المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
25. مَنْعُ صِيَامِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ وَيَوْمِ النَّحْرِ
ایامِ تشریق اور یومِ نحر کے روزے رکھنے کی ممانعت۔
حدیث نمبر: 1604
أخبرني يوسف بن يعقوب العدل، حدثنا أحمد بن محمد بن نَصْر، حدثنا أحمد بن محمد بن حنبل، حدثنا عبد الأعلى بن عبد الأعلى، حدثنا محمد بن إسحاق، عن حَكِيم بن حَكِيم بن عبَّاد بن حُنَيف، عن مسعود بن الحَكَم الزُّرَقي، عن أمه أنها حدثته قالت: كأني أنظرُ إلى علي بن أبي طالب على بغلة رسولِ الله ﷺ البيضاءِ في شِعْبِ الأنصار، وهو يقول: أيها الناس، إنَّ رسول الله ﷺ قال:"إنَّها ليست أيامَ صيامٍ، إنها أيامُ أكلٍ وشُربٍ وذِكْرٍ" (2)
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ صحيح:
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ صحيح:
سیدنا مسعود بن حکم زرقی رضی اللہ عنہ اپنی والدہ کا بیان نقل کرتے ہیں کہ وہ فرماتی ہیں: میں سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو گویا دیکھ رہی ہوں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خچر پر سوار انصار کے قبیلے میں یہ منادی کر رہے تھے: اے لوگو! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: یہ دن روزے کے دن نہیں ہیں بلکہ یہ کھانے پینے اور ذکرِ الٰہی کے دن ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ اور ایک صحیح حدیث اس کی شاہد بھی ہے۔ (جو کہ درج ذیل ہے)۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1604]
حدیث نمبر: 1605
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا الرَّبيع بن سُليمان، أخبرنا الشافعي، أخبرنا مالك. وأخبرني أبو بكر بن أبي نَصْر المَرْوزي، حدثنا أحمد بن محمد بن عيسى القاضي، حدثنا القَعْنَبي فيما قرأَ على مالك، عن يزيد بن الهاد، عن أبي مُرَّةَ مولى أُم هانئ: أنه دخل مع عبد الله بن عمرٍو على أبيه عمرو بن العاص، فقرَّب إليهما طعامًا، فقال: كُلْ، فقال: إنِّي صائم، فقال عمرو: كُلْ، فهذه الأيامُ التي كان رسول الله ﷺ يأمُرُنا بإفطارِها وينهانا عن صيامِها. قال مالك: وهُنَّ أيامُ التشريق (1) .
سیدنا اُمّ ہانی رضی اللہ عنہا کے غلام ابومرّہ فرماتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ، ان کے والد عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو انہوں نے ان کے لیے کھانا پیش کیا اور کہا: کھائیے! انہوں نے جواب دیا: میں روزے سے ہوں، تو سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے کہا: کھا لو، کیونکہ ان دنوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں روزہ رکھنے سے منع کیا کرتے تھے۔ امام مالک فرماتے ہیں: یہ ایام تشریق کی بات ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1605]
26. النَّهْيُ عَنْ صَوْمِ الدَّهْرِ
ہمیشہ (سارا سال) روزہ رکھنے کی ممانعت۔
حدیث نمبر: 1606
أخبرني أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي، حدثنا سعيد بن مسعود. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثنا أبي، قال: حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا شعبة، عن قَتادة، عن مُطرِّف، عن أبيه: أنَّ النبيَّ ﷺ قال:"مَن صامَ الدَّهرَ ما صامَ وما أفطَرَ"، أو"لا صامَ ولا أفطَرَ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين. وشاهدُه على شرطهما صحيحٌ، ولم يُخرجاه (2) :
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين. وشاهدُه على شرطهما صحيحٌ، ولم يُخرجاه (2) :
مطرف اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس شخص نے ” دہر “ (یعنی ہمیشہ) کے روزے رکھے اس نے نہ روزہ رکھا اور نہ افطار کیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ اور اس کی ایک شاہد حدیث بھی موجود ہے جو کہ شیخین رحمۃ اللہ علیہما کے معیار پر ہے (جو کہ درجِ ذیل ہے)۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1606]
حدیث نمبر: 1607
أخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا إسماعيل - وهو ابن عُلَيَّة - عن سعيد بن إياس الجُرَيْري، عن يزيد بن عبد الله بن الشِّخِّير، عن مُطَرِّف، عن عِمْران بن حُصَين قال: قيلَ لرسول الله ﷺ: إنَّ فلانًا لا يُفطِرُ نهارَ الدَّهر، قال:"لا صامَ ولا أفطَرَ" (1) .
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی گئی کہ فلاں شخص کسی دن بھی روزہ نہیں چھوڑتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہ اس کا روزہ ہے نہ افطار۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1607]
27. النَّهْيُ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ السَّبْتِ
ہفتہ کے دن روزہ رکھنے کی ممانعت۔
حدیث نمبر: 1608
أخبرني أبو حُمَيد أحمد بن محمد بن حامد العدلُ بالطَّابَرَان، حدثنا إبراهيم بن إسماعيل العَنْبري، حدثنا صفوان بن صالح، حدثنا الوليد بن مسلم، عن ثَوْر بن يزيد، عن خالد بن مَعْدان، عن عبد الله بن بُسْر السُّلَمي، عن أخته الصَّمَّاء، أنَّ النبيَّ ﷺ قال:"لا تصوموا يوم السبت إلَّا فيما افتُرِضَ عليكم، وإن لم يَجِدْ أحدُكم إلَّا لِحَاءَ عِنَبةٍ أو عُودَ شجرةٍ فليَمْضَغْها" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه. وله معارضٌ بإسناد صحيح وقد أخرجاه؛ حديثُ همام، عن قتادة، عن أبي أيوب العَتَكي، عن جُوَيرِيَة بنت الحارث: أنَّ النبي ﷺ دخل عليها يومَ الجمعة وهي صائمة، فقال:"صُمْتِ أمسِ؟" قالت: لا، قال:"فتُريدينَ أن تَصُومي غدًا؟"، الحديث (1) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه. وله معارضٌ بإسناد صحيح وقد أخرجاه؛ حديثُ همام، عن قتادة، عن أبي أيوب العَتَكي، عن جُوَيرِيَة بنت الحارث: أنَّ النبي ﷺ دخل عليها يومَ الجمعة وهي صائمة، فقال:"صُمْتِ أمسِ؟" قالت: لا، قال:"فتُريدينَ أن تَصُومي غدًا؟"، الحديث (1) .
سیدنا عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کی بہن سیدنا صماء رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہفتہ کے دن فرض روزے کے علاوہ اور کوئی روزہ مت رکھو۔ (اس دن کھانے کے لیے) انگور کی بیل کے چھلکوں کے سوا یا کسی درخت کی چھال کے سوا اور کوئی چیز میسر نہ ہو تو یہی چبا لو۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ اور سند صحیح کے ہمراہ اس کی ایک معارض حدیث بھی موجود ہے (جو کہ درجِ ذیل ہے) اس کو امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے ہمام کی سند کے ہمراہ قتادہ کے واسطے سے ابوایوب عتکی سے یوں روایت کیا ہے: جویریہ بنت حارث کہتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن ان کے پاس آئے، اس دن وہ روزہ دار تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تو نے کل روزہ رکھا تھا؟ انہوں نے جواب دیا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: تو کیا تم کل روزہ رکھنے کا ارادہ رکھتی ہو؟ (اس کے بعد پوری حدیث بیان کی)۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1608]
حدیث نمبر: 1609
فحدَّثَني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا محمد بن إسماعيل بن مِهْران، حدثنا عبد الملك بن شعيب بن الليث، حدثنا ابن وَهْب، قال: سمعتُ الليث يحدِّث عن ابن شهابٍ: أنه كان إذا ذُكِر له أنه نُهِيَ (2) عن صيام يوم السبت، قال:
هذا حديثٌ حمصي (3) . وله مُعارِضٌ بإسنادٍ صحيح:
هذا حديثٌ حمصي (3) . وله مُعارِضٌ بإسنادٍ صحيح:
(امام حاکم فرماتے ہیں) محمد بن صالح بن ہانی نے اپنی سند کے ہمراہ لیث کا یہ بیان نقل کیا ہے: کہ جب کبھی ابنِ شہاب کے پاس یہ تذکرہ کیا جاتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہفتہ کے دن روزہ رکھنے سے منع کیا ہے تو فرماتے: یہ حمصی حدیث ہے اور اسناد صحیح کے ہمراہ اس کی ایک معارض حدیث بھی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1609]
28. تَرْغِيبُ صِيَامِ يَوْمِ السَّبْتِ وَالْأَحَدِ
ہفتہ اور اتوار کے دن روزہ رکھنے کی ترغیب۔
حدیث نمبر: 1610
أخبرَناه الحسن بن حَلِيم المَرْوَزي، أخبرنا أبو المُوَجِّه، أخبرنا عَبْدان، أخبرنا عبد الله، أخبرنا عبد الله بن محمد بن عمر بن علي، عن أبيه، أنَّ كُرَيبًا مولى ابن عباس أخبره: أنَّ ابن عباس وناسًا من أصحاب الرسول ﷺ بَعَثُوني إلى أم سلمةَ أسألُها عن أيِّ الأيام كان رسولُ الله ﷺ أكثرَ لها صيامًا؟ فقالت: يومُ السبت والأحد، فرجعتُ إليهم فأخبرتُهم، فكأنَّهم أنكروا ذلك، فقاموا بأجمَعِهم إليها، فقالوا: إنّا بَعثْنا إليكِ هذا في كذا وكذا، فذَكَرَ أنكِ قلتِ كذا وكذا، فقالت: صَدَقَ، إنَّ رسول الله ﷺ أكثرُ ما كان يصومُ من الأيام يومُ السبت والأحد، وكان يقول:"إنَّهما يومانِ عيدٌ للمشركين (4) ، وأنا أُريدُ أن أُخالِفَهم" (5) .
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام ” کریب “ بیان کرتے ہیں: سیدنا (عبداللہ) ابن عباس رضی اللہ عنہما اور کچھ دیگر اصحابِ رسول نے ان کو اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا تاکہ میں ان سے یہ بات پوچھ کر آؤں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کون سے دنوں میں زیادہ روزے رکھا کرتے تھے؟ (میں نے جا کر ان سے پوچھا: تو) انہوں نے جواب دیا: ہفتے اور اتوار کے دن (آپ زیادہ تر روزہ رکھا کرتے تھے) میں نے واپس آ کر ان کو یہ بات بتائی تو انہوں نے اس بات کو تسلیم نہ کیا اور پھر وہ سب اکٹھے اُمّ المومنین اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آ گئے اور عرض کی کہ ہم نے اس شخص کو آپ کے پاس فلاں بات پوچھنے کے لیے بھیجا تھا تو آپ نے اس کو فلاں جواب دیا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ اس نے سچ کہا: بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر طور پر ہفتہ اور اتوار کے دن روزہ رکھا کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ یہ دونوں دن مشرکوں کی عید کے دن ہیں، میں چاہتا ہوں کہ ان کی مخالفت کروں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1610]
29. لَا تَصُومُ امْرَأَةٌ إِلَّا بِإِذْنِ زَوْجِهَا
عورت اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر روزہ نہ رکھے۔
حدیث نمبر: 1611
حدثني علي بن حَمْشاذَ العدلُ، حدثنا مُسدَّد بن قَطَن، حدثنا عثمان بن أبي شيبة، حدثنا جَرِير، عن الأعمش، عن أبي صالح، عن أبي سعيدٍ، قال: جاءت امرأةٌ إلى النبي ﷺ ونحن عندَه، فقالت: يا رسول الله، إنَّ زوجي صفوانَ بنَ المُعَطَّل يَضربُني إذا صليتُ، ويُفطِّرُني إذا صُمتُ، ولا يصلِّي صلاةَ الفجر حتى تطلُعَ الشمس، قال: وصفوانُ عندَه، قال: فسألَه عمَّا قالت، فقال: يا رسولَ الله، أمّا قولها: يَضربُني إذا صليتُ، فإنها تقرأُ سورتين نهيتُها عنهما، وقلت: لو كان سورةً واحدةً لكَفَتِ الناس، وأما قولها: يُفطِّرني إذا صمتُ، فإنها تنطلقُ فتصومُ وأنا رجلٌ شابٌّ فلا أصبِر، فقال رسولُ الله ﷺ يومئذٍ:"لا تصومُ امرأةٌ إلَّا بإذنِ زوجها"، وأما قولُها: بأنِّي لا أصلِّي حتى تَطلُعَ الشمس، فإنَّا أهلُ بيتٍ قد عُرِفَ لنا ذاك، لا نكادُ نَستيقظُ حتى تطلع الشمس، قال:"فإذا استَيقظتَ فصَلِّ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: (ایک دفعہ) ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ ایک خاتون آپ کے پاس آئی اور عرض کرنے لگی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرا شوہر صفوان بن المعطل رضی اللہ عنہ ہے۔ میں نماز پڑھوں تو یہ مجھے مارتا ہے اور جب میں روزہ رکھوں تو یہ میرا روزہ چھڑوا دیتا ہے۔ اور یہ نمازِ فجر بھی طلوع آفتاب کے بعد پڑھتا ہے۔ (ابوسعید) فرماتے ہیں: اس وقت صفوان رضی اللہ عنہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے۔ آپ علیہ السلام نے ان سے اس خاتون کی شکایت کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے جواب دیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! جہاں تک اس کی اس بات کا تعلق ہے کہ جب یہ نماز پڑھتی ہے تو میں اسے مارتا ہوں (اس کی وجہ یہ ہے کہ) یہ دو سورتیں پڑھتی ہے اور میں اس کو اس کام سے منع کرتا ہوں کیونکہ میرا کہنا یہ ہے: اگر سورۃ ایک بھی ہو تو وہ کافی ہے۔ اور جہاں تک اس کے اس اعتراض کا تعلق ہے کہ یہ جب روزہ رکھتی ہے تو میں اس کا روزہ ختم کروا دیتا ہوں (تو اس کی وجہ یہ ہے کہ) میں جوان آدمی ہوں، مجھ سے رہا نہیں جاتا۔ اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی عورت اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر (نفلی) روزے نہ رکھے۔ اور جہاں تک اس کے اس اعتراض کا تعلق ہے کہ میں طلوع آفتاب کے بعد نمازِ فجر پڑھتا ہوں۔ (تو اس کی وجہ یہ ہے کہ) میرا تعلق ایسے خاندان سے ہے جن کے بارے میں مشہور ہے (کہ یہ لوگ دیر سے اٹھتے ہیں) طلوع آفتاب سے پہلے میری آنکھ ہی نہیں کھلتی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (ٹھیک ہے) جب سو کر اٹھو تو اس وقت نماز پڑھ لیا کرو۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1611]
30. وَجْهُ النَّهْيِ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ
جمعہ کے دن روزہ رکھنے کی ممانعت کی وجہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 1612
أخبرنا أبو الفضل الحسن بن يعقوب العدل، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا زيد بن الحُباب، حدثنا معاوية بن صالح. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا عبد الرحمن - وهو ابن مَهْدي - عن معاوية بن صالح، عن أبي بِشْر، عن عامر بن لُدَين الأشعري، أنه سمع أبا هريرة يقول: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"يوم الجمعة عيدٌ، فلا تجعلوا يومَ عيدِكم يومَ صيامِكم، إلَّا أن تصوموا قبلَه أو بعدَه" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، إلَّا أنَّ أبا بِشْر هذا لم أقف على اسمه، وليس ببَيانِ بن بِشْر ولا بجعفر بن أبي وَحْشِيَّة، والله أعلم (1) . وشاهدُ هذا بغير هذا اللفظ مخرَّج في الكتابين (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، إلَّا أنَّ أبا بِشْر هذا لم أقف على اسمه، وليس ببَيانِ بن بِشْر ولا بجعفر بن أبي وَحْشِيَّة، والله أعلم (1) . وشاهدُ هذا بغير هذا اللفظ مخرَّج في الكتابين (2) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جمعہ کا دن عید کا دن ہے۔ اس لیے اپنی عید کے دن کو روزہ کا دن مت بناؤ۔ البتہ اس کے بعد یا پہلے بھی روزہ رکھو (تو ٹھیک ہے)۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اس کی سند میں جو ابوبشر ہیں مجھے ان کا نام معلوم نہیں ہے کیونکہ یہ نہ تو ” بیان بن بشر “ ہیں اور نہ ہی ” جعفر بن ابی وحشیہ “ ہیں۔ واللہ اعلم۔ مذکورہ حدیث کی ایک شاہد حدیث ہے جس کو بخاری اور مسلم میں نقل کیا گیا ہے تاہم اس کے الفاظ کچھ مختلف ہیں۔ (وہ حدیث درج ذیل ہے)۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1612]
31. بَيَانُ لَيْلَةِ الْقَدْرِ
لیلۃ القدر کا بیان۔
حدیث نمبر: 1613
حدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا موسى بن الحسن بن عبَّاد ومحمد بن غالب بن حَرْب، قالا: حدثنا أبو حذيفة، حدثنا عِكْرِمة بن عمَّار. وأخبرني أبو يحيى أحمد بن محمد السَّمَرْقَنْدي، حدثنا محمد بن نصر، حدثنا محمد بن المثنَّى، حدثنا عبد الرحمن بن مَهدي، حدثنا عِكرِمة بن عمَّار، عن سِمَاك الحَنَفي، حدثني مالك بن مَرْثَد، عن أبيه قال: سألتُ أبا ذرٍّ فقلت: أسألتَ رسولَ الله ﷺ عن ليلة القَدْر؟ فقال: أنا كنت أسألَ الناسِ عنها، قال: قلت: يا رسولَ الله (3) ، أخبِرْني عن ليلة القَدْر، أفي رمضانَ، أو في غيره؟ قال:"بل هي في رمضانَ"، قال: قلت: يا رسولَ الله، تكونُ مع الأنبياء ما كانوا، فإذا قُبِضَ الأنبياءُ رُفِعَتْ، أم هي إلى يوم القيامة؟ قال:"بل هيَ إلى يوم القيامة"، قال: فقلت: يا رسولَ الله، في أيِّ رمضانَ هي؟ قال:"التَمِسوها في العَشْرِ الأُوَلِ والعَشْرِ الأواخرِ". قال: ثم حدَّث رسولُ الله ﷺ وحدَّث، فاهتَبَلتُ غَفْلتَه فقلت: يا رسولَ الله، في أيِّ العِشرينَ؟ قال:"التَمِسوها في العَشْر الأَواخِر، لا تسألْني عن شيءٍ بعدها"، ثم حدَّث رسول الله ﷺ وحدّث، فاهتَبَلتُ غَفْلتَه فقلت: يا رسولَ الله، أقسمتُ عليك لتُخبِرَنِّي - أو لمَا أخبَرْتَني - في أي العَشْر هي؟ قال: فغضِبَ عليَّ غضبًا ما غضِبَ عليَّ مثلَه قبلَه ولا بعده، فقال:"إنَّ الله لو شاء لأطلَعَكم عليها، التَمِسوها في السَّبع الأواخر" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا مالک بن مرثد رضی اللہ عنہ اپنے والد کا بیان نقل کرتے ہیں: (وہ فرماتے ہیں) میں نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا تم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے لیلۃ القدر کے متعلق پوچھا تھا؟ انہوں نے جواب دیا: میں اس کے متعلق سب لوگوں سے زیادہ پوچھا کرتا تھا۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے بتائیے کہ لیلۃ القدر رمضان المبارک میں ہوتی ہے یا کسی اور مہینے میں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ رمضان المبارک میں ہوتی ہے۔ میں نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ خاص طور پر انبیاء کرام علیہم السلام کی حیات تک ہی ہوتی ہے اور جب وہ وفات پا جاتے ہیں تو اس کو اٹھا لیا جاتا ہے یا یہ قیامت تک رہے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (انبیاء کرام کی حیات تک محدود نہیں ہوتی) بلکہ قیامت تک رہے گی۔ آپ فرماتے ہیں: میں نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ رمضان المبارک کے کن ایام میں ہوتی ہے؟ اس کے بعد آپ (کسی دوسرے موضوع پر) گفتگو کرتے رہے، میں نے آپ کی اس عدم توجہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک بہانے سے پھر پوچھ لیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ کون سے دو عشروں میں ہوتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پچھلے عشروں میں۔ اور آج کے بعد مجھ سے اس کے متعلق کچھ نہیں پوچھنا۔ (ایک عرصہ بعد) میں نے پھر ایک بہانے سے پوچھ لیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں آپ کو قسم دیتا ہوں آپ مجھے ضرور بتائیے کہ یہ کون سے عشرے میں ہوتی ہے؟ (ابوذر فرماتے ہیں) اس دن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مجھ پر اس قدر سخت ناراض ہوئے کہ اس سے پہلے کبھی بھی اتنا سخت ناراض نہیں ہوئے تھے۔ اور نہ ہی اس کے بعد کبھی اتنا ناراض ہوئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر اللہ کو منظور ہوتا تو وہ تمہیں اس کی اطلاع دے دیتا۔ اس کو آخری سات راتوں میں تلاش کرو۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الصوم/حدیث: 1613]