مسند الشافعی سے متعلقہ
13. بَابُ النَّهْيِ عَنْ بَيْعِ الْبَيْضَاءِ بِالسُّلْتِ وَالتَّمْرِ بِالتَّمْرِ
گندم کی جو کے بدلے اور کھجور کی کھجور کے بدلے بیع کی ممانعت اور عرایا میں رخصت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1405
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ التَّمْرِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ وَعَنْ بَيْعِ التَّمْرِ بِالتَّمْرِ. [ ص: 182 ] قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: وَحَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْخَصَ فِي الْعَرَايَا.
ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب تک کھجور کے درخت کے پھل کا پک جانا ظاہر نہ ہو اس کی بیع سے منع فرمایا، اسی طرح خشک کھجوروں کی خشک کھجوروں کے بدلے بیع سے بھی منع فرمایا۔ عبداللہ نے بیان فرمایا کہ ہمیں زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عرایا میں رخصت دی۔ [مسند الشافعی/ كتاب البيوع /حدیث: 1405]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري، البيوع، باب بيع المزابنة، وهى بيع التمر بالثمر...... الخ (2183)، (2199) ومسلم، البيوع، باب تحريم بيع الرطب بالتمر الافى العرايا (1534). (1539).»
حدیث نمبر: 1406
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ الشَّيْبَانِيِّ أَوْ غَيْرِهِ، قَالَ: بِعْتُ مَا فِي رُءُوسِ نَخْلِي بِمِائَةِ وَسْقٍ، إِنْ زَادَ فَلَهُمْ، وَإِنْ نَقَصَ فَعَلَيْهِمْ، فَسَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ، فَقَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ هَذَا إِلَّا أَنَّهُ أَرْخَصَ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا.
اسماعیل الشیبانی یا ان کے علاوہ کسی اور نے بیان کیا کہ میں نے کھجور کے درختوں کے اوپر ہی کھجوروں کو 100 وسق کے بدلے اس شرط پر بیچا کہ اگر زیادہ ہوں تو خریدار کی ہوں گی اور اگر (100 وسق سے) کم ہوئیں تو نقصان بھی اسی پر ہوگا۔ پھر میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح کرنے سے منع فرمایا ہے البتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرایا کی بیع میں اجازت دی۔ [مسند الشافعی/ كتاب البيوع /حدیث: 1406]
تخریج الحدیث: «صحيح: اخرجه البيهقى فى المعرفة السنن والآثار (3443) - واحمد: 2/ 11- والطحاوي في شرح معانی الآثار 29/4 - وابن ابي شيبة (22581).»
حدیث نمبر: 1407
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْخَصَ لِصَاحِبِ الْعَرِيَّةِ أَنْ يَبِيعَهَا بِخَرْصِهَا.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عریہ والے کے لیے رخصت دی کہ وہ کھجوروں کو اندازے سے بیچ دے۔ [مسند الشافعی/ كتاب البيوع /حدیث: 1407]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري، البيوع، باب بيع المزابنة، وهى بيع التمر بالثمر .... الخ (2188) ومسلم، البيوع، باب تحريم بيع الرطب بالتمر الا في العرايا (1539).»
حدیث نمبر: 1408
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ مَوْلَى ابْنِ أَبِي أَحْمَدَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْخَصَ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ أَوْ فِي خَمْسَةِ أَوْسُقٍ. [ ص: 184 ] شَكَّ دَاوُدُ، قَالَ: خَمْسَةُ أَوْسُقٍ أَوْ دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع عریہ کی اجازت 5 وسق سے کم یا 5 وسق میں دی ہے۔ داؤد رحمہ اللہ کو شک گزرا تو فرمایا: ”5 وسق یا 5 سے کم وسق۔“ [مسند الشافعی/ كتاب البيوع /حدیث: 1408]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري، البيوع، باب بيع الثمر على رؤوس النخل بالذهب أو الفضة (2190) ومسلم، البيوع، باب تحريم بيع الرطب بالتمر الا في العرايا (1541).»
حدیث نمبر: 1409
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ أَبِي حَثْمَةَ، يَقُولُ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ التَّمْرِ بِالتَّمْرِ إِلَّا أَنَّهُ أَرْخَصَ فِي الْعَرِيَّةِ أَنْ تُبَاعَ بِخَرْصِهَا تَمْرًا يَأْكُلُهَا أَهْلُهَا رَطْبًا.
سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خشک کھجور کی خشک کھجور سے بیع کرنے سے منع فرمایا البتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عریہ کی بیع میں اجازت دی کہ انہیں اندازے سے بیچا جائے کہ عریہ والے اس کے عوض تازہ کھجوریں کھائیں۔ [مسند الشافعی/ كتاب البيوع /حدیث: 1409]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخارى البيوع، باب بيع الثمر على رؤوس النخل بالذهب أو الفضة (2191) ومسلم، البيوع، باب تحريم بيع الرطب بالتمر الا في العرايا (1540).»
حدیث نمبر: 1410
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الْمُزَابَنَةِ. وَالْمُزَابَنَةُ: بَيْعُ التَّمْرِ بِالتَّمْرِ إِلَّا أَنَّهُ أَرْخَصَ فِي الْعَرَايَا. أَخْرَجَ السَّبْعَةَ الْأَحَادِيثَ مِنْ كِتَابِ الْبُيُوعِ.
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع مزابنہ سے منع فرمایا اور مزابنہ یہ ہے کہ درخت کی کھجوروں کو خشک کھجوروں کے بدلے بیچا جائے، البتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرایا میں رخصت دی۔ [مسند الشافعی/ كتاب البيوع /حدیث: 1410]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، البيوع، باب بيع الثمر على رؤوس النخل بالذهب أو الفضة (2189) ومسلم، البيوع، باب النهي عن المحاقله والمزابنة وعن المخابرة .... الخ (1536).»
14. بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْمُزَابَنَةِ وَالْمُحَاقَلَةِ وَالْمُخَابَرَةِ
مزابنہ، محاقلہ اور مخابرہ کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 1411
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ. وَالْمُزَابَنَةُ: بَيْعُ التَّمْرِ بِالتَّمْرِ كَيْلًا، وَبَيْعُ الْكَرْمِ بِالزَّبِيبِ كَيْلًا.
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ سے منع فرمایا، اور مزابنہ یہ ہے کہ درخت پر لگی کھجور کو ٹوٹی ہوئی کھجور کے بدلے ناپ کر، اور بیل پر لگے انگور کو خشک انگور کے بدلے ناپ کر بیچا جائے۔ [مسند الشافعی/ كتاب البيوع /حدیث: 1411]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري، البيوع، باب بيع المزابنة، وهي بيع التمر بالثر...... الخ (2185) ومسلم، البيوع، باب تحريم بيع الرطب بالتمر الا في العرايا (1542).»
حدیث نمبر: 1412
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ مَوْلَى ابْنِ أَبِي أَحْمَدَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَوْ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ وَالْمُحَاقَلَةِ. وَالْمُزَابَنَةُ: اشْتِرَاءُ التَّمْرِ بِالتَّمْرِ فِي رُءُوسِ النَّخْلِ. وَالْمُحَاقَلَةُ: اسْتِكْرَاءُ الْأَرْضِ بِالْحِنْطَةِ.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ یا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ اور محاقلہ کی بیع سے منع فرمایا۔ مزابنہ، درخت کی کھجور کو توڑی ہوئی کھجور کے بدلے خریدنے کو کہتے ہیں اور محاقلہ، زمین کو گیہوں کے عوض کرایہ پر لینے کو کہتے ہیں۔ [مسند الشافعی/ كتاب البيوع /حدیث: 1412]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاری، البيوع، باب بيع المزابنة، وهى بيع التمر بالثمر...... الخ (2186) ومسلم، البيوع، باب كراء الارض (1546).»
حدیث نمبر: 1413
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ وَالْمُحَاقَلَةِ. وَالْمُزَابَنَةُ: اشْتِرَاءُ التَّمْرِ بِالتَّمْرِ. وَالْمُحَاقَلَةُ: اشْتِرَاءُ الزَّرْعِ بِالْحِنْطَةِ. [ ص: 187 ] قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: فَسَأَلْتُ عَنِ اسْتِكْرَاءِ الْأَرْضِ بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ، فَقَالَ: لَا بَأْسَ بِذَلِكَ.
سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ اور محاقلہ سے منع فرمایا۔ مزابنہ، درخت کی کھجوروں کو، ٹوٹی ہوئی کھجوروں کے بدلے خریدنے کا نام ہے، اور محاقلہ بالی کے اندر گیہوں کو صاف گیہوں کے عوض خریدنے کا نام ہے۔ ابن شہاب رحمہ اللہ نے فرمایا کہ میں نے زمین کو کرایہ پر درہم و دینار کے عوض دینے کے متعلق دریافت کیا تو ابن مسیب رحمہ اللہ نے فرمایا، اس میں کچھ حرج نہیں ہے۔ [مسند الشافعی/ كتاب البيوع /حدیث: 1413]
تخریج الحدیث: «صحیح موصولا اخرجه ابوداود، البيوع، باب في التشديد في ذلك (3400) وابن ماجة، التجارات، باب بيع المزابنة والمحاقلة (2267).»
حدیث نمبر: 1414
أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْمُخَابَرَةِ وَالْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ. وَالْمُحَاقَلَةُ: أَنْ يَبِيعَ الرَّجُلُ الزَّرْعَ بِمِائَةِ فَرَقِ حِنْطَةٍ. وَالْمُزَابَنَةُ: أَنْ يَبِيعَ التَّمْرَ فِي رُءُوسِ النَّخْلِ بِمِائَةِ فَرَقٍ. وَالْمُخَابَرَةُ: كِرَاءُ الْأَرْضِ بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ.
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مخابرہ، محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا۔ محاقلہ، یہ ہے کہ آدمی بالی میں موجود گیہوں کو سو فرق (ایک پیمانہ کا نام ہے) صاف گیہوں کے عوض بیچے، اور مزابنہ یہ ہے کہ کھجور کے درختوں پر موجود کھجور کو ٹوٹی ہوئی کھجور کے سو فرق کے بدلے بیچے، اور مخابرہ یہ ہے کہ زمین کو تیسرے یا چوتھے حصے کے عوض بٹائی پر دے دے۔ [مسند الشافعی/ كتاب البيوع /حدیث: 1414]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق برقم (1410).»