🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
15. طَلَاقُ الْأَمَةِ تَطْلِيقَتَانِ، وَقَرْؤُهَا حَيْضَتَانِ
لونڈی کی طلاق دو ہیں اور اس کی عدت دو حیض ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2858
حدثنا أبو النضر محمد بن محمد بن يوسف الفقيه، حدثنا أبو بكر محمد بن سليمان الواسطي، حدثنا أبو عاصم، حدثنا ابن جُرَيج، عن مُظاهِر بن أسلم، عن القاسم، عن عائشة، عن النبي ﷺ، قال:"طَلاقُ الأَمَة تطليقتان وقُرْؤُها حَيضتانِ". قال أبو عاصم: فذكرتُه لِمُظاهر بن أسلم، فقلت: حدِّثْني كما حدثتَ ابنَ جُرَيج، فحدَّثَني مُظاهِر، عن القاسم، عن عائشة، عن النبي ﷺ قال:"طَلاقُ الأَمَة تطليقتان، وقُرؤُها حَيضتان"، مثلَ ما حدّثَه (1) . مُظاهِر بن أسلم شيخٌ من أهل البصرة، لم يذكره أحدٌ من مُقَدَّمي مشايخنا بجَرْح، فإذًا الحديثُ صحيح، ولم يُخرجاه. وقد روي عن ابن عباس حديث يُعارضه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2822 - صحيح
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لونڈی کی طلاق دو مرتبہ ہے اور اس کی عدت دو حیض ہے۔ ابوعاصم کہتے ہیں کہ میں نے اس کا ذکر مظاہر بن اسلم سے کیا اور کہا: مجھے ویسے ہی حدیث سنائیں جیسے آپ نے ابن جریج کو سنائی، تو انہوں نے مجھے بھی اسی طرح سیدہ عائشہ کے واسطے سے سنائی۔
مظاہر بن اسلم بصرہ کے بزرگ ہیں جن پر کسی جلیل القدر محدث نے جرح نہیں کی، لہٰذا یہ حدیث صحیح ہے مگر شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، البتہ ابن عباس سے ایک ایسی حدیث مروی ہے جو اس کے بظاہر معارض ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطلاق/حدیث: 2858]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف مُظاهِر بن أسلم، وقد وهم في هذا الحديث بذكر عائشة ورفعِه،- والصحيح أنه من قول القاسم - وهو ابن محمد بن أبي بكر الصدّيق - كما جزم به البخاري في "التاريخ الأوسط" 3/ 559، والدارقطني في "العلل" (3885)، والبيهقي في "الكبرى" 7/ 426، بل قال القاسم في رواية عنه - عند الدارقطني والبيهقي - وسئل: أبلغك عن النبي ﷺ في هذا؟ فقال: لا.»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لضعف مُظاهِر بن أسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2859
أخبرَناه الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو المثنَّى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا يحيى بن سعيد، حدثنا علي بن المبارك، حدثني يحيى بن أبي كثير، أنَّ عُمر (1) بن مُعتِّب، أخبره، أنَّ أبا حسن مولى بني نَوفَل أخبره: أنه استفتَى ابنَ عباس في مملوك كانت تحتَه مملوكةٌ فطلّقَها تطليقتين، ثم أُعتقا بعد ذلك، هل يَصلُحُ له أن يَخطُبَها، قال: نعم، قَضَى بذلك رسولُ الله ﷺ (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2823 - يعارضه حديث علي
ابوحسن (بنو نوفل کے مولیٰ) سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اس غلام کے بارے میں فتویٰ پوچھا جس کے نکاح میں ایک لونڈی تھی، اس نے اسے دو طلاقیں دیں، پھر اس کے بعد وہ دونوں آزاد ہو گئے، کیا اب وہ (دوبارہ) اسے نکاح کا پیغام دے سکتا ہے؟ انہوں نے فرمایا: جی ہاں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فیصلہ فرمایا تھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطلاق/حدیث: 2859]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2860
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الأصبهاني، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا حماد بن زيد، قال: قلت لأيوب: هل تعلمُ أحدًا قال بقول الحسن في"أمرُكِ بيدِكِ" أنه ثلاث؟ فقال: لا، إلّا شيء حدّثَنا به قَتَادة، عن كثيرٍ مولى عبد الرحمن بن سَمُرة، عن أبي سلمة، عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ، بنحوه (3) . قال أيوب: فقدم علينا كثيرٌ فسألتُه، فقال: ما حدَّثْتُ بهذا قَطُّ، فذكرتُه لقَتَادة، فقال: بلى، ولكن قد نَسِيَ.
هذا حديث غريب صحيح من حديث أيوب السَّختِياني، وقد ذكرتُ في باب النكاح بغير وليٍّ أساميَ جماعةٍ من ثقات المحدّثين من الصحابة والتابعين وأتباعِهم حدَّثوا بالحديث ثم نَسُوه (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2824 - صحيح غريب
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب عورت کو یہ کہہ دیا جائے کہ تیرا معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے ( «امرك بيدك») تو اس سے (تین) طلاقیں واقع ہوتی ہیں۔ ایوب کہتے ہیں کہ جب کثیر ہمارے پاس آئے تو میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ میں نے یہ حدیث کبھی بیان نہیں کی، میں نے یہ بات قتادہ سے ذکر کی تو انہوں نے کہا: کیوں نہیں (انہوں نے بیان کی تھی) مگر وہ اب بھول گئے ہیں۔
یہ ایوب سختیانی کی روایت سے ایک غریب اور صحیح حدیث ہے، اور میں نے کتاب النکاح میں بغیر ولی کے نکاح کے باب میں ایسے ثقہ محدثین، صحابہ اور تابعین کے ناموں کا ذکر کیا ہے جنہوں نے حدیث بیان کی اور پھر اسے بھول گئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطلاق/حدیث: 2860]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات غير كثير مولى عبد الرحمن: وهو ابن أبي كثير البصري، روى عنه جمع، ووثقه العجلي، وذكره ابن حبان في "الثقات"، وقد انفردَ بهذا الحديث، وقد أعلّه البخاري بالوقف فيما نقله عنه الترمذي في "الجامع"، وفي "العلل الكبير" (300)، إذ رواه البخاري عن سليمان بن حرب موقوفًا، وأعلَّه النسائي في "المجتبى" (3410) بالنكارة.»

الحكم على الحديث: رجاله ثقات غير كثير مولى عبد الرحمن: وهو ابن أبي كثير البصري
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
16. عِدَّةُ الْمُخْتَلِعَةِ حَيْضَةٌ
خلع والی عورت کی عدت ایک حیض ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2861
أخبرني عبد الصمد بن علي البزَّاز ببغداد، حدثنا جعفر بن محمد بن أبي عثمان الطَّيَالِسي، حدثنا علي بن بحر بن بَرِّي، حدثنا هشام بن يوسف، عن مَعمَر، عن عمرو بن مسلم، عن عِكرمة، عن ابن عباس: أنَّ امرأة ثابت بن قيس اختَلَعتْ منه، فجعلَ النبيُّ ﷺ عِدّتَها حَيضةً (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، غير أنَّ عبد الرزاق أرسلَه عن معمر:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2825 - صحيح رواه عبد الرزاق عن معمر مرسلا
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ثابت بن قیس کی زوجہ نے ان سے خلع لیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی عدت ایک حیض مقرر فرمائی۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، البتہ عبدالرزاق نے اسے معمر سے مرسل روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطلاق/حدیث: 2861]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، عمرو بن مسلم»

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2862
حدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أحمد بن سَلَمة، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عبد الرزاق، عن معمر، عن عمرو بن مسلم، عن عِكْرمة: أنَّ امرأة ثابت بن قيس اختَلَعتْ منه، فجعلَ النبيُّ ﷺ عِدَّتَها حَيضةً (1) .
عکرمہ سے روایت ہے کہ ثابت بن قیس کی زوجہ نے ان سے خلع لیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی عدت ایک حیض مقرر فرمائی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطلاق/حدیث: 2862]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره كسابقه، وهذا إسناد مرسل، وتقدم في الطريق التي قبله موصولًا.»

الحكم على الحديث: صحيح لغيره كسابقه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
17. مِنْ أَدَبِ الْإِعْتَاقِ أَنْ يُبْدَأَ بِالرَّجُلِ قَبْلَ امْرَأَتِهِ
غلام آزاد کرنے کے آداب میں سے ہے کہ پہلے مرد کو آزاد کیا جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2863
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا العباس بن محمد بن حاتم، حدثنا عُبيد الله بن عبد المجيد الحَنَفي، حدثنا عُبيد الله بن عبد الرحمن بن مَوهَب، عن القاسم، عن عائشة: أنها أرادت أن تُعتِقَ مملُوكَين؛ زَوجٌ، فسألتِ النبيَّ ﷺ، فأمرَها أن تبدأَ بالرجلِ قبلَ المرأة (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2827 - عبيد الله هذا اختلف في توثيقه ولم يخرجا له
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک شادی شدہ غلام جوڑے کو آزاد کرنے کا ارادہ کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت فرمایا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ (آزادی کی) ابتدا عورت سے پہلے مرد سے کریں۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطلاق/حدیث: 2863]
تخریج الحدیث: «إسناده محتمل للتحسين، رجاله ثقات غير عُبيد الله بن عبد الرحمن بن موهب، فهو مُختلَف في توثيقه كما قال الذهبي في "تلخيصه"، على أنه جزم في كتابه "مَن تُكلِّم فيه وهو مُوثَّق" بأنه صالح الحديث.»

الحكم على الحديث: إسناده محتمل للتحسين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2864
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا الحسن بن علي بن زياد، حدثنا إبراهيم بن موسى، حدثنا عيسى بن يونس، حدثنا عبد الحميد بن جعفر، حدثني أبي، حدثني رافع بن سِنان: أنه أسلمَ وأبَتِ امرأتُه أن تُسلِم، فأتتِ النبيَّ ﷺ، فقالت: ابنتي فَطِيمٌ، وقال رافع: ابنتي، فقال النبي ﷺ لِرافع:"اقعُدْ ناحِيةً" وقال لامرأته:"اقعُدي ناحيةً"، قال: وأقعَدَ الصَّبِيّةَ (3) بينهما، ثم قال:"ادعُواها" فمالَتْ الصَّبِيّة إلى أمها، فقال النبي ﷺ:"اللهم اهْدِها"، فمالَتْ إلى أبيها، فأخذها (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2828 - صحيح
سیدنا رافع بن سنان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اسلام قبول کیا جبکہ ان کی بیوی نے اسلام لانے سے انکار کر دیا، وہ دونوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، عورت نے کہا: میری بیٹی کا دودھ چھڑا دیا گیا ہے (یعنی وہ اب مجھ سے مانوس ہے)، جبکہ رافع نے کہا: یہ میری بیٹی ہے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رافع سے فرمایا: تم ایک طرف بیٹھ جاؤ اور ان کی بیوی سے فرمایا: تم دوسری طرف بیٹھ جاؤ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بچی کو ان دونوں کے درمیان بٹھا دیا اور فرمایا: تم دونوں اسے پکارو، بچی اپنی ماں کی طرف مائل ہونے لگی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: «اللَّهُمَّ اهْدِهَا» اے اللہ! اس کی رہنمائی فرما، چنانچہ وہ (فوری طور پر) اپنے والد کی طرف مائل ہو گئی اور انہوں نے اسے لے لیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطلاق/حدیث: 2864]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، لكن قيل: إنَّ جعفرًا - وهو ابن عبد الله بن الحكم بن رافع - لم يسمع من جد أبيه رافع بن سنان، مع أنه صرَّح بسماعه منه هنا عند المصنف، لكن يُعكّر على ذلك أنَّ أبا داود روى هذا الحديث عن إبراهيم بن موسى، فلم يذكر التصريح بالسماع بل عنعنه، وعلى أي حال فجعفر هذا ثقة، وما رواه قصةٌ حصلت في أهل بيته، فهو أدرى بها، والله أعلم.»

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
18. حَضَانَةُ الْوَلَدِ لِلْمَرْأَةِ الْمُطَلَّقَةِ مَا لَمْ تَنْكِحْ
طلاق یافتہ عورت بچے کی حضانت کی زیادہ حق دار ہے جب تک وہ نکاح نہ کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2865
حدثنا أبو بكر أحمد بن إسحاق الفقيه، أخبرنا أبو المثنَّى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا يحيى، عن الأجلَح، عن الشعبي، عن عبد الله بن الخَليل، عن زيد بن أرقَمَ، قال: كنت جالسًا عند النبي ﷺ إذ جاءه رجلٌ من أهل اليمن، فقال: إنَّ ثلاثةً من أهل اليمن أتَوْا عليًّا يَختصِمُون إليه في ولد، وَقعُوا على امرأةٍ في طُهْر واحد، فقال للاثنين منهما: طِيبا بالولد لهذا، فغُلِبا (1) ، ثم قال للاثنين: طِيبا بالولد لهذا، فغُلِبا، ثم قال للاثنين: طِيبا بالولد لهذا، فغُلِبا. ثم قال: أنتم شركاءُ متشاكِسُون، إني مُقرِعٌ بينكم، فمن قَرَعَ فلهُ الولدُ وعليه لصاحبَيه ثُلُثا الدِّيَة، فأقرَعَ بينهم، فجعلَه لمن قَرَعَ. فضحك رسولُ الله ﷺ حتى بَدَتْ أضراسُه، أو قال: نواجذُه (2) . قد اتفق الشيخان على ترك الاحتجاج بالأجلح بن عبد الله الكِنْدي، وإنما نَقَما عليه حديثًا واحدًا لعبد الله بن بُريدة، وقد تابعه على ذلك الحديث ثلاثةٌ من الثِّقات، فهذا الحديث إذًا صحيح، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2829 - هذا الحديث إذا صحيح
سیدنا زيد بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا تھا کہ یمن سے ایک شخص آیا اور اس نے بتایا کہ یمن کے تین آدمی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس ایک بچے کے متعلق جھگڑا لے کر آئے، ان تینوں نے ایک ہی طہر میں ایک عورت سے قربت کی تھی، علی رضی اللہ عنہ نے باری باری ان میں سے دو دو اشخاص سے کہا کہ تم خوشدلی سے یہ بچہ اس تیسرے کے حوالے کر دو، لیکن وہ تیار نہ ہوئے، تب علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم ایسے شراکت دار ہو جو آپس میں ضد کر رہے ہو، اب میں تمہارے درمیان قرعہ اندازی کروں گا، جس کا نام نکلے گا بچہ اسی کا ہوگا اور وہ باقی دو ساتھیوں کو دیت کا دو تہائی حصہ (بطور معاوضہ) ادا کرے گا، چنانچہ انہوں نے قرعہ اندازی کی اور جس کا نام نکلا بچہ اسے دے دیا، (جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ قصہ سنایا گیا تو) آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے یہاں تک کہ آپ کی ڈاڑھ مبارک ظاہر ہو گئی۔
شیخین نے اجلح بن عبداللہ کندی سے احتجاج ترک کرنے پر اتفاق کیا ہے، انہوں نے ان کی صرف ایک حدیث پر اعتراض کیا ہے جبکہ اس حدیث میں تین ثقہ راویوں نے ان کی متابعت کی ہے، لہٰذا یہ حدیث صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطلاق/حدیث: 2865]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لاضطرابه كما هو مبيّن في "مسند أحمد" 32/ (19329)، وقد نبَّه على اضطرابه أبو حاتم في "العلل" لابنه (1204)، والنسائي (5652 - 5656)، وصَوَّبا أنه عن ابن الخليل مرسلًا موقوفًا، ومع ذلك صحَّح ابن حزم في "المحلى" 10/ 150 إسناد الثَّوري الذي قال فيه: عن صالح الهَمْداني - وهو ابن صالح بن حَيٍّ - عن الشعبي عن عبد خير الحضرميّ، عن زيد بن أرقم. فذكر عبد خير، بدل عبد الله بن الخليل، وذكر صالحًا الهمداني بدل الأجلح. وتابع ابنَ حزم على ذلك عبدُ الحق الإشبيلي في "أحكامه الوسطى" 3/ 220، وابنُ القطان في "بيان الوهم والإيهام" 5/ 433 و 436، وصحَّح الحديثَ قبل هؤلاء إسحاق بن راهويه كما في "مسائل إسحاق بن منصور الكوسج" (1047).»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لاضطرابه كما هو مبيّن في "مسند أحمد" 32/ (19329)
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2866
أخبرني أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا محمود بن خالد الدمشقي، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثني أبو عَمرو الأوزاعي، حدثني عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده عبد الله بن عمرو: أنَّ امرأة قالت: يا رسول الله، ابني هذا كان بطني له وِعاءً، وثَدْيِي له سِقاءً، وحَجْري له حِواءً، وإِنَّ أباه طلَّقني وأراد أن يَنزِعَه مني، فقال لها رسول الله ﷺ:"أنتِ أحقُّ به ما لم تَنْكِحي" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2830 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک عورت نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرا یہ بیٹا ہے، میرا پیٹ اس کا برتن (ٹھکانہ)، میرا سینہ اس کا مشکیزہ اور میری گود اس کی پناہ گاہ رہی ہے، اب اس کے باپ نے مجھے طلاق دے دی ہے اور وہ اسے مجھ سے چھیننا چاہتا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: تم اس کی (پرورش کی) زیادہ حقدار ہو جب تک کہ تم (دوسرا) نکاح نہ کر لو۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطلاق/حدیث: 2866]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن.»

الحكم على الحديث: إسناده حسن.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
19. خُرُوجُ الْمُطَلَّقَةِ ثَلَاثًا لِحَوَائِجِهَا
تین طلاق والی عورت کا اپنی ضروریات کے لیے نکلنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2867
أخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا يحيى بن سعيد، عن ابن جُرَيج، أخبرني أبو الزُّبَير، عن جابر، قال: طُلِّقتْ خالتي ثلاثًا، فخرجَتْ تَجُدُّ نخلًا لها، فلقيَها رجلٌ فنهاها، فأتتِ النبيَّ ﷺ فذكرت ذلك له، فقال رسول الله ﷺ:"اخرُجي فجُدِّي، لعلّكِ أن تَصَدَّقي منه أو تفعلي خيرًا" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2831 - رواه أحمد في المسند على شرط مسلم
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میری خالہ کو تین طلاقیں دے دی گئی تھیں، وہ اپنی کھجوریں توڑنے کے لیے (گھر سے) نکلیں تو انہیں ایک شخص ملا جس نے انہیں (عدت کے دوران باہر نکلنے سے) منع کیا، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ضرور باہر نکلو اور اپنی کھجوریں توڑو، امید ہے کہ تم اس میں سے کچھ صدقہ کرو گی یا کوئی بھلائی کا کام کرو گی۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطلاق/حدیث: 2867]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،»

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں