مسند امام شافعی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. بَابٌ فِي الْخِيَارِ فِي الْبَيْعِ
بیع میں اختیار کا بیان
حدیث نمبر: 1375
أَخْبَرَنَا الثِّقَةُ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ جَمِيلِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي الْوَضِئِ، قَالَ: كُنَّا فِي غَزَاةٍ فَبَاعَ صَاحِبٌ لَنَا فَرَسًا مِنْ رَجُلٍ، فَلَمَّا أَرَدْنَا الرَّحِيلَ خَاصَمَهُ إِلَى أَبِي بَرْزَةَ فَقَالَ أَبُو بَرْزَةَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:"الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا".
ابو الوضیء نے بیان کیا کہ ہم ایک جنگ میں تھے کہ ہمارے ایک ساتھی نے ایک آدمی سے گھوڑے کی بیع کی، جب ہم نے کوچ کا ارادہ کیا تو وہ تنازع کو ابو برزہ رضی اللہ عنہ کے پاس لے آیا تو ابو برزہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ ”دو خرید و فروخت کرنے والوں کو علیحدہ ہونے تک اختیار حاصل ہے۔“ [مسند امام شافعی/ كتاب البيوع /حدیث: 1375]
تخریج الحدیث: «اخرجه ابوداود، البيوع، باب في خيار المتبايعين (3475) - وابن ماجة، التجارات باب البيعان بالخيار ما لم يتفرقا (2182) - وصححه ابن الجارود (619).»
حدیث نمبر: 1376
أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: خَيَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا بَعْدَ الْبَيْعِ، فَقَالَ الرَّجُلُ: عَمَرَكَ اللَّهُ فَمَنْ أَنْتَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"امْرُؤٌ مِنْ قُرَيْشٍ". قَالَ: وَكَانَ أَبِي يَحْلِفُ مَا الْخِيَارُ إِلَّا بَعْدَ الْبَيْعِ. أَخْرَجَ الْأَوَّلَ وَالسَّنَدَ بِلَا مَتْنٍ بَعْدَهُ، فِي كِتَابِ اخْتِلَافِ مَالِكٍ وَالشَّافِعِيِّ، وَإِلَى آخِرِ السَّابِعِ مِنْ كِتَابِ الْبُيُوعِ، وَهِيَ أَوَّلُ مَا فِيهِ.
عبداللہ بن طاؤوس اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع (نافذ ہو جانے) کے بعد ایک آدمی کو اختیار دیا تو اس آدمی نے کہا: اللہ آپ کو لمبی زندگی دے، آپ کون ہیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قریش کا ایک آدمی۔“ عبداللہ نے کہا: میرا باپ قسم کھاتا تھا کہ بیع (نافذ ہو جانے) کے بعد اختیار ہے۔ [مسند امام شافعی/ كتاب البيوع /حدیث: 1376]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعیف لارساله اخرجه البيهقى 5/270 - وعبد الرزاق (14261)، (14270).»
7. بَابُ الرَّدِّ بِالْعَيْبِ وَأَنَّ الْخَرَاجَ بِالضَّمَانِ
عیب کی وجہ سے واپسی اور اس بات کا کہ فائدہ ضمانت کے ساتھ ہے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1377
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَنْ لَا أَتَّهِمُ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَخْلَدُ بْنُ خُفَافٍ، قَالَ: ابْتَعْتُ غُلَامًا فَاسْتَغْلَلْتُهُ، ثُمَّ ظَهَرْتُ مِنْهُ عَلَى عَيْبٍ، فَخَاصَمْتُ فِيهِ إِلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، فَقَضَى لِي بِرَدِّهِ، وَقَضَى عَلَيَّ بِرَدِّ غَلَّتِهِ، فَأَتَيْتُ عُرْوَةَ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: أَرُوحُ إِلَيْهِ الْعَشِيَّةَ، فَأُخْبِرُهُ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَخْبَرَتْنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى فِي مِثْلِ هَذَا أَنَّ الْخَرَاجَ بِالضَّمَانِ، فَعَجِلْتُ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَأَخْبَرْتُهُ مَا أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَالَ عُمَرُ: فَمَا أَيْسَرَ عَلَيَّ مِنْ قَضَاءِ قَضِيَّتِهِ، وَاللَّهُ يَعْلَمُ أَنِّي لَمْ أُرِدْ فِيهِ إِلَّا الْحَقَّ، فَبَلَغَنِي فِيهِ سُنَّةٌ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرُدُّ قَضَاءَ عُمَرَ وَأُنْفِذُ سُنَّةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَاحَ إِلَيْهِ عُرْوَةُ، فَقَضَى لِي أَنْ آخُذَ الْخَرَاجَ مِنَ الَّذِي قَضَى بِهِ عَلَيَّ لَهُ.
مخلد بن خفاف نے بیان کیا کہ میں نے غلام خریدا پھر اس سے نفع حاصل کیا، پھر اس میں کوئی عیب پایا، تو میں نے اس کا مقدمہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے ہاں درج کیا تو انہوں نے اسے واپس لوٹا دینے کا فیصلہ دیا، اور ساتھ ہی اس کا کمایا ہوا غلہ بھی دینے کا کہا۔ پھر میں عروہ رحمہ اللہ کے پاس آیا، جب ان کو بات بتلائی تو انہوں نے کہا: میں شام کے وقت ان کے پاس جاؤں گا اور انہیں بتاؤں گا کہ عائشہ رضی اللہ عنہما نے مجھے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح کے مقدمہ میں فیصلہ یہ دیا کہ آمدنی اس کو ملے گی جو نقصان برداشت کرنے کا ضامن اور جواب دہ ہے۔ میں جلدی سے عمر (بن عبدالعزیز) رحمہ اللہ کے پاس گیا اور انہیں وہ بات بتائی جو عروہ نے عائشہ رضی اللہ عنہا کے واسطہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کی۔ تو عمر رحمہ اللہ نے فرمایا: میرے لیے اپنا فیصلہ بدلنا کتنا آسان ہے۔ اللہ جانتا ہے میرا اس میں بھی حق کے سوا اور کوئی ارادہ نہ تھا، اب مجھے اس معاملہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ پہنچ چکا ہے، لہٰذا میں عمر کے فیصلے کو رد کر کے سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو نافذ کرتا ہوں، پھر شام کو عروہ رحمہ اللہ بھی ان کے ہاں تشریف لائے، تو انہوں نے میرے لیے یہ فیصلہ دیا کہ میں وہ آمدنی واپس لے لوں۔ [مسند امام شافعی/ كتاب البيوع /حدیث: 1377]
تخریج الحدیث: «اخرجه ابوداود، البيوع، باب فيمن اشترى عبدا فاستعمله ثم وجد به عيبا (3508)، (3509) والترمذى، البيوع، باب ماجاء فيمن اشترى العبد ويستغله ثم يجذبه عيبا (1285) و قال حسن صحيح. وابن ماجة، التجارات، باب الخراج بالضمان، (2242) - والنسائي (4495) وصححه ابن الجارود (627) والحاكم: 2/ 15 - وابن حبان .»
حدیث نمبر: 1378
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ مَخْلَدِ بْنِ خُفَافٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى أَنَّ الْخَرَاجَ بِالضَّمَانِ.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ خراج (آمدنی) ضمان (جواب دار بننے) کی وجہ سے ہے۔ [مسند امام شافعی/ كتاب البيوع /حدیث: 1378]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق برقم (1377).»
حدیث نمبر: 1379
أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:"الْخَرَاجُ بِالضَّمَانِ".
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فائدہ اس کو ملے گا جو نقصان برداشت کرنے کا ذمہ دار ہے۔“ [مسند امام شافعی/ كتاب البيوع /حدیث: 1379]
تخریج الحدیث: «اخرجه الترمذي، البيوع، باب ماجاء فيمن اشترى العبد ويستغله ثم يجد به عيباً، رقم: 1286 وقال حسن صحيح وابو داود، البيوع، باب فيمن اشترى عبدا فاستعمله ثم وجديه عيبا، رقم: 2243- وصححه ابن الجارود: 626 - والحاكم 2 / 14، 15 - وابن حبان.»
حدیث نمبر: 1380
قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي كِتَابِهِ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ: أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ اشْتَرَى مِنْ عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ جَارِيَةً فَأُخْبِرَ أَنَّ لَهَا زَوْجًا فَرَدَّهَا. أَخْرَجَ الْأَوَّلَ مِنْ كِتَابِ الرِّسَالَةِ، وَالثَّانِيَ وَالثَّالِثَ مِنَ الْجُزْءِ الثَّانِي مِنَ اخْتِلَافِ الْحَدِيثِ، وَالرَّابِعَ مِنْ كِتَابِ اخْتِلَافِ عَلِيٍّ وَعَبْدِ اللَّهِ مِمَّا لَمْ يَسْمَعِ الرَّبِيعُ مِنَ الشَّافِعِيِّ.
ابوسلمہ سے روایت ہے کہ عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ سے لونڈی خریدی تو انہیں بتایا گیا کہ اس کا خاوند بھی ہے تو انہوں نے اس کو واپس پھیر دیا۔ [مسند امام شافعی/ كتاب البيوع /حدیث: 1380]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعیف لانقطاعه، فان أبا سلمة بن عبدالرحمن لم يسمع من ابيه شيئًا: اخرجه البيهقي: 5/ 323 - وفى المعرفة السنن والآثار له (3619).»
8. بَابُ بَيْعِ الْمُصَرَّاةِ
تھنوں میں دودھ روکے ہوئے جانور کی فروخت کا بیان
حدیث نمبر: 1381
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:"لَا تُصَرُّوا الْإِبِلَ وَالْغَنَمَ، وَإِنِ ابْتَاعَهَا بَعْدَ ذَلِكَ فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ بَعْدَ أَنْ يَحْلُبَهَا، إِنْ رَضِيَهَا أَمْسَكَهَا، وَإِنْ سَخِطَهَا رَدَّهَا وَصَاعًا مِنْ تَمْرٍ".
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اونٹوں اور بکریوں کا دودھ نہ روکو، اور اگر کسی نے روکے ہوئے دودھ والا جانور خرید لیا تو اس کو اختیار ہے دودھ دوہنے کے بعد اگر پسند آجائے تو رکھ لے اور اگر ناپسند ہو تو پھیر دے اور ایک صاع کھجور کا بھی ساتھ دے۔“ [مسند امام شافعی/ كتاب البيوع /حدیث: 1381]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخارى البيوع، باب النهى للباع أن لا يحفل الابل والبقر والغنم وكل محفلة (2150) ومسلم، البيوع، باب تحريم بيع الرجل على بيع اخيه، وسومه ...... الخ (1515).»
حدیث نمبر: 1382
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"لَا تُصَرُّوا الْإِبِلَ وَالْغَنَمَ، فَمَنِ ابْتَاعَهَا بَعْدَ ذَلِكَ فَهُوَ بِخَيْرِ [ ص: 169 ] النَّظَرَيْنِ بَعْدَ أَنْ يَحْلِبَهَا، إِنْ رَضِيَهَا أَمْسَكَهَا، وَإِنْ سَخِطَهَا رَدَّهَا وَصَاعًا مِنْ تَمْرٍ".
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اونٹوں اور بکریوں کا دودھ نہ روکو، اور جس نے روکے ہوئے دودھ والا جانور خرید لیا تو اس کو اختیار حاصل ہے دودھ دوہنے کے بعد اگر پسند ہو تو رکھ لے اور اگر ناپسند ہو تو واپس پھیر کر ساتھ ایک صاع کھجور بھی دے دے۔“ [مسند امام شافعی/ كتاب البيوع /حدیث: 1382]
تخریج الحدیث: «صحيح اخرجه النسائي، البيوع، باب النهي عن المصراة وهو ان يربط اخلاف الناقة او الشاة...... الخ (4492) - واحمد: (2/ 242).»
حدیث نمبر: 1383
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:"رَدَّهَا وَصَاعًا مِنْ تَمْرٍ لَا سَمْرَاءَ". أَخْرَجَ الثَّلَاثَةَ الْأَحَادِيثَ مِنَ الْجُزْءِ الثَّانِي مِنَ اخْتِلَافِ الْحَدِيثِ.
ایک اور سند سے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سابقہ حدیث کی مثل مروی ہے۔ البتہ اس میں یہ الفاظ ہیں کہ فرمایا: ”اس کو واپس پھیر دے ایک صاع کھجور کے ساتھ نہ کہ گیہوں کے ساتھ۔“ [مسند امام شافعی/ كتاب البيوع /حدیث: 1383]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم البيوع، باب حكم بيع المصراة (1524).»
9. بَابُ الْمُصَارَفَةِ
سکوں کے تبادلے کا بیان
حدیث نمبر: 1384
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:"لَا تَبِيعُوا الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ وَلَا تُشِفُّوا بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ، لَا تَبِيعُوا الْوَرِقَ بِالْوَرِقِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ يَدًا بِيَدٍ وَلَا تُشِفُّوا [ ص: 170 ] بَعْضَهُ عَلَى بَعْضٍ، وَلَا تَبِيعُوا مِنْهَا غَائِبًا بِنَاجِزٍ".
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سونے کو سونے کے عوض برابری کے سوا اور طریقہ سے نہ بیچو، اور ایک کو دوسرے سے زیادہ بھی نہ کرو، نہ چاندی کو چاندی کے بدلے برابری کے سوا اور طریقہ سے بیچو، ہاں نقد و نقد، ہاتھوں ہاتھ اور نہ ایک کو دوسرے سے زیادہ کرو، اور نہ ہی ان میں کسی غیر موجود چیز کو موجود کے بدلہ میں بیچو۔“ [مسند امام شافعی/ كتاب البيوع /حدیث: 1384]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري، البيوع، باب بيع الفضة بالفضة (2177) - ومسلم، البيوع، باب الربا (1584).»