🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
28. بَابُ: مَا جَاءَ فِي الصَّلاَةِ عَلَى الشُّهَدَاءِ وَدَفْنِهِمْ
باب: شہداء کی نماز جنازہ اور ان کی تدفین۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1513
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنِ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" أُتِيَ بِهِمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ فَجَعَلَ يُصَلِّي عَلَى عَشَرَةٍ عَشَرَةٍ، وَحَمْزَةُ هُوَ كَمَا هُوَ، يُرْفَعُونَ، وَهُوَ كَمَا هُوَ مَوْضُوعٌ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ غزوہ احد کے دن شہداء رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے گئے، تو آپ دس دس آدمیوں پر نماز جنازہ پڑھنے لگے، اور حمزہ رضی اللہ عنہ کی لاش اسی طرح رکھی رہی اور باقی لاشیں نماز جنازہ کے بعد لوگ اٹھا کر لے جاتے رہے، لیکن حمزہ رضی اللہ عنہ کی لاش جیسی تھی ویسی ہی رکھی رہی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1513]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: غزوہٴ احد کے دن شہداء کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا، آپ ان میں سے دس دس افراد کا جنازہ ادا کرنے لگے۔ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ جہاں تھے وہیں رہے (ان کی میت سامنے رہی) دوسروں کی میتیں اٹھا لی جاتی تھیں اور حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی میت جیسے تھی، ویسے ہی (سامنے) پڑی رہتی تھی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1513]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6497، ومصباح الزجاجة: 540) (صحیح)» ‏‏‏‏ (شواہد سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں یزید بن أبی زیاد ضعیف راوی ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1514
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ يَجْمَعُ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ وَالثَّلَاثَةِ مِنْ قَتْلَى أُحُدٍ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، ثُمَّ يَقُولُ:" أَيُّهُمْ أَكْثَرُ أَخْذًا لِلْقُرْآنِ"، فَإِذَا أُشِيرَ لَهُ إِلَى أَحَدِهِمْ قَدَّمَهُ فِي اللَّحْدِ، وَقَالَ:" أَنَا شَهِيدٌ عَلَى هَؤُلَاءِ، وَأَمَرَ بِدَفْنِهِمْ فِي دِمَائِهِمْ، وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِمْ، وَلَمْ يُغَسَّلُوا".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ احد کے شہداء میں سے دو دو تین تین کو ایک کپڑے میں لپیٹتے، پھر پوچھتے: ان میں سے قرآن کس کو زیادہ یاد ہے؟ جب ان میں سے کسی ایک کی جانب اشارہ کیا جاتا، تو اسے قبر (قبلہ کی طرف) میں آگے کرتے، اور فرماتے: میں ان لوگوں پہ گواہ ہوں،، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ان کے خونوں کے ساتھ دفن کرنے کا حکم دیا، نہ تو آپ نے ان کی نماز جنازہ پڑھی، اور نہ غسل دلایا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1514]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احد کے شہداء میں سے دو دو تین تین آدمیوں کو ایک ہی کپڑے سے ڈھانپ دیتے تھے، پھر فرماتے: ان میں سے کس کو قرآن زیادہ یاد ہے؟ جب ان میں سے کسی ایک کی طرف اشارہ کیا جاتا تو لحد میں اسے آگے رکھتے اور فرمایا: میں ان کے حق میں گواہ ہوں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ان کے خون میں غلطاں ہی دفن کرنے کا حکم دیا، نہ ان کا جنازہ پڑھا نہ انہیں غسل دیا گیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1514]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الجنائز72 (1343)، 73 (1245)، 75 (1347)، 78 (1353)، المغازي 126 (4079)، سنن ابی داود/ الجنائز 31 (3138، 3139)، سنن الترمذی/الجنائز46 (1036)، سنن النسائی/الجنائز62 (1957)، (تحفة الأشراف: 2382) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ شہداء کو غسل نہیں دیا جائے گا، اس پر سب کا اتفاق ہے، نیز امام احمد کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہیدوں کو غسل دینے سے منع کیا، اور فرمایا: اس کا زخم قیامت کے دن مشک کی خوشبو چھوڑے گا اور حنظلہ رضی اللہ عنہ جنابت کی حالت میں شہید ہوئے تھے، جب بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو غسل نہیں دیا، اور فرمایا: فرشتے ان کو غسل دیتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1515
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَرَ بِقَتْلَى أُحُدٍ أَنْ يُنْزَعَ عَنْهُمُ الْحَدِيدُ وَالْجُلُودُ، وَأَنْ يُدْفَنُوا فِي ثِيَابِهِمْ بِدِمَائِهِمْ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہداء احد کے بارے میں حکم دیا کہ ان سے ہتھیار اور پوستین اتار لی جائے، اور ان کو انہیں کپڑوں میں خون سمیت دفنایا جائے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1515]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہِ احد کے شہدا کے بارے میں حکم دیا کہ ان سے لوہا (ہتھیار، مثلاً: زرہ، ڈھال وغیرہ) اور چمڑا (چمڑے کے ملبوسات) اتار دیے جائیں اور انہیں خون سمیت ان کے کپڑوں میں دفن کر دیا جائے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1515]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/الجنائز 31 (3134)، (تحفة الأشراف: 5570)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/247) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی علی بن عاصم اور عطاء اخیر میں اختلاط کا شکار ہو گئے تھے، ملاحظہ ہو: الإرواء: 709)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (3134)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 432

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1516
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، وَسَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، سَمِعَ نُبَيْحًا الْعَنْزِيَّ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَرَ بِقَتْلَى أُحُدٍ أَنْ يُرَدُّوا إِلَى مَصَارِعِهِمْ، وَكَانُوا نُقِلُوا إِلَى الْمَدِينَةِ".
جابربن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہداء احد کے بارے میں حکم دیا کہ وہ اپنی شہادت گاہوں کی جانب لوٹا دئیے جائیں، لوگ انہیں مدینہ لے آئے تھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1516]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگِ احد کے شہیدوں کو شہادت کے مقامات پر واپس لے جانے کا حکم دیا جب کہ انہیں مدینہ لایا جا چکا تھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1516]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/الجنائز42 (3165)، سنن الترمذی/الجہاد 37 (1717)، سنن النسائی/الجنائز 83 (2006)، (تحفة الأشراف: 3117)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/ 297، 303، 308، 397)، سنن الدارمی/المقدمة 7 (46) (صحیح)» ‏‏‏‏ (متابعات و شواہد سے تقویت پا کر یہ روایت صحیح ہے، ورنہ اس کے روای نبیح لین الحدیث ہیں)
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ شہداء اپنی شہادت کی جگہ سے کہیں اور منتقل نہ کئے جائیں، بلکہ جہاں وہ شہید ہوئے ہوں، وہیں ان کو دفن کر دیا جائے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
29. بَابُ: مَا جَاءَ فِي الصَّلاَةِ عَلَى الْجَنَائِزِ فِي الْمَسْجِدِ
باب: نماز جنازہ مسجد میں پڑھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1517
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ صَالِحٍ مَوْلَى التَّوْءَمَةِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ صَلَّى عَلَى جِنَازَةٍ فِي الْمَسْجِدِ فَلَيْسَ لَهُ شَيْءٌ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص نماز جنازہ مسجد میں پڑھے تو اس کے لیے کچھ نہیں ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1517]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے مسجد میں جنازہ پڑھا، اس کے لیے کچھ نہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1517]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/الجنائز 54 (3191)، (تحفة الأشراف: 13503)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/444، 455، 505) (صحیح) (تراجع الألبانی: رقم: 60)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: افضل یہ ہے کہ نماز جنازہ مسجد سے باہر ایسی جگہ پڑھی جائے جو اس کے لئے خاص کر دی گئی ہو، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں عام طریقہ یہی تھا، البتہ اگر کوئی عذر ہو تو مسجد میں بھی پڑھی جا سکتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (3191)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 433

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1518
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" وَاللَّهِ مَا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى سُهَيْلِ ابْنِ بَيْضَاءَ إِلَّا فِي الْمَسْجِدِ"، قَالَ ابْن مَاجَةَ: حَدِيثُ عَائِشَةَ أَقْوَى.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سہیل بن بیضاء رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ مسجد ہی میں پڑھی۔ ابن ماجہ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث زیادہ قوی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1518]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: قسم ہے اللہ کی! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیضاء رضی اللہ عنہا کے بیٹے سہیل رضی اللہ عنہ کا جنازہ مسجد ہی میں پڑھا تھا۔ امام ابن ماجہ رحمہ اللہ نے فرمایا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث زیادہ قوی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1518]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/الجنائز 54 (3189)، (تحفة الأشراف: 16174)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الجنائز34 (973)، سنن الترمذی/الجنائز44 (1033)، سنن النسائی/الجنائز70 (1969)، موطا امام مالک/الجنائز8 (22)، مسند احمد (6/79، 133، 169) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
30. بَابُ: مَا جَاءَ فِي الأَوْقَاتِ الَّتِي لاَ يُصَلَّى فِيهَا عَلَى الْمَيِّتِ وَلاَ يُدْفَنُ
باب: نماز جنازہ اور میت کی تدفین کے ممنوع اوقات کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1519
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ جَمِيعًا، عَنْ مُوسَى بْنِ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ ، يَقُولُ:" ثَلَاثُ سَاعَاتٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَنْهَانَا أَنْ نُصَلِّيَ فِيهِنَّ، أَوْ نَقْبِرَ فِيهِنَّ مَوْتَانَا، حِينَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ بَازِغَةً، وَحِينَ يَقُومُ قَائِمُ الظَّهِيرَةِ حَتَّى تَمِيلَ الشَّمْسُ، وَحِينَ تَضَيَّفُ لِلْغُرُوبِ حَتَّى تَغْرُبَ".
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہم کو تین اوقات میں نماز پڑھنے، اور مردوں کو دفن کرنے سے منع فرماتے تھے: ایک تو جب سورج نکل رہا ہو، اور دوسرے جب کہ ٹھیک دوپہر ہو، یہاں تک کہ زوال ہو جائے یعنی سورج ڈھل جائے، تیسرے جب کہ سورج ڈوبنے کے قریب ہو یہاں تک کہ ڈوب جائے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1519]
حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: تین اوقات ایسے ہیں جن سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں منع فرماتے تھے کہ ان (اوقات) میں نماز پڑھیں یا ان میں اپنے فوت شدگان کو دفن کریں: جب سورج طلوع ہو رہا ہو اور عین دوپہر (زوال) کے وقت حتی کہ سورج ڈھل جائے اور جب سورج غروب ہونے کے قریب ہو حتی کہ (پوری طرح) غروب ہو جائے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1519]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/المسافرین 51 (831)، سنن ابی داود/الجنائز55 (3192)، سنن الترمذی/الجنائز41 (1030)، سنن النسائی/المواقیت 30 (561)، 33 (566)، الجنائز89 (2015)، (تحفة الأشراف: 9939)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/152)، سنن الدارمی/الصلاة 142 (1472) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: حدیث عام ہے جس میں نماز جنازہ بھی داخل ہے، اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی حدیث سے یہی سمجھا ہے، اس لیے بغیر کسی مجبوری کے ان اوقات میں نماز جنازہ پڑھنا جائز نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1520
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ الْيَمَانِ ، عَنْ مِنْهَالِ بْنِ خَلِيفَةَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَدْخَلَ رَجُلًا قَبْرَهُ لَيْلًا، وَأَسْرَجَ فِي قَبْرِهِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو رات میں دفن کیا، اور اس کی قبر کے پاس (روشنی کے لیے) چراغ جلایا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1520]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو رات کے وقت قبر میں اتارا اور قبر میں چراغ لے گئے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1520]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الجنائز 63 (1057)، (تحفة الأشراف: 5889) (حسن)» ‏‏‏‏ (شواہد و متابعات کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں منہال بن خلیفہ ضعیف راوی ہیں)
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہو کہ رات کو دفن کرنا جائز ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
منھال بن خليفة: ضعيف (تقريب: 6917) وأخرجه الترمذي: 1057 مطولاً
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 433

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1521
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَوْدِيُّ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ الْمَكِّيِّ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَدْفِنُوا مَوْتَاكُمْ بِاللَّيْلِ إِلَّا أَنْ تُضْطَرُّوا".
جابربن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے مردوں کو رات میں دفن نہ کرو، مگر یہ کہ تم مجبور کر دئیے جاؤ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1521]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے فوت ہونے والوں کو رات کو دفن نہ کرو، سوائے اس کے کہ تمہیں کوئی مجبوری ہو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1521]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2653)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الجنائز15 (943)، سنن ابی داود/الجنائز 24 (3148)، سنن النسائی/الجنائز 37 (1896)، مسند احمد (3/295) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ بلا ضرورت رات میں دفن نہ کرو، لیکن اگر رات ہو جائے تو بالاتفاق رات کو دفن کرنا جائز اور صحیح ہے، جیسا کہ اس سے پہلے والی حدیث میں ذکر ہوا، نیز واضح رہے کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی نماز جنازہ رات ہی میں پڑھی گئی، اور ان کی تدفین بھی رات ہی میں ہوئی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
إ براھيم بن يزيد الخوزي المكي: متروك الحديث
وللحديث طرق ضعيفة عند ابن الجوزي في الواھيات (العلل المتناهية 2/ 427) وغيره
وحديث مسلم (943) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 433

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1522
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ ابْنِ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" صَلُّوا عَلَى مَوْتَاكُمْ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے مردوں کی نماز جنازہ رات اور دن میں جس وقت چاہو پڑھو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1522]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے فوت ہونے والوں کا جنازہ رات کو بھی پڑھو اور دن کو بھی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1522]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2782، ومصباح الزجاجة: 542) وقد أخرجہ: مسند احمد (3/336، 349) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کی سند میں ابن لہیعہ ضعیف اور ولید بن مسلم مدلس راوی ہیں، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 3974)
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن لهيعة و أبو الزبير: عنعنا
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 433

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں