيلُ الْإِفْطَارِ
افطار میں جلدی کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1589
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى (1) ، حدثنا مُسدَّد، حدثنا خالد بن عبد الله، عن محمد بن عمرو، عن أبي سلمة، عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ قال:"لا يزالُ الدِّينُ ظاهرًا ما عَجَّل الناسُ الفِطرَ، لأنَّ اليهود والنصارى يُؤخِّرون" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ دین اس وقت تک غالب رہے گا جب تک لوگ افطاری میں جلدی کرتے رہیں گے کیونکہ یہود و نصاریٰ دیر سے روزہ افطار کرتے ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1589]
19. اسْتِحْبَابُ الْإِفْطَارِ عَلَى التَّمْرِ
کھجور سے افطار کرنے کی ترغیب۔
حدیث نمبر: 1590
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا سعيد بن عامر، حدثنا شُعبة، عن عبد العزيز بن صهيب، عن أنس بن مالك قال: قال رسول الله ﷺ:"مَن وَجَدَ تمرًا فليُفطِرْ عليه، ومن لا فليُفطِرْ على الماء، فإنه طَهور" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس شخص کو کھجور میسر ہو، وہ اس کے ساتھ افطاری کر لے اور جس کو کھجور میسر نہ ہو وہ پانی سے افطاری کرے کیونکہ یہ بھی پاک کرنے والا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1590]
حدیث نمبر: 1591
أخبرني إبراهيم بن إسماعيل القارئ، حدثنا عثمان بن سعيد الدَّارمي، حدثنا قيس بن حفص الدَّارمي، حدثنا عبد الواحد بن زياد، عن عاصم الأحول، عن حَفْصة بنت سِيرين، عن الرَّباب، عن عمِّها سلمان بن عامر قال: قال رسول الله ﷺ:"إذا كان أحدُكم صائمًا فليُفطِرْ على التَّمر، فإن لم يَجِدِ التمرَ فعلى الماءِ، فإنَّ الماء طَهور" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ صحيح على شرط مسلم:
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ صحيح على شرط مسلم:
سیدنا سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب کوئی روزہ سے ہو تو اس کو چاہیے کہ کھجور کے ہمراہ روزہ افطار کرے اور اگر کھجور میسر نہ ہو تو پانی سے افطار کر لے کیونکہ پانی پاک کرنے والا ہے۔ تبصر: یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1591]
حدیث نمبر: 1592
أخبرَناه أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا عبد الرزاق، حدثنا جعفر بن سليمان، أخبرني ثابت البُنَاني، أنه سمع أنس بن مالك يقول: كان رسولُ الله ﷺ يُفطِرُ على رُطَباتٍ قبل أن يصلِّي، فإن لم يكن رُطَباتٌ فعلى تَمَراتٍ، فإن لم يكن تَمَراتٌ حَسَا حَسَواتٍ من ماء (1) .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نمازِ مغرب پڑھنے سے پہلے رطب کھجوروں کے ساتھ افطاری کیا کرتے تھے، اگر رطب میسر نہ ہوتیں تو تمر سے کر لیتے اور اگر یہ بھی نہ ہوتیں تو چند گھونٹ پانی پی لیا کرتے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1592]
20. الْإِفْطَارُ قَبْلَ الصَّلَاةِ
نماز سے پہلے افطار کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1593
حدثنا أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن يحيى، حدثنا محمد بن إسحاق الإمام، حدثنا زكريا بن يحيى بن أبَان، حدثنا محمد بن عبد العزيز الواسطي، حدثنا شعيب بن إسحاق، حدثنا سعيد بن أبي عَرُوبة، عن قتادة، عن أنس بن مالك: أنَّ النبيَّ ﷺ كان لا يُصلِّي المغرب حتى يُفطِرَ ولو على شَرْبةٍ من ماء (1) .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نمازِ مغرب پڑھنے سے پہلے افطاری ضرور کیا کرتے تھے، اگرچہ پانی کا ایک گھونٹ ہی پیتے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1593]