🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
16. بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْمَشْيِ أَمَامَ الْجِنَازَةِ
باب: جنازہ کے آگے چلنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1483
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَمَّالُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ ، أَنْبَأَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ الْأَيْلِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ يَمْشُونَ أَمَامَ الْجِنَازَةِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم جنازہ کے آگے چلتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1483]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہم جنازے کے آگے چلتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1483]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الجنائز 26 (1010)، (تحفة الأشراف: 1562) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1484
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي مَاجِدَةَ الْحَنَفِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْجِنَازَةُ مَتْبُوعَةٌ، وَلَيْسَتْ بِتَابِعَةٍ، لَيْسَ مِنْهَا مَنْ تَقَدَّمَهَا".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنازہ کے پیچھے چلنا چاہیئے، اس کے آگے نہیں چلنا چاہیئے، جو کوئی جنازہ کے آگے ہو وہ اس کے ساتھ نہیں ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1484]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنازے کے پیچھے چلا جاتا ہے، جنازہ کسی کے پیچھے نہیں چلتا، جو اس سے آگے چلے وہ اس کے ساتھ نہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1484]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/الجنائز50 (3184)، سنن الترمذی/الجنائز 27 (1011)، (تحفة الأشراف: 9637)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/378، 394، 415، 419، 432) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کی سند میں ابو ماجدہ حنفی ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (3184) ترمذي (1011)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 431

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
17. بَابُ: مَا جَاءَ فِي النَّهْيِ عَنِ التَّسَلُّبِ مَعَ الْجِنَازَةِ
باب: جنازہ کے ساتھ ماتمی لباس پہننے کی ممانعت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1485
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَزَوَّرِ ، عَنْ نُفَيْعٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، وأبى برزة قَالَا: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جِنَازَةٍ، فَرَأَى قَوْمًا قَدْ طَرَحُوا أَرْدِيَتَهُمْ، يَمْشُونَ فِي قُمُصٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَبِفِعْلِ الْجَاهِلِيَّةِ تَأْخُذُونَ أَوْ بِصُنْعِ الْجَاهِلِيَّةِ تَشَبَّهُونَ، لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَدْعُوَ عَلَيْكُمْ دَعْوَةً تَرْجِعُونَ فِي غَيْرِ صُوَرِكُمْ"، قَالَ: فَأَخَذُوا أَرْدِيَتَهُمْ، وَلَمْ يَعُودُوا لِذَلِكَ.
عمران بن حصین اور ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازہ میں نکلے، تو آپ نے کچھ لوگوں کو دیکھا کہ انہوں نے اپنی چادریں پھینک دیں، اور صرف قمیصیں پہنے ہوئے چل رہے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم لوگ دور جاہلیت کا طریقہ اپناتے ہو یا جاہلیت کے طریقہ کی مشابہت کرتے ہو؟ میں نے ارادہ کیا کہ تم پر ایسی بد دعا کروں کہ تم اپنی صورتوں کے علاوہ دوسری صورتوں میں اپنے گھروں کو لوٹو یہ سنتے ہی ان لوگوں نے اپنی چادریں لے لیں، اور دوبارہ ایسا نہ کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1485]
حضرت عمران بن حصین اور حضرت ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، ان دونوں نے کہا: ایک جنازے میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ کچھ افراد نے (اوڑھنے والی) چادریں اتار پھینکی ہیں اور صرف قمیصیں پہن کر چل رہے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم جاہلیت کا عمل اختیار کر رہے ہو؟ کیا تم جاہلیت کے کام سے مشابہت اختیار کرتے ہو؟ میرا جی چاہا تھا کہ تمہیں ایسی بددعا دوں کہ تمہاری صورتیں تبدیل ہو جائیں۔ چنانچہ انہوں نے اپنی چادریں اوڑھ لیں اور دوبارہ یہ غلطی نہیں کی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1485]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10864، 11602، ومصباح الزجاجة: 528) (موضوع)» ‏‏‏‏ (اس کی سند میں نفیع بن حارث متروک الحدیث اور متہم بالوضع ہے، نیز علی بن الحزور متروک و منکر الحدیث ہے، نیز ملاحظہ ہو: المشکاة: 1750)
قال الشيخ الألباني: موضوع
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده موضوع
أبو داود نفيع الأعمي: متروك وقد كذبه ابن معين
وتلميذه علي بن الحزور متروك شديد التشيع (تقريب: 4703)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 431

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
18. بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْجِنَازَةِ لاَ تُؤَخَّرُ إِذَا حَضَرَتْ وَلاَ تُتْبَعُ بِنَارٍ
باب: جنازہ تیار ہو تو (اس کے دفنانے میں) دیر نہ کرنے اور جنازہ کے ساتھ آگ نہ لے جانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1486
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْجُهَنِيُّ ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عُمَرَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا تُؤَخِّرُوا الْجِنَازَةَ إِذَا حَضَرَتْ".
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب جنازہ تیار ہو تو اس (کے دفنانے) میں دیر نہ کرو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1486]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب جنازہ تیار ہو جائے تو تاخیر نہ کرو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1486]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الصلاة 127 (171)، (تحفة الأشراف: 10251)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/105، 10251) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس میں سعید بن عبد اللہ اور ان کے شیخ محمد بن عمر بن علی مجہول ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1487
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ ، أَنْبَأَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى الْفُضَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ أَبِي حَرِيزٍ ، أَنَّ أَبَا بُرْدَةَ حَدَّثَهُ، قَالَ: أَوْصَى أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ حِينَ حَضَرَهُ الْمَوْتُ، فَقَالَ" لَا تُتْبِعُونِي بِمِجْمَرٍ، قَالُوا لَهُ: أَوَ سَمِعْتَ فِيهِ شَيْئًا؟، قَالَ: نَعَمْ، مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ابوبردہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت ہوا، تو انہوں نے وصیت کی کہ میرے جنازے کے ساتھ آگ نہ لے جانا، لوگوں نے پوچھا: کیا اس سلسلے میں آپ نے کچھ سنا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1487]
حضرت ابو بردہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت آیا تو انہوں نے وصیت کرتے ہوئے فرمایا: میرے ساتھ (خوشبو سلگانے والی) انگیٹھی نہ لے جانا۔ حاضرین نے کہا: کیا آپ نے اس مسئلہ میں کوئی حدیث سنی ہے؟ فرمایا: ہاں، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1487]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9110، ومصباح الزجاجة: 529)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/397) (حسن)» ‏‏‏‏ (شواہد کی بناء پر یہ حدیث حسن ہے، ورنہ اس کی سند میں ابو حریز عبد اللہ بن حسین ہیں، جن کے بارے میں ابن حجر نے «صدوق یخطی» کہا ہے)
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
أبوحريز عبد اللّٰه بن الحسين: ضعيف يعتبر به (التحرير: 3276) ضعفه أحمد والجمھور و قال الھيثمي: وضعفه جمھور الأئمة (مجمع الزوائد243/4)
و قالت أسماء بنت أبي بكر رضي اللّٰه عنھما لأھلھا: ’’ أجمروا ثيابي إذا متّ،ثم حنطوني ولا تذروا علي كفني حنوطًا،ولا تتبعوني بنار‘‘ (الموطأ للإمام مالك،رواية أبي مصعب الزھري 1/ 400ح 1014،و سنده صحيح وصححه الزيلعي الحنفي في نصب الراية 2/ 264)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 431

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
19. بَابُ: مَا جَاءَ فِيمَنْ صَلَّى عَلَيْهِ جَمَاعَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ
باب: جس شخص پر مسلمانوں کی ایک جماعت نے نماز جنازہ پڑھی اس کی فضیلت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1488
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، أَنْبَأَنَا شَيْبَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ صَلَّى عَلَيْهِ مِائَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ غُفِرَ لَهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کی نماز جنازہ سو مسلمانوں نے پڑھی اسے بخش دیا جائے گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1488]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کا جنازہ سو مسلمان پڑھیں اسے بخش دیا جائے گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1488]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12412، ومصباح الزجاجة: 530) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1489
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سُلَيْمٍ ، حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ زِيَادٍ الْخَرَّاطُ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: هَلَكَ ابْنٌ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ لِي: يَا كُرَيْبُ، قُمْ فَانْظُرْ: هَلِ اجْتَمَعَ لِابْنِي أَحَدٌ؟، فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ: وَيْحَكَ، كَمْ تَرَاهُمْ، أَرْبَعِينَ؟، قُلْتُ: لَا، بَلْ هُمْ أَكْثَرُ، قَالَ: فَاخْرُجُوا بِابْنِي، فَأَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَا مِنْ أَرْبَعِينَ مِنْ مُؤْمِنٍ يَشْفَعُونَ لِمُؤْمِنٍ إِلَّا شَفَّعَهُمُ اللَّهُ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام کریب کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے ایک بیٹے کا انتقال ہو گیا، تو انہوں نے مجھ سے کہا: اے کریب! جاؤ، دیکھو میرے بیٹے کے جنازے کے لیے کچھ لوگ جمع ہوئے ہیں؟ میں نے کہا: جی ہاں، انہوں نے کہا: تم پر افسوس ہے، ان کی تعداد کتنی سمجھتے ہو؟ کیا وہ چالیس ہیں؟ میں نے کہا: نہیں، بلکہ وہ اس سے زیادہ ہیں، تو انہوں نے کہا: تو پھر میرے بیٹے کو نکالو، میں قسم کھاتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: اگر چالیس ۱؎ مومن کسی مومن کے لیے شفاعت کریں تو اللہ تعالیٰ ان کی شفاعت کو قبول کرے گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1489]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام کریب رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا ایک بیٹا فوت ہو گیا۔ انہوں نے مجھے فرمایا: کریب! اٹھ کر دیکھو! کیا میرے بیٹے (کا جنازہ پڑھنے) کے لیے کوئی آیا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ انہوں نے فرمایا: تیرا بھلا ہو، تیرے خیال میں کتنے افراد ہیں؟ چالیس تو ہوں گے؟ میں نے کہا: نہیں، بلکہ اس سے بھی زیادہ ہیں۔ انہوں نے فرمایا: تو میرے بیٹے کو (نماز جنازہ کے لیے) لے چلو۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: جو چالیس مومن کسی مومن کے حق میں دعا کریں اللہ ان کی سفارش قبول فرما لیتا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1489]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الجنائز 19 (948)، سنن ابی داود/الجنائز 45 (3170)، (تحفة الأشراف: 6354)، مسند احمد (1/277) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اوپر کی حدیث میں سو مسلمان کا ذکر ہے، اور اس حدیث میں چالیس کا، بظاہر دونوں میں تعارض ہے، تطبیق کی صورت یہ ہے کہ پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سو کی تعداد بتائی گئی تھی، پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر مزید احسان فرمایا، اور اس تعداد میں تخفیف فرما دی، اور سو سے گھٹا کر چالیس کر دی، نیز چالیس کا عدد مغفرت کے لئے کافی ہے، اب اگر سو ہوں گے تو اور زیادہ مغفرت کی امید ہے، «ان شاء اللہ العزیز» ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
بكر بن سليم ضعيف ضعفه الجمھور و حديث مسلم (948) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 431

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1490
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِيِّ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ هُبَيْرَةَ الشَّامِيِّ ، وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ قَالَ: كَانَ إِذَا أُتِيَ بِجِنَازَةٍ فَتَقَالَّ: مَنْ تَبِعَهَا؟ جَزَّأَهُمْ ثَلَاثَةَ صُفُوفٍ، ثُمَّ صَلَّى عَلَيْهَا، وَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَا صَفَّ صُفُوفٌ ثَلَاثَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ عَلَى مَيِّتٍ إِلَّا أَوْجَبَ".
مالک بن ہبیرہ شامی رضی اللہ عنہ (انہیں صحبت رسول کا شرف حاصل تھا) کہتے ہیں کہ جب ان کے پاس کوئی جنازہ لایا جاتا، اور وہ اس کے ساتھ آنے والوں کی تعداد کم محسوس کرتے تو انہیں تین صفوں میں تقسیم کر دیتے، پھر اس کی نماز جنازہ پڑھتے اور کہتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: جس کسی میت پہ مسلمانوں کی تین صفوں نے صف بندی کی، تو اس کے لیے جنت واجب ہو گئی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1490]
حضرت مالک بن ہبیرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (ان کی موجودگی میں) جب کوئی جنازہ لایا جاتا اور وہ محسوس کرتے کہ اس کے ساتھ آنے والوں کی تعداد کم ہے تو انہیں تین صفوں میں تقسیم کر دیتے، پھر جنازہ پڑھاتے اور فرماتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس میت کا جنازہ مسلمانوں کی تین صفیں ادا کریں، اس کے لیے (مغفرت یا جنت) واجب ہو جاتی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1490]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/الجنائز 43 (3166)، سنن الترمذی/الجنائز40 (1028)، (تحفة الأشراف: 11208)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/79) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس میں محمد بن اسحاق مدلس ہیں، اور عنعنہ سے روایت کی ہے، تراجع الألبانی: رقم: 363)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (3166) ترمذي (1028)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 431

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
20. بَابُ: مَا جَاءَ فِي الثَّنَاءِ عَلَى الْجِنَازَةِ
باب: میت کی مدح و ثنا کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1491
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: مُرَّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجِنَازَةٍ، فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا خَيْرًا، فَقَالَ:" وَجَبَتْ"، ثُمَّ مُرَّ عَلَيْهِ بِجِنَازَةٍ، فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا شَرًّا، فَقَالَ:" وَجَبَتْ"، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قُلْتَ لِهَذِهِ: وَجَبَتْ، وَلِهَذِهِ: وَجَبَتْ، فَقَالَ:" شَهَادَةُ الْقَوْمِ وَالْمُؤْمِنُونَ شُهُودُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے ایک جنازہ لے جایا گیا، لوگوں نے اس کی تعریف کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس پر (جنت) واجب ہو گئی پھر آپ کے سامنے سے ایک اور جنازہ لے جایا گیا، تو لوگوں نے اس کی برائی کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس پر (جہنم) واجب ہو گئی، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے اس کے لیے بھی فرمایا: واجب ہو گئی، اور اس کے لیے بھی فرمایا: واجب ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں کی گواہی واجب ہو گئی، اور مومن زمین میں اللہ تعالیٰ کے گواہ ہیں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1491]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گزرا، لوگوں نے اس کی تعریف کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: واجب ہوگئی۔ پھر ایک اور جنازہ گزرا، اس کے بارے میں بری رائے ظاہر کی گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: واجب ہوگئی۔ عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول! آپ نے اس کے حق میں بھی فرمایا: واجب ہوگئی اور اس کے حق میں بھی فرمایا: واجب ہوگئی (اس کا کیا مطلب ہے؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں کی گواہی (اور اس کے نتیجے میں جنت ہے یا جہنم) مومن زمین میں اللہ کے گواہ ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1491]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الجنائز 85 (1367)، الشہادات 6 (2642)، صحیح مسلم/الجنائز 20 (949)، (تحفة الأشراف: 294)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الجنائز 64 (1058)، سنن النسائی/الجنائز50 (1934)، مسند احمد (3/179، 186، 7 19، 245، 281) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ پکے سچے مسلمان جن کا شیوہ عدل و انصاف ہے، جس شخص کی دینی اور اخلاقی بنیادوں پر تعریف کریں، گویا وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک جنتی ہے، اور جس کی وہ ہجو اور برائی کریں وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک برا ہے، کیونکہ واقعہ یہ ہے کہ موت سے تمام دنیاوی عداوتیں اور دشمنیاں ختم ہو جاتی ہیں، اور دشمن بھی اس وقت دشمن نہیں رہتا، لہذا اب جو کوئی اس کی برائی بیان کرے گا تو اس کا سبب دنیوی عداوت نہ ہو گا، بلکہ حقیقت میں اس کے اخلاق یا دین میں کوئی برائی ہو گی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1492
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: مُرَّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجِنَازَةٍ، فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا خَيْرًا فِي مَنَاقِبِ الْخَيْرِ، فَقَالَ:" وَجَبَتْ"، ثُمَّ مَرُّوا عَلَيْهِ بِأُخْرَى، فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا شَرًّا فِي مَنَاقِبِ الشَّرِّ، فَقَالَ:" وَجَبَتْ، إِنَّكُمْ شُهَدَاءُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو اس کی اچھی خصلتوں کی تعریف کی گئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس پر (جنت) واجب ہو گئی پھر آپ کے پاس سے ایک اور جنازہ گزرا، اس کی بری خصلتوں کا تذکرہ ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس پر (جہنم) واجب ہو گئی، تم لوگ زمین میں اللہ کے گواہ ہو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1492]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گزرا، اس کی اچھی عادتوں کی وجہ سے اس کی تعریف کی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: واجب ہو گئی۔ پھر لوگ ایک اور جنازہ لے کر گزرے تو اس کی بری عادتوں کی وجہ سے اس کے بارے میں بری رائے ظاہر کی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: واجب ہو گئی، تم لوگ زمین میں اللہ کے گواہ ہو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1492]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 15074، ومصباح الزجاجة: 531)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الجنائز80 (3233)، سنن النسائی/الجنائز 50 (1935)، مسند احمد (2/261، 499) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں