🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
31. بَابٌ في الصَّلاَةِ عَلَى أَهْلِ الْقِبْلَةِ
باب: اہل قبلہ کی نماز جنازہ ادا کرنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1523
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: لَمَّا تُوُفِّيَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ، جَاءَ ابْنُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَعْطِنِي قَمِيصَكَ أُكَفِّنْهُ فِيهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" آذِنُونِي بِهِ"، فَلَمَّا أَرَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَيْهِ، قَالَ لَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: مَا ذَاكَ لَكَ، فَصَلَّى عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَا بَيْنَ خِيَرَتَيْنِ، اسْتَغْفِرْ لَهُمْ، أَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَلا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا وَلا تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ سورة التوبة آية 84.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب (منافقین کے سردار) عبداللہ بن ابی کا انتقال ہو گیا تو اس کے (مسلمان) بیٹے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے اپنا کرتہ دے دیجئیے، میں اس میں اپنے والد کو کفناؤں گا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اس کا جنازہ تیار کر کے) مجھے اطلاع دینا، جب آپ نے اس کی نماز جنازہ پڑھنی چاہی تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے آپ سے کہا: یہ آپ کے لیے مناسب نہیں ہے، بہرحال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر نماز جنازہ پڑھی، اور عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: مجھے دو باتوں میں اختیار دیا گیا ہے «استغفر لهم أو لا تستغفر لهم» (سورة التوبة: 80) تم ان کے لیے مغفرت طلب کرو یا نہ کرو اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی: «ولا تصل على أحد منهم مات أبدا ولا تقم على قبره» (سورة التوبة: 84) منافقوں میں سے جو کوئی مر جائے تو نہ اس کی نماز جنازہ پڑھیں اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہوں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1523]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب عبداللہ بن ابی مرا تو اس کے بیٹے نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے اپنی قمیص عنایت فرمایئے، میں اس (قمیص) میں اسے کفناؤں گا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے اس (کا جنازہ تیار ہونے) کی اطلاع دینا۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا جنازہ پڑھنے کا ارادہ فرمایا تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ آپ کے لائق نہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے دو چیزوں میں سے ایک کے انتخاب کا اختیار ہے (کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ﴾ [سورة التوبة: 80] آپ ان کے لیے بخشش مانگیں یا نہ مانگیں (برابر ہے)۔ تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿وَلَا تُصَلِّ عَلَىٰ أَحَدٍ مِّنْهُم مَّاتَ أَبَدًا وَلَا تَقُمْ عَلَىٰ قَبْرِهِ﴾ [سورة التوبة: 84] (اے نبی!) ان میں سے جو مر جائے آپ اس کی نماز (جنازہ) ہرگز نہ پڑھیں اور نہ کبھی اس کی قبر پر کھڑے ہوں۔ امام ابن ماجہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس حدیث سے یہ مسئلہ بھی سمجھ میں آتا ہے کہ کسی زندہ شخص کا قبر پر کھڑے ہونا (اور میت کے لیے دعا کرنا) نیکی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1523]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الجنائز22 (1269)، تفسیرالتوبہ 12 (4670)، 13 (4672)، اللباس 8 (5796)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 2 (2400)، صفات المنافقین 3 (2774)، سنن الترمذی/تفسیر التوبة (3098)، سنن النسائی/الجنائز 40 (1901)، (تحفة الأشراف: 8139)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/18) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1524
حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ خَالِدٍ الْوَاسِطِيُّ ، وَسَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: مَاتَ رَأْسُ الْمُنَافِقِينَ بِالْمَدِينَةِ، وَأَوْصَى أَنْ يُصَلِّيَ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنْ يُكَفِّنَهُ فِي قَمِيصِهِ، فَصَلَّى عَلَيْهِ وَكَفَّنَهُ فِي قَمِيصِهِ، وَقَامَ عَلَى قَبْرِهِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ وَلا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا وَلا تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ سورة التوبة آية 84.
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ منافقین کا سردار (عبداللہ بن ابی) مدینہ میں مر گیا، اس نے وصیت کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی نماز جنازہ پڑھیں، اور اس کو اپنی قمیص میں کفنائیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھی، اور اسے اپنے کرتے میں کفنایا، اور اس کی قبر پہ کھڑے ہوئے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی: «ولا تصل على أحد منهم مات أبدا ولا تقم على قبره» منافقوں میں سے جو کوئی مر جائے تو اس کی نماز جنازہ نہ پڑھیں، اور اس کی قبر پہ مت کھڑے ہوں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1524]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: مدینہ میں منافقوں کا سردار (عبداللہ بن ابی) مر گیا، اس نے (مرنے سے پہلے) وصیت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کی نمازِ جنازہ پڑھائیں اور اپنی قمیص مبارک کا کفن پہنائیں، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نمازِ جنازہ پڑھی، اپنی قمیص میں اسے کفنایا اور اس کی قبر پر (اس کے حق میں دعا کرنے کے لیے) کھڑے ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی: ﴿وَلَا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا وَلَا تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ﴾ [سورة التوبة: 84] (اے نبی!) ان میں سے جو مر جائے آپ ہرگز اس کی نماز (جنازہ) نہ پڑھیں اور نہ (کبھی) اس کی قبر پر کھڑے ہوں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1524]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2355) (منکر)» ‏‏‏‏ (ملاحظہ ہو: احکام الجنائز: 160، اس حدیث میں وصیت کا ذکر منکر ہے)
قال الشيخ الألباني: منكر بذكر الوصية
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
مجالد: ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 433

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1525
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ نَبْهَانَ ، حَدَّثَنَا عُتْبَةُ بْنُ يَقْظَانَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَلُّوا عَلَى كُلِّ مَيِّتٍ، وَجَاهِدُوا مَعَ كُلِّ أَمِيرٍ".
واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر میت کی نماز پڑھو، اور ہر امیر (حاکم) کے ساتھ (مل کر) جہاد کرو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1525]
حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر میت کا جنازہ پڑھو اور ہر امیر کی قیادت میں جہاد کرو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1525]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11750، ومصباح الزجاجة: 542) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس سند میں تین روای: عتبہ بن یقظان ضعیف، حارث بن نبہان اور ابوسعید مصلوب فی الزندقہ دونوں متروک ہیں، ملاحظہ ہو: الإرواء: 2؍309)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
ضعيف
فيه علل منھا أبو سعيد المصلوب وھو كذاب
وللحديث شواهد ضعيفة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 433

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1526
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ " أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُرِحَ فَآذَتْهُ الْجِرَاحَةُ، فَدَبَّ إِلَى مَشَاقِصَهِ، فَذَبَحَ بِهَا نَفْسَهُ، فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"، قَالَ: وَكَانَ ذَلِكَ أَدَبًا مِنْهُ.
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک شخص زخمی ہوا، اور زخم نے اسے کافی تکلیف پہنچائی، تو وہ آہستہ آہستہ تیر کی انی کے پاس گیا، اور اس سے اپنے کو ذبح کر لیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھی تاکہ اس سے دوسروں کو نصیحت ہو ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1526]
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں میں سے ایک صاحب زخمی ہو گئے، انہیں زخم سے تکلیف ہوئی، وہ رینگ کر تیر کے پھل تک پہنچا اور اس کے ذریعے سے اپنے آپ کو ذبح کر لیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ نہ پڑھی۔ جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تنبیہ کے طور پر ایسا کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1526]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/الجنائز 51 (3185)، سنن الترمذی/الجنائز 68 (1068)، (تحفة الأشراف: 2174)، وقد أخر جہ: صحیح مسلم/الجنائز 36 (978)، سنن النسائی/الجنائز 68 (1963)، مسند احمد (5/87، 92، 94، 96، 97) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ خود کشی کرنے والے کی نماز جنازہ امام اور کوئی مقتدیٰ اور پیشوا نہ پڑھے، لیکن دوسرے عام لوگ پڑھ لیں، واضح رہے کہ ایک قرض دار تھا اور اس کا انتقال ہو گیا، تو اس کی بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز جنازہ نہیں پڑھائی تھی، لیکن لوگوں کو حکم دیا تھا کہ وہ اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھ لیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
32. بَابُ: مَا جَاءَ فِي الصَّلاَةِ عَلَى الْقَبْرِ
باب: (مردہ دفن ہو جائے تو) قبر پر نماز جنازہ پڑھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1527
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ امْرَأَةً سَوْدَاءَ كَانَتْ تَقُمُّ الْمَسْجِدَ فَفَقَدَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَ عَنْهَا بَعْدَ أَيَّامٍ، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّهَا مَاتَتْ، قَالَ:" فَهَلَّا آذَنْتُمُونِي؟ فَأَتَى قَبْرَهَا فَصَلَّى عَلَيْهَا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک کالی عورت مسجد میں جھاڑو دیا کرتی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نہیں دیکھا، کچھ روز کے بعد اس کے متعلق پوچھا تو آپ سے عرض کیا گیا کہ اس کا انتقال ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر مجھے خبر کیوں نہ دی، اس کے بعد آپ اس کی قبر پہ آئے، اور اس پر نماز جنازہ پڑھی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1527]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک سیاہ فام خاتون مسجد کی صفائی کیا کرتی تھیں، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نظر نہ آئیں تو چند دن بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے متعلق دریافت فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا کہ وہ فوت ہو گئی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے مجھے اطلاع کیوں نہ دی؟ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کی قبر پر تشریف لے گئے اور نماز جنازہ ادا کی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1527]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الصلاة 74 (458)، صحیح مسلم/الجنائز23 (956)، سنن ابی داود/الجنائز 61 (3203)، (تحفة الأشراف: 14650)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/353) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1528
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا خَارِجَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ ثَابِتٍ ، وَكَانَ أَكْبَرَ مِنْ زَيْدٍ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا وَرَدَ الْبَقِيعَ فَإِذَا هُوَ بِقَبْرٍ جَدِيدٍ، فَسَأَلَ عَنْهُ، فَقَالُوا: فُلَانَةُ، قَالَ: فَعَرَفَهَا، وَقَالَ:" أَلَا آذَنْتُمُونِي بِهَا؟"، قَالُوا: كُنْتَ قَائِلًا صَائِمًا فَكَرِهْنَا أَنْ نُؤْذِيَكَ، قَالَ:" فَلَا تَفْعَلُوا لَا أَعْرِفَنَّ مَا مَاتَ فِيكُمْ مَيِّتٌ مَا كُنْتُ بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ إِلَّا آذَنْتُمُونِي بِهِ، فَإِنَّ صَلَاتِي عَلَيْهِ لَهُ رَحْمَةٌ"، ثُمَّ أَتَى الْقَبْرَ، فَصَفَفْنَا خَلْفَهُ فَكَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعًا.
یزید بن ثابت رضی اللہ عنہ (وہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے بڑے بھائی) کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، جب آپ مقبرہ بقیع پہنچے تو وہاں ایک نئی قبر دیکھی، آپ نے اس کے بارے میں پوچھا تو لوگوں نے کہا: فلاں عورت کی ہے، آپ نے اس کو پہچان لیا اور فرمایا: تم لوگوں نے اس کی خبر مجھ کو کیوں نہ دی؟، لوگوں نے کہا: آپ دوپہر میں آرام فرما رہے تھے، اور روزے سے تھے، ہم نے آپ کو تکلیف دینا مناسب نہ سمجھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اب ایسا نہ کرنا، آئندہ مجھے یہ معلوم نہ ہونے پائے کہ پھر تم لوگوں نے ایسا کیا ہے، جب تم لوگوں میں سے کوئی شخص مر جائے تو جب تک میں تم میں زندہ ہوں مجھے خبر کرتے رہو، اس لیے کہ اس پر میری نماز اس کے لیے رحمت ہے، پھر آپ اس کی قبر کے پاس آئے، اور ہم نے آپ کے پیچھے صف باندھی، آپ نے اس پر چار تکبیریں کہیں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1528]
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے بڑے بھائی حضرت یزید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ باہر گئے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بقیع (کے قبرستان) میں پہنچے تو آپ کو ایک نئی قبر نظر آئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں دریافت فرمایا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: فلاں خاتون ہے (یہ ان کی قبر ہے)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پہچان لیا، فرمایا: تم نے مجھے اس کی (وفات کی) اطلاع کیوں نہ دی؟ انہوں نے کہا: آپ دوپہر کو آرام فرما رہے تھے اور آپ روزے سے تھے، تو ہمیں یہ بات اچھی نہ لگی کہ آپ کو تکلیف دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یوں نہ کیا کرو۔ مجھے (تم سے دوبارہ ایسے عمل کی) ہرگز خبر نہ ملے۔ جب تک میں تمہارے درمیان (زندہ) موجود ہوں۔ تم میں سے جو کوئی بھی فوت ہو، مجھے ضرور اطلاع کیا کرو کیونکہ میری دعا ان کے لیے رحمت کا باعث ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبر پر تشریف لے گئے ہم نے آپ کے پیچھے صف بنالی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر چار تکبیریں کہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1528]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الجنائز 94 (2024)، (تحفة الأشراف: 11824)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/388) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی اس کی نماز جنازہ پڑھی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1529
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْمُهَاجِرِ بْنِ قُنْفُذٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ امْرَأَةً سَوْدَاءَ مَاتَتْ، وَلَمْ يُؤْذَنْ بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأُخْبِرَ بِذَلِكَ، فَقَالَ:" هَلَّا آذَنْتُمُونِي بِهَا؟"، ثُمَّ قَالَ لِأَصْحَابِهِ:" صُفُّوا عَلَيْهَا فَصَلَّى عَلَيْهَا".
عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک کالی عورت کا انتقال ہو گیا، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے انتقال کی خبر نہیں دی گئی، پھر جب آپ کو خبر ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگوں نے مجھے اس کے انتقال کی خبر کیوں نہیں دی؟ اس کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے کہا: اس پہ صف باندھو، پھر آپ نے اس عورت کی نماز جنازہ پڑھی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1529]
حضرت عبداللہ بن عامر رحمۃ اللہ علیہ اپنے والد عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا: ایک سیاہ فام خاتون کی وفات ہوگئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع نہ دی گئی۔ (بعد میں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس (کی وفات) کا علم ہوا تو فرمایا: تم نے مجھے اس کی وفات کی اطلاع کیوں نہ دی؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا: اس (کی نماز جنازہ) کے لیے صفیں بناؤ۔ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا جنازہ پڑھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1529]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5040، ومصباح الزجاجة: 543)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/444) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1530
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق الشَّيْبَانِيِّ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: مَاتَ رَجُلٌ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ، فَدَفَنُوهُ بِاللَّيْلِ، فَلَمَّا أَصْبَحَ أَعْلَمُوهُ، فَقَالَ:" مَا مَنَعَكُمْ أَنْ تُعْلِمُونِي"، قَالُوا: كَانَ اللَّيْلُ، وَكَانَتِ الظُّلْمَةُ فَكَرِهْنَا أَنْ نَشُقَّ عَلَيْكَ، فَأَتَى قَبْرَهُ فَصَلَّى عَلَيْهِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک ایسے شخص کا انتقال ہو گیا، جس کی عیادت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے تھے، لوگوں نے اسے رات میں دفنا دیا، جب صبح ہوئی اور لوگوں نے (اس کی موت کے بارے میں) آپ کو بتایا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگوں نے مجھے اطلاع کیوں نہیں دی؟ لوگوں نے کہا کہ رات تھی اور تاریکی تھی، ہم نے آپ کو تکلیف دینا اچھا نہیں سمجھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی قبر کے پاس آئے، اور اس کی نماز جنازہ پڑھی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1530]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ایک آدمی فوت ہو گیا، (وفات سے پہلے بیماری کے ایام میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی عیادت کیا کرتے تھے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اسے رات ہی کو دفن کر دیا، جب صبح ہوئی تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے خبر کرنے میں تمہیں کیا مانع تھا؟ انہوں نے کہا: رات کا وقت تھا اور اندھیرا بھی تھا تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف دینا پسند نہ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کی قبر پر جا کر نمازِ جنازہ ادا کی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1530]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 161 (857)، الجنائز5 (1247)، 54 (1321)، 55 (1322)، 59 (1326)، 66 (1336)، 69 (1340)، صحیح مسلم/الجنائز 23 (954)، سنن ابی داود/الجنائز 58 (3196)، سنن الترمذی/الجنائز 47 (1037)، سنن النسائی/الجنائز94 (2025، 2026)، (تحفة الأشراف: 5766)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/224، 238، 338) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1531
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَلَّى عَلَى قَبْرٍ بَعْدَ مَا قُبِرَ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قبر پر دفن کیے جانے کے بعد اس میت کی نماز جنازہ پڑھی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1531]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قبر پر میت کی تدفین کے بعد نمازِ جنازہ پڑھی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1531]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الجنائز 23 (955)، (تحفة الأشراف: 283)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/406، 3/130) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1532
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مِهْرَانُ بْنُ أَبِي عُمَرَ ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَلَّى عَلَى مَيِّتٍ بَعْدَ مَا دُفِنَ".
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک میت کی اس کے دفن کر دئیے جانے کے بعد نماز جنازہ پڑھی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1532]
حضرت سلیمان بن بریدہ رحمہ اللہ اپنے والد بریدہ بن حصیب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک میت کا جنازہ اس کے دفن کیے جانے کے بعد ادا کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1532]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1943، ومصباح الزجاجة: 544) (صحیح)» ‏‏‏‏ (سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے کیونکہ ابو سنان مہران، اور محمد بن حمید متکلم فیہ راوی ہیں)
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں