🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
20. عِدَّةُ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا فِي بَيْتِ زَوْجِهَا
شوہر کے انتقال کے بعد عدت شوہر کے گھر میں گزارنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2868
أخبرنا الحسين بن الحسن بن أيوب، حدثنا أبو حاتم محمد بن إدريس، حدثنا أبو النعمان محمد بن الفضل وسليمان بن حَرْب، قالا: حدثنا حماد بن زيد، حدثنا إسحاق بن سعد بن كعب بن عُجْرة، حدثَتْني زينبُ بنت كعب، عن فُرَيعة بنت مالك: أنَّ زوجها خَرَجَ في طلب أعلاج له، فقُتل بطَرَف القَدُّوم - قال حماد: وهو موضعُ ماء - قالت: فأتيتُ النبي ﷺ فذكرتُ ذلك له من حالي، وذكرت النُّقلةَ إلى إخوتي، قالت: فرخَّص لي، فلما تجاوزتُ ناداني، فقال:"امكُثي في بيتِك حتى يبلُغَ الكتابُ أجلَه" (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2832 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدہ فریعہ بنت مالک رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ان کا شوہر اپنے کچھ بھاگے ہوئے غلاموں کی تلاش میں نکلا اور مقامِ قدوم پر قتل کر دیا گیا، وہ بیان کرتی ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، اپنی صورتحال بتائی اور اپنے بھائیوں کے گھر منتقل ہونے کی اجازت چاہی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے اجازت دے دی لیکن جب میں پلٹنے لگی تو مجھے پکارا اور فرمایا: اپنے (شوہر کے) گھر میں ہی قیام کرو یہاں تک کہ مقررہ عدت پوری ہو جائے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطلاق/حدیث: 2868]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، زينب بنت كعب - وهو ابن عُجْرة - روى عنها ابنا أخويها سعد بن إسحاق - وليس إسحاق بن سعد كما سُمِّي في رواية حماد بن زيد عند المصنف هنا، على أنَّ الذُّهلي جعلهما اثنين، كما سينقله المصنف - وسليمان بن محمد، وهما ثقتان، وذكرها ابن حبان في "الثقات"، وصحَّح حديثها، واحتجَّ بها مالك والشافعي، كما صحَّح حديثها الذُّهلي والترمذي وابن عبد البر والذهبي وابن القطان وغيرهم.»

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2869
حدَّثَناه أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حدثنا إبراهيم بن عبد الله السَّعْدي، أخبرنا يزيد بن هارون، أخبرنا يحيى بن سعيد، أنَّ سعد بن إسحاق بن كعب بن عُجْرة أخبره، أنَّ عمته زينب بنت كعب بن عُجْرة أخبرته، أنها سمعت فُريعة بنت مالك أختَ أبي سعيد الخُدْري قالت: خرج زَوجي في طلب أعبُدٍ له فأدركهم بطَرَف القَدوم فقتلوه، فأتاني نَعْيُه وأنا في دارٍ شاسعةٍ من دُور أهلي، فأتيتُ رسول الله ﷺ فقلت: إنه أتاني نَعْيُ زوجي، وأنا في دارٍ شاسعةٍ من دُور أهلي، ولم يَدَعْ لي نفقةً ولا مالًا، وليس المسكنُ لي، ولو تحوّلْتُ إلى إخوتي وأهلي كان أرفَقَ بي في بعض شأني، فقال:"تَحوّلي"، فلما خرجتُ إلى المسجد - أو (1) الحُجرة - دعاني - أو أُمِر بي فدُعِيتُ له - فقال:"امكُثي في البيت الذي أتاكِ فيه نَعْيُ زوجِك، حتى يَبلُغَ الكتابُ أجلَه"، فاعتددتُ فيه أربعةَ أشهرٍ وعشرًا. قالت: فأرسل عثمانُ بن عفّان، فأتيتُه فحدَّثتُه فأخذَ به (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد من الوجهين جميعًا، ولم يُخرجاه. رواه مالك بن أنس في"الموطَّأ" (1) عن سعد بن إسحاق بن كعب بن عُجْرة. قال محمد بن يحيى الذُّهْلي:
هذا حديث صحيح محفُوظ، وهما اثنان سعد بن إسحاق، وهو أشهرُهما، وإسحاق بن سعد بن كعب (2) ، وقد روى عنهما جميعًا يحيى بن سعيد الأنصاري، فقد ارتفعت عنهما جميعًا الجهالةُ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2833 - صحيح
سیدہ فریعہ بنت مالک رضی اللہ عنہا (جو سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی ہمشیرہ ہیں) سے روایت ہے کہ میرے شوہر اپنے چند بھاگے ہوئے غلاموں کی تلاش میں نکلے اور مقامِ قدوم کے ایک کنارے پر انہیں پا لیا تو ان غلاموں نے انہیں قتل کر دیا۔ ان کی وفات کی خبر مجھے اس وقت ملی جب میں اپنے میکے کے گھروں سے دور ایک مکان میں مقیم تھی۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ مجھے شوہر کی وفات کی خبر ملی ہے جبکہ میں اپنے خاندان کے گھروں سے دور ایک مکان میں ہوں، اور شوہر نے میرے لیے نہ کوئی نفقہ (خرچہ) چھوڑا ہے، نہ مال، اور نہ ہی یہ رہائشی مکان میرا اپنا ہے، اگر میں اپنے بھائیوں اور خاندان والوں کے پاس منتقل ہو جاؤں تو میرے بعض معاملات میں میرے لیے زیادہ آسانی ہوگی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: منتقل ہو جاؤ۔ پھر جب میں مسجد یا حجرہ مبارک تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پکارا (یا مجھے بلانے کا حکم دیا) اور فرمایا: اسی گھر میں ٹھہری رہو جہاں تمہیں اپنے شوہر کی وفات کی خبر ملی ہے، یہاں تک کہ لکھی ہوئی مدت (عدت) پوری ہو جائے۔ چنانچہ میں نے وہیں چار ماہ دس دن عدت گزاری۔ وہ بیان کرتی ہیں کہ پھر سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے (اپنی خلافت میں) مجھے بلا بھیجا، میں نے انہیں یہ حدیث سنائی تو انہوں نے اسی پر عمل کیا۔
یہ حدیث دونوں سندوں سے صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ امام مالک بن انس نے اسے موطا میں سعد بن اسحاق سے روایت کیا ہے۔ امام محمد بن یحییٰ ذہلی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح اور محفوظ ہے، اور سعد بن اسحاق اور اسحاق بن سعد دو الگ راوی ہیں جن میں سے سعد زیادہ مشہور ہیں، اور ان دونوں سے یحییٰ بن سعید انصاری نے روایت کی ہے، جس سے ان دونوں کی جہالت ختم ہو جاتی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطلاق/حدیث: 2869]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح كسابقه، يحيى بن سعيد: هو الأنصاري.- وأخرجه أحمد 45/ (27087)، والترمذي بإثر (1204)، والنسائي (5692) من طريق عبد الله بن إدريس، عن يحيى بن سعيد الأنصاري، بهذا الإسناد.»

الحكم على الحديث: إسناده صحيح كسابقه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
21. عِدَّةُ الْحَامِلِ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا
حاملہ بیوہ کی عدت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2870
أخبرني أبو حفص أحمد بن أَحْيَد الفقيه ببُخارَى من أصل كتابه، حدثنا أبو علي صالح بن محمد بن حبيب الحافظ، حدثنا علي بن حكيم الأَوْدي، حدثنا شَريك، عن إبراهيم بن مهاجر، عن مصعب بن عامر، عن عائشة، أنها قالت: طُلِّقَتِ امرأةٌ فَمَكَثَت ثلاثًا وعشرين ليلةً، فوَضَعتْ حَمْلَها، ثم أتتِ النبيَّ ﷺ فَذَكَرَت ذلك له، فقال لها:"تَزوّجي" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. حدثنا الحاكم أبو عبد الله محمد بن عبد الله الحافظ إملاءً في ذي القَعْدة سنة ثمانٍ وتسعين وثلاثِ مئة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2834 - على شرط مسلم
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ ایک عورت کو طلاق دی گئی تو وہ تیئیس راتیں (عدت میں) رہی، پھر اس نے بچہ جن دیا، اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: (اب تم) نکاح کر لو۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطلاق/حدیث: 2870]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، تفرَّد به إبراهيم بن مهاجر، وهو ليس بالقوي وروى ما لا يُتابع عليه، ومصعب بن عامر كذا وقع اسمه في هذه الرواية، وبعض من يرويه عن شريك - وهو ابن عبد الله النخعي - يسميه عامر بن مصعب، وهو الصحيح في اسمه كما كان يسميه ابنُ جُرَيج في عدة أحاديث رواها عنه، ومنها حديث أخرجه له البخاري (2060) قرنه فيه بعمرو بن دينار. وخالف أبو جعفر الرازي في هذا الحديث فسمى الرجل عامر بن سعد، وهو خطأ منه كما جزم بذلك أبو حاتم في سؤالات ابنه له في "العلل" (1301)، وأخطأ الدارقطني ﵀ فصحَّح قوله في "العلل" (3869)، والقول في ذلك قول أبي حاتم. وعامر بن مصعب هذا وإن روى له البخاري في- "صحيحه" قرنه بعمرو بن دينار المكي الثقة، وقال عنه ابن حبان: لا يعجبني الاعتبار بحديثه من رواية إبراهيم بن مهاجر عنه، وقال الدارقطني: ليس بالقوي، وقال العقيلي في "الضعفاء" بإثر (1379): الأسانيد في هذا ثابتة في قصة سُبيعة الأسلمية عن أم سلمة وغيرها. قلنا: إن كان هذا الحديث الذي هنا هو نفسه حديث سُبيعة فقد وقعت المخالفة فيه في مواضع، منها أنه عن أم سلمة وليس عن عائشة، ومنها أنَّ زوج المرأة المذكورة مات أو قتل لا أنه طلَّقَها. والله تعالى أعلم.»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2871
أخبرنا أبو جعفر محمد بن محمد بن عبد الله البغدادي، قال: حدثنا هاشم بن يونس العَصّار بمصر، حدثنا علي بن مَعبَد، حدثنا أبو المَلِيح الرَّقِّي، حدثني عبد الملك بن أبي القاسم، عن أم كُلْثوم بنت عُقبة: أنها كانت تحت الزُّبَير بن العوام فكرهتْه، وكان شديدًا على النساء، فقالت للزُّبير: يا أبا عبد الله، رَوِّحْني بتطليقةٍ، قالت: وذلك حين وجدْتُ الطَّلْق، قال: وما يَنفعُكِ أن أُطلِّقَكِ تطليقةً واحدةً ثم أُراجعَك؟ قالت: إني أجدُني أستَرْوِحُ إلى ذلك، قال: فطلَّقها تطليقةً واحدةً، ثم خرج، فقالت لجاريتها: غَلِّقي الأبواب، قال: فوَضَعَتْ جاريةً، قال: فأُتي الزُّبَير فبُشِّر بها، فقال: مَكَرَت بي ابنةُ أبي مُعَيط، ثم خرج إلى رسول الله ﷺ فذكر ذلك له، فأبانَها منه (1) .
هذا حديث غريب صحيح الإسناد. وأبو المَلِيح وإن لم يخرجاه، فغير متَّهم بالوَضْع (2) ، فإنه إمام أهل الجزيرة في عصره، وأم كُلثوم هي ابنة عُقبة بن أبي مُعَيط، وهي التي يروي عنها ابنُها حميد بن عبد الرحمن عن رسول الله ﷺ:"ليس بالكذاب الذي يُصلِح بين الناس" (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2835 - صحيح غريب
ام کلثوم بنت عقبہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں مگر انہیں ناپسند کرتی تھیں کیونکہ وہ عورتوں کے معاملے میں سخت مزاج تھے، چنانچہ انہوں نے زبیر سے کہا: اے ابوعبداللہ! مجھے ایک طلاق دے کر سبکدوش (راحت عطا) کر دیں، انہوں نے یہ مطالبہ اس وقت کیا جب انہیں دردِ زہ (بچہ جننے کی تکلیف) شروع ہو چکی تھی، زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: تمہیں ایک طلاق کا کیا فائدہ ہوگا جبکہ میں اس کے بعد تم سے رجوع کر لوں گا؟ انہوں نے کہا: میں اس سے سکون محسوس کروں گی، چنانچہ انہوں نے انہیں ایک طلاق دی اور گھر سے باہر چلے گئے، انہوں نے اپنی لونڈی سے کہا: دروازے بند کر لو، پھر انہوں نے ایک بچی کو جنم دیا، زبیر رضی اللہ عنہ کو جب اس کی خوشخبری دی گئی تو انہوں نے (صورتحال بھانپتے ہوئے) کہا: ابن ابی معیط کی بیٹی نے میرے ساتھ چال چلی ہے، پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور سارا واقعہ ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں (عدت گزرنے کی بنا پر) ان سے جدا کر دیا۔
یہ حدیث غریب اور صحیح الاسناد ہے، اور ابوملیح اگرچہ شیخین کے راوی نہیں ہیں مگر وہ وضعِ حدیث کے متہم نہیں ہیں کیونکہ وہ اپنے زمانے میں اہلِ جزیرہ کے امام تھے، اور ام کلثوم بنت عقبہ بن ابی معیط وہی خاتون ہیں جن سے ان کے بیٹے حمید بن عبدالرحمن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث روایت کرتے ہیں: وہ شخص جھوٹا نہیں ہے جو لوگوں کے درمیان صلح کرواتا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطلاق/حدیث: 2871]
تخریج الحدیث: «حسن بطريقيه، وهذا إسناد رجاله لا بأس بهم، لكنه مرسل، لأن عبد الملك بن أبي القاسم - وهو الرَّقِّي، روى عنه ثقتان، وذكره ابن حبان في "الثقات" - كان يرسل الأخبار، وهو لم يدرك أم كلثوم بنت عقبة، لأنها ماتت في خلافة علي بن أبي طالب كما نص عليه الذهبي في "سير أعلام النبلاء" 2/ 277، وعبد الملك يروي عن نافع مولى ابن عمر وربيعة الرأي، فمثله لا يدرك الرواية عن الصحابة، لكن رُوي هذا الخبرُ من وجه آخر مرسلٍ رجاله ثقات، والله أعلم. أبو المَليح الرقي: هو الحسن بن عمر - ويقال: ابن عمرو - الفَزَاري.»

الحكم على الحديث: حسن بطريقيه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
22. عِدَّةُ أُمِّ الْوَلَدِ إِذَا تُوُفِّيَ عَنْهَا سَيِّدُهَا
امِ ولد کی عدت جب اس کا آقا فوت ہو جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2872
حدثني علي بن عيسى بن إبراهيم الحِيْري، حدثنا محمد بن عمرو بن النضر الحَرَشي، حدثنا عبد الله بن مَسلَمة، حدثني عبد الأعلى، حدثنا سعيد، عن مَطَر، عن رجاء بن حَيْوة، عن قَبِيصة بن ذُؤيب، عن عمرو بن العاص، قال: لا تَلبِسُوا علينا سنّةَ نبينا محمد ﷺ في أمِّ الولد، إذا توفي عنها سيِّدُها عدّتُها ﴿أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا﴾ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2836 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ام ولد (وہ لونڈی جس سے اس کے مالک کی اولاد ہو) کے معاملے میں ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو ہم پر مشتبہ نہ کرو، جب اس کا مالک وفات پا جائے تو اس کی عدت ﴿أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا﴾ چار ماہ دس دن [سورة البقرة: 234] ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطلاق/حدیث: 2872]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا حسن، مَطَرٌ - وهو ابن طهمان الورّاق - حديثه حسن في المتابعات والشواهد، وهذا منها، فقد تابعه قتادة كما سيأتي، وقول الدارقطني في "سننه" (3836): قبيصة لم يسمع من عمرو، فيه نظر كما قال ابن عبد الهادي في "المحرر" (1082)، وقال ابن التركماني في "الجوهر النقي" 7/ 448: قبيصة سمع عثمان بن عفان وزيد بن ثابت وأبا الدرداء، فلا شك في إمكان سماعه من عمرو. قلنا: ومما يؤكد أنَّ سماعه منه محتمل، أنَّ قبيصة ولد عام الفتح، وتوفي عمرو بن العاص سنة اثنتين وستين، وكان سنّ قبيصة سنة وفاة عمرو إحدى وخمسين، ثم إنَّ قبيصة سكن الشام، وكذلك عمرو بن العاص أقام بالشام بعد الفتوحات كثيرًا، وعليه فسماعه منه محتمل إقامة ومعاصرة. عبد الله بن مسلمة: هو القعنبي، وعبد الأعلى: هو ابن عبد الأعلى السامي، وسعيد: هو ابن أبي عروبة.»

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2873
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الربيع بن سليمان، حدثنا بشر بن بكر التِّنِّيسي، حدثنا عبد الرحمن بن يزيد بن جابر، عن سُلَيم بن عامر الكَلَاعي، حدثني أبو أُمامة الباهِلي، قال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"بَيْنا أنا نائمٌ، إذ أتاني رجلان فأخَذا بضَبْعَيَّ، فأتَيا بي جبَلًا وَعْرًا، فقالا لي: اصعَدْ، فقلت: إني لا أُطيق، فقالا: إنا سنُسهِّله لك، فصَعَّدْتُ حتى كنتُ في سَواءِ الجَبَل إذا أنا بأصواتٍ شديدةٍ، فقلت: ما هذه الأصوات؟ قالوا: هذا عُواءُ أهل النار، ثم انطُلِق بي، فإذا بقوم مُعلَّقين بعَراقيبهم، مُشقَّقةٍ أَشْداقُهم تَسيلُ أشداقُهم دمًا، قلت: ما هؤلاء؟ قال: هؤلاء الذين يُفطِرون قبل تَحِلّةِ صومِهم، ثم انطُلِق بي، فإذا بقومٍ أشدَّ شيءٍ انتفاخًا وأنتَنَه ريحًا، وأسوأَه منظرًا، فقلت: من هؤلاء؟ قال: هؤلاء الزانُون والزَّواني، ثم انطُلِق بي، فإذا أنا بنساءٍ يَنهَشنَ ثُدِيَّهن الحيّاتُ، فقال: ما بالُ هؤلاء؟ فقال: هؤلاء اللواتي يَمنَعنَ أولادهن ألبانَهُنَّ، ثم انطُلِق بي، فإذا أنا بغلمانٍ يَلعبُون بين نهرَين، فقلت: من هؤلاء؟ قالوا: هؤلاء ذَرَاريُّ المؤمنين، ثم شَرَفَ لي شَرَفٌ، فإذا أنا بثلاثة نَفَرٍ يَشربُون من خمْرٍ لهم، قلت: من هؤلاء؟ قالوا: هؤلاء جعفرُ بن أبي طالب وزيدٌ وابنُ رَوَاحةَ، ثم شَرَفَ لي شَرَفٌ آخرُ، فإذا أنا بثلاثةِ نفرٍ، قلت: من هؤلاء؟ قال: هذا إبراهيمُ وموسى وعيسى، وهم ينتظرونَك" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه، وقد احتجَّ البخاري بجميع رُواته غير سُلَيم بن عامر، وقد احتجَّ به مسلم.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2837 - على شرط مسلم
سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: میں سویا ہوا تھا کہ اچانک میرے پاس دو آدمی آئے، انہوں نے مجھے بازوؤں سے پکڑا اور ایک دشوار گزار پہاڑ کے پاس لے گئے اور مجھ سے کہا: اس پر چڑھئیے، میں نے کہا: میں اس کی طاقت نہیں رکھتا، انہوں نے کہا: ہم آپ کے لیے اسے آسان بنا دیں گے، چنانچہ میں اوپر چڑھ گیا یہاں تک کہ جب میں پہاڑ کی چوٹی پر پہنچا تو وہاں سخت آوازیں سنائی دیں، میں نے پوچھا: یہ کیسی آوازیں ہیں؟ انہوں نے کہا: یہ دوزخیوں کے چیخنے کی آوازیں ہیں، پھر مجھے آگے لے جایا گیا تو میں نے کچھ ایسے لوگوں کو دیکھا جو اپنی کونچوں (ایڑی کے اوپر کے پٹھوں) کے بل لٹکے ہوئے تھے، ان کی باچھیں پھٹی ہوئی تھیں اور ان سے خون بہ رہا تھا، میں نے پوچھا: یہ کون لوگ ہیں؟ انہوں نے بتایا: یہ وہ لوگ ہیں جو وقت سے پہلے (بلا عذر) روزہ افطار کر دیتے تھے، پھر مجھے آگے لے جایا گیا تو میں نے کچھ ایسے لوگوں کو دیکھا جو انتہائی پھولے ہوئے تھے، ان سے سخت بدبو آ رہی تھی اور وہ دیکھنے میں نہایت قبیح تھے، میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ انہوں نے بتایا: یہ زنا کرنے والے مرد اور عورتیں ہیں، پھر مجھے آگے لے جایا گیا تو میں نے ایسی عورتوں کو دیکھا جن کے سینوں کو سانپ ڈس رہے تھے، میں نے پوچھا: ان کا کیا معاملہ ہے؟ انہوں نے بتایا: یہ وہ عورتیں ہیں جو اپنے بچوں کو اپنا دودھ پینے سے روکتی تھیں، پھر مجھے آگے لے جایا گیا تو میں نے کچھ بچوں کو دیکھا جو دو نہروں کے درمیان کھیل رہے تھے، میں نے پوچھا: من ہؤلاء؟ انہوں نے بتایا: یہ مومنوں کی وہ اولاد ہے جو بچپن میں فوت ہو گئی، پھر میرے سامنے ایک بلند جگہ ظاہر ہوئی جہاں میں نے تین افراد کو دیکھا جو اپنی شراب (جامِ کوثر یا جنتی مشروب) پی رہے تھے، میں نے پوچھا: من ہؤلاء؟ انہوں نے بتایا: یہ جعفر بن ابی طالب، زید اور ابن رواحہ ہیں، پھر میرے سامنے ایک اور بلندی ظاہر ہوئی جہاں تین افراد موجود تھے، میں نے پوچھا: من ہؤلاء؟ تو انہوں نے بتایا: یہ ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ علیہم السلام ہیں اور وہ آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، جبکہ امام بخاری نے سلیم بن عامر کے علاوہ اس کے تمام راویوں سے احتجاج کیا ہے اور امام مسلم نے سلیم بن عامر سے بھی احتجاج کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطلاق/حدیث: 2873]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،»

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2874
أخبرنا أبو الفضل الحسن بن يعقوب بن يوسف العَدْل، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا زيد بن الحُباب، حدثني أبو ثابت زيد (1) بن إسحاق بن إسماعيل بن محمد بن ثابت بن قيس بن شَمّاس، حدثني جَدّي إسماعيل بن محمد بن ثابت بن قيس بن شَمّاس، عن أبيه محمد: أنَّ أباه ثابتَ بنَ قيس فارَقَ جَميلةَ بنتَ عبد الله بن أُبيّ، وهي حاملةٌ بمحمد (2) ، فلما ولَدَتْه حَلَفتْ أن لا تَلْبِنَه مِن لَبَنِها، فدعا به رسولُ الله ﷺ، فبَزَق في فِيه، وحَنَّكه بتمرة عَجْوة، وسمّاه محمدًا، وقال: اختَلِفْ به، فإن الله رازِقُه، فأتيتُه اليومَ الأولَ والثاني والثالث، فإذا امرأةٌ من العرب تسأل عن ثابت بن قيس، فقلت: ما تُريدين منه؟ أنا ثابت، قالت: رَأيتُ في مَنامي هذه (3) ، كأني أُرضع ابنًا له يقال له: محمد، فقال: فأنا ثابت، وهذا ابني محمد، قال: وإذا دِرْعُها يَنعصِر من لبنها (4) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2838 - صحيح
محمد بن ثابت بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ نے جمیلہ بنت عبداللہ بن ابی سے علیحدگی اختیار کر لی تھی جبکہ وہ محمد کے ساتھ حاملہ تھیں، پھر جب انہوں نے اسے جنم دیا تو انہوں نے قسم کھا لی کہ وہ اسے اپنا دودھ نہیں پلائیں گی، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچے کو منگوایا اور اس کے منہ میں اپنا لعابِ دہن ڈالا اور عجوہ کھجور سے اسے گھٹی (تحنیک) دی اور اس کا نام محمد رکھا اور فرمایا: اسے (دائیوں کے پاس) لے کر پھرو، اللہ اسے ضرور رزق عطا فرمائے گا، راوی کہتے ہیں کہ میں اسے پہلے، دوسرے اور تیسرے دن لے کر پھرا تو اچانک عرب کی ایک عورت ثابت بن قیس کے بارے میں پوچھ رہی تھی، میں نے پوچھا: تم اس سے کیا چاہتی ہو؟ میں ہی ثابت ہوں، اس نے کہا: میں نے اپنے خواب میں یہ بچہ دیکھا تھا، گویا میں اس کے ایک بیٹے کو دودھ پلا رہی ہوں جس کا نام محمد ہے، ثابت نے کہا: میں ہی ثابت ہوں اور یہ میرا بیٹا محمد ہے، راوی کہتے ہیں: (اسی وقت) اس عورت کی چھاتی سے دودھ ٹپک رہا تھا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطلاق/حدیث: 2874]
تخریج الحدیث: «خبر محتمل للتحسين، وهذا إسناد فيه أبو ثابت زيد بن إسحاق وجده إسماعيل، فيهما جهالة، ولكن روي نحو هذا الخبر باختصار من وجه آخر عن يحيى بن إبراهيم بن محمد بن ثابت بن قيس مرسلًا، فباجتماع هذين الطريقين يتقوَّى الخبر إن شاء الله، على أنَّ هذه القصة حصلت في شأن ثابت بن قيس، وأهل بيته أدرى بها، والله تعالى أعلم.»

الحكم على الحديث: خبر محتمل للتحسين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2875
أخبرني أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثقفي، حدثنا الحسن بن المثنَّى العَنْبري، حدثنا موسى بن مسعود، حدثنا شِبْل بن عَبّاد، عن ابن أبي نَجِيح، قال: قال عطاء: قال ابن عباس: نَسَخَت هذه الآيةُ عِدّتَها عند أهلها، فتَعتدُّ حيث شاءت، وهو قول الله تعالى: ﴿غَيْرَ إِخْرَاجٍ﴾ [البقرة: 240] . قال عطاء: إن شاءت اعتدّت عند أهلها وسكَنتْ في وصيّتها، وإن شاءت خرجت لقول الله تعالى: ﴿فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِي مَا فَعَلْنَ﴾ [البقرة: 240] ، قال عطاء: ثم جاء الميراثُ فنَسَخ السُّكْنى، تعتدُّ حيث شاءت (1) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2839 - على شرط البخاري
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ اس آیت ﴿غَيْرَ إِخْرَاجٍ﴾ [سورة البقرة: 240] نے عدت کے دوران (بیوہ کے) اپنے سسرال کے گھر میں رہنے کے حکم کو منسوخ کر دیا ہے، اب وہ جہاں چاہے عدت گزار سکتی ہے۔ عطاء کہتے ہیں: اگر وہ چاہے تو اپنے سسرال میں رہے اور اپنی وصیت کے مطابق وہاں رہائش رکھے، اور اگر چاہے تو (وہاں سے) نکل جائے کیونکہ اللہ کا ارشاد ہے: ﴿فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِي مَا فَعَلْنَ﴾ [سورة البقرة: 240] پھر وہ اپنے حق میں جو کچھ بھی کریں اس میں تم پر کوئی گناہ نہیں ہے، عطاء نے مزید کہا: پھر وراثت کا حکم آیا جس نے (مستقل) رہائش کے حق کو منسوخ کر دیا، اب وہ جہاں چاہے عدت گزارے۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطلاق/حدیث: 2875]
تخریج الحدیث: «خبر صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل موسى بن مسعود»

الحكم على الحديث: خبر صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2876
أخبرنا أبو بكر إسماعيل بن محمد الفقيه بالرَّيّ، حدثنا محمد بن الفَرَج الأزرق، حدثنا حجّاج بن محمد، قال: وأخبرني [ابن جُرَيج] (1) حدثنا أبو الزُّبَير، أنه سمع جابر بن عبد الله يقول: جاء مِسكينٌ لبعض الأنصار، فقال (2) : إِنَّ سيِّدي يُكرِهُني على البِغاء، فنَزَل في ذلك: ﴿وَلَا تُكْرِهُوا فَتَيَاتِكُمْ عَلَى الْبِغَاءِ﴾ [النور: 33] (3) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه (1) . ﷽ أول كتاب العِتق
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2840 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انصار کے کسی شخص کا ایک غریب (غلام یا لونڈی) حاضر ہوا اور عرض کیا: میرا آقا مجھے بدکاری پر مجبور کرتا ہے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَلَا تُكْرِهُوا فَتَيَاتِكُمْ عَلَى الْبِغَاءِ﴾ [سورة النور: 33] اور اپنی لونڈیوں کو بدکاری پر مجبور نہ کرو۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطلاق/حدیث: 2876]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل محمد بن الفرج، وقد توبع. ابن جُرَيج: هو عبد الملك بن عبد العزيز المكي، وأبو الزُّبَير: هو محمد بن مسلم بن تَدرُس المكي.- وأخرجه أبو داود (2311) عن أحمد بن إبراهيم الدورقي، والنسائي (11301) عن الحسن بن محمد بن الصبّاح، كلاهما عن حجاج بن محمد، بهذا الإسناد. بلفظ: جاءت مُسَيكة لبعض الأنصار، فقالت ....»

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں