المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
6. لَا طَلَاقَ وَلَا عَتَاقَ فِي إِغْلَاقٍ
جبر کی حالت میں نہ طلاق واقع ہوتی ہے نہ غلام آزاد ہوتا ہے
حدیث نمبر: 2838
حدثنا الأستاذ الإمام أبو الوليد حسان بن محمد القرشي، أخبرنا الحسن بن سفيان، حدثنا محمد بن عبد الله بن نُمير، حدثنا أبي، حدثنا محمد بن إسحاق، عن ثَور بن يَزيد، عن محمد بن عُبيد بن أبي صالح، قال: بعثني عَدِيّ بن عَدِيّ إلى صفيّة بنت شَيْبة أسألُها عن أشياءَ كانت ترويها عن عائشة، فقالت: حدثتني عائشةُ، أنها سمعت رسولَ الله ﷺ يقول:"لا طلاقَ ولا عَتاقَ في إغلاقٍ" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وقد تابع أبو صفوان الأُموي محمدَ بن إسحاق على روايته عن ثَوْر بن يزيد، فأسقط من الإسناد محمد بن عُبيد.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2802 - على شرط مسلم كذا قال يعني الحاكم قلت ومحمد بن عبيد لم يحتج به مسلم وقال أبو حاتم ضعيف
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وقد تابع أبو صفوان الأُموي محمدَ بن إسحاق على روايته عن ثَوْر بن يزيد، فأسقط من الإسناد محمد بن عُبيد.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2802 - على شرط مسلم كذا قال يعني الحاكم قلت ومحمد بن عبيد لم يحتج به مسلم وقال أبو حاتم ضعيف
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”انتہائی غصے یا جبر و اکراہ کی حالت (اِغلاق) میں نہ طلاق واقع ہوتی ہے اور نہ ہی غلام آزاد ہوتا ہے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ ابوصفوان اموی نے محمد بن اسحاق کی متابعت کی ہے لیکن سند سے محمد بن عبید کا نام گرا دیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطلاق/حدیث: 2838]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ ابوصفوان اموی نے محمد بن اسحاق کی متابعت کی ہے لیکن سند سے محمد بن عبید کا نام گرا دیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطلاق/حدیث: 2838]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف محمد بن عُبيد بن أبي صالح كما قال الذهبي في "تلخيصه".» [ترقيم الرساله 2838] [ترقيم الشركة 2818] [ترقيم العلميه 2802]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 2839
أخبرني أحمد بن محمد بن سلمة العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا نُعيم بن حماد، حدثنا أبو صفوان عبد الله بن سعيد الأُموي، عن ثَوْر بن يزيد، عن صفيّة بنت شَيْبة، عن عائشة، عن النبي ﷺ قال:"لا طَلاقَ ولا عَتاقَ في إغلاقٍ" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2803 - نعيم صاحب مناكير
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2803 - نعيم صاحب مناكير
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اِغلاق (سخت غصے یا زبردستی) کی حالت میں نہ طلاق ہے اور نہ ہی آزادی (عتاق)۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطلاق/حدیث: 2839]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، نُعيم بن حماد صاحب مناكير كما قال الذهبي في "تلخيصه"، قلنا: والظاهر أنه وهم هنا في إسناد الحديث بإسقاط ذكر محمد بن عبيد بن أبي صالح بين ثور وصفية، فلا بد من ذكره في الإسناد، إذ هو صاحب القصة الذي سمع الخبر من صفية كما توضحه رواية محمد بن إسحاق السابقة.» [ترقيم الرساله 2839] [ترقيم الشركة 2819] [ترقيم العلميه 2803]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
7. لَعَنَ اللَّهُ الْمُحِلَّ، وَالْمُحَلَّلَ لَهُ
اللہ تعالیٰ نے حلالہ کرنے والے اور کروانے والے دونوں پر لعنت فرمائی ہے
حدیث نمبر: 2840
أخبرنا أبو جعفر محمد بن محمد بن عبد الله البغدادي، حدثنا أبو زكريا يحيى بن عثمان بن صالح بن صفوان السَّهْمي بمصر، حدثنا أبي، قال: سمعتُ الليث بن سعد، في المسجد الجامع يقول: قال أبو مصعب مِشرَحُ بن هاعانَ: قال عُقْبة بن عامر الجُهَني: قال رسول الله ﷺ:"ألا أُخبركم بالتَّيس المُستعارِ؟"، قالوا: بلى يا رسول الله، قال:"هو المُحِلُّ، فلعنَ اللهُ المُحِلَّ والمُحَلَّلَ له" (2) . وقد ذكر أبو صالح كاتب الليث عن الليث سماعَه من مِشرَحِ بن هاعان:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2804 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2804 - صحيح
سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں ادھار لیے ہوئے سانڈ (کرائے کے مینڈھے) کے بارے میں نہ بتاؤں؟“ صحابہ نے عرض کیا: کیوں نہیں یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ حلالہ کرنے والا (محلل) ہے، اللہ تعالیٰ حلالہ کرنے والے اور جس کے لیے حلالہ کیا جائے، دونوں پر لعنت فرمائے۔“
لیث کے کاتب ابوصالح نے ذکر کیا ہے کہ لیث نے اسے مشرح بن هاعان سے سنا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطلاق/حدیث: 2840]
لیث کے کاتب ابوصالح نے ذکر کیا ہے کہ لیث نے اسے مشرح بن هاعان سے سنا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطلاق/حدیث: 2840]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره دون ذكر التشبيه بالتيس المستعار، وهذا إسناد رجاله لا بأس بهم، لكن جزمِ يحيى بن عبد الله بن بكير فيما نقله عنه أبو زرعة الرازي كما في "العلل" لابن أبي حاتم (1233) بأنَّ الليث لم يسمع هذا الحديث من مشرح، وأنه لم يرو عنه شيئًا، وأنَّ الليث حدثه ...» [ترقيم الرساله 2840] [ترقيم الشركة 2820] [ترقيم العلميه 2804]
الحكم على الحديث: صحيح لغيره دون ذكر التشبيه بالتيس المستعار
حدیث نمبر: 2841
أخبرَنيهِ أبو بكر محمد بن المؤمَّل بن الحسن، حدثنا الفضل بن محمد الشَّعْراني، حدثنا أبو صالح، حدثنا الليث بن سعد، قال: سمعت مِشرَحَ بن هاعان يحدِّث عن عُقبة بن عامر، قال: قال رسول الله ﷺ:"ألا أُخبركم بالتَّيس المُستعار؟ هو المُحِلُّ"، ثم قال رسول الله ﷺ:"لَعَنَ الله المُحِلَّ والمُحلَّلَ له (1) " (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں ادھار لیے ہوئے سانڈ (یعنی کرائے کے مینڈھے) کے بارے میں نہ بتاؤں؟ وہ حلالہ کرنے والا (محلل) ہے“، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ حلالہ کرنے والے اور جس کے لیے حلالہ کیا جائے (محلل لہ)، دونوں پر لعنت فرمائے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطلاق/حدیث: 2841]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطلاق/حدیث: 2841]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره كسابقه، وما وقع من تصريح الليث هنا بسماعه من مِشْرح فيه نظر، لما قدّمنا بيانه في الطريق السابقة من نفي يحيى بن عبد الله بن بكير أن يكون الليث سمع من مشرح شيئًا وأنَّ الليث إنما حدثه بهذا الحديث عن سليمان بن عبد الرحمن مرسلًا، ويحيى هذا أوثق ...» [ترقيم الرساله 2841] [ترقيم الشركة 2821]
الحكم على الحديث: صحيح لغيره كسابقه
حدیث نمبر: 2842
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا سعيد بن أبي مريم، حدثنا أبو غسان محمد بن مُطرِّف المدني، عن عمر بن نافع، عن أبيه، أنه قال: جاء رجل إلى ابن عمر، فسأله عن رجل طلَّق امرأتَه ثلاثًا، فتزوجها أخٌ له عن غير مُؤامَرة منه، لِيُحلَّها لأخيه: هل تَحِلُّ للأول؟ قال: لا، إلّا نِكاحَ رَغبةٍ، كنا نَعُدُّ هذا سِفاحًا على عهد رسول الله ﷺ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2806 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2806 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ان سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا جس نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں، پھر اس کے بھائی نے کسی (پہلے سے طے شدہ) مشورے کے بغیر محض اس نیت سے اس عورت سے نکاح کر لیا تاکہ اسے اپنے بھائی کے لیے حلال کر دے، تو کیا وہ پہلے شوہر کے لیے حلال ہوگی؟ انہوں نے فرمایا: ”نہیں، سوائے اس کے کہ وہ رغبت کا (حقیقی) نکاح ہو، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدِ مبارک میں ایسے کام کو زنا (سفاح) شمار کرتے تھے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطلاق/حدیث: 2842]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطلاق/حدیث: 2842]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وجوَّد إسناده الإمام ابن تيمية كما في "الفتاوى الكبرى" 6/ 242.» [ترقيم الرساله 2842] [ترقيم الشركة 2822] [ترقيم العلميه 2806]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
8. الطَّلَاقُ بِمَا نَوَى بِهِ الْمُطَلِّقُ
طلاق نیت کے مطابق واقع ہوتی ہے
حدیث نمبر: 2843
أخبرني أبو جعفر محمد بن علي الشَّيباني بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم بن أبي غَرَزَة، حدثنا عُبيد الله بن موسى، حدثنا جرير بن حازم، عن الزُّبَير بن سعيد، عن عبد الله بن علي بن يزيد بن رُكَانة، عن جده (2) رُكانة بن عبد يَزيد: أنه طلَّق امرأتَه البَتّةَ على عهد النبيّ ﷺ، قال: فسألتُ النبيَّ ﷺ عن ذلك، فقال:"ما أردتَ بذلك؟" قال: أردتُ به واحدةً، قال:"آللهِ"، قال: آللهِ، قال:"فهو ما أردتَ" (3) . قد انحرف الشيخان عن الزُّبَير بن سعيد الهاشمي في"الصحيحين"، غير أنَّ لهذا الحديث متابعًا من بيت رُكانة بن عبد يَزيد المُطَّلبي، فيَصحُّ به الحديثُ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2807 - قد انحرف في الصحيحين عن الزبير بن سعيد لكن له متابعا يصح به الحديث
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2807 - قد انحرف في الصحيحين عن الزبير بن سعيد لكن له متابعا يصح به الحديث
سیدنا رکانہ بن عبد یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدِ مبارک میں اپنی بیوی کو «البته» (یعنی قطعی اور حتمی طور پر) طلاق دے دی، وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تمہاری اس سے کیا نیت تھی؟“ انہوں نے عرض کیا: میری نیت صرف ایک طلاق کی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا اللہ کی قسم (ایک ہی مراد تھی)؟“ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں، اللہ کی قسم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر وہی ہے جس کی تم نے نیت کی تھی۔“
اگرچہ شیخین نے اپنی صحیحین میں زبیر بن سعید ہاشمی کی روایت سے انحراف کیا ہے، تاہم اس حدیث کا خاندانِ رکانہ بن عبد یزید سے ایک متابع موجود ہے جس کی وجہ سے یہ حدیث صحیح ثابت ہو جاتی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطلاق/حدیث: 2843]
اگرچہ شیخین نے اپنی صحیحین میں زبیر بن سعید ہاشمی کی روایت سے انحراف کیا ہے، تاہم اس حدیث کا خاندانِ رکانہ بن عبد یزید سے ایک متابع موجود ہے جس کی وجہ سے یہ حدیث صحیح ثابت ہو جاتی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطلاق/حدیث: 2843]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف الزُّبَير بن سعيد وجهالة عبد الله بن علي بن يزيد بن رُكانة، وقد اضطرب فيه الزُّبَير أيضًا كما قال البخاري فيما نقله عنه الترمذي، وبيَّنه الدارقطني في "سننه" (3981 - 3983)، لكن روي الحديث من وجه آخر عن ركانة بإسناد حسن في الطريق التالية.» [ترقيم الرساله 2843] [ترقيم الشركة 2823] [ترقيم العلميه 2807]
الحكم على الحديث: حديث حسن
حدیث نمبر: 2844
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا الربيع بن سليمان، أخبرنا الشافعي، أخبرني عَمِّي محمد بن علي بن شافِع [عن عبد الله بن علي بن السائب] (1) عن نافع بن عُجَير بن عبدِ يزيد: أنَّ رُكانةَ بن عبدِ يزيد طلَّق امرأتَه سُهَيمةَ البتّةَ، ثم أتى رسولَ الله ﷺ فقال: إني طلقتُ امرأتي سُهَيمة البتّةَ، ووالله ما أردتُ إلّا واحدةً، فردَّها إليه رسولُ الله ﷺ، فطلَّقها الثانيةَ في زمن عُمر، والثالثة في زمن عثمان (2) . قد صحَّ الحديثُ بهذه الرواية، فإنَّ الإمام الشافعي قد أتقنَه، وحفِظه عن أهل بيتِه، والسائبُ بن عبد يزيد أبو الشافِع بن السائب، وهو أخو رُكانة بن عبد يزيد، ومحمدُ بن علي بن شافع عمُّ الشافعي شيخُ قريش في عصره.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2808 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2808 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
نافع بن عجیر بن عبد یزید سے روایت ہے کہ سیدنا رکانہ بن عبد یزید رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی سہیمہ کو «البته» طلاق دے دی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: میں نے اپنی بیوی سہیمہ کو «البته» طلاق دی ہے اور اللہ کی قسم! میری مراد صرف ایک ہی طلاق تھی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ بیوی انہیں واپس لوٹا دی، پھر انہوں نے دوسری طلاق سیدنا عمر کے دور میں اور تیسری طلاق سیدنا عثمان کے دور میں دی۔
اس روایت کے ساتھ یہ حدیث صحیح ثابت ہے کیونکہ امام شافعی نے اسے انتہائی پختگی کے ساتھ اپنے اہل بیت سے یاد کر کے بیان کیا ہے، اور سائب بن عبد یزید (شافع بن سائب کے والد) رکانہ کے بھائی تھے، جبکہ محمد بن علی بن شافع جو امام شافعی کے چچا ہیں وہ اپنے زمانے میں قریش کے جلیل القدر بزرگ تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطلاق/حدیث: 2844]
اس روایت کے ساتھ یہ حدیث صحیح ثابت ہے کیونکہ امام شافعی نے اسے انتہائی پختگی کے ساتھ اپنے اہل بیت سے یاد کر کے بیان کیا ہے، اور سائب بن عبد یزید (شافع بن سائب کے والد) رکانہ کے بھائی تھے، جبکہ محمد بن علی بن شافع جو امام شافعی کے چچا ہیں وہ اپنے زمانے میں قریش کے جلیل القدر بزرگ تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطلاق/حدیث: 2844]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل محمد بن علي بن شافع وعبد الله بن علي بن السائب، فقد وثقهما الشافعي في "الأم" 6/ 444، وروى عن كلٍّ منهما جمعٌ، ونافع بن عُمير روى عنه جمع، وذكره ابن حبان في "الثقات"، وقيل: له صحبة. وقد صحَّحه من هذه الطريق أبو داود كما نقله ...» [ترقيم الرساله 2844] [ترقيم الشركة 2824] [ترقيم العلميه 2808]
الحكم على الحديث: إسناده حسن من أجل محمد بن علي بن شافع وعبد الله بن علي بن السائب
9. كَرَاهَةُ سُؤَالِ الطَّلَاقِ عَنِ الزَّوْجِ مِنْ غَيْرِ بَأْسٍ
بلا وجہ شوہر سے طلاق مانگنے کی کراہت
حدیث نمبر: 2845
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا حماد بن زيد، عن أيوب، عن أبي قِلابة، عن أبي أسماء الرَّحَبي، عن ثوبان، قال: قال رسول الله ﷺ:"أيُّما امرأةٍ سألتْ زوجَها الطلاقَ من غير بأسٍ، حَرّم اللهُ عليها أن تَرِيحَ رائحةَ الجنة" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2809 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2809 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کسی عورت نے بغیر کسی (شرعی) تکلیف یا شدید ضرورت کے اپنے شوہر سے طلاق کا مطالبہ کیا، تو اللہ تعالیٰ اس پر جنت کی خوشبو (تک) حرام کر دے گا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطلاق/حدیث: 2845]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطلاق/حدیث: 2845]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، أيوب: هو ابن أبي تَميمة السَّختِياني، وأبو قِلابة: هو عبد الله بن زيد الجَرْمي، وأبو أسماء الرَّحَبي: هو عمرو بن مَرْثَد.» [ترقيم الرساله 2845] [ترقيم الشركة 2825] [ترقيم العلميه 2809]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2846
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبُوبي بمَرْو، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا عبيد الله بن موسى، أخبرنا إسرائيل، عن سِمَاك، عن عِكرمة، عن ابن عباس، قال: أسلمتِ امرأة على عهد النبي ﷺ، فتزوجتْ، فجاء زوجُها إلى رسول الله ﷺ فقال: إني قد أسلمتُ معها وعَلِمَت بإسلامي معها، فنزعَها رسولُ الله ﷺ مِن زوجها الآخِرِ ورَدَّها إلى زوجِها الأول (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، وهو من النوع الذي أقولُ: إنَّ البخاري احتَّجَ بعِكْرمة، ومسلم بسِمَاك.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2810 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، وهو من النوع الذي أقولُ: إنَّ البخاري احتَّجَ بعِكْرمة، ومسلم بسِمَاك.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2810 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدِ مبارک میں ایک عورت اسلام لائی اور اس نے (دوسرا) نکاح کر لیا، پھر اس کا (پہلا) شوہر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: میں بھی اس کے ساتھ ہی اسلام لا چکا تھا اور وہ میرے اسلام لانے سے واقف تھی، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس کے دوسرے شوہر سے الگ کر دیا اور پہلے شوہر کو واپس لوٹا دیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور یہ اس قسم کی روایت ہے جس کے متعلق میں کہتا ہوں کہ امام بخاری نے عکرمہ سے اور امام مسلم نے سماک سے احتجاج کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطلاق/حدیث: 2846]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور یہ اس قسم کی روایت ہے جس کے متعلق میں کہتا ہوں کہ امام بخاری نے عکرمہ سے اور امام مسلم نے سماک سے احتجاج کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطلاق/حدیث: 2846]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن كما قال ابنُ عبد البر في "التمهيد" 12/ 19، وسماك - وهو ابن حرب - وإن كان في روايته عن عكرمة اضطراب في الجملة، لم يُختلَف عليه في هذا الحديث، وقد مشى الترمذي وابن الجارود وابن خزيمة وابن حبان والمصنِّفُ وغيرهم على تصحيح حديثه عن ...» [ترقيم الرساله 2846] [ترقيم الشركة 2826] [ترقيم العلميه 2810]
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 2847
أخبرنا عبد الله بن الحسين القاضي، حدثنا الحارث بن أبي أسامة، حدثنا يزيد بن هارون، عن محمد بن إسحاق، عن داود بن الحُصَين، عن عِكْرمة، عن ابن عباس، قال: رَدَّ النبيُّ ﷺ ابنتَه زينب على زوجها أبي العاص بن الربيع بالنكاح الأول، ولم يُحدِثْ شيئًا (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2811 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2811 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صاحبزادی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کو ان کے شوہر ابوالعاص بن ربیع کی طرف پہلے نکاح پر ہی لوٹا دیا اور کوئی نیا (نکاح یا مہر) نہیں کیا تھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطلاق/حدیث: 2847]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، وقد صرَّح محمد بن إسحاق بسماعه فيما سيأتي برقم (5109) و (7018)- فانتفت شبهة تدليسه. وقد صحَّح الإمامُ أحمد هذا الحديث في "المسند" بإثر الحديث (6938)، وقال الترمذي (1143): ليس بإسناده بأس.» [ترقيم الرساله 2847] [ترقيم الشركة 2827] [ترقيم العلميه 2811]
الحكم على الحديث: إسناده حسن