سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
9. باب إِذَا رُؤِيَ الْهِلاَلُ فِي بَلَدٍ قَبْلَ الآخَرِينَ بِلَيْلَةٍ
باب: اگر کسی شہر میں دوسرے شہر سے ایک رات پہلے چاند نظر آ جائے تو کیا کرے؟
حدیث نمبر: 2333
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا الْأَشْعَثُ، عَنْ الْحَسَنِ، فِي رَجُلٍ كَانَ بِمِصْرٍ مِنَ الْأَمْصَارِ فَصَامَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ، وَشَهِدَ رَجُلَانِ أَنَّهُمَا رَأَيَا الْهِلَالَ لَيْلَةَ الْأَحَدِ، فَقَالَ:" لَا يَقْضِي ذَلِكَ الْيَوْمَ الرَّجُلُ وَلَا أَهْلُ مِصْرِهِ، إِلَّا أَنْ يَعْلَمُوا أَنَّ أَهْلَ مِصْرٍ مِنْ أَمْصَارِ الْمُسْلِمِينَ قَدْ صَامُوا يَوْمَ الْأَحَدِ، فَيَقْضُونَهُ".
حسن بصری سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو کسی شہر میں ہو اور اس نے دوشنبہ (پیر) کے دن کا روزہ رکھ لیا ہو اور دو آدمی اس بات کی گواہی دیں کہ انہوں نے اتوار کی رات چاند دیکھا ہے (اور اتوار کو روزہ رکھا ہے) تو انہوں نے کہا: وہ شخص اور اس شہر کے باشندے اس دن کا روزہ قضاء نہیں کریں گے، ہاں اگر معلوم ہو جائے کہ مسلم آبادی والے کسی شہر کے باشندوں نے سنیچر کا روزہ رکھا ہے تو انہیں بھی ایک روزے کی قضاء کرنی پڑے گی ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2333]
حسن (بصری) رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ایک شخص جو کسی شہر میں ہو اور اس نے سوموار کا روزہ رکھا ہو، پھر دو آدمی گواہی دیں کہ انہوں نے اتوار کی رات (ہفتے کی شام) کو چاند دیکھا ہے، تو حسن رحمہ اللہ نے کہا: ”یہ آدمی اور اس کے شہر والے اس دن کا روزہ قضا نہ کریں الا یہ کہ انہیں بخوبی علم ہو کہ مسلمانوں کے شہروں میں سے کسی شہر والوں نے اتوار کا روزہ رکھا ہے، تب یہ اس کی قضا کریں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2333]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 18492) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ فتوی اس حدیث کے خلاف ہے جس میں ہے کہ: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کی گواہی پر ایک روزہ رکھنے کا حکم صادر فرمایا اور دو آمیوں کی گواہی پر عید کرنے کا حکم دیا، یعنی: بات سچی گواہی پر منحصر ہے نہ کہ جم غفیر کے عمل پر۔
قال الشيخ الألباني: صحيح مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
10. باب كَرَاهِيَةِ صَوْمِ يَوْمِ الشَّكِّ
باب: شک کے دن کے روزے کی کراہت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2334
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ صِلَةَ، قَالَ:" كُنَّا عِنْدَ عَمَّارٍ فِي الْيَوْمِ الَّذِي يُشَكُّ فِيهِ فَأَتَى بِشَاةٍ فَتَنَحَّى بَعْضُ الْقَوْمِ"، فَقَالَ عَمَّارٌ:" مَنْ صَامَ هَذَا الْيَوْمَ فَقَدْ عَصَى أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
صلہ بن زفر کہتے ہیں کہ ہم اس دن میں جس دن کا روزہ مشکوک ہے عمار رضی اللہ عنہ کے پاس تھے، ان کے پاس ایک (بھنی ہوئی) بکری لائی گئی، تو لوگوں میں سے ایک آدمی (کھانے سے احتراز کرتے ہوئے) الگ ہٹ گیا اس پر عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: جس نے ایسے (شک والے) دن کا روزہ رکھا اس نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2334]
جناب صلہ بیان کرتے ہیں کہ ہم سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر تھے اور وہ دن مشکوک تھا (چاند ہونے کی خبر واضح نہ ہوئی تھی) تو بکری کا گوشت پیش کیا گیا، پس مجلس میں سے کچھ لوگ ایک طرف ہو گئے۔ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جس نے اس دن کا روزہ رکھا، اس نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2334]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصوم 11(1906 تعلیقاً)، سنن الترمذی/الصوم 3 (686)، سنن النسائی/الصیام 20 (2190)، سنن ابن ماجہ/الصیام 3 (1645)، (تحفة الأشراف: 10354)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الصوم 1(1724) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (686) نسائي (2190) ابن ماجه (1645)
أبو إسحاق مدلس وعنعن
وللحديث شواهد ضعيفة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 87
إسناده ضعيف
ترمذي (686) نسائي (2190) ابن ماجه (1645)
أبو إسحاق مدلس وعنعن
وللحديث شواهد ضعيفة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 87
11. باب فِيمَنْ يَصِلُ شَعْبَانَ بِرَمَضَانَ
باب: شعبان کے روزے رکھتے ہوئے ماہ رمضان میں داخل ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2335
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا تُقَدِّمُوا صَوْمَ رَمَضَانَ بِيَوْمٍ وَلَا يَوْمَيْنِ إِلَّا أَنْ يَكُونَ صَوْمٌ يَصُومُهُ رَجُلٌ فَلْيَصُمْ ذَلِكَ الصَّوْمَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رمضان سے ایک دن یا دو دن پہلے روزہ نہ رکھو، ہاں اگر کوئی آدمی پہلے سے روزہ رکھتا آ رہا ہے تو وہ ان دنوں کا روزہ رکھے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2335]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رمضان سے ایک دو دن پہلے روزے مت رکھو مگر جو کوئی شخص کسی دن کا روزہ رکھتا رہا ہو تو وہ رکھ لے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2335]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصوم 14(1914)، صحیح مسلم/الصیام 3 (1082)، (تحفة الأشراف: 15422)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصوم 2 (685)، سنن النسائی/الصیام 31 (2171)، 38 (2189)، سنن ابن ماجہ/الصیام 5 (1650)، مسند احمد (2/234، 347، 408، 438، 477، 497، 513، 521)، سنن الدارمی/الصوم 4 (1731) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1914) صحيح مسلم (1082)
حدیث نمبر: 2336
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ تَوْبَةَ الْعَنْبَرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ" لَمْ يَكُنْ يَصُومُ مِنَ السَّنَةِ شَهْرًا تَامًّا إِلَّا شَعْبَانَ يَصِلُهُ بِرَمَضَانَ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سال میں کسی مہینے کے مکمل روزے نہ رکھتے سوائے شعبان کے اسے رمضان سے ملا دیتے تھے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2336]
ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بیان کرتی ہیں کہ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم سال میں کسی مہینے کے پورے روزے نہ رکھتے تھے، مگر شعبان میں، کہ اسے رمضان کے ساتھ ملا دیتے تھے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2336]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الصیام 19 (2178)، (تحفة الأشراف: 18238)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصوم 37 (736)، سنن ابن ماجہ/الصیام 4 (1648)، مسند احمد (6/300، 311)، سنن الدارمی/الصوم 33 (1780) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اور یہ صرف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے خاص تھا، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو نصف شعبان کے بعد روزے سے منع فرمایا ہے، تاکہ رمضان کے لئے قوت حاصل ہو جائے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (1976)
مشكوة المصابيح (1976)
12. باب فِي كَرَاهِيَةِ ذَلِكَ
باب: اواخر شعبان کے روزے کی کراہت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2337
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: قَدِمَ عَبَّادُ بْنُ كَثِيرٍ الْمَدِينَةَ، فَمَالَ إِلَى مَجْلِسِ الْعَلَاءِ فَأَخَذَ بِيَدِهِ فَأَقَامَهُ، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ إِنَّ هَذَا يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا انْتَصَفَ شَعْبَانُ، فَلَا تَصُومُوا"، فَقَالَ الْعَلَاءُ: اللَّهُمَّ إِنَّ أَبِي حَدَّثَنِي، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ. قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ، وَ شِبْلُ بْنُ الْعَلَاءِ، وَ أَبُو عُمَيْسٍ، وَ زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ الْعَلَاءِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَكَانَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ لَا يُحَدِّثُ بِهِ. قُلْتُ لِأَحْمَدَ: لِمَ؟ قَالَ: لِأَنَّهُ كَانَ عِنْدَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَصِلُ شَعْبَانَ بِرَمَضَانَ، وَقَالَ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خِلَافَهُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَلَيْسَ هَذَا عِنْدِي خِلَافُهُ، وَلَمْ يَجِئْ بِهِ غَيْرُ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ.
عبدالعزیز بن محمد کہتے ہیں کہ عباد بن کثیر مدینہ آئے تو علاء کی مجلس کی طرف مڑے اور (جا کر) ان کا ہاتھ پکڑ کر انہیں کھڑا کیا پھر کہنے لگے: اے اللہ! یہ شخص اپنے والد سے اور وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب نصف شعبان ہو جائے تو روزے نہ رکھو“، علاء نے کہا: اے اللہ! میرے والد نے یہ حدیث ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے واسطے سے مجھ سے بیان کی ہے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ثوری، شبل بن علاء، ابو عمیس اور زہیر بن محمد نے علاء سے روایت کیا، نیز ابوداؤد نے کہا: عبدالرحمٰن (عبدالرحمٰن ابن مہدی) اس حدیث کو بیان نہیں کرتے تھے، میں نے احمد سے کہا: ایسا کیوں ہے؟ وہ بولے: کیونکہ انہیں یہ معلوم تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شعبان کو (روزہ رکھ کر) رمضان سے ملا دیتے تھے، نیز انہوں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے برخلاف مروی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میرے نزدیک یہ اس کے خلاف نہیں ہے ۱؎ اسے علاء کے علاوہ کسی اور نے ان کے والد سے روایت نہیں کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2337]
عباد بن کثیر مدینے آئے اور جناب علاء بن عبدالرحمٰن کی مجلس میں آ گئے۔ پس عباد نے علاء کا ہاتھ پکڑ کر انہیں کھڑا کر دیا پھر کہا: ”اے اللہ! یہ شخص اپنے باپ سے، وہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب شعبان آدھا گزر جائے تو روزہ نہ رکھو۔““ پھر علاء نے کہا: ”یا اللہ! میرے والد (عبدالرحمٰن) نے مجھے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث بیان کی۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اس روایت کو ثوری، سہیل بن علاء، ابوعمیس اور زبیر بن محمد بھی علاء سے بیان کرتے ہیں۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”عبدالرحمٰن (بن مہدی) یہ روایت بیان نہیں کیا کرتے تھے، میں نے امام احمد رحمہ اللہ سے پوچھا: کیوں؟ تو انہوں نے کہا: ”کیونکہ ان کے پاس یہ حدیث تھی کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شعبان کو رمضان کے ساتھ ملا دیتے تھے۔“ اور اس روایت میں اس کے خلاف مروی ہے۔““ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”میرے نزدیک اس میں کوئی مخالفت نہیں ہے۔ علاء کے علاوہ اسے اور کوئی روایت نہیں کرتا اور وہ بھی اپنے باپ سے روایت کرتا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2337]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الصوم 38 (738)، سنن ابن ماجہ/الصیام 5 (1651)، (تحفة الأشراف: 14051)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الصوم 34 (1781) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس لئے کہ وہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے خاص تھی، اور یہ بات عام امت کے لئے ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (1974)
مشكوة المصابيح (1974)
13. باب شَهَادَةِ رَجُلَيْنِ عَلَى رُؤْيَةِ هِلاَلِ شَوَّالٍ
باب: شوال کے چاند کی رویت کے لیے دو آدمیوں کی گواہی کا بیان۔
حدیث نمبر: 2338
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ أَبُو يَحْيَى الْبَزَّازُ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا عَبَّادٌ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ الْحَارِثِ الْجَدَلِيُّ مِنْ جَدِيلَةَ قَيْسٍ،" أَنَّ أَمِيرَ مَكَّةَ خَطَبَ، ثُمّ قَالَ: عَهِدَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَنْسُكَ لِلرُّؤْيَةِ، فَإِنْ لَمْ نَرَهُ وَشَهِدَ شَاهِدَا عَدْلٍ، نَسَكْنَا بِشَهَادَتِهِمَا، فَسَأَلْتُ الْحُسَيْنَ بْنَ الْحَارِثِ: مَنْ أَمِيرُ مَكَّةَ؟ قَالَ: لَا أَدْرِي، ثُمَّ لَقِيَنِي بَعْدُ، فَقَالَ: هُوَ الْحَارِثُ بْنُ حَاطِبٍ أَخُو مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ، ثُمَّ قَالَ الْأَمِيرُ: إِنَّ فِيكُمْ مَنْ هُوَ أَعْلَمُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ مِنِّي، وَشَهِدَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ إِلَى رَجُلٍ، قَالَ الْحُسَيْنُ: فَقُلْتُ لِشَيْخٍ إِلَى جَنْبِي: مَنْ هَذَا الَّذِي أَوْمَأَ إِلَيْهِ الْأَمِيرُ؟ قَالَ: هَذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، وَصَدَقَ كَانَ أَعْلَمَ بِاللَّهِ مِنْهُ، فَقَالَ: بِذَلِكَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ابو مالک اشجعی سے روایت ہے کہ ہم سے حسین بن حارث جدلی نے (جو جدیلہ قیس سے تعلق رکھتے ہیں) بیان کیا کہ امیر مکہ نے خطبہ دیا پھر کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے یہ عہد لیا کہ ہم چاند دیکھ کر حج ادا کریں، اگر ہم خود نہ دیکھ سکیں اور دو معتبر گواہ اس کی رویت کی گواہی دیں تو ان کی گواہی پر حج ادا کریں، میں نے حسین بن حارث سے پوچھا کہ امیر مکہ کون تھے؟ کہا کہ میں نہیں جانتا، اس کے بعد وہ پھر مجھ سے ملے اور کہنے لگے: وہ محمد بن حاطب کے بھائی حارث بن حاطب تھے پھر امیر نے کہا: تمہارے اندر ایک ایسے شخص موجود ہیں جو مجھ سے زیادہ اللہ اور اس کے رسول کی باتوں کو جانتے ہیں اور وہ اس حدیث کے گواہ ہیں، اور انہوں نے اپنے ہاتھ سے ایک شخص کی طرف اشارہ کیا۔ حسین کا بیان ہے کہ میں نے اپنے پاس بیٹھے ایک بزرگ سے دریافت کیا کہ یہ کون ہیں جن کی طرف امیر نے اشارہ کیا ہے؟ کہنے لگے: یہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہیں اور امیر نے سچ ہی کہا ہے کہ وہ اللہ کو ان سے زیادہ جانتے ہیں، اس پر انہوں نے (ابن عمر رضی اللہ عنہما نے) کہا کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کا حکم فرمایا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2338]
حسین بن حارث جدلی، قیس کے قبیلہ جدیلہ سے ہیں، بیان کرتے ہیں کہ امیرِ مکہ نے خطبہ دیا اور کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے عہد لیا کہ ہم چاند دیکھ کر حج کے ارکان ادا کریں، اگر ہم خود نہ دیکھ سکیں اور دو عادل گواہی دے دیں تو ہم ان کی گواہی پر حج کر لیں۔“ (ابومالک کہتے ہیں) میں نے حسین بن حارث سے پوچھا: ”امیرِ مکہ کون تھا؟“ اس نے کہا: ”مجھے معلوم نہیں۔“ بعد میں وہ مجھے دوبارہ ملا تو بتایا کہ وہ (امیر) حارث بن حاطب تھے، یعنی محمد بن حاطب کے بھائی۔ پھر امیر نے کہا: ”بلاشبہ تم میں وہ شخصیت موجود ہے جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق مجھ سے زیادہ باخبر ہے، اس بات کی شہادت اسی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دی ہے“ اور اپنے ہاتھ سے ایک آدمی کی طرف اشارہ کیا۔ حسین نے بتایا: ”میں نے اپنے پہلو میں بیٹھے ہوئے ایک شخص سے پوچھا، یہ آدمی کون ہے جس کی طرف امیر نے اشارہ کیا ہے؟“ تو اس نے کہا: ”یہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ہیں“ اور اس نے سچ کہا کہ یہ اللہ کے متعلق اس سے زیادہ جانتے تھے (احکامِ شریعت)، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اسی بات کا حکم دیا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2338]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3275) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
أخرجه الدارقطني (2/167 ح 2172 وقال: ’’ھذا إسناد متصل صحيح‘‘)
أخرجه الدارقطني (2/167 ح 2172 وقال: ’’ھذا إسناد متصل صحيح‘‘)
حدیث نمبر: 2339
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَخَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْمُقْرِئُ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" اخْتَلَفَ النَّاسُ فِي آخِرِ يَوْمٍ مِنْ رَمَضَانَ، فَقَدِمَ أَعْرَابِيَّانِ فَشَهِدَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّهِ لَأَهَلَّا الْهِلَالَ أَمْسِ عَشِيَّةً، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ أَنْ يُفْطِرُوا". زَادَ خَلَفٌ فِي حَدِيثِهِ:" وَأَنْ يَغْدُوا إِلَى مُصَلَّاهُمْ".
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک شخص سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں رمضان کے آخری دن لوگوں میں (چاند کی رویت پر) اختلاف ہو گیا، تو دو اعرابی آئے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اللہ کی قسم کھا کر گواہی دی کہ انہوں نے کل شام میں چاند دیکھا ہے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو افطار کرنے اور عید گاہ چلنے کا حکم دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2339]
ربعی بن حراش، اصحابِ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رضی اللہ عنہم میں سے کسی سے روایت کرتے ہیں کہ رمضان کے آخری دن کے متعلق لوگوں کا اختلاف ہو گیا۔ تو دو اعرابی آئے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اللہ کی گواہی دی (قسمیں اٹھائیں) کہ انہوں نے کل شام کو چاند دیکھا ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا کہ ”روزہ افطار کر لیں۔“ اور خلف بن ہشام کی روایت میں مزید یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگلے دن صبح کو (عید پڑھنے کے لیے) عید گاہ جائیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2339]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 15574)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/314، 5/362) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
أخرجه أحمد (5/314 وسنده صحيح) وقال الدارقطني (2/169 ح 2182): ’’ھذا إسناد حسن ثابت‘‘
أخرجه أحمد (5/314 وسنده صحيح) وقال الدارقطني (2/169 ح 2182): ’’ھذا إسناد حسن ثابت‘‘
14. باب فِي شَهَادَةِ الْوَاحِدِ عَلَى رُؤْيَةِ هِلاَلِ رَمَضَانَ
باب: رمضان کے چاند کی رویت کے لیے ایک شخص کی گواہی کافی ہے۔
حدیث نمبر: 2340
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ الرَّيَّانِ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي ثَوْرٍ. ح وحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ يَعْنِي الْجُعْفِيَّ، عَنْ زَائِدَةَ الْمَعْنَى، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي رَأَيْتُ الْهِلَالَ، قَالَ الْحَسَنُ فِي حَدِيثِهِ: يَعْنِي رَمَضَانَ، فَقَالَ: أَتَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: أَتَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" يَا بِلَالُ، أَذِّنْ فِي النَّاسِ فَلْيَصُومُوا غَدًا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک اعرابی آیا اور اس نے عرض کیا: میں نے چاند دیکھا ہے، (راوی حسن نے اپنی روایت میں کہا ہے یعنی رمضان کا) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس اعرابی سے پوچھا: ”کیا تو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں؟“ اس نے جواب دیا: ہاں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا اس بات کی بھی گواہی دیتا ہے کہ محمد اللہ کے رسول ہیں؟“ اس نے جواب دیا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلال! لوگوں میں اعلان کر دو کہ وہ کل روزہ رکھیں“۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2340]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک اعرابی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور اس نے کہا: ”میں نے چاند دیکھا ہے۔“ حسن بن علی نے اپنی حدیث میں صراحت کرتے ہوئے کہا کہ مراد ”رمضان کا چاند“ ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں“ کی گواہی دیتا ہے؟“ اس نے کہا: ”ہاں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تو گواہی دیتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں؟“ اس نے کہا: ”ہاں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلال! لوگوں میں اعلان کر دو کہ صبح روزہ رکھیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2340]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الصوم 7 (691)، سنن النسائی/الصوم 6 (2115)، سنن ابن ماجہ/الصیام 6 (1652)، (تحفة الأشراف: 6104، 19113)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الصوم 6 (1734) (ضعیف)» (عکرمہ سے سماک کی روایت میں بڑا اضطراب پایا جاتا ہے، نیز سماک کے اکثر تلامذ نے اسے «عن عکرمہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم …» مرسلاً روایت کیا ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (691) نسائي (2114) ابن ماجه (1652)
سلسلة سماك عن عكرمة : سلسلة ضعيفة (تقدم : 68،2238)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 87
إسناده ضعيف
ترمذي (691) نسائي (2114) ابن ماجه (1652)
سلسلة سماك عن عكرمة : سلسلة ضعيفة (تقدم : 68،2238)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 87
حدیث نمبر: 2341
حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ،" أَنَّهُمْ شَكُّوا فِي هِلَالِ رَمَضَانَ مَرَّةً، فَأَرَادُوا أَنْ لَا يَقُومُوا وَلَا يَصُومُوا، فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ مِنْ الْحَرَّةِ، فَشَهِدَ أَنَّهُ رَأَى الْهِلَالَ، فَأُتِيَ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَتَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَشَهِدَ أَنَّهُ رَأَى الْهِلَالَ، فَأَمَرَ بِلَالًا، فَنَادَى فِي النَّاسِ أَنْ يَقُومُوا وَأَنْ يَصُومُوا". قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ جَمَاعَةٌ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، مُرْسَلًا. وَلَمْ يَذْكُرِ الْقِيَامَ أَحَدٌ إِلَّا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ.
عکرمہ کہتے ہیں کہ ایک بار لوگوں کو رمضان کے چاند (کی روئیت) سے متعلق شک ہوا اور انہوں نے یہ ارادہ کر لیا کہ نہ تو تراویح پڑھیں گے اور نہ روزے رکھیں گے، اتنے میں مقام حرہ سے ایک اعرابی آ گیا اور اس نے چاند دیکھنے کی گواہی دی چنانچہ اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے جایا گیا، آپ نے اس سے سوال کیا: ”کیا تو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور یہ کہ میں اللہ کا رسول ہیں؟“ اس نے کہا: ہاں، اور چاند دیکھنے کی گواہی بھی دی چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ لوگوں میں منادی کر دیں کہ لوگ تراویح پڑھیں اور روزہ رکھیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ایک جماعت نے سماک سے اور انہوں نے عکرمہ سے مرسلاً روایت کیا ہے، اور سوائے حماد بن سلمہ کے کسی اور نے تراویح پڑھنے کا ذکر نہیں کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2341]
عکرمہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ایک بار رمضان کے چاند میں شک ہو گیا۔ پس انہوں نے ارادہ کیا کہ نہ قیام کریں اور نہ روزہ رکھیں۔ تو حرہ کی طرف سے ایک اعرابی آیا، اس نے گواہی دی کہ اس نے چاند دیکھا ہے۔ اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں“ کی گواہی دیتا ہے؟“ اس نے کہا: ”ہاں“ اور شہادت دی کہ اس نے چاند دیکھا ہے۔ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ لوگوں میں اعلان کر دو کہ ”رات کو قیام کریں اور (صبح کو) روزہ رکھیں۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”اس حدیث کو ایک جماعت نے بواسطہ سماک، عکرمہ رحمہ اللہ سے مرسل روایت کیا ہے اور قیام کا ذکر حماد بن سلمہ رحمہ اللہ کے علاوہ کسی نے نہیں کیا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2341]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 6104، 19113) (ضعیف)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي (5112،2116)
السند مرسل مع ضعفه
انظر الحديث السابق (2340)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 87
إسناده ضعيف
نسائي (5112،2116)
السند مرسل مع ضعفه
انظر الحديث السابق (2340)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 87
حدیث نمبر: 2342
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّمْرَقَنْدِيُّ، وَأَنَا لِحَدِيثِهِ أَتْقَنُ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ هُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:" تَرَاءَى النَّاسُ الْهِلَالَ، فَأَخْبَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي رَأَيْتُهُ، فَصَامَهُ وَأَمَرَ النَّاسَ بِصِيَامِهِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ لوگوں نے چاند دیکھنے کی کوشش کی (لیکن انہیں نظر نہ آیا) اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی کہ میں نے اسے دیکھا ہے، چنانچہ آپ نے خود بھی روزہ رکھا اور لوگوں کو بھی روزہ رکھنے کا حکم فرمایا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2342]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ”لوگوں نے چاند دیکھنے کی کوشش کی۔ پس میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی کہ میں نے دیکھ لیا ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھا اور لوگوں کو روزہ رکھنے کا حکم فرمایا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2342]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 8543)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الصوم 6 (1733) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (1979، 2922)
عبد الله بن وھب المصري صرح بالسماع عند الدارقطني (2/165) وغيره
مشكوة المصابيح (1979، 2922)
عبد الله بن وھب المصري صرح بالسماع عند الدارقطني (2/165) وغيره