🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب:
باب:
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8146
أخبرنا أبو بكر بن أبي نصر المَروَزي، حدثنا محمد بن غالب، حدثنا عمر بن عبد الوهاب الرِّيَاحي، عن الحجَّاج الأسود، عن محمد بن واسع، عن أبي صالح، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"أحِبُّوا الفقراءَ وجالِسُوهم، وأحِبَّ العربَ من كلِّ قلبِك، ولْيرُدَّك عن الناس ما تعلمُ من قلبِك" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد إن كان عمر الرِّياحي سمع من حجّاج الأسود. آخر كتاب الرقاق [كتاب الفرائض]
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7947 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: فقراء سے محبت کرو، ان کے ساتھ بیٹھا کرو، دل کی گہرائیوں سے عرب کے ساتھ محبت کرو، جس چیز کو تم دلی طور پر (نقصان دہ) سمجھتے ہو، اس کو لوگوں سے دور رکھو۔ ٭٭ اگر عمر الریاحی نے حجاج بن اسود سے سماع کیا ہے تو یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفرائض/حدیث: 8146]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. الْعِلْمُ ثَلَاثَةٌ: آيَةٌ مُحْكَمَةٌ سُنَّةٌ قَائِمَةٌ فَرِيضَةٌ عَادِلَةٌ
علم کی تین اقسام ہیں: واضح آیات، قائم شدہ سنت اور عادلانہ فرائض
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8147
حدثنا أبو بكر أحمد بن إسحاق، حدثنا بشر بن موسى الأسدي، حدثنا إسماعيل بن أبي أُوَيس، حدثني حفص بن عمر بن أبي العطَّاف مولى بني سَهْم، عن أبي الزِّناد، عن الأعرج، عن أبي هريرة (1) ، قال: قال رسول الله ﷺ:"يا أبا هريرةَ، تَعلَّمُوا الفرائضَ، وعلِّموه، فإنه نصفُ العلم، وإنَّه يُنسَى، وهو أول ما يُنزَعُ من أُمَّتي" (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7948 - حفص بن عمر واه بمرة
سیدنا اعرج فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے ابوہریرہ! علم وراثت سیکھو اور سکھاؤ، کیونکہ یہ آدھا علم ہے، اور اسے بھلا دیا جائے گا، اور میری امت سے سب سے پہلے اسی علم کو اٹھایا جائے گا تو سب سے پہلے علم وراثت اٹھایا جائے گا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفرائض/حدیث: 8147]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. تَعَلَّمُوا الْقُرْآنَ وَعَلِّمُوهُ النَّاسَ
قرآن سیکھو اور اسے لوگوں کو سکھاؤ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8148
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحر بن نَصر، حدثنا عبد الله ابن وهب، أخبرني عبد الرحمن بن زياد بن أَنعُم المَعَافري، عن عبد الرحمن بن رافع التَّنُوخي، عن عبد الله بن عمرو بن العاص، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"العلمُ ثلاثةٌ، فما سوى ذلك فهو فَضْلٌ: آيةٌ مُحكَمةٌ، أو سُنَّةٌ قائمةٌ، أو فريضةٌ عادلة" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7949 - الحديثان ضعيفان
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: علم تین ہیں، ان کے علاوہ جو کچھ بھی ہے وہ فضول ہے۔ ٭ آیات محکمات کا علم۔ ٭ سنت قائمہ کا علم۔ ٭ فریضہ عادلہ کا علم۔ (انصاف کے مطابق وراثت تقسیم کرنے کا علم) [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفرائض/حدیث: 8148]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8149
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبُوبي بمَرُو، حدثنا الفضل بن عبد الجبار، حدثنا النَّضْر بن شُمَيل، أخبرنا عوف بن أبي جَميلة، عن سليمان بن جابر الهَجَري، عن عبد الله بن مسعود قال: قال رسول الله ﷺ:"تَعلَّمُوا القرآن وعلِّمُوه الناسَ، وتَعلَّمُوا الفرائضَ وعلِّموه الناسَ، فإني امرُؤٌ مقبوضٌ، وإنَّ العلمَ سيُقبَضُ وتظهرُ الفِتنُ، حتى يَختلِفَ الاثنانِ في الفريضة، لا يَجِدانِ من يَقْضي بها" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وله عِلّة عن أبي بكر بن إسحاق عن بشر بن موسى عن هَوْذة بن خَليفة عن عوف:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7950 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قرآن سیکھو اور لوگوں کو سکھاؤ، علم وراثت سیکھو اور دوسروں کو سکھاؤ، کیونکہ میں عنقریب جانے والا ہوں، اور علم اٹھا لیا جائے گا۔ فتنے ظہور پذیر ہوں گے حتیٰ کہ دو آدمی وراثت کے معاملے میں جھگڑیں گے تو ان کو کوئی آدمی ایسا نہیں ملے گا جو ان میں فیصلہ کر دے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفرائض/حدیث: 8149]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. إِذَا تَحَدَّثْتُمْ فَتَحَدَّثُوا بِالْفَرَائِضِ
جب تم گفتگو کرو تو فرائض (وراثت کے احکام) کے بارے میں تذکرہ کیا کرو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8150
حدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا بِشر بن موسى، أخبرنا هَوْذة بن خَليفة، حدثنا عوف، عن رجل، عن سليمان بن جابر، عن ابن مسعود، عن النبيِّ ﷺ قال:"تَعلَّموا الفرائضَ وعلِّموه الناس، فإنِّي امْرُؤٌ مقبوضٌ، وإنَّ العلم سيُقبَضُ حتى يختلفَ الاثنانِ في الفريضة، فلا يَجِدانِ أحدًا يَفصِلُ بينهما" (1) . قال الحاكم: وإذا اختَلَفا، فالحكمُ للنَّضر بن شُمَيل.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: علم وراثت سیکھو اور لوگوں کو بھی سکھاؤ، کیونکہ میں تو فوت ہو جاؤں گا اور علم اٹھا لیا جائے گا، حتیٰ کہ دو آدمی وراثت کے بارے میں جھگڑیں گے، ان کو کوئی آدمی ایسا نہیں ملے گا جو ان کے درمیان صحیح فیصلہ کرے۔ ٭٭ حدیث نمبر 7950 میں نضر بن شمیل نے عوف بن ابی جمیلہ کے واسطے سے سلیمان بن جابر ہجری سے روایت کی ہے جبکہ حدیث نمبر 7951 میں ہوذہ بن خلیفہ نے عوف کے واسطے سے روایت کی ہے، اور اس میں عوف اور سلیمان بن جابر کے درمیان ایک مجہول راوی کا ذکر بھی موجود ہے اور اس اختلاف میں نضر بن شمیل کی روایت معتبر ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفرائض/حدیث: 8150]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8151
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى الذُّهْلي والحسين بن الفضل البَجَلي، قالا: حدثنا أبو الوليد الطَّيالسي، حدثنا أبو هلال الراسبي، عن قَتَادة، عن سعيد بن المسيّب، قال: كتب عمرُ بن الخطّاب إلى أبي موسى الأشعري: إذا لَهَوتُم فالْهَوا بالرَّمْى، وإذا تحدَّثتُم فتحدَّثُوا بالفرائض (1) . هذا وإن كان موقوفًا فإنه صحيح الإسناد، ويؤيِّده قولُه ﷺ:"اقتَدُوا بِاللَّذِينِ من بعدي أبي بكر وعمرَ" (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7952 - صحيح
سیدنا سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی جانب ایک خط لکھا جس میں حکم دیا کہ کھیلنا ہو تو تیری اندازی کھیلو، اور گفتگو کرنی ہو تو وراثت کے بارے میں گفتگو کیا کرو۔ ٭٭ یہ حدیث اگرچہ موقوف ہے لیکن یہ صحیح الاسناد ہے اور اس کی تائید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کرتا ہے میرے بعد ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کی اقتداء کرنا ۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفرائض/حدیث: 8151]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8152
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا إبراهيم بن مرزوق، حدثنا وهب بن جَرير، حدثنا شُعْبة، عن أبي إسحاق. وحدثنا أبو العباس المحبوبي، حدثنا أحمد بن سَيَّار، حدثنا محمد بن كَثير، حدثنا سفيان الثَّوري، عن أبي إسحاق، عن أبي عُبيدة، عن عبد الله بن مسعود قال: مَن قرأَ منكم القرآنَ فليتعلَّم الفرائضَ، فإن لقيَه أعرابي قال: يا مُهاجِرُ، أتقرأُ القرآنَ؟ فيقول: نعم، فيقول: وأنا أقرأُ القرآنَ، فيقول الأعرابيُّ: أتَفرِضُ يا مهاجر؟ فإن قال: نعم، قال: زيادهُ خيرٍ، وإن قال: لا، حسبتُه قال: فما فَضلُكَ عليَّ يا مهاجُر؟! (3) قال الحاكم: هذا موقوف صحيح علي شرط الشيخين، شاهدٌ للمرسل الذي قدَّمنا.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7953 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تم میں سے جس نے قرآن پڑھ لیا ہے اس کو چاہیے کہ وہ علم وراثت سیکھے، اگر اس سے کوئی دیہاتی ملے تو وہ دیہاتی کہے اے مہاجر کیا تم نے قرآن پڑھ لیا ہے ؟ وہ کہے: جی ہاں۔ دیہاتی کہے قرآن تو میں نے بھی پڑھا ہوا ہے ۔ پھر دیہاتی کہے: اے مہاجر! کیا تم نے وراثت کا علم سیکھا ہوا ہے، اگر وہ ہاں کہے، تو یہ بہت ہی زیادہ بھلائی کی بات ہے، اور اگر کہے کہ میں نہیں جانتا تو راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ وہ کہے گا: اے مہاجر تمہیں مجھ پر کیا فضیلت حاصل ہے؟ ٭٭ امام حاکم کہتے ہیں: یہ حدیث موقوف ہے، امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق ہے۔ اور یہ حدیث اس مرسل حدیث کی شاہد ہے جو اس سے پہلے ہم نے ذکر کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفرائض/حدیث: 8152]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8153
أخبرنا أحمد بن سلمان الفقيه، حدثنا هلال بن العلاء الرَّقِّي، حدثنا أبي، حدثنا عبيد الله بن عمرو الرَّقِّي، عن عبد الله بن محمد بن عَقيل، عن جابر قال: جاءتِ امرأةُ سعد (1) بن الرَّبيع، فقالت: يا رسولَ الله، هاتانِ ابنتا سعد بن الرَّبيع، قُتل أبوهما معكَ يومَ أُحدٍ شهيدًا، وإنَّ عمَّهما أخذَ مالَهما فلم يَدَعْ لهما مالًا، قال: فقال:"يَقضِي اللهُ في ذلك"، فنزلت آية الميراث، فأرسَلَ رسول الله ﷺ إلى عمِّهما، فقال:"أَعطِ ابنتَيْ سعدٍ الثُّلثينِ وأمَّهما الثُّمنَ، وما بقيَ فهو لك" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7954 - صحيح
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک خاتون سیدنا سعد بن ربیع کے پاس آئی اور کہنے لگی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، یہ دو لڑکیاں، سعد بن ربیع کی بیٹیاں ہیں، ان کا والد آپ کے ہمراہ احد میں لڑتا ہوا شہید ہو گیا ہے، اور ان کے چچا نے ان کا سارا مال ہڑپ کر لیا ہے اور ان کے لیے کچھ نہیں چھوڑا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس معاملے میں اللہ تعالیٰ خود فیصلہ فرمائے گا۔ تب آیت میراث نازل ہوئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لڑکیوں کے چچا کی جانب پیغام بھیجا اور فرمایا: سعد کی دونوں بیٹیوں کو دو تہائی دے دو، ان کی ماں کو آٹھواں حصہ دے دو اور جو باقی بچے وہ تم خود رکھ لو۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفرائض/حدیث: 8153]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8154
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحْر بن نصر بن سابق الخَوْلاني، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني ابن أبي الزِّناد، عن أبيه، عن خارجةَ بن زيد بن ثابت، عن أبيه، قال: إذا تُوفِّي الرجلُ أو المرأةُ وتركَ ابنةً واحدةً كان لها النِّصفُ، فإن كانتا اثنتين فما فوقَ ذلك كان لهنَّ الثُّلثانِ، وإن كان معَهنَّ ذَكَرٌ فلا فريضةَ لأحدٍ منهم، ويُبدَأُ بأحدٍ إن يَشرَكهنَّ فريضةً، فيُعطَى فريضتَه، فما بقيَ بعد ذلك فهو للولدِ بينهم، للذِّكر مثلُ حظِّ الأُنثيَين، فإن كانتا اثنتَينِ فما فوقَ ذلك من الإناث، كان لهنَّ الثَّلثان (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. قال الحاكم: أقاويلُ زيد بن ثابت حُجَّةٌ عند كافَّة الصحابة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7955 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب کوئی مرد یا عورت فوت ہو جائے اور ایک لڑکی وارث چھوڑے، اس کو کل مال کا نصف دیا جائے گا، اگر دو یا دو سے زیادہ ہوں تو دو ثلث دیا جائے۔ اور اگر ان کے ہمراہ کوئی لڑکا ہو، تو ان میں سے کسی کے لیے بھی مقرر حصہ نہیں ہے، پھر اگر اس کے ورثاء میں کوئی ذوی الفروض (جن کے حصے مقرر ہیں، تفصیل ہماری کتاب رفیق الوارثت شرح سراجی مطبوعہ شبیر برادرز لاہور میں ملاحظہ فرمائیں) ہو تو اس کو اس کا حصہ دے دیا جائے گا اور جو باقی بچے گا وہ تمام اولاد میں اس طرح تقسیم کیا جائے گا کہ لڑکوں کو لڑکیوں سے دگنا ملے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفرائض/حدیث: 8154]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. الِاثْنَانِ فَمَا فَوْقَهُمَا جَمَاعَةٌ
دو یا دو سے زیادہ افراد (نماز میں) جماعت شمار ہوتے ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8155
فقد أخبرنا أبو عبد الرحمن بن أبي الوَزير التاجر، حدثنا أبو حاتم الرازي، حدثنا الأنصاري، حدثنا محمد بن عمرو، عن أبي سَلَمة: أنَّ ابنَ عباس أخذَ برِكَاب زيد بن ثابت، فقال له: تَنحَّ يا ابن عمِّ رسولِ الله ﷺ فقال: إِنَّا هكذا نفعلُ بكُبَرائِنا وعُلمائِنا (2) .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں مروی ہے کہ انہوں نے سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی سواری کی لگام تھامی، سیدنا زید نے کہا: اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چچا زاد آپ ہٹ جائیے، لیکن سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: ہم اپنے بڑوں اور علماء کا احترام اسی طرح کرتے ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفرائض/حدیث: 8155]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں