سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب مَبْدَإِ فَرْضِ الصِّيَامِ
باب: روزہ فرض ہونے کی ابتداء۔
حدیث نمبر: 2313
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَبُّوَيْهِ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ،" يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ سورة البقرة آية 183، فَكَانَ النَّاسُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّوْا الْعَتَمَةَ حَرُمَ عَلَيْهِمُ الطَّعَامُ وَالشَّرَابُ وَالنِّسَاءُ، وَصَامُوا إِلَى الْقَابِلَةِ، فَاخْتَانَ رَجُلٌ نَفْسَهُ فَجَامَعَ امْرَأَتَهُ وَقَدْ صَلَّى الْعِشَاءَ وَلَمْ يُفْطِرْ، فَأَرَادَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَجْعَلَ ذَلِكَ يُسْرًا لِمَنْ بَقِيَ وَرُخْصَةً وَمَنْفَعَةً، فَقَالَ سُبْحَانَهُ: عَلِمَ اللَّهُ أَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَخْتَانُونَ أَنْفُسَكُمْ سورة البقرة آية 187 الْآيَةَ، وَكَانَ هَذَا مِمَّا نَفَعَ اللَّهُ بِهِ النَّاسَ وَرَخَّصَ لَهُمْ وَيَسَّرَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ یہ آیت کریمہ «يا أيها الذين آمنوا كتب عليكم الصيام كما كتب على الذين من قبلكم» ”اے ایمان والو! تم پر روزے اسی طرح فرض کر دئیے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کر دئیے گئے تھے“ (سورۃ البقرہ: ۱۸۳) نازل ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں عشاء پڑھتے ہی لوگوں پر کھانا، پینا اور عورتوں سے جماع کرنا حرام ہو جاتا، اور وہ آئندہ رات تک روزے سے رہتے، ایک شخص نے اپنے نفس سے خیانت کی، اس نے اپنی بیوی سے صحبت کر لی حالانکہ وہ عشاء پڑھ چکا تھا، اور اس نے روزہ نہیں توڑا تو اللہ تعالیٰ نے باقی لوگوں کو آسانی اور رخصت دینی اور انہیں فائدہ پہنچانا چاہا تو فرمایا: «علم الله أنكم كنتم تختانون أنفسكم» ”اللہ کو خوب معلوم ہے کہ تم اپنے آپ سے خیانت کرتے تھے“ (سورۃ البقرہ: ۱۸۷) یہی وہ چیز تھی جس کا فائدہ اللہ نے لوگوں کو دیا اور جس کی انہیں رخصت اور آسانی دی۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2313]
آیت کریمہ ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ﴾ [سورة البقرة: 183] ”اے ایمان والو! تم پر روزہ رکھنا فرض کیا گیا ہے جیسے کہ تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیا گیا تھا“ کی تفسیر میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں لوگ جب عشاء کی نماز پڑھ لیتے تو ان پر کھانا پینا اور بیویاں حرام ہو جاتی تھیں اور وہ اگلی شام تک کے لیے روزہ دار ہو جاتے تھے۔ پھر (ایسے ہوا کہ) ایک آدمی اپنے نفس کی خیانت کر بیٹھا، یعنی اس نے اپنی بیوی سے ہمبستری کر لی جبکہ وہ عشاء کی نماز پڑھ چکا تھا، اور (سیر ہو کر) کھانا بھی نہیں کھایا تھا، تو اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ اس عمل میں باقی لوگوں کے لیے آسانی، رخصت اور نفع پیدا فرما دے، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿عَلِمَ اللَّهُ أَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَخْتَانُونَ أَنْفُسَكُمْ﴾ [سورة البقرة: 187] ”اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ تم اپنے نفسوں کے ساتھ خیانت کرتے ہو۔“ چنانچہ یہ فرمان اسی سلسلے میں ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو نفع دیا ہے اور ان کے لیے رخصت اور آسانی فرما دی ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2313]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 16254) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
حدیث نمبر: 2314
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ نَصْرٍ الْجَهْضَمِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ الْبَرَاءِ، قَالَ:" كَانَ الرَّجُلُ إِذَا صَامَ فَنَامَ لَمْ يَأْكُلْ إِلَى مِثْلِهَا، وَإِنَّ صِرْمَةَ بْنَ قَيْسٍ الْأَنْصَارِيَّ أَتَى امْرَأَتَهُ وَكَانَ صَائِمًا، فَقَالَ: عِنْدَكِ شَيْءٌ؟ قَالَتْ: لَا، لَعَلِّي أَذْهَبُ فَأَطْلُبُ لَكَ شَيْئًا، فَذَهَبَتْ وَغَلَبَتْهُ عَيْنُهُ فَجَاءَتْ، فَقَالَتْ: خَيْبَةً لَكَ، فَلَمْ يَنْتَصِفْ النَّهَارُ حَتَّى غُشِيَ عَلَيْهِ وَكَانَ يَعْمَلُ يَوْمَهُ فِي أَرْضِهِ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَزَلَتْ: أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَى نِسَائِكُمْ قَرَأَ إِلَى قَوْلِهِ: مِنَ الْفَجْرِ سورة البقرة آية 187".
براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ (ابتداء اسلام میں) آدمی جب روزہ رکھتا تھا تو سونے کے بعد آئندہ رات تک کھانا نہیں کھاتا تھا، صرمۃ بن قیس انصاری رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک بار ایسا ہوا کہ وہ روزے کی حالت میں اپنی بیوی کے پاس آئے اور پوچھا: کیا تیرے پاس کچھ (کھانا) ہے؟ وہ بولی: کچھ نہیں ہے لیکن جاتی ہوں ہو سکتا ہے ڈھونڈنے سے کچھ مل جائے، تو وہ چلی گئی لیکن حرمہ کو نیند آ گئی وہ آئی تو (دیکھ کر) کہنے لگی کہ اب تو تم (کھانے سے) محروم رہ گئے دوپہر کا وقت ہوا بھی نہیں کہ (بھوک کے مارے) ان پر غشی طاری ہو گئی اور وہ دن بھر اپنے زمین میں کام کرتے تھے، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو یہ آیت «أحل لكم ليلة الصيام الرفث إلى نسائكم» ”روزے کی رات میں تمہارے لیے اپنی عورتوں سے جماع حلال کر دیا گیا ہے“ (سورۃ البقرہ: ۱۸۳) نازل ہوئی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے قول «من الفجر» تک پوری آیت پڑھی۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2314]
سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آدمی جب روزہ رکھنا چاہتا اور سو جاتا تو پھر وہ اگلی شام تک کچھ نہ کھا سکتا تھا۔ سیدنا صرمہ بن قیس انصاری رضی اللہ عنہ اپنی زوجہ کے پاس آئے جبکہ انہوں نے روزہ رکھا ہوا تھا اور اس سے کہا: ”کیا تیرے پاس (کھانے کی) کوئی چیز ہے؟“ اس نے کہا: ”نہیں مگر میں جاتی ہوں اور آپ کے لیے کچھ تلاش کر لاتی ہوں۔“ وہ چلی گئی اور اس اثناء میں صرمہ کی آنکھ لگ گئی۔ جب وہ آئی (اور ان کو سوتے ہوئے پایا) تو کہنے لگی: ”افسوس آپ کے خسارے پر!“ چنانچہ دوپہر نہ ہوئی کہ انہیں غشی آ گئی، اور وہ دن کو اپنی زمین میں کام کیا کرتے تھے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ واقعہ بتایا گیا، اس کے بعد یہ آیت کریمہ نازل ہوئی ﴿أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَىٰ نِسَائِكُمْ﴾ [سورة البقرة: 187] آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «مِنَ الْفَجْرِ» تک قرآت کی: ”روزے کی رات میں تمہارے لیے اپنی بیویوں سے مباشرت حلال کی گئی ہے۔ وہ تمہارا لباس ہیں اور تم ان کا لباس ہو۔ اللہ کو معلوم ہے کہ تم اپنے نفسوں کے ساتھ خیانت کر بیٹھتے ہو، سو اس نے تم پر رجوع فرمایا اور تمہیں معاف کر دیا ہے۔ تم اب اپنی عورتوں سے مباشرت کر سکتے ہو اور طلب کرو وہ جو اللہ نے تمہارے لیے مقدر فرمایا ہے۔ اور کھاؤ پیو حتیٰ کہ فجر کے وقت صبح کی سفید دھاری سیاہ دھاری سے جدا نظر آنے لگے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2314]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصوم 15 (1915)، سنن الترمذی/تفسیرالبقرة 3 (2968)، (تحفة الأشراف: 1801)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الصیام 17(2170)، مسند احمد (4/295)، سنن الدارمی/الصیام 7 (1735) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1915)
2. باب نَسْخِ قَوْلِهِ { وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ }
باب: آیت کریمہ «وعلى الذين يطيقونه فدية» کے منسوخ ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2315
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا بَكْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُضَرَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى سَلَمَةَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، قَالَ:" لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ سورة البقرة آية 184، كَانَ مَنْ أَرَادَ مِنَّا أَنْ يُفْطِرَ وَيَفْتَدِيَ فَعَلَ، حَتَّى نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ الَّتِي بَعْدَهَا فَنَسَخَتْهَا".
سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتی ہیں کہ جب یہ آیت «وعلى الذين يطيقونه فدية طعام مسكين» ”اور جو لوگ روزہ رکھنے کی طاقت رکھتے ہیں وہ ایک مسکین کا کھانا فدیہ دے دیں“ (سورۃ البقرہ: ۱۸۳) نازل ہوئی تو جو شخص ہم میں سے روزے نہیں رکھنا چاہتا وہ فدیہ ادا کر دیتا پھر اس کے بعد والی آیت نازل ہوئی تو اس نے اس حکم کو منسوخ کر دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2315]
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب یہ آیت کریمہ ﴿وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ﴾ [سورة البقرة: 184] ”اور جو روزہ رکھنے کی طاقت رکھتے ہوں وہ ایک مسکین کے کھانے کا فدیہ دیں۔“ نازل ہوئی تو ”ہم میں سے جو چاہتا روزہ چھوڑ دیتا اور فدیہ دینا چاہتا تو فدیہ دے دیا کرتا تھا حتیٰ کہ اس کے بعد والی آیت اتری جس نے اس (رخصت) کو منسوخ کر دیا“۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2315]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/تفسیر البقرة 26 (4506)، صحیح مسلم/الصوم 25 (1145)، سنن الترمذی/الصوم 75 (798)، سنن النسائی/الصیام 35 (2318)، (تحفة الأشراف: 4534)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الصوم 29 (1775) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (4507) صحيح مسلم (1145)
حدیث نمبر: 2316
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرَمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ،" وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ سورة البقرة آية 184، فَكَانَ مَنْ شَاءَ مِنْهُمْ أَنْ يَفْتَدِيَ بِطَعَامِ مِسْكِينٍ افْتَدَى وَتَمَّ لَهُ صَوْمُهُ، فَقَالَ: فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ وَأَنْ تَصُومُوا خَيْرٌ لَكُمْ سورة البقرة آية 184، وقَالَ: فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ وَمَنْ كَانَ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ سورة البقرة آية 185".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آیت کریمہ «وعلى الذين يطيقونه فدية طَعام مسكين» نازل ہوئی تو ہم میں سے جو شخص ایک مسکین کا کھانا فدیہ دینا چاہتا دے دیتا اور اس کا روزہ مکمل ہو جاتا، پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «فمن تطوع خيرا فهو خير له وأن تصوموا خير لكم» (سورۃ البقرہ: ۱۸۴) ”پھر جو شخص نیکی میں سبقت کرے وہ اسی کے لیے بہتر ہے لیکن تمہارے حق میں بہتر کام روزہ رکھنا ہی ہے“، پھر فرمایا: «فمن شهد منكم الشهر فليصمه ومن كان مريضا أو على سفر فعدة من أيام أخر» (سورۃ البقرہ: ۱۸۵) ”تم میں سے جو شخص رمضان کے مہینے کو پائے تو وہ اس کے روزے رکھے، ہاں جو بیمار ہو یا مسافر ہو وہ دوسرے دنوں میں یہ گنتی پوری کرے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2316]
عکرمہ سے منقول ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ آیت کریمہ ﴿وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ﴾ [سورة البقرة: 184] کے سلسلے میں فرماتے ہیں کہ ”جو کوئی ایک مسکین کا فدیہ دینا چاہتا، دے دیتا تھا اور اس کا روزہ پورا اور کامل سمجھا جاتا تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ وَأَنْ تَصُومُوا خَيْرٌ لَكُمْ﴾ [سورة البقرة: 184] ”جو خوشی سے بھلائی کرے (مسکین کو کھانا کھلائے) تو یہ اس کے لیے بہتر ہے اور روزہ رکھنا تمہارے لیے بہتر ہے۔“ اور فرمایا: ﴿فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ وَمَنْ كَانَ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ﴾ [سورة البقرة: 185] ”جو شخص اس مہینے میں حاضر ہو تو اسے چاہیئے کہ اس کے روزے رکھے۔ اور جو مریض ہو یا سفر پر ہو تو وہ دوسرے دنوں میں ان کی گنتی پوری کرے۔““ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2316]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 6255) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
3. باب مَنْ قَالَ هِيَ مُثْبَتَةٌ لِلشَّيْخِ وَالْحُبْلَى
باب: بوڑھوں اور حاملہ کے حق میں مذکورہ بالا حکم باقی ہے اس کے قائلین کا بیان۔
حدیث نمبر: 2317
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، أَنَّ عِكْرِمَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ:" أُثْبِتَتْ لِلْحُبْلَى وَالْمُرْضِعِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں اس آیت کا حکم حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت کے حق میں باقی رکھا گیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2317]
عکرمہ نے بیان کیا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”آیت کریمہ ﴿وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ﴾ [سورة البقرة: 184] حاملہ اور دودھ پلانے والی کے حق میں محکم ہے (منسوخ نہیں ہے)۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2317]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 6196) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2318
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَزْرَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ،" وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ سورة البقرة آية 184، قَالَ: كَانَتْ رُخْصَةً لِلشَّيْخِ الْكَبِيرِ وَالْمَرْأَةِ الْكَبِيرَةِ وَهُمَا يُطِيقَانِ الصِّيَامَ أَنْ يُفْطِرَا، وَيُطْعِمَا مَكَانَ كُلِّ يَوْمٍ مِسْكِينًا، وَالْحُبْلَى وَالْمُرْضِعُ إِذَا خَافَتَا". قَالَ أَبُو دَاوُد: يَعْنِي عَلَى أَوْلَادِهِمَا أَفْطَرَتَا وَأَطْعَمَتَا.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے فرمان: «وعلى الذين يطيقونه فدية طَعام مسكين» زیادہ بوڑھے مرد و عورت (جو کہ روزے رکھنے کی طاقت رکھتے ہیں) کے لیے رخصت ہے کہ روزے نہ رکھیں، بلکہ ہر دن کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلا دیں، اور حاملہ نیز دودھ پلانے والی عورت بچے کے نقصان کا خوف کریں تو روزے نہ رکھیں، فدیہ دیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یعنی مرضعہ اور حاملہ کو اپنے بچوں کے نقصان کا خوف ہو تو وہ بھی روزے نہ رکھیں اور ہر روزے کے بدلہ ایک مسکین کو کھانا کھلائیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2318]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ آیت کریمہ ﴿وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ﴾ [سورة البقرة: 184] کی تفسیر میں انہوں نے کہا: ”بڑی عمر کے بوڑھے مرد اور عورت کے لیے رخصت ہے کہ باوجود روزے کی طاقت کے افطار کر سکتے ہیں۔ وہ ہر دن کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلا دیا کریں۔ اسی طرح حاملہ اور دودھ پلانے والی عورتوں کو جب اندیشہ ہو (تو وہ بھی افطار کر سکتی ہیں)۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”مقصد یہ ہے کہ جب انہیں اپنے بچے کے بارے میں (بیماری یا کمزوری وغیرہ کا) اندیشہ ہو تو افطار کر سکتی ہیں اور اس کے بدلے کھانا کھلا دیا کریں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2318]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 5565) (شاذ)» (اس لئے کہ زیادہ بوڑھوں کے لئے اب بھی فدیہ جائز ہے، اور حاملہ و مرضعہ کا حکم فدیہ کا نہیں ہے بلکہ بعد میں روزے رکھ لینے کا ہے)
قال الشيخ الألباني: شاذ
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
قتادة عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 87
إسناده ضعيف
قتادة عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 87
4. باب الشَّهْرِ يَكُونُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ
باب: مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 2319
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّا أُمَّةٌ أُمِّيَّةٌ، لَا نَكْتُبُ وَلَا نَحْسُبُ الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا". وَخَنَسَ سُلَيْمَانُ أُصْبُعَهُ فِي الثَّالِثَةِ يَعْنِي تِسْعًا وَعِشْرِينَ وَثَلَاثِينَ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم ان پڑھ لوگ ہیں نہ ہم لکھنا جانتے ہیں اور نہ حساب و کتاب، مہینہ ایسا، ایسا اور ایسا ہوتا ہے، (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں سے بتایا)“، راوی حدیث سلیمان نے تیسری بار میں اپنی انگلی بند کر لی، یعنی مہینہ انتیس اور تیس دن کا ہوتا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2319]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم اُمّی امت ہیں، ہم لکھنا نہیں جانتے اور نہ (دقیق) حساب کر سکتے ہیں۔ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھوں کی دسوں انگلیاں پھیلا کر اشارے سے فرمایا) مہینہ ایسے ہوتا ہے اور ایسے ہوتا ہے اور ایسے ہوتا ہے۔“ اور تیسری بار میں سلیمان بن حرب نے اپنی ایک انگلی بند کر لی، یعنی انتیس دن اور تیس دن۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2319]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصوم 13(1913)، صحیح مسلم/الصوم 2 (1080)، سنن النسائی/الصیام 8 (2142)، (تحفة الأشراف: 7075)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الصیام 6 (1654)، مسند احمد (2/122) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1913) صحيح مسلم (108)
حدیث نمبر: 2320
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ، فَلَا تَصُومُوا حَتَّى تَرَوْهُ، وَلَا تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوْهُ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدُرُوا لَهُ ثَلَاثِينَ". قَالَ: فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا كَانَ شَعْبَانُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ نُظِرَ لَهُ، فَإِنْ رُؤِيَ فَذَاكَ، وَإِنْ لَمْ يُرَ وَلَمْ يَحُلْ دُونَ مَنْظَرِهِ سَحَابٌ وَلَا قَتَرَةٌ أَصْبَحَ مُفْطِرًا، فَإِنْ حَالَ دُونَ مَنْظَرِهِ سَحَابٌ أَوْ قَتَرَةٌ أَصْبَحَ صَائِمًا، قَالَ: فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يُفْطِرُ مَعَ النَّاسِ وَلَا يَأْخُذُ بِهَذَا الْحِسَابِ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہینہ انتیس دن کا (بھی) ہوتا ہے لہٰذا چاند دیکھے بغیر نہ روزہ رکھو، اور نہ ہی دیکھے بغیر روزے چھوڑو، اگر آسمان پر بادل ہوں تو تیس دن پورے کرو“۔ راوی کا بیان ہے کہ جب شعبان کی انتیس تاریخ ہوتی تو ابن عمر رضی اللہ عنہما چاند دیکھتے اگر نظر آ جاتا تو ٹھیک اور اگر نظر نہ آتا اور بادل اور کوئی سیاہ ٹکڑا اس کے دیکھنے کی جگہ میں حائل نہ ہوتا تو دوسرے دن روزہ نہ رکھتے اور اگر بادل یا کوئی سیاہ ٹکڑا دیکھنے کی جگہ میں حائل ہو جاتا تو صائم ہو کر صبح کرتے۔ راوی کا یہ بھی بیان ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما لوگوں کے ساتھ ہی روزے رکھنا چھوڑتے تھے، اور اپنے حساب کا خیال نہیں کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2320]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہینہ انتیس دن کا (بھی) ہوتا ہے۔ سو چاند دیکھے بغیر نہ روزے شروع کرو اور نہ دیکھے بغیر ختم کرو۔ اگر بادل کے باعث نظر نہ آئے تو اس مہینے کے تیس دن کا اندازہ لگا لو۔“ چنانچہ جب شعبان کی انتیسویں تاریخ ہوتی تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے لیے چاند دیکھا جاتا۔ اگر نظر آ جاتا تو بہتر اور اگر دکھائی نہ دیتا اور نظر نہ آنے میں کوئی بادل یا غبار بھی حائل نہ ہوتا تو وہ روزہ نہ رکھتے۔ لیکن اگر فضا میں کوئی بادل یا غبار حائل ہوتا تو وہ روزہ رکھ لیتے۔ راوی نے بیان کیا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ لوگوں کے ساتھ ہی روزہ چھوڑتے اور حساب کے درپے نہ ہوتے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2320]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصوم 2(1080)،(تحفة الأشراف: 7536، 19146)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/5) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح قد دون قوله فكان ابن عمر
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1080)
حدیث نمبر: 2321
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنِي أَيُّوبُ، قَالَ: كَتَبَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ إِلَى أَهْلِ الْبَصْرَةِ بَلَغَنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، زَادَ:" وَإِنَّ أَحْسَنَ مَا يُقْدَرُ لَهُ أَنَّا إِذَا رَأَيْنَا هِلَالَ شَعْبَانَ لِكَذَا وَكَذَا، فَالصَّوْمُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ لِكَذَا وَكَذَا، إِلَّا أَنْ تَرَوْا الْهِلَالَ قَبْلَ ذَلِكَ".
ایوب کہتے ہیں: عمر بن عبدالعزیز نے بصرہ والوں کو لکھا کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق معلوم ہوا ہے۔۔۔، آگے اسی طرح ہے جیسے ابن عمر رضی اللہ عنہما کی اوپر والی مرفوع حدیث میں ہے البتہ اس میں اتنا اضافہ ہے: ”اچھا اندازہ یہ ہے کہ جب ہم شعبان کا چاند فلاں فلاں روز دیکھیں تو روزہ ان شاءاللہ فلاں فلاں دن کا ہو گا، ہاں اگر چاند اس سے پہلے ہی دیکھ لیں (تو چاند دیکھنے ہی سے روزہ رکھیں)“۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2321]
سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے اہل بصرہ کی طرف لکھا کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث پہنچی ہے جیسے کہ مذکورہ بالا ابن عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے۔ اس میں یہ اضافہ ہے: ”بہترین اندازہ یہ ہے کہ اگر ہم نے شعبان کا چاند فلاں فلاں دن دیکھا تو روزہ ان شاء اللہ فلاں دن کا ہوگا الا یہ کہ لوگ اس سے پہلے ہی چاند دیکھ لیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2321]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 7536 و 19146) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
الحديث مرسل ولم يخبر الإمام عمر بن عبد العزيز ممن بلغه به
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 87
إسناده ضعيف
الحديث مرسل ولم يخبر الإمام عمر بن عبد العزيز ممن بلغه به
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 87
حدیث نمبر: 2322
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ عِيسَى بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي ضِرَارٍ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ:" لَمَا صُمْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ أَكْثَرَ مِمَّا صُمْنَا مَعَهُ ثَلَاثِينَ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تیس دن کے روزے کے مقابلے میں انتیس دن کے روزے زیادہ رکھے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2322]
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (رمضان میں) انتیس انتیس روزے بہت زیادہ رکھے ہیں اور تیس تیس کم۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2322]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الصوم 6 (689)، (تحفة الأشراف: 9478)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/441، 397، 405، 408، 441، 450) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
أخرجه الترمذي (689 وسنده صحيح)
أخرجه الترمذي (689 وسنده صحيح)