المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
1. كِتَابُ: الْجِهَادِ
کتاب الجہاد۔
حدیث نمبر: 2407
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أبو الحسن محمد بن سِنان القَزّاز، حدثنا إسحاق بن يوسف الأزرق، حدثنا سفيان الثَّوْري، عن الأعمش، عن مسلم البَطِين، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عباس، قال: لما أخرج أهلُ مكةَ النبيَّ ﷺ، قال أبو بكر الصِّدّيق: إنا لله وإنا إليه راجعون، أخرَجُوا نبيهم ﷺ، لَيَهلِكُنّ. قال: فنَزَلَت (أَذِنَ لِلَّذِينَ يُقاتِلُونَ (1) بأَنَّهُم ظُلِمُوا وإِنَّ اللهَ عَلى نَصْرِهِم لَقَدِيرٌ) [الحج: 39] . وكان ابن عبّاس يقرؤُها (أَذِنَ) . قال أبو بكر الصِّدِّيق: فعلمتُ أنها قِتالٌ. قال ابن عباس: وهي أول آية نَزَلَت في القتال (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2376 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2376 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب اہلِ مکہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو (مکہ) سے نکالا تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا ” اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ “ انہوں نے اپنے نبی کو نکال دیا ہے یقیناً یہ ہلاک ہو جائیں گے (ابن عباس رضی اللہ عنہما) فرماتے ہیں تب یہ آیت نازل ہوئی: (اُذِنَ لِلَّذِیْنَ یُقَاتَلُوْنَ بِاَنَّھُمْ ظُلِمُوْا وَ اِنَّ اللہَ عَلٰی نَصْرِھِمْ لَقَدِیْرُ) (الحج: 39) ” پروانگی عطا ہوئی انہیں جن سے کفار لڑتے ہیں اس بناء پر کہ ان سے ظلم ہوا اور بے شک اللہ ان کی مدد کرنے پر ضرور قادر ہے “۔۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما اس کو ” اَذِنَ “ (معروف) پڑھا کرتے تھے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے پتہ چل گیا کہ اس آیت میں جہاد کا حکم دیا جا رہا ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جہاد کے متعلق نازل ہونے والی یہ سب سے پہلی آیت ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الجهاد/حدیث: 2407]
حدیث نمبر: 2408
أخبرنا أبو العباس قاسم بن القاسم السَّيّاري بمَرْو، حدثنا محمد بن موسى بن حاتم الباشَاني، حدثنا علي بن الحسن بن شَقِيق، حدثنا الحُسين بن واقِد، عن عمرو بن دينار، عن عِكْرمة، عن ابن عباس: أنَّ عبد الرحمن بن عوف وأصحابًا له أتَوُا النبيَّ ﷺ، فقالوا: يا نبيَّ الله، كنا في عزٍّ (1) ونحن مشركون، فلما آمنّا صِرْنا أذلةً! فقال:"إني أُمرتُ بالعفو، فلا تُقاتِلوا القومَ"، فلما حَوَّله إلى المدينة أمرَهُ بالقتال، فكَفُّوا، فأنزل الله ﵎: ﴿أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ قِيلَ لَهُمْ كُفُّوا أَيْدِيَكُمْ وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقِتَالُ إِذَا فَرِيقٌ مِنْهُمْ يَخْشَوْنَ النَّاسَ﴾ [النساء: 77] (2) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2377 - على شرط البخاري
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2377 - على شرط البخاري
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ اور ان کے کچھ ساتھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے: اے اللہ کے نبی! جب ہم مشرک تھے تو بہت عزت کی زندگی گزار رہے تھے لیکن جب سے ایمان لائے ہیں تب سے ہم ذلیل ہو گئے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے عفو و درگزر کا حکم دیا گیا ہے، اس لیے تم لوگوں سے مت لڑنا (ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں) جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لے گئے تو جہاد کا حکم نازل ہوا، تو وہ لوگ جہاد کے لیے تیار نہ ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: (اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ قِیْلَ لَھُمْ کُفُّوْآ اَیْدِیَکُمْ وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوا الزَّکٰوۃَ فَلَمَّا کُتِبَ عَلَیْھِمُ الْقِتَالُ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْھُمْ یَخْشَوْنَ النَّاسَ) (النساء: 77) ” کیا تم نے انہیں نہیں دیکھا جنہیں کہا گیا، اپنے ہاتھ روک لو اور نماز قائم رکھو اور زکوۃ دو پھر جب ان پر جہاد فرض کیا گیا تو ان میں بعض لوگوں سے ایسا ڈرنے لگے جیسے اللہ سے ڈرے یا اس سے بھی زائد “۔۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الجهاد/حدیث: 2408]
حدیث نمبر: 2409
أخبرني عبد الله بن الحسين القاضي بمَرْو، حدثنا الحارث بن أبي أسامة، حدثنا رَوْح بن عُبادة. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا رَوْح، حدثنا حبيب بن شهاب العَنْبَري قال: سمعت أبي يقول: أتيتُ ابنَ عباس أنا وصاحبٌ لنا، قال: فلقِيْنا أبو هريرة عند باب ابن عباس، فقال: مَن أنتُما؟ فأخبرْناه، فقال: انطلقا إلى ناسٍ على تمر وماءٍ، إنما يسيلُ وادٍ بقَدَرِه، قلنا: كثُر خَيْرُك، استأذِن لنا على ابنِ عباس، فاستأذَنَ لنا، فسمعْنا ابنَ عباس يحدِّث عن رسول الله ﷺ، فقال: خَطَبَ رسولُ الله ﷺ يومَ تَبوك، فقال:"ما في الناس مِثلُ رجلٍ آخذٍ بعِنانِ فرسِهِ، فيُجاهد في سبيل الله، ويَجتَنِبُ شُرورَ الناسِ، ومِثلُ رجلٍ بادٍ في غَنَمِه، يَقْرِي ضَيفَه، ويُؤدّي حقَّه"، قال: فقلتُ: أقالَها؟ قال: قالها، قال: فقلت: أقالها؟ قال: قالها - ثلاثًا - فكبَّرتُ وحَمِدتُ وشَكَرتُ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2378 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2378 - صحيح
سیدنا حبیب بن شہاب الغبری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میرے والد کا یہ بیان ہے کہ میں اور میرا ایک ساتھی، (سیدنا عبداللہ) ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس گئے تو ان کے دروازے کے قریب ہماری ملاقات، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہوئی، انہوں نے کہا: تم کون ہو؟ ہم نے ان کو اپنے متعلق بتایا، انہوں نے کہا: تم ان لوگوں کے پاس جاؤ جن کے پاس پانی اور کھجوریں ہیں۔ کسی بھی وادی سے اسی کی مقدار میں بہاؤ نکلتا ہے۔ ہم نے ان کو دعائے خیر دیتے ہوئے کہا: ہمارے لیے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اجازت لیجیے، انہوں نے ہمیں اجازت دلوائی، ہم نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوۂ تبوک کے دن خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: لوگوں میں اس جیسا کوئی شخص نہیں ہے جو اپنے جانور کی لگام پکڑے، فی سبیل اللہ جہاد کرے اور لوگوں کے شر سے بچے اور اس جیسا بھی کوئی شخص نہیں ہے جو اپنے جانوروں کے ریوڑ میں رہتا ہو، مہمان نوازی کرتا ہو اور اس کا حق ادا کرتا ہو (حبیب بن شہاب) فرماتے ہیں: میں نے کہا: کیا (واقعی) حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہے؟ تو (میرے والد نے) جواباً کہا: حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تین مرتبہ فرمایا: تو میں نے اللہ تعالیٰ کی تکبیر کہی اور اس کی حمد کی اور اس کا شکر ادا کیا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الجهاد/حدیث: 2409]
حدیث نمبر: 2410
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه وأبو محمد بن موسى العَدْل، قالا: حدثنا علي بن الحسين بن الجُنيد، حدثنا المعافَى بن سليمان، حدثنا فُليح بن سليمان، عن عبد الله بن عبد الرحمن بن مَعْمَر، عن سعيد بن يَسار، عن أبي هريرة، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"ألا أُخبِرُكم بخَيرِ الناس منزلةً؟" قالوا: بلى يا رسول الله، قال:"رجلٌ آخِذٌ بعِنانِ فَرسِه في سبيل الله حتى يُقتَلَ أو يموتَ، ألا أُخبِرُكم بالذي يَليهِ: رجلٌ مُعتزِلٌ في شِعْبٍ، يُقيم الصلاةَ، ويُؤتي الزكاة، ويَشهَد أن لا إلهَ إلّا الله" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2379 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2379 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا میں تمہیں خبر نہ دوں، کہ مرتبے کے اعتبار سے لوگوں میں سب سے بہتر کون ہے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی: کیوں نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسا آدمی جو اللہ کے راستے میں جہاد کرتے ہوئے شہید ہو جائے یا (طبعی موت) مر جائے، کیا میں تمہیں اس شخص کے بارے میں نہ بتاؤں؟ جس کا مرتبہ اس کے قریب تر ہے، وہ شخص جو الگ تھلگ کسی گھاٹی میں رہتا ہو، پابندی سے نماز پڑھتا ہو، زکوۃ ادا کرتا ہو اور اس بات کی گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الجهاد/حدیث: 2410]
حدیث نمبر: 2411
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرني الليث بن سعد، عن يزيد بن أبي حَبيب، عن أبي الخَير، عن أبي الخطّاب، عن أبي سعيد الخُدْري: أنَّ رسول الله ﷺ عامَ تبوكَ خَطَبَ الناسَ وهو مُضِيفٌ ظَهْرَه إلى نخلة، فقال:"ألا أُخبِرُكُم بخيرِ الناس وشرِّ الناسِ، إنَّ مِن خيرِ الناسِ رجل (1) عَمِلَ في سبيل الله على ظَهْر فَرسِه، أو على ظهر بَعيرِه، أو على قَدَمَيه، حتى يأتيَه الموتُ، وإنَّ من شرّ الناسِ رجل فاجر جَريء، يقرأَ كتابَ الله، لا يَرْعَوِي إلى شيءٍ منه" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2380 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2380 - صحيح
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ غزوۂ تبوک کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک درخت کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑے ہوئے یوں خطبہ ارشاد فرما رہے تھے: کیا میں تمہیں سب سے اچھے اور سب سے بُرے شخص کے بارے میں نہ بتاؤں؟ (پھر فرمایا) سب سے اچھا وہ آدمی ہے جو اللہ تعالیٰ کے راستے میں اپنے گھوڑے یا اونٹ پر سوار ہو کر یا پیدل ہی جہاد کرتا رہے یہاں تک کہ اس کو موت آ جائے اور سب سے برا شخص وہ ہے جو بے عمل، دلیر ہو، اللہ کی کتاب پڑھتا ہو لیکن وہ مذکورہ کاموں میں سے کوئی کام نہ کرتا ہو۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الجهاد/حدیث: 2411]
2. يَوْمٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ يَوْمٍ فِيمَا سِوَاهُ
اللہ کی راہ میں ایک دن گزارنا اس کے سوا ہزار دنوں سے بہتر ہے۔
حدیث نمبر: 2412
أخبرني الحسن بن حليم المروَزي، أخبرنا أبو الموجِّه، أخبرنا عَبْدان، أخبرنا عبد الله، أخبرنا محمد بن مَعْن الغِفاري أبو مَعْن، حدثنا زُهْرة بن مَعْبد القرشي، عن أبي صالح مولى عثمان، قال: سمعت عثمان بن عفّان في مسجد الخَيْف بمنًى، وحدثنا أنه سمع رسول الله ﷺ يقول:"يومٌ في سبيلِ الله خيرٌ من ألفِ يومٍ فيما سواهُ"، فليَنْظُر كلُّ امرئٍ لنفسِه (1) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2381 - على شرط البخاري
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2381 - على شرط البخاري
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جہاد کا ایک دن، بغیر جہاد کے ہزار دنوں سے بہتر ہے، اس لیے ہر آدمی کو اپنے اوپر غور کر لینا چاہیے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الجهاد/حدیث: 2412]
حدیث نمبر: 2413
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرني هشام بن سعد، عن سعيد بن أبي هلال، عن ابن أبي ذُباب، عن أبي هريرة: أنَّ رجلًا من أصحاب النبي ﷺ مَرَّ بِشِعْب فيه عُيَينةٌ من ماءٍ عَذْب، فأعجبه طِيبُه وحُسنُه، فقال: لو اعتزلتُ الناسَ وأقمتُ في هذا الشِّعْبِ، ثم قال: لا أفعلُ حتى أستأمِرَ رسولَ الله ﷺ، فذَكَر ذلك لرسول الله ﷺ، فقال:"لا تَفعلْ، فإنَّ مَقامَ أحدِكُم في سبيل الله أفضلُ من صلاته في أهله ستين عامًا، ألا تحبُّون أن يغفرَ اللهُ لكم، ويُدخلَكُم الجنةَ اغزُوا في سبيلِ الله، مَن قاتَلَ في سبيل الله فُواقَ ناقةٍ، وَجَبَت له الجنةُ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2382 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2382 - على شرط مسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ایک صحابی رسول ایک پہاڑی راستے سے گزر رہے تھے، وہاں پر میٹھے پانی کا ایک چھوٹا سا چشمہ بہہ رہا تھا، ان کو وہ مقام بہت پسند آیا، انہوں نے سوچا: کتنا ہی اچھا ہو کہ میں لوگوں سے الگ تھلگ ہو کر اس مقام پر آ کر رہائش اختیار کر لوں۔ پھر ان کو خیال آیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لیے بغیر مجھے یہ کام نہیں کرنا چاہیے، پھر انہوں نے یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسا نہیں کرنا، اس لیے کہ جہاد میں تمہارا ٹھہرنا، اپنے گھر میں رہ کر ساٹھ سال تک نمازیں پڑھنے سے بہتر ہے۔ کیا تمہیں یہ بات پسند نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہاری مغفرت کر دے اور تمہیں جنت میں داخل کرے؟ اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرو، جو شخص اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرتا ہے وہ پکا جنتی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الجهاد/حدیث: 2413]
3. مُقَامُ أَحَدِكُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَفْضَلُ مِنْ صَلَاتِهِ فِي أَهْلِهِ سِتِّينَ عَامًا
اللہ کی راہ میں تم میں سے کسی کا کھڑا ہونا اپنے گھر میں ساٹھ سال کی نماز سے افضل ہے۔
حدیث نمبر: 2414
أخبرنا أبو الحسن أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارِمي، حدثنا عبد الله بن صالح المصري، حدثنا يحيى بن أيوب، عن هشام بن حسّان، عن الحسن، عن عمران بن حُصَين، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"مَقامُ الرجلِ في الصَّفِّ في سبيلِ الله، أفضلُ عندَ الله من عبادة رجلٍ ستين سنةً" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2383 - على شرط البخاري
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2383 - على شرط البخاري
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: آدمی کا صفِ جہاد میں کھڑا ہونا ساٹھ سال کی عبادت سے بہتر ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الجهاد/حدیث: 2414]
4. شَأْنُ نُزُولِ (سَبَّحَ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ) . إِلَى آخِرِ السُّورَةِ
سورۂ سبح للہ ما فی السماوات وما فی الارض کے نزول کا سبب، آخر سورت تک۔
حدیث نمبر: 2415
أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد بن محمد بن عُقبة الشَّيباني بالكوفة، حدثنا أبو الوليد محمد بن أحمد بن بُرْد الأنطاكي، حدثنا محمد بن كثير المِصِّيصي، حدثنا الأوزاعي، عن يحيى بن أبي كثير، عن أبي سلمة، عن عبد الله بن سَلَام قال: قَعَدْنا نفرٌ من أصحاب رسول الله ﷺ فقلنا: لو نعلَمُ أيُّ الأعمال أحبُّ إلى الله، عمِلناهُ. فأنزل الله ﷿: ﴿سَبَّحَ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ﴾ إلى آخر السورة، فقرأها علينا رسولُ الله ﷺ هكذا (2) . قال الأوزاعيُّ: وقرأها علينا يحيى بنُ أبي كثير بمكة، قال محمدُ بن كثير: وقرأها علينا الأوزاعيُّ هكذا، قال أبو الوليد: وقرأها علينا ابنُ كثير هكذا، قال أبو الحسن بن عُقبة: وقرأها علينا أبو الوليد هكذا، قال الحاكم: وقرأها علينا الشيخُ أبو الحسن الشَّيباني هكذا، وقرأها علينا الحاكمُ أبو عبد الله؛ السورةَ من أولها إلى آخرها. رواه الوليد بن مسلم عن الأوزاعي، وبيّن السماعَ من أول الإسناد إلى آخره.
سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم میں بیٹھے ہوئے یہ باتیں کر رہے تھے کہ اگر ہمیں پتہ چل جائے کہ اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ کون سا عمل پسند ہے؟ تو ہم وہی عمل بجا لائیں، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: (سَبَّحَ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمَوَاتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ وَھُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ) ” اللہ کی پاکی بولتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور وہی عزت و حکمت والا ہے “۔۔ (سورۃ کے آخر تک) پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سورت ہمیں پڑھ کر سنائی۔ ٭٭ اوزاعی نے بھی ایسے ہی کہا کہ یحیی بن ابی کثیر نے مکہ میں ہمارے سامنے یہ سورت پڑھی اور محمد بن کثیر فرماتے ہیں ہمارے سامنے اوزاعی نے ایسے ہی سورت پڑھی، ابوالحسن بن عقبہ فرماتے ہیں ہمارے سامنے ابوالولید نے اسی طرح سورت پڑھی اور امام حاکم فرماتے ہیں: ہمارے استاد ابوالحسن شیبانی نے ہمارے سامنے یہ سورت ایسے ہی پڑھی اور امام حاکم ابوعبداللہ نے ہمارے سامنے شروع سے لے کر آخر تک پوری سورت پڑھی، ولید بن مسلم نے اوزاعی سے سند سے شروع سے لے کر آخر تک پوری روایت کی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الجهاد/حدیث: 2415]
حدیث نمبر: 2416
أخبرَناه أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا سليمان بن عبد الرحمن الدمشقي، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا الأوزاعي، حدثني يحيى بن أبي كثير، حدثني أبو سلمة، حدثني عبد الله بن سَلَام، قال: كنا قعودًا عند النبي ﷺ، فقلنا: لو نعلم أيُّ الأعمال أحبُّ إلى الله، فذكر الحديثَ بنحوه (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، وأكبرُ ظني أنَّ الذي حملهما على تركه روايةُ الهِقْل بن زياد بخلاف رواية الوليد بن مسلم وغيره:
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، وأكبرُ ظني أنَّ الذي حملهما على تركه روايةُ الهِقْل بن زياد بخلاف رواية الوليد بن مسلم وغيره:
سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، ہم نے کہا: اگر ہمیں پتہ چل جائے کہ اللہ تعالیٰ کو کون سا عمل سب سے زیادہ پسند ہے؟ پھر اس کے بعد گزشتہ حدیث کی طرح حدیث ذکر کی۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ اور میرا غالب گمان ہے ہقل بن زیاد کی روایت کی وجہ سے شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس حدیث کو نقل نہیں کیا۔ ولید بن مسلم وغیرہ کی روایت اس حدیث کو ترک کرنے کی وجہ نہیں ہے۔ (ہقل بن زیاد کی روایت کردہ حدیث درج ذیل ہے) [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الجهاد/حدیث: 2416]