🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
21. بَابُ: مَا جَاءَ فِي أَيْنَ يَقُومُ الإِمَامُ إِذَا صَلَّى عَلَى الْجِنَازَةِ
باب: نماز جنازہ پڑھاتے وقت امام کہاں کھڑا ہو؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1493
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَ: الْحُسَيْنُ بْنُ ذَكْوَانَ أَخْبَرَنِي، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ الْفَزَارِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَلَّى عَلَى امْرَأَةٍ مَاتَتْ فِي نِفَاسِهَا فَقَامَ وَسَطَهَا".
سمرہ بن جندب فزاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کی نماز جنازہ پڑھائی جو زچگی میں مر گئی تھی ۱؎، تو آپ اس کے بیچ میں کھڑے ہوئے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1493]
حضرت سمرہ بن جندب فزاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خاتون کا جنازہ پڑھا جو نفاس کے ایام میں فوت ہو گئی تھی، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کی کمر کے مقابل کھڑے ہوئے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1493]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الحیض29 (332)، الجنائز62 (1332)، 63 (1333)، صحیح مسلم/الجنائز27 (964)، سنن ابی داود/الجنائز 57 (3195)، سنن الترمذی/الجنائز45 (1035)، سنن النسائی/الحیض25 (393)، الجنائز73 (1978)، (تحفة الأشراف: 4625)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/14، 19) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس عورت کی کنیت ام کعب ہے جیسا کہ نسائی کی روایت میں اس کی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1494
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ، عَنْ هَمَّامٍ ، عَنْ أَبِي غَالِبٍ ، قَالَ: رَأَيْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ صَلَّى عَلَى جِنَازَةِ رَجُلٍ، فَقَامَ حِيَالَ رَأْسِهِ، فَجِيءَ بِجِنَازَةٍ أُخْرَى بِامْرَأَةٍ، فَقَالُوا: يَا أَبَا حَمْزَةَ، صَلِّ عَلَيْهَا، فَقَامَ حِيَالَ وَسَطِ السَّرِيرِ، فَقَالَ الْعَلَاءُ بْنُ زِيَادٍ: يَا أَبَا حَمْزَةَ، هَكَذَا رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَامَ مِنَ الْجِنَازَةِ مُقَامَكَ مِنَ الرَّجُلِ، وَقَامَ مِنَ الْمَرْأَةِ مُقَامَكَ مِنَ الْمَرْأَةِ؟، قَالَ: نَعَمْ"، فَأَقْبَلَ عَلَيْنَا، فَقَالَ: احْفَظُوا.
ابوغالب کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے ایک آدمی کی نماز جنازہ پڑھائی تو اس کے سر کے سامنے کھڑے ہوئے، پھر ایک دوسرا جنازہ ایک عورت کا لایا گیا، تو لوگوں نے کہا: اے ابوحمزہ! اس کی نماز جنازہ پڑھائیے، تو وہ چارپائی کے بیچ میں کھڑے ہوئے، تو ان سے علاء بن زیاد نے کہا: اے ابوحمزہ! کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح مرد اور عورت کے جنازے میں کھڑے ہوتے ہوئے دیکھا، جس طرح آپ کھڑے ہوئے؟ انہوں نے کہا: ہاں، پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور بولے: سب لوگ یاد کر لو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1494]
حضرت ابو غالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے ایک مرد کا جنازہ پڑھایا تو اس کے سر کے مقابل کھڑے ہوئے، پھر ایک عورت کا جنازہ لایا گیا، حاضرین نے کہا: ابو حمزہ! (انس بن مالک) اس کا جنازہ پڑھا دیجیے تو آپ چارپائی کے وسط کے مقابل کھڑے ہوئے (اور جنازہ پڑھایا۔) علاء بن زیاد (عدوی رضی اللہ عنہ) نے عرض کیا: ابو حمزہ! کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مرد کے جنازہ میں اس طرح (سر کے برابر) کھڑے ہوئے تھے، جس طرح آپ کھڑے ہوئے ہیں اور عورت کے جنازہ میں اس طرح (کمر کے مقابل) کھڑے ہوئے تھے جس طرح آپ کھڑے ہوئے ہیں؟ انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہاں۔ علاء رضی اللہ عنہ نے ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: (یہ مسئلہ) یاد کر لو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1494]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/الجنائز57 (3194)، سنن الترمذی/الجنائز45 (1034)، (تحفة الأشراف: 1621)، وقد أخرجہ: حم (3/118، 151، 204) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: ابوحمزہ: انس رضی اللہ عنہ کی کنیت ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
22. بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْقِرَاءَةِ عَلَى الْجِنَازَةِ
باب: نماز جنازہ میں قرآت قرآن کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1495
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُثْمَانَ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَرَأَ عَلَى الْجِنَازَةِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز جنازہ میں سورۃ فاتحہ پڑھی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1495]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازِ جنازہ میں سورہٴ فاتحہ پڑھی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1495]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الجنائز39 (1026)، (تحفة الأشراف: 6468)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجنائز65 (1235) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یہی محققین علماء کا مذہب ہے یعنی چار تکبیریں ہیں اور تکبیر اولیٰ کے بعد سورۃ فاتحہ اور سورۃ اخلاص پڑھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
ترمذي (1026)
وحديث البخاري (1335) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 431

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1496
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي عَاصِمٍ النَّبِيلُ ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُسْتَمِرِّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ جَعْفَرٍ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنِي شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ ، حَدَّثَتْنِي أُمُّ شَرِيكٍ الْأَنْصَارِيَّةُ ، قَالَتْ:" أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَقْرَأَ عَلَى الْجِنَازَةِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ".
ام شریک انصاریہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم نماز جنازہ میں سورۃ فاتحہ پڑھیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1496]
حضرت ام شریک انصاریہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نمازِ جنازہ میں سورہٴ فاتحہ پڑھنے کا حکم دیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1496]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 18332، ومصباح الزجاجة: 532) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس سند میں شہر بن حوشب کثیر الارسال ہیں، اور حماد بن جعفر بھی متکلم فیہ ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
حماد بن جعفر ضعيف ضعفه الجمھور و للحديث شواھد ضعيفة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 431

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
23. بَابُ: مَا جَاءَ فِي الدُّعَاءِ فِي الصَّلاَةِ عَلَى الْجِنَازَةِ
باب: نماز جنازہ کی دعا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1497
حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدٍ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ مَيْمُونٍ الْمَدِينِيِّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْحَرَّانِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِذَا صَلَّيْتُمْ عَلَى الْمَيِّتِ فَأَخْلِصُوا لَهُ الدُّعَاءَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جب تم میت کی نماز جنازہ پڑھو، تو اس کے لیے خلوص دل سے دعا کرو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1497]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میت کی نماز (جنازہ) پڑھو تو اس کے لیے خلوص سے دعا کرو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1497]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/الجنائز60 (3199)، (تحفة الأشراف: 14993) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1498
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى عَلَى جِنَازَةٍ، يَقُولُ:" اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِحَيِّنَا وَمَيِّتِنَا، وَشَاهِدِنَا وَغَائِبِنَا، وَصَغِيرِنَا وَكَبِيرِنَا، وَذَكَرِنَا وَأُنْثَانَا، اللَّهُمَّ مَنْ أَحْيَيْتَهُ مِنَّا فَأَحْيِهِ عَلَى الْإِسْلَامِ، وَمَنْ تَوَفَّيْتَهُ مِنَّا فَتَوَفَّهُ عَلَى الْإِيمَانِ، اللَّهُمَّ لَا تَحْرِمْنَا أَجْرَهُ وَلَا تُضِلَّنَا بَعْدَهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی نماز جنازہ پڑھتے تو یہ دعا پڑھتے: «اللهم اغفر لحينا وميتنا وشاهدنا وغائبنا وصغيرنا وكبيرنا وذكرنا وأنثانا اللهم من أحييته منا فأحيه على الإسلام ومن توفيته منا فتوفه على الإيمان اللهم لا تحرمنا أجره ولا تضلنا بعده» اے اللہ! ہمارے زندوں کو، ہمارے مردوں کو، ہمارے حاضر لوگوں کو، ہمارے غائب لوگوں کو، ہمارے چھوٹوں کو، ہمارے بڑوں کو، ہمارے مردوں کو اور ہماری عورتوں کو بخش دے، اے اللہ! تو ہم میں سے جس کو زندہ رکھے اس کو اسلام پر زندہ رکھ، اور جس کو وفات دے، تو ایمان پر وفات دے، اے اللہ! ہمیں اس کے اجر سے محروم نہ کر، اور اس کے بعد ہمیں گمراہ نہ کر۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1498]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب جنازہ کی نماز پڑھاتے تو یوں فرماتے: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِحَيِّنَا وَمَيِّتِنَا وَشَاهِدِنَا وَغَائِبِنَا وَصَغِيرِنَا وَكَبِيرِنَا وَذَكَرِنَا وَأُنْثَانَا، اللَّهُمَّ مَنْ أَحْيَيْتَهُ مِنَّا فَأَحْيِهِ عَلَى الْإِسْلَامِ، وَمَنْ تَوَفَّيْتَهُ مِنَّا فَتَوَفَّهُ عَلَى الْإِيمَانِ، اللَّهُمَّ لَا تَحْرِمْنَا أَجْرَهُ وَلَا تُضِلَّنَا بَعْدَهُ» اے اللہ! ہمارے زندوں، مُردوں، حاضر، غائب، چھوٹوں، بڑوں، مذکر اور مؤنث (سب) کی مغفرت فرما دے۔ اے اللہ! ہم میں سے جسے تو زندہ رکھے، اسے اسلام پر زندہ رکھنا اور جسے فوت کرے اس کا خاتمہ ایمان پر کرنا۔ اے اللہ! اس (جانے والے) کے اجر سے ہمیں محروم نہ کرنا اور اس کے بعد ہمیں گمراہ نہ کر دینا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1498]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 14994)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/368) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1499
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ جَنَاحٍ ، حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ مَيْسَرَةَ بْنِ حَلْبَسٍ ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ ، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، فَأَسْمَعُهُ يَقُولُ:" اللَّهُمَّ إِنَّ فُلَانَ بْنَ فُلَانٍ فِي ذِمَّتِكَ وَحَبْلِ جِوَارِكَ، فَقِهِ مِنْ فِتْنَةِ الْقَبْرِ، وَعَذَابِ النَّارِ، وَأَنْتَ أَهْلُ الْوَفَاءِ وَالْحَقِّ، فَاغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ".
واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مسلمان کے نماز جنازہ پڑھائی، تو میں آپ کو یہ دعا پڑھتے ہوئے سن رہا تھا: «اللهم إن فلان بن فلان في ذمتك وحبل جوارك فقه من فتنة القبر وعذاب النار وأنت أهل الوفاء والحق فاغفر له وارحمه إنك أنت الغفور الرحيم» اے اللہ! فلاں بن فلاں، تیرے ذمہ میں ہے، اور تیری پناہ کی حد میں ہے، تو اسے قبر کے فتنے اور جہنم کے عذاب سے بچا لے، تو عہد اور حق پورا کرنے والا ہے، تو اسے بخش دے، اور اس پر رحم کر، بیشک تو غفور (بہت بخشنے والا) اور رحیم (رحم کرنے والا) ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1499]
حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مسلمان کا جنازہ پڑھا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یوں فرماتے سنا: «اللَّهُمَّ إِنَّ فُلَانَ بْنَ فُلَانٍ فِي ذِمَّتِكَ وَحَبْلِ جِوَارِكَ، فَقِهِ مِنْ فِتْنَةِ الْقَبْرِ وَعَذَابِ النَّارِ، وَأَنْتَ أَهْلُ الْوَفَاءِ وَالْحَقِّ، فَاغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ، إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ» اے اللہ! فلاں کا بیٹا فلاں تیرے سپرد اور تیری حفاظت میں ہے، اسے قبر کی آزمائش اور آگ کے عذاب سے محفوظ رکھنا، تو وفا اور حق والا ہے، اس کی بخشش فرما دے اور اس پر رحمت فرما، بے شک تو ہی بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1499]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/الجنائز60 (3202)، (تحفة الأشراف: 17753)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/491) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1500
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا فَرَجُ بْنُ الْفَضَالَةِ ، حَدَّثَنِي عِصْمَةُ بْنُ رَاشِدٍ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ:" اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِ وَاغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ وَعَافِهِ وَاعْفُ عَنْهُ، وَاغْسِلْهُ بِمَاءٍ وَثَلْجٍ وَبَرَدٍ، وَنَقِّهِ مِنَ الذُّنُوبِ وَالْخَطَايَا كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ، وَأَبْدِلْهُ بِدَارِهِ دَارًا خَيْرًا مِنْ دَارِهِ، وَأَهْلًا خَيْرًا مِنْ أَهْلِهِ، وَقِهِ فِتْنَةَ الْقَبْرِ وَعَذَابَ النَّارِ"، قَالَ عَوْفٌ: فَلَقَدْ رَأَيْتُنِي فِي مُقَامِي ذَلِكَ أَتَمَنَّى أَنْ أَكُونَ مَكَانَ الرَّجُلِ.
عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انصاری شخص کی نماز جنازہ پڑھائی، میں حاضر تھا، تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ دعا پڑھتے ہوئے سنا: «اللهم صل عليه واغفر له وارحمه وعافه واعف عنه واغسله بماء وثلج وبرد ونقه من الذنوب والخطايا كما ينقى الثوب الأبيض من الدنس وأبدله بداره دارا خيرا من داره وأهلا خيرا من أهله وقه فتنة القبر وعذاب النار» اے اللہ! اس پر اپنی رحمت نازل فرما، اسے بخش دے، اس پر رحم کر، اسے اپنی عافیت میں رکھ، اسے معاف کر دے، اور اس کے گناہوں کو پانی، برف اور اولے سے دھو دے، اور اسے غلطیوں اور گناہوں سے ایسے ہی پاک کر دے جس طرح سفید کپڑا میل کچیل سے پاک کیا جاتا ہے، اور اس کے اس گھر کو بہتر گھر سے، اور اہل خانہ کو بہتر اہل خانہ سے بدل دے، اور اسے قبر کے فتنہ اور جہنم کے عذاب سے بچا لے۔ عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس وقت میں نے تمنا کی کاش اس میت کی جگہ میں ہوتا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1500]
حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے ایک انصاری آدمی کا جنازہ پڑھایا۔ میں نے سنا کہ آپ فرما رہے تھے: «اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِ وَاغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ وَعَافِهِ وَاعْفُ عَنْهُ وَاغْسِلْهُ بِمَاءٍ وَثَلْجٍ وَبَرَدٍ وَنَقِّهِ مِنَ الذُّنُوبِ وَالْخَطَايَا كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ وَأَبْدِلْهُ بِدَارِهِ دَارًا خَيْرًا مِنْ دَارِهِ وَأَهْلًا خَيْرًا مِنْ أَهْلِهِ وَقِهِ فِتْنَةَ الْقَبْرِ وَعَذَابَ النَّارِ» اے اللہ! اس پر رحمت فرما، اس کی مغفرت فرما اس پر رحم کر، اسے عافیت دے اسے معاف کر دے، اسے پانی، برف اور اولوں سے دھو ڈال، اسے گناہوں سے اس طرح پاک کر دے، جیسے سفید کپڑے کو میل کچیل سے صاف کیا جاتا ہے۔ اسے اس کے گھر کے بدلے اس کے گھر سے بہتر گھر اور اس کے کنبے سے بہتر کنبہ عطا فرما اور اسے قبر کی آزمائش سے اور آگ کے عذاب سے محفوظ فرما۔ حضرت عوف رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس مقام پر میرا جی چاہا کہ کاش میں اس (فوت شدہ) آدمی کی جگہ ہوتا (تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے لیے یہ دعا فرماتے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1500]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10907)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الجنائز26 (963)، سنن الترمذی/الجنائز38 (1025)، سنن النسائی/الطہارة50 (62)، الجنائز 77 (1985)، مسند احمد (6/23، 28) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1501
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ:" مَا أَبَاحَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا أَبُو بَكْرٍ، وَلَا عُمَرُ فِي شَيْءٍ مَا أَبَاحُوا فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْمَيِّتِ"، يَعْنِي: لَمْ يُوَقِّتْ.
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما نے جس قدر نماز جنازہ میں چھوٹ دی اتنی کسی چیز میں نہ دی یعنی اس کا وقت مقرر نہیں کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1501]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما نے ہمیں کسی چیز میں اتنی چھوٹ نہیں دی، جتنی نماز جنازہ میں دی ہے۔ یعنی اس کے لیے وقت کی حد مقرر نہیں کی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1501]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2678، ومصباح الزجاجة: 533)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/357) ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس میں حجاج بن أرطاہ ضعیف اور مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
حجاج بن أرطاة وأبو الزبير عنعنا
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 432

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
24. بَابُ: مَا جَاءَ فِي التَّكْبِيرِ عَلَى الْجِنَازَةِ أَرْبَعًا
باب: نماز جنازہ میں چار تکبیرات کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1502
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْإِيَاسِ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَلَّى عَلَى عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ، وَكَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعًا".
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ پڑھائی، اور چار تکبیریں کہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1502]
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ ادا فرمائی اور چار تکبیریں کہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1502]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9828، ومصباح الزجاجة: 534) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس میں خالد بن ایاس ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
خالد بن إياس: متروك
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 432

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں