🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند امام شافعی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الشافعی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1819)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. بَابُ الْمُصَارَفَةِ
سکوں کے تبادلے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1385
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:"لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ، وَلَا تَبِيعُوا غَائِبًا بِنَاجِزٍ".
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سونے کو سونے کے عوض برابری کے سوا کسی اور طریقہ سے نہ بیچو، اور نہ غائب چیز کو حاضر کے بدلے میں بیچو۔ [مسند امام شافعی/ كتاب البيوع /حدیث: 1385]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق برقم (1384).» ‏‏‏‏

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1386
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ: أَنَّهُ بَلَغَهُ عَنْ جَدِّهِ مَالِكِ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"لَا تَبِيعُوا الدِّينَارَ بِالدِّينَارَيْنِ، وَلَا الدِّرْهَمَ بِالدِّرْهَمَيْنِ".
عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے بیان فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک دینار کی دو دینار کے بدلے اور ایک درہم کی دو درہم کے بدلے بیع نہ کرو۔ [مسند امام شافعی/ كتاب البيوع /حدیث: 1386]
تخریج الحدیث: «صحيح من غير هذا الطريق اخرجه مسلم، البيوع، الربا (1585).»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1387
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي تَمِيمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، [ ص: 171 ] أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:"الدِّينَارُ بِالدِّينَارِ وَالدِّرْهَمُ بِالدِّرْهَمِ لَا فَضْلَ بَيْنَهُمَا".
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دینار کی دینار کے بدلے اور درہم کی درہم کے عوض زیادتی جائز نہیں۔ [مسند امام شافعی/ كتاب البيوع /حدیث: 1387]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم، المساقاة، باب الصرف وبيع الذهب بالورق نقدا (1588).» ‏‏‏‏

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1388
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ وَلَا تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ، وَلَا تَبِيعُوا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ وَلَا تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ.
نافع سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: سونے کو سونے کے عوض برابری کے علاوہ اور کسی طریقہ سے نہ بیچو، اور ایک کو دوسرے سے زیادہ بھی نہ کرو، (اسی طرح) چاندی کو چاندی کے عوض برابر برابر بیچنے کے سوا اور کسی طریقہ سے نہ بیچو، اور نہ ہی ایک کو دوسرے سے زیادہ کرو۔ [مسند امام شافعی/ كتاب البيوع /حدیث: 1388]
تخریج الحدیث: «صحيح من قول عمر بن الخطاب اخرجه البيهقى 279/5 - وفى المعرفة السنن والآثار له (3373). وعبد الرزاق (14562) - والطحاوى فى شرح معانی الآثار: (70/4).»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1389
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ: الدِّينَارُ بِالدِّينَارِ، وَالدِّرْهَمُ بِالدِّرْهَمِ لَا فَضْلَ بَيْنَهُمَا هَذَا عَهْدُ نَبِيِّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْنَا وَعَهْدُنَا إِلَيْكُمْ.
مجاہد سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا، دینار دینار کے عوض اور درہم درہم کے عوض ہے ان میں زیادتی جائز نہیں، یہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ہم سے اور ہمارا تم سے عہد ہے۔ [مسند امام شافعی/ كتاب البيوع /حدیث: 1389]
تخریج الحدیث: «صحيح: أخرجه النسائي البيوع، باب بيع الدرهم بالدرهم (4572) والبيهقي: 5 / 279- وعبدالرزاق (14574).»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1390
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ بَاعَ سِقَايَةً مِنْ ذَهَبٍ أَوْ وَرِقٍ بِأَكْثَرَ مِنْ وَزْنِهَا، فَقَالَ لَهُ أَبُو الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ مِثْلِ هَذَا. فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: مَا أَرَى بِهَذَا بَأْسًا. فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ: مَنْ يَعْذِرُنِي مِنْ مُعَاوِيَةَ، أُخْبِرُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيُخْبِرُنِي عَنْ رَأْيِهِ لَا أُسَاكِنُكَ بِأَرْضٍ. أَخْرَجَ الْأَوَّلَ مِنْ كِتَابِ الْبُيُوعِ، وَإِلَى آخِرِ الرَّابِعِ مِنَ الْجُزْءِ الثَّانِي مِنَ اخْتِلَافِ الْحَدِيثِ، وَالْخَامِسَ فِي كِتَابِ اخْتِلَافِ مَالِكٍ وَالشَّافِعِيِّ، وَالسَّادِسَ وَالسَّابِعَ مِنْ كِتَابِ الرِّسَالَةِ.
عطاء بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے ایک دفعہ سونے یا چاندی کا برتن اس کے وزن سے زیادہ قیمت پر بیچا، تو ابودرداء رضی اللہ عنہ نے انہیں کہا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے منع کرتے ہوئے سنا ہے، معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا، میرے خیال میں اس میں کوئی حرج نہیں، تو ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا: معاویہ کے معاملہ میں کون میرا عذر مانتا ہے، میں اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سناتا ہوں اور وہ مجھے اپنی رائے بتاتا ہے، میں اس علاقے میں ہی نہیں رہوں گا، جس میں (اے معاویہ!) تم رہتے ہو۔ [مسند امام شافعی/ كتاب البيوع /حدیث: 1390]
تخریج الحدیث: «اسناده صحیح اخرجه النسائي، البيوع، باب بيع الذهب بالذهب (4576) - واحمد: 6 / 448 - والبيهقي: (280/5).»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
10. بَابٌ مِنْهُ فِي الذَّهَبِ وَالْحُبُوبِ
اسی میں سے سونے اور اناج کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1391
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ: أَنَّهُ الْتَمَسَ صَرْفًا بِمَائَةِ دِينَارٍ، قَالَ: فَدَعَانِي طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، فَتَرَاوَضْنَا حَتَّى اصْطَرَفَ مِنِّي، وَأَخَذَ الذَّهَبَ يُقَلِّبُهَا فِي يَدِهِ، ثُمَّ قَالَ: حَتَّى يَأْتِيَ خَازِنِي أَوْ حَتَّى تَأْتِيَ خَازِنَتِي مِنَ الْغَابَةِ، قَالَ الشَّافِعِيُّ: أَنَا شَكَكْتُ، وَعُمَرُ يَسْمَعُ، [ ص: 173 ] فَقَالَ: عُمَرُ: وَاللَّهِ لَا يُفَارِقُهُ حَتَّى يَأْخُذَ مِنْهُ، ثُمَّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ". قَالَ الشَّافِعِيُّ: قَرَأْتُهُ عَلَى مَالِكٍ صَحِيحًا لَا شَكَّ فِيهِ، ثُمَّ طَالَ عَلَيَّ الزَّمَانُ فَلَمْ أَحْفَظْ حِفْظًا فَشَكَكْتُ فِي خَازِنَتِي أَوْ خَازِنِي وَغَيْرِي يَقُولُ عَنْهُ: خَازِنِي.
مالک بن اوس بن حدثان سے روایت ہے کہ انہیں 100 دینار (درہم سے) بدلنے تھے، بیان کیا کہ مجھے طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ نے بلایا، ہم نے اپنے معاملہ کی بات چیت کی یہاں تک کہ میرا معاملہ طے ہو گیا، انہوں نے دینار لیے اور انہیں اپنے ہاتھ میں الٹنے پلٹنے لگے پھر فرمایا: ذرا میرے خزانچی مرد یا خزانچی عورت کو غابہ سے آ لینے دو۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا، یہ مجھے شک ہوا ہے۔ اور عمر رضی اللہ عنہ یہ باتیں سن رہے تھے، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! جب تک تم طلحہ سے روپیہ لے نہ لو جدا نہ ہونا۔ پھر فرمایا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سونا، سونے کے بدلے میں اگر نقد نہ ہو تو سود ہے، کھجور کھجور کے بدلے میں اگر نقد نہ ہو تو سود ہے، اور جو، جو کے بدلے میں اگر نقد نہ ہو تو سود ہو جاتا ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: میں نے یہ حدیث مالک رحمہ اللہ پر بغیر شک کے صحیح پڑھی، پھر لمبا وقت گزر گیا اور میں یاد نہ رکھ سکا لہذا مجھے خازنی اور خازنتہ میں شک ہو گیا۔ البتہ میرے علاوہ دوسرے راوی امام مالک رحمہ اللہ سے خازنی بیان کرتے ہیں۔ [مسند امام شافعی/ كتاب البيوع /حدیث: 1391]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري، البيوع، باب بيع الشعير بالشعير (2174) ومسلم، المساقاة، باب الصرف وبيع الذهب بالورق نقدا (1586).»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1392
أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ مَعْنَى حَدِيثِ مَالِكٍ. وَقَالَ:"حَتَّى يَأْتِيَ خَازِنِي"، قَالَ: فَحَفِظْتُ لَا شَكَّ فِيهِ.
ایک اور سند سے عمر رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مالک کی سند والی حدیث کی طرح روایت ہے، اور فرمایا: یہاں تک کہ میرا خزانچی آئے۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا، میں نے بغیر شک کے یاد کیا۔ [مسند امام شافعی/ كتاب البيوع /حدیث: 1392]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري، البيوع، باب ما يذكر في بيع الطعام والحكرة (2134) ومسلم، المساقاة، باب الصرف وبيع الذهب بالورق نقدا (1586).»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1393
أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ [ ص: 174 ] الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:"الذَّهَبُ بِالْوَرِقِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ".
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سونے کی چاندی کے عوض بیع اگر نقد نہ ہو تو سود ہے، دانوں کی دانوں کے بدلے میں بیع اگر نقد نہ ہو تو سود ہے۔ کھجور کی کھجور کے بدلے بیع اگر نقد نہ ہو تو سود ہے اور اگر جو کی بیع جو کے بدلے نقد نہ ہو تو سود ہے۔ [مسند امام شافعی/ كتاب البيوع /حدیث: 1393]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق برقم (1391، 1392).» ‏‏‏‏

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1394
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ، وَرَجُلٍ آخَرَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:"لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ وَلَا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ وَلَا الْبُرَّ بِالْبُرِّ وَلَا الشَّعِيرَ بِالشَّعِيرِ وَلَا الْمِلْحَ بِالْمِلْحِ إِلَّا سَوَاءً بِسَوَاءٍ عَيْنًا بِعَيْنٍ يَدًا بِيَدٍ، وَلَكِنْ بِيعُوا الذَّهَبَ بِالْوَرِقِ وَالْوَرِقَ بِالذَّهَبِ وَالْبُرَّ بِالشَّعِيرِ وَالشَّعِيرَ بِالْبُرِّ وَالتَّمْرَ بِالْمِلْحِ وَالْمِلْحَ بِالتَّمْرِ يَدًا بِيَدٍ كَيْفَ شِئْتُمْ". قَالَ:"وَنَقَصَ أَحَدُهُمَا التَّمْرَ أَوِ الْمِلْحَ". قَالَ أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ: فِي كِتَابِي: عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ثُمَّ ضَرَبَ عَلَيْهِ بِنَظَرٍ فِي كِتَابِ الشَّيْخِ، يَعْنِي: الرَّبِيعَ.
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سونے کو سونے کے عوض، چاندی کو چاندی کے عوض، دانوں کے بدلے دانوں کو، جو کے بدلے جو کو، اور نمک کے بدلے نمک کو برابر برابر اور معین کو معین کے عوض، اور نقد کو نقد کے علاوہ نہ بیچو، لیکن سونے کو چاندی کے بدلے، چاندی کو سونے کے عوض، گیہوں کو جو کے بدلے، جو کو گیہوں کے عوض کھجور کو نمک کے بدلے اور نمک کو کھجور کے عوض ہاتھوں ہاتھ جس طرح چاہو بیچو۔ فرمایا: مسلم بن یسار اور دوسرے آدمی میں سے ایک نے کھجور یا نمک کو کم کیا ہے۔ ابوالعباس نے کہا میری کتاب میں عن ایوب عن ابن سیرین ہے، پھر شیخ یعنی ربیع کی کتاب میں دیکھا۔ [مسند امام شافعی/ كتاب البيوع /حدیث: 1394]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث الآتي، برقم (1395).» ‏‏‏‏

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں