المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
31. بَيَانُ لَيْلَةِ الْقَدْرِ
لیلۃ القدر کا بیان۔
حدیث نمبر: 1614
حدثني أبو الحسن أحمد بن أبي عثمان الزاهد، حدثنا أبو عبد الله محمد بن بَرَّوَيهِ المؤذن، حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا عبد الله بن إدريس، حدثنا عاصم بن كُلَيب الجَرْمي، عن أبيه، عن ابن عباسٍ قال: كان عمر بن الخطاب يدعوني مع أصحاب محمد ﷺ، ويقول لي: لا تتكلَّم حتى يتكلَّموا، قال: فدعاهم وسألهم عن ليلةِ القَدر، فقال: أرأيتُم قولَ رسول الله ﷺ:"التَمِسوها في العَشْر الأواخر"، أيَّ ليلةٍ تَرَونها؟ قال: فقال بعضُهم: ليلة إحدى، وقال بعضُهم: ليلة ثلاثٍ، وقال آخر: خمسٍ. وأنا ساكتٌ، فقال: ما لَكَ لا تكلَّمُ؟ فقلت: إن أذنتَ لي يا أمير المؤمنين تكلمتُ، قال: فقل، ما أرسلتُ إليك إلَّا لتكلَّمَ، قال: فقلت: أُحدِّثكم برأيٍ؟ قال: عن ذلك نسألك، قال: فقلت: السبع، رأيتُ الله ذَكَرَ سبعَ سماوات، ومن الأرَضِين سبعًا، وخَلَقَ الإنسان من سبعٍ، وبَرَزَ نبتُ الأرض [من سبعٍ] (1) ، قال: فقال: هذا أخبرتَني ما أعلمُ، أرأيتَ ما لا أعلمُ من قولك: نبتُ الأرض سبعٍ؟ قال: قلت: إنَّ الله يقول: ﴿ثُمَّ شَقَقْنَا الْأَرْضَ شَقًّا﴾ إلى قوله: ﴿وَفَاكِهَةً وَأَبًّا﴾ [عبس: 26 - 31] والأبُّ: نبتُ الأرض مما يأكلُه الدوابُّ ولا يأكلُه الناس، قال: فقال عمر: أعَجَزتُم أن تقولوا كما قال هذا الغلام الذي لم تَجتمِعْ شُؤُونُ رأسِه بعدُ؟! إنِّي والله ما أرى القولَ إلَّا كما قلتَ. قال: وقال: قد كنتُ أمرتُك أن لا تَكلَّمَ حتى يتكلَّموا، وإنِّي آمرُكَ أن تتكلَّم معهم (2) . قال ابن إدريس: فحدَّثنا عبدُ الملك عن سعيد بن جُبير عن ابن عباس بمثله (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: مجھے عمر بن خطاب، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم کے اجلاس میں بلایا کرتے تھے اور مجھے کہا کرتے تھے کہ جب تک دوسرے لوگ بات نہ کر لیں تم نے گفتگو نہیں کرنی۔ (ابن عباس رضی اللہ عنہما) فرماتے ہیں: ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بلایا اور ان سے لیلۃ القدر کے بارے میں دریافت کرتے ہوئے فرمایا: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کے متعلق کہ ” تم اس کو آخری عشرے میں تلاش کرو “ تمہارا کیا خیال ہے؟ اس سے مراد کون سی رات ہے؟ (ابن عباس رضی اللہ عنہما) فرماتے ہیں: کچھ لوگوں نے کہا: پہلی رات۔ کچھ نے کہا: تیسری رات۔ ایک نے کہا: پانچویں۔ آپ فرماتے ہیں: میں خاموش بیٹھا ہوا تھا۔ (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے) فرمایا: تمہیں کیا بات ہے؟ تم گفتگو کیوں نہیں کر رہے؟ میں نے جواب دیا: اے امیرالمومنین! آپ جب مجھے اجازت دیں گے میں تب بولوں گا۔ (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے) فرمایا: میں نے آپ کو یہاں پر بولنے کے لیے ہی بلایا ہے۔ (ابن عباس رضی اللہ عنہما) فرماتے ہیں: میں نے کہا: میں تمہیں اپنی رائے بیان کروں گا۔ (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے) فرمایا: ہم وہی تو پوچھ رہے ہیں۔ (ابن عباس رضی اللہ عنہما) فرماتے ہیں: میں نے کہا: ساتویں (شب میں) کیونکہ میں نے دیکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سات آسمانوں اور سات زمینوں کا ذکر کیا ہے۔ اور انسان کو سات دنوں میں پیدا کیا ہے۔ اور زمین بھی بیج کو سات دنوں میں اُگاتی ہے۔ (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ) نے فرمایا: یہ بات جو آپ نے ہمیں بتائی ہے یہ تو ہم جانتے ہیں آپ ہمیں کوئی ایسی بات بتائیں جس کو ہم نہیں جانتے اور آپ نے جو کہا ہے کہ زمین سات دنوں میں بیج اُگاتی ہے اس کا کیا مطلب؟ (ابن عباس رضی اللہ عنہما) فرماتے ہیں: میں نے جواب میں یہ آیات:” شَقَقْنَا الْاَرْضَ شَقًّا “ پڑھنا شروع کیں اور:” وَفَاکِھَۃً وَاَبًّا “ تک پڑھیں، اور ان کو بتایا کہ اس میں ” الاب “ سے مراد زمین کی وہ پیداوار ہے جس کو جانور کھاتے ہیں، انسان نہیں کھاتے۔ (ابن عباس رضی اللہ عنہما) فرماتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے (حاضرین کی جانب متوجہ ہو کر) فرمایا: کیا تم لوگ اس نوجوان کی سی گفتگو کرنے سے عاجز ہو، جس کے سر کے جوڑ بھی ابھی پوری طرح نہیں جمے۔ جبکہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس نے میرے مؤقف کی موافقت میں بات کی ہے۔ (ابن عباس رضی اللہ عنہما) فرماتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تمہیں کہا کرتا تھا کہ جب تک سب لوگ اپنی بات مکمل نہ کر لیں تب تک آپ اپنی بات شروع نہ کریں اور آج میں ہی آپ سے کہہ رہا ہوں کہ آپ ان کی گفتگو میں شامل ہو جایا کریں۔ ٭٭ ابنِ ادریس فرماتے ہیں: عبدالملک نے سعید بن جبیر کے واسطے سے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اسی طرح کی حدیث نقل کی ہے۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1614]
حدیث نمبر: 1615
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو المُثنَّى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا إسماعيل ابن عُليَّة، عن عُيينةَ بن عبد الرحمن، عن أبيه قال: ذُكِرَتْ ليلةُ القدر عند أبي بَكْرةَ فقال: ما أنا بطالبِها إلَّا في العشر الأواخر [بعد حديثٍ سمعتُه من رسول الله ﷺ، سمعتُه يقول:"التَمِسوها في العشر الأواخر] (2) في تسعٍ، أو في سبعٍ يَبْقَينَ، أو في خمسٍ يَبْقَين، أو في ثلاثٍ يَبْقَين، أو في آخر ليلةٍ"، فكان لا يُصلِّي في العشرين إلَّا صلاتَه سائرَ سَنَتِه، فإذا دخل العَشرُ اجتَهَدَ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا عیینہ بن عبدالرحمن رضی اللہ عنہ اپنے والد کا بیان نقل کرتے ہیں کہ میں نے ابوبکرہ کے پاس لیلۃ القدر کا ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا: میں تو اس کو آخری دس (راتوں) میں ڈھونڈتا ہوں، جب 9 راتیں باقی ہوں یا 7 باقی ہوں یا 5 باقی ہوں یا 3 باقی ہوں یا آخری رات میں۔ آپ 20 راتیں تو عام طور عبادت کیا کرتے تھے۔ لیکن جب آخری عشرہ شروع ہوتا تو آپ عبادت بڑھا دیتے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1615]
32. صَوْمُ التَّطَوُّعِ
نفلی روزوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 1616
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَكَّار بن قُتيبة القاضي، حدثنا صفوان بن عيسى القاضي، حدثنا أبو يونس حاتم بن أبي صَغيرة، عن سِمَاك بن حرب، عن أبي صالح، عن أم هانئ: أنَّ رسول الله ﷺ كان يقول:"الصائمُ المتطوِّعُ أميرُ نفسِه، إن شاء صامَ، وإن شاء أفطرَ" (2) .
سیدنا امِ ہانی رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: نفلی روزہ رکھنے والے شخص کو اختیار ہے، وہ چاہے تو روزہ رکھے اور چاہے توڑ دے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1616]
حدیث نمبر: 1617
حدثنا الشيخ الإمام أبو الوليد حسّان بن محمد الفقيه، حدثنا جعفر بن أحمد بن نصر، حدثنا بُنْدار، حدثنا يحيى بن أبي الحَجّاج الخاقاني، حدثنا حاتم بن أبي صَغِيرة، حدثني سِمَاك بن حرب، عن أبي صالح، عن أم هانئ قالت: قال رسول الله ﷺ:"المتطوِّع بالخِيار، إن شاء صامَ، وإن شاء أفطَرَ" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وتلك الأخبارُ المعارِضة لهذا، لم يصحَّ منها شيء.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وتلك الأخبارُ المعارِضة لهذا، لم يصحَّ منها شيء.
سیدنا اُمِ ہانی رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نفلی روزہ رکھنے والے کو اختیار ہے چاہے روزہ پورا کرے اور چاہے توڑ دے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا اور وہ احادیث جو اس کے معارض ہیں ان میں سے کوئی بھی صحیح نہیں ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1617]
33. الِاعْتِكَافُ
اعتکاف کا بیان۔
حدیث نمبر: 1618
أخبرنا إبراهيم العَدْل، حدثنا أبي، حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا محمد بن أبي عَدِي، أخبرنا حُمَيد الطويل، عن أنس بن مالك قال: كان رسولُ الله ﷺ يَعتكِفُ في العَشْر الأواخر من رمضان، فلم يَعتكِفْ عامًا، فلما كان العامُ المقبِلُ اعتَكَفَ عشرين (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ صحيح:
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ صحيح:
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان المبارک کے آخری دس دن اعتکاف کیا کرتے تھے۔ پھر ایک سال اعتکاف نہ کر سکے تو اگلے سال بیس دن کا اعتکاف کیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ اور ایک صحیح حدیث اس کی شاہد موجود ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1618]
حدیث نمبر: 1619
حدَّثَناه أبو النَّضر الفقيه، حدثنا عثمان بن سعيد الدّارمي، حدثنا سَهْل بن بَكَّار وموسى بن إسماعيل، قالا: حدثنا حماد بن سَلَمة، عن ثابت، عن أبي رافع، عن أُبي بن كعب: أنَّ النبي ﷺ كان يَعتَكفُ العشرَ الأواخرَ من رمضان، فسافر عامًا فلم يَعتكِف، واعتَكَفَ من العام المُقبِل عشرين ليلةً (2) .
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کیا کرتے تھے۔ ایک سال آپ سفر میں تھے جس کی وجہ سے اعکتاف نہ کر سکے، اس لیے اگلے سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے 20 دن کا اعتکاف کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1619]
حدیث نمبر: 1620
أخبرنا أبو الحسن أحمد بن محبوب الرَّمْلي بمكة، حدثنا عبد الله بن محمد بن نصر الرَّمْلي، حدثنا محمد بن أبي عمر العَدَني، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن أبي سُهيل بن مالك، عن طاووس، عن ابن عباس، أنَّ النبي ﷺ قال:"ليس على المُعتكِفِ صيامٌ إلَّا أن يَجعَلَه على نفسِه" (1) .
هذا حديثٌ صحيح الإسناد على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. ولفُقهاء أهل الكوفة في ضِدِّ
هذا حديثان أَذكُرُهما، وإن كانا لا يقاومان هذا الخبر في عدالة الرُّواة: الحديث الأول:
هذا حديثٌ صحيح الإسناد على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. ولفُقهاء أهل الكوفة في ضِدِّ
هذا حديثان أَذكُرُهما، وإن كانا لا يقاومان هذا الخبر في عدالة الرُّواة: الحديث الأول:
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: معتکف پر روزہ لازم نہیں ہے الّا یہ کہ وہ خود اپنے اوپر لازم کر لیتا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا اور اس کے مقابلے میں فقہاء اہل کوفہ سے دو حدیثیں مروی ہیں، ان کا بھی میں ذکر کروں گا اگرچہ وہ دونوں حدیثیں راویوں کی عدالت کے حوالے سے اس کے برابر کی نہیں ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1620]
حدیث نمبر: 1621
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن سِنان القَزَّاز، حدثنا أبو علي الحنفي، حدثنا عبد الله بن بُدَيل عن عمرو بن دينار، عن ابن عمر: أنَّ عمرَ نَذَرَ في الجاهلية أن يَعتكِفَ يومًا، فسأل النبيَّ ﷺ، فقال النبيُّ ﷺ:"اعتَكِفْ، وصُمْ يومًا" (1) . الحديث الثاني:
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے زمانہ جاہلیت میں ایک دن کے اعتکاف کی نذر مانی تھی۔ پھر انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو آپ نے فرمایا: ایک دن کا اعتکاف کر لو اور اسی دن کا روزہ رکھ لو۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1621]
حدیث نمبر: 1622
حدَّثَناه أبو علي الحسين بن عليٍّ الحافظ، حدثنا أحمد بن عُمَير الدمشقي، حدثنا محمد بن هاشم، حدثنا سُوَيد بن عبد العزيز، حدثنا سفيان بن حسين، عن الزُّهري، عن عُرْوة، عن عائشة، أنَّ نبيَّ الله ﷺ قال:"لا اعتكافَ إلَّا بصيامٍ" (2) . لم يحتجَّ الشيخان بسفيان بن حسين (1) وعبد الله بن بُدَيل.
اُم المومنین سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: روزے کے بغیر اعتکاف نہیں ہوتا۔ ٭٭ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے سفیان بن حسین اور عبداللہ بن یزید کی روایات نقل نہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1622]
حدیث نمبر: 1623
أخبرنا أبو القاسم عبد الرحمن بن الحسن القاضي، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا آدم بن أبي إياس، حدثنا وَرْقاء، عن ابن أبي نَجِيح، عن عمرو بن دينار، عن عطاء، عن ابن عباس: ﴿وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ﴾ واحدٍ ﴿فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا﴾ قال: زاد مسكينًا آخرَ ﴿فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ﴾، وليست بمنسوخة، إلَّا أنه قد وُضِعَ للشيخ الكبير الذي لا يستطيع الصِّيام، وأُمِر أن يُطعِمَ الذي يَعلَم أنه لا يطيقُه (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ” جو شخص استطاعت رکھتا ہو اس کے ذمہ ایک مسکین کا فدیہ ہے اور جو شخص اپنی خوشی سے زیادہ دینا چاہے وہ مزید ایک مسکین بڑھا لے تو یہ اس کے لیے اور بھی بہتر ہے۔ اور یہ حکم منسوخ نہیں ہے۔ بلکہ یہ حکم اس بوڑھے شخص کے لیے رکھا گیا ہے جو خود روزہ رکھنے کی استطاعت نہیں رکھتا اور یہ کھانا کھلانے کا حکم اس شخص کے لیے جو جانتا ہے کہ وہ روزہ طاقت نہیں رکھتا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1623]