مسند امام شافعی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
18. بَابُ زَكَاةِ الرِّكَازِ وَالْكَنْزِ
رکاز اور خزانے کی زکوٰۃ کا بیان
حدیث نمبر: 731
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ: إِنِّي وَجَدْتُ أَلْفًا وَخَمْسَ مِائَةِ دِرْهَمٍ فِي خَرِبَةٍ بِالسَّوَادِ، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَمَا لَأَقْضِيَنَّ فِيهَا قَضَاءً بَيِّنًا، إِنْ كُنْتَ وَجَدْتَهَا فِي قَرْيَةٍ يُؤَدِّي خَرَاجَهَا قَرْيَةٌ أُخْرَى فَهِيَ لِأَهْلِ تِلْكَ الْقَرْيَةِ، وَإِنْ كُنْتَ وَجَدْتَهَا فِي قَرْيَةٍ لَيْسَ يُؤَدِّي خَرَاجَهَا قَرْيَةٌ أُخْرَى فَلَكَ أَرْبَعَةُ أَخْمَاسٍ، وَلَنَا الْخُمُسُ، ثُمَّ الْخُمُسُ لَكَ.
شعبی رحمہ اللہ سے روایت ہے بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور اس نے کہا: مجھے سواد مقام پر غیر آباد جگہ سے پندرہ سو درہم ملے ہیں۔ علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں اس میں بڑا واضح فیصلہ کروں گا۔ اگر تو نے اسے ایک ایسی غیر آباد جگہ سے پایا ہے جو دوسری بستی سے ملی ہوئی ہے تو یہ پیسے ان بستی والوں کے ہیں اور اگر تو نے ایک ایسی بستی سے پایا کہ جس کی غیر آباد جگہ دوسری سے نہیں ملی ہوئی تو تیرے لیے چار خمس اور ہمارے لیے ایک خمس ہے، پھر ایک اور خمس تیرے لیے ہے۔ [مسند امام شافعی/ كتاب الزكاة /حدیث: 731]
تخریج الحدیث: «اسناده صحیح اخرجه البيهقي: 4 / 156 . وفى المعرفة السنن والآثار له (2391) وابن ابی شیبة (10772).»
حدیث نمبر: 732
أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، وَأَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:"وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ" أَخْرَجَ الْخَمَسَةَ الْأَحَادِيثَ مِنْ كِتَابِ الزَّكَاةِ، وَالسَّادِسَ مِنْ كِتَابِ الرِّسَالَةِ.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور دفینہ میں پانچواں حصہ (زکوۃ) ہے۔“ [مسند امام شافعی/ كتاب الزكاة /حدیث: 732]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري، الديات، باب: المعدن جبار والبئر جبار (6912) ومسلم، الحدود، باب جرح العجماء والمعدن والبئر جبار (1710).»
19. بَابُ زَكَاةِ الْعَنْبَرِ
عنبر کی زکوٰۃ کا بیان
حدیث نمبر: 733
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الْعَنْبَرِ فَقَالَ: إِنْ كَانَ فِيهِ شَيْءٌ، فَفِيهِ الْخُمُسُ.
ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ان سے عنبر کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: اگر اس میں کچھ ہے تو وہ پانچواں حصہ ہے۔ [مسند امام شافعی/ كتاب الزكاة /حدیث: 733]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح اخرجه البيهقى 4 / 146 . وفى المعرفة السنن والآثار له (2364) . وعبد الرزاق (6976) . و ابن أبي شيبة (10065).»
حدیث نمبر: 734
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ سُئِلَ عَنِ الْعَنْبَرِ، فَقَالَ: إِنْ كَانَ فِيهِ شَيْءٌ، فَفِيهِ الْخُمُسُ. أَخْرَجَ الْأَوَّلَ مِنْ كِتَابِ الزَّكَاةِ، وَالثَّانِيَ مِنْ كِتَابِ الْبُيُوعِ.
طاؤوس سے روایت ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے عنبر کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: اگر اس میں کچھ ہے تو وہ پانچواں حصہ ہے۔ [مسند امام شافعی/ كتاب الزكاة /حدیث: 734]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح اخرجه البيهقى 4 / 146 . وفى المعرفة السنن والآثار له (2364) . وعبد الرزاق (6976) . و ابن أبي شيبة (10065).»
20. بَابُ لَيْسَ فِي الْعَنْبَرِ زَكَاةٌ
عنبر میں زکوٰۃ نہ ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 735
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ [ ص: 162 ] أُذَيْنَةَ: أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَيْسَ فِي الْعَنْبَرِ زَكَاةٌ، إِنَّمَا هُوَ شَيْءٌ دَسَرَهُ الْبَحْرُ.
ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: عنبر میں زکوۃ نہیں ہے، یہ تو ایک ایسی چیز ہے جس کو دریا کنارے پر پھینک دیتا ہے۔ [مسند امام شافعی/ كتاب الزكاة /حدیث: 735]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح: اخرجه البيهقي: 4 / 146 . وفى المعرفة السنن والآثار له (2363) وابن أبي شيبة (10058).»
حدیث نمبر: 736
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ أُذَيْنَةَ وَعَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ: لَيْسَ فِي الْعَنْبَرِ شَيْءٌ، إِنَّمَا هُوَ شَيْءٌ دَسَرَهُ الْبَحْرُ. أَخْرَجَ الْأَوَّلَ مِنْ كِتَابِ الْبُيُوعِ، وَالثَّانِيَ مِنْ كِتَابِ الزَّكَاةِ.
ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا: عنبر میں کچھ بھی نہیں، یہ تو ایک ایسی چیز ہے جس کو دریا کنارے پر پھینک دیتا ہے۔ [مسند امام شافعی/ كتاب الزكاة /حدیث: 736]
تخریج الحدیث: «اسناده صحیح اخرجه البيهقي: 4 / 146 . وابن ابي شيبة رقم: 10059 . والبخاري تعليقا قبل الحديث (1498).»
21. بَابُ زَكَاةِ الثِّمَارِ وَالزُّرُوعِ وَالزَّيْتِ وَالْعَسَلِ
پھلوں، فصلوں، تیل اور شہد کی زکوۃ کا بیان۔
حدیث نمبر: 737
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ صَالِحٍ التَّمَّارِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عَتَّابِ بْنِ أَسِيدٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [ ص: 163 ] قَالَ فِي زَكَاةِ الْكَرْمِ:"يُخْرَصُ كَمَا يُخْرَصُ النَّخْلُ، ثُمَّ تُؤَدَّى زَكَاتُهُ زَبِيبًا كَمَا تُؤَدَّى زَكَاةُ النَّخْلِ تَمْرًا" .
عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انگور کی زکوۃ کے متعلق فرمایا: ”اس کا اندازہ لگایا جائے گا جس طرح کہ کھجور کے درختوں کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔ پھر اس کی زکوۃ کشمش میں دی جائے گی جس طرح کہ کھجور کے درختوں کی زکوۃ کھجوروں سے دی جاتی ہے۔“ [مسند امام شافعی/ كتاب الزكاة /حدیث: 737]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لإنقطاعه: اخرجه ابو داود الزكاة، باب في خرص العنب (1603)، (1604) . وقال وسعيد لم يسمع من عتاب شيئًا. وابن ماجة الزكاة، باب خرص النخل والعنب (1819) والترمذى، الزكاة، باب ماجاء في الخرص (644).»
حدیث نمبر: 738
وَبِإِسْنَادِهِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَبْعَثُ مَنْ يَخْرِصُ عَلَى النَّاسِ كُرُومَهُمْ وَثِمَارَهُمْ.
اس سابقہ سند سے ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے پاس ان لوگوں کو بھیجتے جو ان کے انگوروں اور پھلوں کا اندازہ لگاتے۔ [مسند امام شافعی/ كتاب الزكاة /حدیث: 738]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لإنقطاعه: اخرجه ابو داود الزكاة، باب في خرص العنب (1603)، (1604) . وقال وسعيد لم يسمع من عتاب شيئًا. وابن ماجة الزكاة، باب خرص النخل والعنب (1819) والترمذى، الزكاة، باب ماجاء في الخرص (644).»
حدیث نمبر: 739
أَخْبَرَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ: أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ يَقُولُ: صَدَقَةُ الثِّمَارِ وَالزُّرُوعِ مَا كَانَ نَخْلًا أَوْ كَرْمًا أَوْ زَرْعًا أَوْ شَعِيرًا أَوْ سُلْتًا فَمَا كَانَ بَعْلًا أَوْ سَقْيًا بِنَهْرٍ أَوْ يُسْقَى بِالْعَيْنِ أَوْ عَثْرِيًّا بِالْمَطَرِ فَفِيهِ الْعُشُورُ وَمِنْ كُلِّ [ ص: 164 ] عَشَرَةٍ وَاحِدٌ، وَمَا كَانَ مِنْهُ يُسْقَى بِالنَّضْحِ فَفِيهِ نِصْفُ الْعُشْرِ فِي كُلِّ عِشْرِينَ وَاحِدٌ، وَمَا كَانَ مِنْهُ يُسْقَى بِالنَّضْحِ فَفِيهِ نِصْفُ الْعُشْرِ فِي كُلِّ عِشْرِينَ وَاحِدٌ.
نافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے تھے: پھلوں اور کھیتیوں کا صدقہ (زکوۃ) جو کھجوروں یا انگوروں یا کھیتیوں یا جو یا سلت (حجاز میں پیدا ہونے والا جَو جو گیہوں کے مشابہ ہوتا ہے) جو زمین سے تری حاصل کرنے والا ہو، یا نہر سے سیراب کیا گیا ہو، یا چشمہ سے پانی پلایا گیا ہو یا بارش سے سیراب ہوا ہو۔ اس میں عشر (دسواں حصہ) ہے۔ ہر دس سے ایک حصہ ہوگا، اور جس کو پانی کھینچ کر ڈولوں یا جانوروں سے لا کر سیراب کیا گیا اس میں نصف العشر (بیسواں حصہ) ہے ہر بیس میں سے ایک حصہ ہوگا۔ جو کھیت ڈولوں سے پانی نکال کر کھینچا جائے یا جانور پر پانی لا کر اس میں سے بیسواں حصہ (پیداوار کا) لیا جائے گا۔ [مسند امام شافعی/ كتاب الزكاة /حدیث: 739]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري الزكاة، باب العشر فيما يسقى من ماء السماء والماء الجاري (1483).»
حدیث نمبر: 740
أَخْبَرَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ، قَالَ: قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْلَمْتُ، ثُمَّ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اجْعَلْ لِقَوْمِي مَا أَسْلَمُوا عَلَيْهِ مِنْ أَمْوَالِهُمْ فَفَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْتَعْمَلَنِي عَلَيْهِمْ، ثُمَّ اسْتَعْمَلَنِي أَبُو بَكْرٍ، ثُمَّ عُمَرُ. قَالَ: وَكَانَ سَعْدٌ مِنْ أَهْلِ السَّرَاةِ قَالَ: فَكَلَّمْتُ قَوْمِي فِي الْعَسَلِ، فَقُلْتُ لَهُ: زَكَاةٌ، فَإِنَّهُ لَا خَيْرَ فِي ثَمَرَةٍ لَا تُزَكَّى. فَقَالُوا: كَمْ؟ قَالَ: فَقُلْتُ: الْعُشْرُ. فَأَخَذْتُ مِنْهُمُ الْعُشْرَ فَأَتَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَخْبَرْتُهُ مَا كَانَ فَقَبَضَهُ عُمَرُ فَبَاعَهُ، ثُمَّ جَعَلَ ثَمَنَهُ فِي صَدَقَاتِ الْمُسْلِمِينَ.
سعد بن ابی ذباب بیان فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اسلام لایا، پھر میں نے کہا: یا رسول اللہ! میری قوم کے مسلمان لانے کی وجہ سے ان کے مالوں سے کسی کو زکوۃ لینے کے لیے مقرر فرما دیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح کیا اور مجھے ان پر عامل مقرر فرما دیا۔ پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی مجھے عامل بنایا، پھر عمر رضی اللہ عنہ نے بھی۔ راوی کہتے ہیں کہ سعد معززین میں سے تھے۔ سعد کہتے ہیں کہ میں نے اپنی قوم سے شہد کے متعلق بات کی اور ان سے کہا: اس میں زکوۃ ہے کیونکہ وہ مال جس سے زکوۃ نہ دی جائے اس میں بہتری نہیں ہے۔ انہوں نے کہا: کتنی ہے؟ سعد کہتے ہیں میں نے کہا: دسواں حصہ ہے۔ سعد کہتے ہیں میں نے ان سے دسواں حصہ لے کر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور انہیں آگاہ کیا تو عمر رضی اللہ عنہ نے اسے قبول کیا، اسے بیچ کر اس کی قیمت کو مسلمانوں کے صدقات میں جمع کر دیا۔ [مسند امام شافعی/ كتاب الزكاة /حدیث: 740]
تخریج الحدیث: «ضعیف: أخرجه البيهقي: 127/4 . واحمد: 4 79 . وابن ابي شيبة (10053) والطبراني في الكبير: (43/6، 5458).»