سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
24. بَابُ: مَا جَاءَ فِي التَّكْبِيرِ عَلَى الْجِنَازَةِ أَرْبَعًا
باب: نماز جنازہ میں چار تکبیرات کا بیان۔
حدیث نمبر: 1503
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْمُحَارِبِيُّ ، حَدَّثَنَا الْهَجَرِيُّ ، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى الْأَسْلَمِيِّ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى جِنَازَةِ ابْنَةٍ لَهُ، فَكَبَّرَ عَلَيْهَا أَرْبَعًا، فَمَكَثَ بَعْدَ الرَّابِعَةِ شَيْئًا، قَالَ: فَسَمِعْتُ الْقَوْمَ يُسَبِّحُونَ بِهِ مِنْ نَوَاحِي الصُّفُوفِ فَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: أَكُنْتُمْ تَرَوْنَ أَنِّي مُكَبِّرٌ خَمْسًا؟، قَالُوا: تَخَوَّفْنَا ذَلِكَ، قَالَ: لَمْ أَكُنْ لِأَفْعَلَ، وَلَكِنْ سَمِعْتُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ يُكَبِّرُ أَرْبَعًا، ثُمَّ يَمْكُثُ سَاعَةً، فَيَقُولُ: مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ، ثُمَّ يُسَلِّمُ".
ابراہیم بن مسلم ہجری کہتے ہیں کہ میں نے صحابی رسول عبداللہ بن ابی اوفی اسلمی رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کے ایک بیٹے کی نماز جنازہ پڑھی، تو انہوں نے اس میں چار تکبیریں کہیں، چوتھی تکبیر کے بعد کچھ دیر ٹھہرے، (اور سلام پھیرنے میں توقف کیا) تو میں نے لوگوں کو سنا کہ وہ صف کے مختلف جانب سے «سبحان الله» کہہ رہے ہیں، انہوں نے سلام پھیرا، اور کہا: کیا تم لوگ یہ سمجھ رہے تھے کہ میں پانچ تکبیریں کہوں گا؟ لوگوں نے کہا: ہمیں اسی کا ڈر تھا، عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں ایسا کرنے والا نہیں تھا، لیکن چوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چار تکبیریں کہنے کے بعد کچھ دیر ٹھہرتے تھے، اور جو اللہ توفیق دیتا وہ پڑھتے تھے، پھر سلام پھیرتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1503]
حضرت ابوبکر ابراہیم بن مسلم ہجری رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی عبداللہ بن ابی اوفی اسلمی رضی اللہ عنہ کی اقتدا میں ان کی ایک بیٹی کا جنازہ پڑھا۔ انہوں نے اس کے جنازے میں چار تکبیریں کہیں۔ چوتھی تکبیر کے بعد وہ کچھ عرصہ ٹھہرے۔“ فرماتے ہیں: ”میں نے صفوں کے اطراف سے لوگوں کو «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے“ کہتے سنا۔“ انہوں نے سلام پھیر کر کہا: ”کیا تمہارا خیال تھا کہ پانچ تکبیریں کہہ دوں گا؟“ حاضرین نے کہا: ”ہمیں تو یہی خطرہ محسوس ہوا تھا۔“ انہوں نے فرمایا: ”میں تو ایسے نہیں کرنے لگا تھا لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چار تکبیریں کہہ کر تھوڑی دیر ٹھہرتے تھے اور جو کچھ اللہ تعالیٰ چاہتا وہ کہتے (مناسب دعا پڑھتے،) پھر سلام پھیرتے تھے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1503]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5152، ومصباح الزجاجة: 535) وقد أخرجہ: مسند احمد (4/356، 383) (حسن)» (متابعات و شواہد کی بناء پر یہ حدیث حسن ہے، ورنہ اس کی سند میں ابراہیم بن مسلم الہجری الکوفی ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
إبراهيم بن مسلم الھجري لين الحديث رفع موقوفات (تقريب: 2520) لين الحديث: أي ضعيف وأخرج البيھقي (4/ 35) بإسناد قوي عن أبي يعفور وقدان عن ابن أبي أوفي به نحوه مختصرًا وھو الصحيح
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 432
إسناده ضعيف
إبراهيم بن مسلم الھجري لين الحديث رفع موقوفات (تقريب: 2520) لين الحديث: أي ضعيف وأخرج البيھقي (4/ 35) بإسناد قوي عن أبي يعفور وقدان عن ابن أبي أوفي به نحوه مختصرًا وھو الصحيح
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 432
حدیث نمبر: 1504
حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْيَمَانِ ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ خَلِيفَةَ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَبَّرَ أَرْبَعًا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار بار تکبیریں «الله أكبر» کہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1504]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (نماز جنازہ میں) چار تکبیریں کہیں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1504]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5891) (صحیح)» (دوسری سند سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں حجاج بن أرطاة مدلس ہیں)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
25. بَابُ: مَا جَاءَ فِيمَنْ كَبَّرَ خَمْسًا
باب: نماز جنازہ میں پانچ تکبیریں کہنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1505
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، وَأَبُو دَاوُدَ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، قَالَ: كَانَ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ يُكَبِّرُ عَلَى جَنَائِزِنَا أَرْبَعًا، وَأَنَّهُ كَبَّرَ عَلَى جِنَازَةٍ خَمْسًا، فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يُكَبِّرُهَا".
عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ زید بن ارقم رضی اللہ عنہ ہمارے جنازوں میں چار بار اللہ اکبر کہا کرتے تھے، ایک بار انہوں نے ایک جنازہ میں پانچ تکبیرات کہیں، میں نے ان سے وجہ پوچھی تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پانچ تکبیرات ۱؎ (بھی) کہتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1505]
عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”زید بن ارقم رضی اللہ عنہ ہم لوگوں کی نماز جنازہ میں چار تکبیریں کہا کرتے تھے۔ ایک جنازہ میں انہوں نے پانچ تکبیریں کہیں۔ میں نے (اس کے متعلق) سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح (پانچ تکبیریں) کہا کرتے تھے۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1505]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الجنائز23 (961)، سنن ابی داود/الجنائز58 (3197)، سنن الترمذی/الجنائز37 (1023)، سنن النسائی/الجنائز76 (1984)، (تحفة الأشراف: 3671)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/368، 370، 371، 372) (صحیح)»
وضاحت: ۱ ؎: جنازے کی تکبیرات کے سلسلے میں چار سے لے کر نو تک کی حدیثیں اور آثار مروی ہیں، بعض آثار سے پتہ چلتا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد تک بھی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پانچ اور چھ تکبیرات کہی ہیں، خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض شہداء احد پر نو تکبیرات کہی ہیں، بعض لوگوں نے «كان آخر ماكبر رسول الله صلى الله عليه وسلم على الجنازة أربعا» چار سے زائد تکبیرات والی حدیثوں کے منسوخ ہونے کا دعویٰ کیا ہے، لیکن اس روایت کے تمام طرق ضعیف اور ناقابل استدلال ہیں، ان کی وجہ سے صحیح سندوں سے ثابت احادیث رد نہیں کی جا سکتیں، واضح رہے جب پانچ تکبیریں کہی جائیں تو پہلی تکبیر کے بعد دعائے ثنا پڑھے، دوسری کے بعد سورہ فاتحہ اور تیسری کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر صلاۃ (درود) اور چوتھی کے بعد دعا اور پانچویں کے بعد سلام پھیرے۔ (ملاحظہ ہو: الروضہ الندیہ: ۱؍۴۱۶ -۴۱۹، احکام الجنائز للألبانی: ۱۴۱-۱۴۷)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
حدیث نمبر: 1506
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ الرَّافِعِيُّ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَبَّرَ خَمْسًا".
عمرو بن عوف مزنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ تکبیرات کہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1506]
حضرت کثیر بن عبداللہ بن عمرو بن عوف رحمہ اللہ اپنے والد سے اور وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”(نماز جنازہ میں) پانچ تکبیریں کہیں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1506]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10782، ومصباح الزجاجة: 536) (صحیح)» (سابقہ حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں ابراہیم بن علی اور کثیر بن عبد اللہ ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
26. بَابُ: مَا جَاءَ فِي الصَّلاَةِ عَلَى الطِّفْلِ
باب: بچے کی نماز جنازہ پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1507
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ حَيَّةَ ، حَدَّثَنِي عَمِّي زِيَادُ بْنُ جُبَيْرٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي جُبَيْرُ بْنُ حَيَّةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" الطِّفْلُ يُصَلَّى عَلَيْهِ".
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”بچہ کی بھی نماز جنازہ پڑھی جائے گی“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1507]
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”بچے کی نماز جنازہ پڑھی جائے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1507]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الجنائز 49 (3180)، سنن الترمذی/الجنائز 42 (1031)، سنن النسائی/الجنائز 55 (1944)، 56 (1945)، (تحفة الأشراف: 11490، 11497)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/247، 248، 249، 252) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1508
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ بَدْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا اسْتَهَلَّ الصَّبِيُّ، صُلِّيَ عَلَيْهِ وَوُرِثَ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب بچہ (پیدائش کے وقت) روئے تو اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی، اور وہ وارث بھی ہو گا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1508]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب بچہ (پیدائش کے وقت) روئے تو (اس کے فوت ہونے پر) اس کا جنازہ پڑھا جائے اور اس کی وراثت تقسیم کی جائے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1508]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2708)، و قد أخرجہ: سنن الترمذی/الجنائز 43 (1032)، سنن الدارمی/الفرائض 47 (3168) (صحیح) (تراجع الألبانی: رقم: 236)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
ضعيف
ترمذي (1532) وانظر الحديث الآتي (2750)
الربيع بن بدر: متروك
وللحديث شواهد كلھا ضعيفة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 432
ضعيف
ترمذي (1532) وانظر الحديث الآتي (2750)
الربيع بن بدر: متروك
وللحديث شواهد كلھا ضعيفة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 432
حدیث نمبر: 1509
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا الْبَخْتَرِيُّ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَلُّوا عَلَى أَطْفَالِكُمْ، فَإِنَّهُمْ مِنْ أَفْرَاطِكُمْ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے بچوں کی نماز جنازہ پڑھو، کیونکہ وہ تمہارے پیش رو ہیں“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1509]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے بچوں کا جنازہ پڑھا کرو، وہ تمہاری پیش رو ہیں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1509]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 14128، ومصباح الزجاجة: 537) (ضعیف جدا)» (اس کی سند میں بختری بن عبید متہم بالوضع راوی ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: 725)
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
البختري بن عبيد: ضعيف متروك (التلخيص الحبير 114/2 ح 753،والتقريب: 642) وأبو ه عبيد بن سلمان الطابخي: مجهول (تقريب: 4375)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 432
إسناده ضعيف جدًا
البختري بن عبيد: ضعيف متروك (التلخيص الحبير 114/2 ح 753،والتقريب: 642) وأبو ه عبيد بن سلمان الطابخي: مجهول (تقريب: 4375)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 432
27. بَابُ: مَا جَاءَ فِي الصَّلاَةِ عَلَى ابْنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذِكْرِ وَفَاتِهِ
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحب زادے کی وفات کا ذکر اور ان کی نماز جنازہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 1510
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى : رَأَيْتَ إِبْرَاهِيمَ ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَاتَ وَهُوَ صَغِيرٌ، وَلَوْ قُضِيَ أَنْ يَكُونَ بَعْدَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيٌّ لَعَاشَ ابْنُهُ، وَلَكِنْ لَا نَبِيَّ بَعْدَهُ".
اسماعیل بن ابی خالد کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحب زادے ابراہیم کو دیکھا ہے؟ انہوں نے کہا: ابراہیم بچپن ہی میں انتقال کر گئے، اور اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کا نبی ہونا مقدر ہوتا تو آپ کے بیٹے زندہ رہتے، لیکن آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1510]
حضرت اسماعیل بن ابی خالد رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں نے عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے ابراہیم رضی اللہ عنہ کو دیکھا ہے؟“ انہوں نے کہا: ”وہ تو بچپن ہی میں فوت ہو گئے تھے۔ اگر تقدیر یہ ہوتی کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی اور نبی ہو تو آپ کے (یہ) فرزند زندہ رہتے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1510]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأدب 109 (6194)، (تحفة الأشراف: 5158)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/353) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ایک حدیث میں ہے کہ اگر ابراہیم زندہ رہتے تو نبی ہوتے، اور اس حدیث میں ہے کہ اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کا نبی ہونا مقدر ہوتا تو ابراہیم زندہ رہتے، ایسا ہونا محال تھا کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد دوسرا کوئی نبی نہیں ہو سکتا، اور تقدیر الٰہی بھی ایسی ہی تھی، جب تو آپ کے صاحبزادوں میں سے کوئی زندہ نہ بچا، جیسے طیب، طاہر اور قاسم، خدیجہ رضی اللہ عنہا سے، اور ابراہیم ماریہ رضی اللہ عنہا سے، یہ چار صاحبزادے بچپن ہی میں انتقال کر گئے، اگرچہ یہ لازم نہیں ہے کہ نبی کا بیٹا بھی نبی ہی ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري
حدیث نمبر: 1511
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ شَبِيبٍ الْبَاهِلِيُّ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ عُتَيْبَةَ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: لَمَّا مَاتَ إِبْرَاهِيمُ ابْنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، صَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ:" إِنَّ لَهُ مُرْضِعًا فِي الْجَنَّةِ، وَلَوْ عَاشَ لَكَانَ صِدِّيقًا نَبِيًّا، وَلَوْ عَاشَ لَعَتَقَتْ أَخْوَالُهُ الْقِبْطُ، وَمَا اسْتُرِقَّ قِبْطِيٌّ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے ابراہیم کا انتقال ہو گیا، تو آپ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی، اور فرمایا: ”جنت میں ان کے لیے ایک دایہ ہے، اور اگر وہ زندہ رہتے تو صدیق اور نبی ہوتے، اور ان کے ننہال کے قبطی آزاد ہو جاتے، اور کوئی بھی قبطی غلام نہ بنایا جاتا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1511]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرزند ابراہیم رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا جنازہ پڑھا اور فرمایا: ”اس کے لیے جنت میں ایک دودھ پلانے والی مقرر ہے اور اگر وہ زندہ رہتا تو نبی صدیق ہوتا اور اگر وہ زندہ رہتا تو اس کے ماموں قبطی آزاد ہو جاتے، پھر کسی قبطی کو غلام نہ بنایا جاتا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1511]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6482، ومصباح الزجاجة: 538) (صحیح)» (اس کی سند میں ابراہیم بن عثمان ابو شیبہ متروک الحدیث ہے، لیکن «عتق» کے جملہ کے علاوہ بقیہ حدیث عبد اللہ بن ابی اوفی سے صحیح ہے، تراجع الألبانی: رقم: 235)
وضاحت: ۱؎: قبطی: ایک مصری قوم ہے، فرعون اسی قوم سے تھا، اور اسماعیل علیہ السلام کی والدہ ہاجرہ بھی اسی قوم کی تھیں، نیز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے ابراہیم کی والدہ ماریہ بھی اسی قوم کی تھیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح دون جملة العتق
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
أبو شيبة إبراهيم بن عثمان: متروك
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 432
إسناده ضعيف جدًا
أبو شيبة إبراهيم بن عثمان: متروك
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 432
حدیث نمبر: 1512
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِمْرَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي الْوَلِيدِ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْحُسَيْنِ ، عَنْ أَبِيهَا الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ ، قَالَ: لَمَّا تُوُفِّيَ الْقَاسِمُ ابْنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ خَدِيجَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، دَرَّتْ لُبَيْنَةُ الْقَاسِمِ فَلَوْ كَانَ اللَّهُ أَبْقَاهُ حَتَّى يَسْتَكْمِلَ رِضَاعَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ تَمَامَ رَضَاعِهِ فِي الْجَنَّةِ"، قَالَتْ: لَوْ أَعْلَمُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَهَوَّنَ عَلَيَّ أَمْرَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنْ شِئْتِ دَعَوْتُ اللَّهَ تَعَالَى فَأَسْمَعَكِ صَوْتَهُ"، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بَلْ أُصَدِّقُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حسین بن علی رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے قاسم کا انتقال ہو گیا، تو ام المؤمنین خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کے رسول! قاسم جس پستان سے دودھ پیتے تھے اس میں دودھ جمع ہو گیا ہے، کاش کہ اللہ ان کو باحیات رکھتا یہاں تک کہ دودھ کی مدت پوری ہو جاتی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کی مدت رضاعت جنت میں پوری ہو رہی ہے“ تو خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کے رسول! اگر یہ بات مجھے معلوم رہی ہوتی تو مجھ پر ان کا غم ہلکا ہو گیا ہوتا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم چاہو تو میں اللہ سے دعا کروں کہ وہ قاسم کی آواز تمہیں سنا دے“، خدیجہ رضی اللہ عنہا بولیں: (نہیں) بلکہ میں اللہ اور اس کے رسول کی تصدیق کرتی ہوں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1512]
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرزند قاسم رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی تو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! (میری چھاتیوں میں) قاسم کا دودھ بہت اتر آیا ہے، کاش اللہ تعالیٰ اسے اتنی زندگی دیتا کہ دودھ پلانے کی مدت پوری ہو جاتی“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی دودھ پینے کی مدت جنت میں پوری ہوگی۔“ ام المومنین رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! اگر مجھے یہ بات معلوم ہو جائے تو اس پر میرا غم کچھ ہلکا ہو جائے۔“ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تو چاہے تو میں اللہ سے دعا کروں اور وہ تجھے اس کی آواز سنا دے۔“ انہوں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! میں اللہ اور اس کے رسول کی بات پر یقین رکھتی ہوں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1512]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3413، ومصباح الزجاجة: 539) (ضعیف جدا)» (اس میں ہشام بن أبی الولید متروک راوی ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
أبو المقدام هشام بن زياد: متروك
وأمه: لا تعرف (تقريب: 8823)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 432
إسناده ضعيف جدًا
أبو المقدام هشام بن زياد: متروك
وأمه: لا تعرف (تقريب: 8823)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 432