مسند الشافعی سے متعلقہ
4. بَابُ النَّهْيِ عَنِ النَّجْشِ
نجش کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 1365
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، وَمَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِثْلَهُ.
ایک اور سند سے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے اسی طرح مروی ہے۔ [مسند الشافعی/ كتاب البيوع /حدیث: 1365]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري، البيوع، باب النهى للبائع ان لا يحفل .... الخ، رقم: 2150 - ومسلم، البيوع، باب تحريم بيع الرجل على بيع اخيه ..... الخ (1515).»
حدیث نمبر: 1366
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ. أَخْرَجَ الْأَرْبَعَةَ الْأَحَادِيثَ مِنَ الْجُزْءِ الثَّانِي مِنَ اخْتِلَافِ الْحَدِيثِ.
ایک دوسری سند سے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سابقہ حدیث کی مثل روایت ہے۔ [مسند الشافعی/ كتاب البيوع /حدیث: 1366]
تخریج الحدیث: «صحيح اخرجه البيهقي: 344/5 - وفي المعرفة السنن والآثار له (3523).»
5. بَابُ الِاشْتِرَاطِ فِي الْبَيْعِ
خرید و فروخت میں شرط رکھنے کا بیان
حدیث نمبر: 1367
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:"مَنْ بَاعَ نَخْلًا بَعْدَ أَنْ تُؤَبَّرَ فَثَمَرُهَا لِلْبَائِعِ إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ".
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے پیوند کاری کے بعد کسی کو کھجور کا درخت بیچا تو اس کا (اس سال کا) پھل بھی بیچنے والے ہی کا ہے، ہاں اگر خریدار شرط لگا لے (کہ وہ پھل بھی لے گا) تو یہ جائز ہے۔“ [مسند الشافعی/ كتاب البيوع /حدیث: 1367]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري، المساقاة، باب الرجل يكون له ممر أو شرب في حائط او في نخل (2379) ومسلم، البيوع، باب من باع نخلا عليها تمر (1543).»
حدیث نمبر: 1368
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:"مَنْ بَاعَ نَخْلًا قَدْ أُبِّرَتْ، فَثَمَرَتُهَا لِلْبَائِعِ إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ".
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے پیوند کاری کے بعد کھجور کا درخت بیچا، تو اس کا پھل بیچنے والے کا ہے، سوائے اس کے کہ خریدار شرط لگا لے (کہ وہ پھل بھی لے گا)۔“ [مسند الشافعی/ كتاب البيوع /حدیث: 1368]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري، البيوع، باب من باع نخلا قد ابرت او ارضا مز روعة او باجارة (2204) - ومسلم، البيوع، باب من باع نخلا عليها تمر (1543).»
حدیث نمبر: 1369
أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:"مَنْ بَاعَ عَبْدًا وَلَهُ مَالٌ، فَمَالُهُ لِلْبَائِعِ، إِلَّا يَشْتَرِطُ الْمُبْتَاعُ". أَخْرَجَ الْحَدِيثَيْنِ مِنْ كِتَابِ الْبُيُوعِ وَالثَّالِثَ مِنْ كِتَابِ الرِّسَالَةِ.
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے مال والا غلام بیچا، تو اس کا مال بیچنے والے کا ہے، ہاں اگر خریدار شرط لگا لے تو پھر اس کا ہے۔“ [مسند الشافعی/ كتاب البيوع /حدیث: 1369]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق برقم (1367).»
6. بَابٌ فِي الْخِيَارِ فِي الْبَيْعِ
بیع میں اختیار کا بیان
حدیث نمبر: 1370
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:"الْمُتَبَايِعَانِ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْخِيَارِ عَلَى صَاحِبِهِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا إِلَّا بَيْعَ الْخِيَارِ". قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَابْنُ عُمَرَ الَّذِي سَمِعَهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا ابْتَاعَ الشَّيْءَ يُعْجِبُهُ أَنْ يَجِبَ لَهُ، فَارَقَ صَاحِبَهُ مَشَى قَلِيلًا ثُمَّ رَجَعَ.
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خریدنے اور بیچنے والے میں سے ہر ایک کو دوسرے پر علیحدہ ہونے تک اختیار باقی ہوتا ہے، سوائے بیع خیار کے (یعنی وہ بیع جس میں اختیار کی شرط پہلے سے لگا دی گئی ہو)۔“ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما جنہوں نے یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی، جب کوئی چیز خریدتے اور وہ بیع نافذ کرنا چاہتے تو اپنے ساتھی سے علیحدہ ہو کر تھوڑا چلتے پھر واپس آجاتے (اس طرح بیع نافذ ہو جاتی)۔ [مسند الشافعی/ كتاب البيوع /حدیث: 1370]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخارى البيوع، باب البيعان بالخيار ما لم يتفرقا (2111) - ومسلم، البيوع، باب ثبوت خيار المجلس للمتبايعين (1531).»
حدیث نمبر: 1371
أَخْبَرَنَا بِذَلِكَ سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ.
ایک اور سند سے بھی ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے۔ [مسند الشافعی/ كتاب البيوع /حدیث: 1371]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم البيوع، باب ثبوت خيار المجلس للمتابعيين (1531).»
حدیث نمبر: 1372
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:"الْمُتَبَايِعَانِ بِالْخِيَارِ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَلَى صَاحِبِهِ الْخِيَارُ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا إِلَّا بَيْعَ الْخِيَارِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خریدنے اور بیچنے والے دونوں کو اس وقت تک اختیار حاصل ہے جب تک وہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں، سوائے بیع خیار کے۔“ [مسند الشافعی/ كتاب البيوع /حدیث: 1372]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق برقم (1370).»
حدیث نمبر: 1373
وَأَخْبَرَنَا عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَمْلَى عَلَيَّ نَافِعٌ مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ ابْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:"إِذَا تَبَايَعَ الْمُتَبَايِعَانِ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْخِيَارِ مِنْ بَيْعِهِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا أَوْ يَكُونُ بَيْعُهُمَا عَنْ خِيَارٍ". قَالَ نَافِعٌ: وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا ابْتَاعَ الْبَيْعَ فَأَرَادَ أَنْ يُوجِبَ الْبَيْعَ مَشَى قَلِيلًا ثُمَّ يَرْجِعُ.
ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب دو خریدنے اور بیچنے والے بیع کریں تو ہر ایک کو اس وقت تک اختیار ہے جب تک وہ دونوں جدا نہ ہوں یا ان کے درمیان بیعِ خیار نہ ہو۔“ نافع نے کہا کہ جب ابن عمر رضی اللہ عنہما کوئی بیع کرتے اور اس کو نافذ کرنا چاہتے تو اس جگہ سے تھوڑا سا چل کر دوبارہ واپس آجاتے۔ [مسند الشافعی/ كتاب البيوع /حدیث: 1373]
تخریج الحدیث: «تقدم تخریجه برقم (1371).»
حدیث نمبر: 1374
أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ. وَأَخْبَرَنَا الثِّقَةُ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"الْمُتَبَايِعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا، فَإِنْ صَدَقَا وَبَيَّنَا، وَجَبَتِ الْبَرَكَةُ فِي بَيْعِهِمَا، وَإِنْ كَذَبَا وَكَتَمَا مُحِقَتِ الْبَرَكَةُ مِنْ بَيْعِهِمَا" .
حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیچنے اور خریدنے والے کو جب تک وہ جدا نہ ہوں (بیع توڑنے کا اختیار حاصل ہے)۔ اگر وہ دونوں سچ بولیں اور عیب نہ چھپائیں تو ان کی بیع میں برکت واجب ہو جاتی ہے، اور اگر جھوٹ بولیں اور عیب چھپائیں تو ان کی بیع سے برکت ختم کر دی جاتی ہے۔“ [مسند الشافعی/ كتاب البيوع /حدیث: 1374]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري، البيوع، باب اذا كان البائع بالخيار هل يجوز البيع؟ (2113)، (2110)، ومسلم، البيوع باب الصدق في البيع والبيان (1531)، (1532).»