المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
21. الصَّوْمُ فِي السَّفَرِ
سفر میں روزہ رکھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1594
حدثنا أبو أحمد بكر بن محمد الصَّيْرفي بمَرْو من أصل كتابه، حدثنا عبد الصمد بن الفضل وإسحاق بن الهَيّاج، قالا: حدثنا محمد بن نُعَيم السَّعْدي، حدثنا مالك بن أنس، عن سُمَيٍّ، عن أبي صالح، عن أبي هريرةَ قال: رأيتُ رسولَ الله ﷺ بالعَرْج يَصُبُّ على رأسه الماءَ من الحَرِّ وهو صائم (2) .
هذا حديث له أصل في"الموطأ"، فإن كان محمد بن نُعَيم السَّعْدي حَفِظَه هكذا فإنه صحيح على شرط الشيخين.
هذا حديث له أصل في"الموطأ"، فإن كان محمد بن نُعَيم السَّعْدي حَفِظَه هكذا فإنه صحيح على شرط الشيخين.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو (مکہ اور مدینہ کے درمیان مقام) عرج میں، روزہ کی حالت میں دوپہر کے وقت، گرمی کی شدت کی وجہ سے اپنے سر پر پانی بہاتے دیکھا ہے۔ ٭٭ اس حدیث کی اصل مؤطا میں موجود ہے۔ چنانچہ اگر محمد بن نعیم السعدی نے اس حدیث کو ایسے ہی محفوظ کیا ہے تو پھر امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1594]
حدیث نمبر: 1595
فقد أخبرَناه أبو بكر بن أبي نَصْر المَرْوزي، حدثنا أحمد بن محمد بن عيسى، حدثنا القَعْنبي، فيما قرأَ على مالك، عن سُمَيٍّ مولى أبي بكر، عن أبي بكر بن عبد الرحمن، عن بعض أصحاب النبي ﷺ قال: رأيتُ رسولَ الله ﷺ أمَرَ الناس في سَفَرِه بالفطر عامَ الفتح، وقال:"تقوَّوا لِعدوِّكم"، وصام رسول الله ﷺ. قال أبو بكر بن عبد الرحمن: وقال الذي حدَّثني: لقد رأيتُ رسول الله ﷺ بالعَرْج يَصبُّ على رأسه الماءَ وهو صائمٌ من العَطَش، أو قال: من الحَرِّ (1) .
سیدنا ابوبکر بن عبدالرحمن رضی اللہ عنہ ایک صحابی کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ میں نے دیکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ والے سال لوگوں کو حالتِ سفر میں روزہ چھوڑنے کا حکم دیا اور فرمایا: اپنے دشمن کے لیے طاقتور رہو۔ جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بذاتِ خود روزہ رکھا تھا۔ ابوبکر بن عبدالرحمن فرماتے ہیں: جس شخص نے مجھے یہ حدیث سنائی ہے اس کا کہنا ہے کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو (مکہ اور مدینہ کے درمیان مقامِ) عرج میں شدتِ پیاس یا (شاید یہ کہا) گرمی کی وجہ سے دوپہر کے وقت روزہ کی حالت میں اپنے اوپر پانی بہاتے دیکھا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1595]
22. لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ الصِّيَامُ فِي السَّفَرِ
سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 1596
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، حدثنا بِشْر بن موسى، حدثنا الحُميديّ، حدثنا سفيان، قال: سمعتُ الزُّهريّ يقول: أخبرني صفوان بن عبد الله بن صفوان، عن أم الدرداء (2) ، عن كعب بن عاصم الأشعري، أنَّ النبي ﷺ قال:"ليس من البرِّ الصيامُ في السَّفر" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد اتفق الشيخان على حديث حمزة بن عمرو الأسْلَمي، فأخرجاه من حديث هشام بن عُرْوة عن أبيه عن عائشة: أنَّ حمزة … (1) . وله رواية مفسَّرة من حديث أولاد حمزةَ بن عمرٍو، ولم يُخرجاه:
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد اتفق الشيخان على حديث حمزة بن عمرو الأسْلَمي، فأخرجاه من حديث هشام بن عُرْوة عن أبيه عن عائشة: أنَّ حمزة … (1) . وله رواية مفسَّرة من حديث أولاد حمزةَ بن عمرٍو، ولم يُخرجاه:
سیدنا کعب بن عاصم الاشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: حالتِ سفر میں روزہ رکھنا کوئی (زیادہ) نیکی نہیں ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا، جبکہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں نے حمزہ بن عمرواسلمی کی روایات نقل کی ہیں۔ تاہم شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے ہشام بن عروہ پھر ان کی والدہ پھر اُمّ المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کا بیان نقل کیا ہے۔ اور ان کی ایک دوسری روایت بھی موجود ہے جو اس سے بھی مفسر ہے اور اس کی سند حمزہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی اولادوں کے حوالے سے بیان کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1596]
23. إِجَازَةُ الصَّوْمِ فِي السَّفَرِ
سفر میں روزہ رکھنے کی اجازت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1597
أخبرَناه أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثقفي، حدثنا أبو شعيب عبد الله بن الحسن الحَرَّاني، حدثنا عبد الله بن محمد النُّفَيلي، حدثنا محمد بن عبد المجيد المَدِيني، قال: سمعت حمزة بن محمد بن حمزة بن عمرو الأسْلَمي يَذكُر أنَّ أباه أخبره، عن جدِّه حمزة بن عمرو قال: قلتُ: يا رسول الله، إنِّي صاحب ظَهْرٍ أُعالِجُه، أُسافر عليه وأَكْرِيهِ، وإنه ربما صادَفَني هذا الشهرُ - يعني شهرَ رمضان - وأنا أجدُ القُوَّة، وأنا شابٌّ، وأجِدُني أن أصومَ يا رسول الله أهونُ عليَّ من أن أُؤخِّرَه فيكونَ دَينًا، أفأصومُ يا رسول الله أعظمُ لأجري أو أُفطِر؟ قال:"أيَّ ذلك شئتَ يا حمزة" (2) .
سیدنا حمزہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے پاس ایک مال بردار اونٹ ہے، جس کی میں مشق کراتا رہتا ہوں، میں خود بھی اس پر سفر کرتا ہوں اور اسے کرایہ پر بھی دیتا ہوں۔ اور کئی مرتبہ ماہِ رمضان المبارک میں بھی سفر کا اتفاق ہو جاتا ہے، میں طاقت رکھتا ہوں اور میں جوان بھی ہوں اور میں یہ بھی محسوس کرتا ہوں کہ روزہ چھوڑنے اور اپنے ذمہ اس کا بوجھ رکھنے کی بجائے روزہ رکھنا میرے لیے زیادہ آسان ہے، تو یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا میرا روزہ رکھنا زیادہ اجر کا باعث ہے یا روزہ چھوڑنا؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا: اے حمزہ! تم جیسے چاہو، اسی طرح کر لو۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1597]
حدیث نمبر: 1598
أخبرني عبد الله بن الحسين القاضي بمَرْو، حدثنا الحارث بن أبي أسامة، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا حماد بن سلمة، عن أبي الزُّبير، عن جابر: أنَّ النبي ﷺ سافَرَ في رمضان، فاشتدَّ الصوم على رجل من أصحابه، فجعلت راحلتُه تَهِيمُ به تحت الشجرة، فأُخبِر النبيُّ ﷺ بأمرِه، فأَمَرَه أن يُفطِر، ثم دعا النبيُّ ﷺ بإناءٍ فوَضَعَه على يده، ثم شَرِبَ والناسُ ينظرون (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ رمضان میں سفر پر تھے تو آپ کے اصحاب میں سے ایک شخص کو روزے کی بہت شدت محسوس ہوئی تو اس کی سواری ایک درخت کے نیچے تھک کر بیٹھ گئی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس معاملہ کی اطلاع دی۔ تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو روزہ چھورنے کا حکم دیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک برتن منگوا کر اس کو تھمایا، اس شخص نے پانی پیا اور لوگ اس کو دیکھ رہے تھے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1598]
حدیث نمبر: 1599
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الحسن بن علي بن عفَّان العامِري، حدثنا أبو داود عمر بن سعد، حدثنا سفيان الثَّوري، عن الأوزاعي، عن يحيى بن أبي كثير، عن أبي سَلَمة، عن أبي هريرة قال: كنّا مع رسول الله ﷺ بمَرِّ الظَّهْران، فأُتي بطعام، فقال لأبي بكر وعمر:"ادنُوا فَكُلَا"، فقالا: إنّا صائمان، فقال رسول الله ﷺ:"اعملوا لصاحِبَيكم، ارحَلُوا لصاحِبَيكم! ادنُوَا فكُلا" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ (مکہ کے ایک قریبی علاقہ) ” مرالظہران “ میں تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں کچھ طعام پیش کیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تم میرے قریب آؤ اور یہ کھاؤ۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم تو روزے سے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے ساتھی کے لیے عمل کرو اور اپنے ساتھی کے لیے سفر کرو، آؤ میرے قریب آؤ اور کھاؤ۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1599]
حدیث نمبر: 1600
حدثنا أبو علي الحسين بن علي الحافظ، أخبرنا عَبْدان الأهوازيّ، حدثنا محمد بن أبي صفوان الثَّقَفي، حدثنا عبد الرحمن بن مَهدي، حدثنا سفيان، عن أبي حازم، عن سَهْل بن سعدٍ قال: قال رسول الله ﷺ:"لا تزالُ أُمتي على سُنّتي ما لم تنتظرْ بفِطْرها النُّجومَ"، وكان النبيُّ ﷺ إذا كان صائمًا أمَرَ رجلًا، فأَوفَى على نَشَزٍ، فإذا قال: قد غابتِ الشمسُ، أفطَرَ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة، إنما خرَّجا بهذا الإسناد للثَّوري:"لا يزالُ الناس بخير ما عجَّلوا الفطرَ"، فقط (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة، إنما خرَّجا بهذا الإسناد للثَّوري:"لا يزالُ الناس بخير ما عجَّلوا الفطرَ"، فقط (2) .
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میری امت اس وقت تک میری سنت پر قائم رہے گی جب تک روزہ افطار کرنے میں ستاروں کا انتظار نہیں کرے گی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب روزہ رکھتے تو (شام کے وقت) ایک شخص صلی اللہ علیہ وسلم کو بلند جگہ پر بٹھا دیتے جب وہ کہتا کہ سورج غروب ہو گیا ہے تو آپ روزہ افطار کر لیتے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے اس سند کے ہمراہ نقل نہیں کیا بلکہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں نے اس اسناد کے ہمراہ ثوری کے حوالے سے یہ حدیث نقل کی ہے ” لوگ اس وقت تک بھلائی پر رہیں گے جب تک روزہ افطار کرنے میں جلدی کریں گے۔ “ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1600]
24. صَوْمُ شَعْبَانَ
شعبان کے مہینے کے روزوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 1601
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحْر بن نَصْر، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني معاوية بن صالح، أنَّ عبد الله بن أبي قيس حدثه، أنه سمع عائشة تقول: كان أحبَّ الشُّهور إلى رسول الله ﷺ أن يصومَه، شعبانُ، ثم يَصِلُه برمضان (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
اُمّ المومنین سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو روزے رکھنے کے حوالے سے شعبان کا مہینہ سب سے زیادہ پسند تھا اور پھر اس کے ساتھ متصل ہی رمضان کے روزے رکھتے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1601]
25. مَنْعُ صِيَامِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ وَيَوْمِ النَّحْرِ
ایامِ تشریق اور یومِ نحر کے روزے رکھنے کی ممانعت۔
حدیث نمبر: 1602
أخبرنا عبد الله بن محمد بن إسحاق الفاكِهِي بمكة، حدثنا أبو يحيى بن أبي مَسَرَّة، حدثنا عبد الله بن يزيد المُقرئ، حدثنا موسى بن علي بن رَبَاح، عن أبيه، عن عُقْبة بن عامر قال: قال رسول الله ﷺ:"يومُ عَرفةَ ويومُ النَّحر وأيامُ التَّشريق عيدُنا أهلَ الإسلام، وهُنَّ أيامُ أكلٍ وشُرب" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عرفہ کا دن، قربانی کا دن اور ایام تشریق ہم مسلمانوں کے لیے عید کے دن ہیں۔ اور یہ کھانے پینے کے دن ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1602]
حدیث نمبر: 1603
أخبرنا أبو عمرو عثمان بن أحمد بن السَّمَّاك ببغداد، حدثنا يحيى بن جعفر بن الزِّبْرِقان، حدثنا أبو داود الطَّيالسي، حدثنا حَوْشَبُ بن عَقِيل، حدثنا مَهْديّ بن حسان العَبْدي، عن عِكْرِمة، عن أبي هريرةَ قال: نهى رسولُ الله ﷺ عن صومِ يومِ عَرَفةَ بعَرَفات (1) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفات میں عرفہ کا روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1603]