🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مسند امام شافعی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الشافعی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1819)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
73. بَابُ صَلَاةِ الْإِمَامِ وَالْمَأْمُومُ جُلُوسًا
امام اور مقتدی کے بیٹھ کر نماز پڑھنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 306
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكِبَ فَرَسًا فَصُرِعَ عَنْهُ، فَجُحِشَ شِقُّهُ الْأَيْمَنُ، فَصَلَّى صَلَاةً مِنَ الصَّلَوَاتِ وَهُوَ قَاعِدٌ، فَصَلَّيْنَا مَعَهُ قُعُودًا، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا، وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا: رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا، فَصَلُّوا جُلُوسًا أَجْمَعِينَ  .
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک گھوڑے پر سوار ہوئے تو اس سے گر پڑے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دایاں پہلو زخمی ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نماز بیٹھ کر پڑھائی تو ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے بیٹھ کر نماز پڑھی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو فرمایا: امام اس لیے مقرر کیا گیا ہے کہ اس کی اقتدا کی جائے، لہذا جب وہ کھڑا ہو کر نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر پڑھو، اور جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو، اور جب وہ رکوع سے سر اٹھائے تو تم بھی اٹھاؤ، اور جب وہ ﴿سمع الله لمن حمده﴾ کہے تو تم ﴿ربنا ولك الحمد﴾ کہو، اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی سب بیٹھ کر نماز پڑھو۔ [مسند امام شافعی/ كتاب الصلاة /حدیث: 306]
تخریج الحدیث: «اخرجہ البخاری، الاذان، باب انما جعل الامام لیؤتم بہ: 689، ومسلم، الصلاة، باب ائتمام المأموم بالامام: 411.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 307
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانٍ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، يَعْنِي: بِمِثْلِهِ.
ایک دوسری سند سے عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی اسی (سابقہ حدیث) طرح مروی ہے۔ [مسند امام شافعی/ كتاب الصلاة /حدیث: 307]
تخریج الحدیث: «اخرجہ البخاری، الاذان، باب انما جعل الامام لیؤتم بہ: 688، ومسلم، الصلاة، باب ائتمام المأموم بالامام: 412.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 308
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي وَهُوَ شَاكٍ، فَصَلَّى جَالِسًا، وَصَلَّى خَلْفَهُ قَوْمٌ قِيَامًا، فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ أَنِ اجْلِسُوا، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ:"إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا، وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا، فَصَلُّوا جُلُوسًا"  .
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، بیان فرماتی ہیں: میرے گھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھ کر نماز پڑھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے لوگوں نے کھڑے ہو کر نماز پڑھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارہ کیا کہ بیٹھ جاؤ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: امام اس لیے مقرر کیا جاتا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو، اور جب وہ سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ، اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔ [مسند امام شافعی/ كتاب الصلاة /حدیث: 308]
تخریج الحدیث: «اخرجہ البخاری، الاذان، باب انما جعل الامام لیؤتم بہ: 688، ومسلم، الصلاة، باب ائتمام المأموم بالامام: 412.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 309
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ: أَنَّهُمْ خَرَجُوا يُشَيِّعُونَهُ، وَهُوَ مَرِيضٌ، فَصَلَّى جَالِسًا، فَصَلَّوْا خَلْفَهُ جُلُوسًا.  أَخْرَجَ الْحَدِيثَيْنِ مِنْ كِتَابِ الْإِمَامَةِ وَالثَّالِثَ فِي كِتَابِ اخْتِلَافِ مَالِكٍ وَالشَّافِعِيِّ، وَالرَّابِعَ مِنْ كِتَابِ اخْتِلَافِ الْحَدِيثِ.
ابو زبیر سے مروی ہے وہ جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ نکلے جبکہ جابر رضی اللہ عنہ کو رخصت کر رہے تھے جبکہ وہ بیمار تھے۔ جابر رضی اللہ عنہ نے بیٹھ کر نماز پڑھائی تو انہوں نے بھی ان کے پیچھے بیٹھ کر نماز پڑھی۔ [مسند امام شافعی/ كتاب الصلاة /حدیث: 309]
تخریج الحدیث: «اسنادة ضعيف فان ابا الزبير محمد بن مسلم بن تدرس المكي مدلس قد عنعن أخرجه البيهقي في المعرفة السنن والآثار له: 1471.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
74. بَابُ صَلَاةِ الْإِمَامِ قَاعِدًا وَالْمَأْمُومُ قَائِمًا
امام کے بیٹھ کر اور مقتدی کے کھڑے ہو کر نماز پڑھنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 310
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانٍ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أَبَا بَكْرٍ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ فَوَجَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خِفَّةً فَجَاءَ، فَقَعَدَ إِلَى جَنْبِ أَبِي بَكْرٍ، فَأَمَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا بَكْرٍ وَهُوَ قَاعِدٌ، وَأَمَّ أَبُو بَكْرٍ النَّاسَ وَهُوَ قَائِمٌ.  
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے افاقہ محسوس کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ایک جانب بیٹھ گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کی امامت فرمائی جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو کھڑے ہو کر امامت کروائی۔ [مسند امام شافعی/ كتاب الصلاة /حدیث: 310]
تخریج الحدیث: «اخرجہ البخاری، الاذان، باب من قام الی جنب الامام لعلة: 683، ومسلم، الصلاة، باب استخلاف الامام اذا عرض لہ عذر من مرض وسفر وغيرهما .... الخ 418.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 311
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ: أَنَّ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ اللَّيْثِيَّ حَدَّثَهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أَبَا بَكْرٍ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ الصُّبْحَ، وَأَنَّ أَبَا بَكْرٍ كَبَّرَ فَوَجَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْضَ الْخِفَّةِ فَقَامَ يَفْرِجُ الصُّفُوفَ، قَالَ: وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ لَا يَلْتَفِتُ إِذَا صَلَّى، فَلَمَّا سَمِعَ أَبُو بَكْرٍ الْحِسَّ مِنْ وَرَائِهِ عَرَفَ أَنَّهُ لَا يَتَقَدَّمُ إِلَى ذَلِكَ الْمَقْعَدِ إِلَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَنَسَ وَرَاءَهُ إِلَى الصَّفِّ فَرَدَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَانَهُ فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى جَنْبِهِ، وَأَبُو بَكْرٍ قَائِمٌ، حَتَّى إِذَا فَرَغَ أَبُو بَكْرٍ قَالَ: أَيْ رَسُولَ اللَّهِ أَرَاكَ أَصْبَحْتَ صَالِحًا، وَهَذَا يَوْمُ ابْنَةِ خَارِجَةَ. فَرَجَعَ أَبُو بَكْرٍ إِلَى أَهْلِهِ، فَمَكَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَانَهُ، وَجَلَسَ إِلَى جَنْبِ الْحُجْرَةِ يُحَذِّرُ النَّاسَ الْفِتَنَ، قَالَ:"إِنِّي وَاللَّهِ لَا يُمْسِكُ النَّاسُ عَلَيَّ بِشَيْءٍ إِلَّا أَنِّي لَا أُحِلُّ إِلَّا مَا أَحَلَّ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ، وَلَا أُحَرِّمُ إِلَّا مَا حَرَّمَ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ، يَا فَاطِمَةُ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ، يَا صَفِيَّةُ عَمَّةُ رَسُولِ اللَّهِ، اعْمَلًا لِمَا عِنْدَ اللَّهِ، فَإِنِّي لَا أُغْنِي عَنْكُمَا مِنَ اللَّهِ شَيْئًا"  .
عبید بن عمیر اللیثی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو لوگوں کو صبح کی نماز پڑھانے کا حکم دیا، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے تکبیر کہی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ افاقہ محسوس کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور صفوں سے آگے نکل آئے، عبید کہتے ہیں ابوبکر رضی اللہ عنہ جب نماز پڑھتے تو کسی جانب متوجہ نہیں ہوتے تھے، جب ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے پیچھے کچھ محسوس کیا، اور پہچان لیا کہ اس جگہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ اور کوئی نہیں آسکتا، واپس صف کی طرف پیچھے ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ان کی جگہ لوٹا دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پہلو میں بیٹھ گئے، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے تھے، حتیٰ کہ جب ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے خیال میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم تندرست ہو گئے، اور یہ دن خارجہ کی بیٹی کا تھا، ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنے گھر آگئے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جگہ پر حجرے کے ایک جانب بیٹھ کر لوگوں کو فتنوں سے ڈراتے رہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں کو نہیں چاہیے کہ ہر بات میں میری طرح عمل کریں کیونکہ میں اس چیز کو حلال کرتا ہوں جس کو اللہ نے اپنی کتاب میں حلال کیا ہے اور اس چیز کو حرام کرتا ہوں جسے اللہ نے اپنی کتاب میں حرام کیا ہے، اے فاطمہ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی، اے صفیہ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی، جو کچھ اللہ کے ہاں ہے اس کے لیے عمل کرو، بے شک میں تمہارے واسطے اللہ سے کچھ بھی کفایت نہیں کر سکوں گا۔ [مسند امام شافعی/ كتاب الصلاة /حدیث: 311]
تخریج الحدیث: «اسنادہ ضعیف لارسالہ: اخرجہ البيهقي فی معرفة السنن والآثار: 1079، وابن سعد فی الطبقات: 2/215.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 312
أَخْبَرَنَا الثِّقَةُ يَحْيَى بْنُ حَسَّانٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ وَجِعًا فَأَمَرَ أَبَا بَكْرٍ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ، فَوَجَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خِفَّةً، فَجَاءَ فَقَعَدَ إِلَى جَنْبِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَأَمَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا بَكْرٍ وَهُوَ قَاعِدٌ، وَأَمَّ أَبُو بَكْرٍ النَّاسَ، وَهُوَ قَائِمٌ.  
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ افاقہ محسوس کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم (مسجد میں) تشریف لائے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پہلو میں بیٹھ گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیٹھ کر امامت کروائی، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر لوگوں کو امامت کروائی۔ [مسند امام شافعی/ كتاب الصلاة /حدیث: 312]
تخریج الحدیث: «اخرجہ البخاری، الاذان، باب من قام الی جنب الامام لعلة: 683، ومسلم، الصلاة، باب استخلاف الامام اذا عرض لہ عذر من مرض وسفر وغيرهما .... الخ 418.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 313
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ مَعْنَاهُ لَا يُخَالِفُهُ.
عبید بن عمیر رحمہ اللہ سے ایک اور سند کے ذریعہ سے مروی ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی معنی میں بغیر اختلاف کے بیان کرتے ہیں۔ [مسند امام شافعی/ كتاب الصلاة /حدیث: 313]
تخریج الحدیث: «اسنادہ ضعیف لارسالہ: اخرجہ البيهقي فی معرفة السنن والآثار: 1079، وابن سعد فی الطبقات: 2/215.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 314
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ فِي مَرَضِهِ، فَأَتَى أَبَا بَكْرٍ وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي بِالنَّاسِ، فَاسْتَأْخَرَ أَبُو بَكْرٍ، فَأَشَارَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ كَمَا أَنْتَ، فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى جَنْبِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُصَلِّي بِصَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ النَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلَاةِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.  
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیماری میں نکلے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے جبکہ وہ کھڑے لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ (اپنی جگہ سے) پیچھے ہٹنے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارہ کیا کہ جس طرح (کھڑے) ہو اسی طرح رہو، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پہلو میں بیٹھ گئے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا کر رہے تھے، جبکہ لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی اقتدا کر رہے تھے۔ [مسند امام شافعی/ كتاب الصلاة /حدیث: 314]
تخریج الحدیث: «اخرجہ البخاری، الاذان، باب من قام الی جنب الامام لعلة: 683، ومسلم، الصلاة، باب استخلاف الامام اذا عرض لہ عذر من مرض وسفر وغيرهما .... الخ 418.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 315
أَخْبَرَنَا الثِّقَةُ يَحْيَى بْنُ حَسَّانٍ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا بِمِثْلِ مَعْنَاهُ لَا يُخَالِفُهُ وَأَوْضَحَ مِنْهُ، وَقَالَ: صَلَّى أَبُو بَكْرٍ إِلَى جَنْبِهِ قَائِمًا.  
عروہ رحمہ اللہ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس حدیث کے مثل معنی میں بیان کیا ہے جو اس سے مختلف نہیں اور اس سے زیادہ واضح ہے اور کہا: ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں کھڑے ہو کر نماز پڑھی۔ [مسند امام شافعی/ كتاب الصلاة /حدیث: 315]
تخریج الحدیث: «اخرجہ البخاری، الاذان، باب من قام الی جنب الامام لعلة: 683، ومسلم، الصلاة، باب استخلاف الامام اذا عرض لہ عذر من مرض وسفر وغيرهما .... الخ 418.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں