🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
53. بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْبُكَاءِ عَلَى الْمَيِّتِ
باب: میت پر رونے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1592
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ الْهَجَرِيِّ ، عَنْ ابْنِ أَبِي أَوْفَى ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمَرَاثِي".
عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں پر مرثیہ خوانی سے منع فرمایا ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1592]
حضرت عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مرثیہ گوئی سے منع فرمایا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1592]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5153، ومصباح الزجاجة: 1575) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کی سند میں ابراہیم الہجری ضعیف ہیں)
وضاحت: ۱؎: جاہلیت میں دستور تھا کہ جب کوئی مر جاتا تو اس کے عزیز و اقارب اس کی موت پر مرثیہ کہتے یعنی منظوم کلام جس میں اس کے فضائل بیان کرتے اور رنج و غم کی باتیں کرتے، اسلام میں اس کی ممانعت ہوئی، لیکن جاہل اس سے باز نہیں آئے، اب تک مرثیے کہتے، مرثیے سناتے اور سنتے ہیں «إنا لله وإنا إليه راجعون» ۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
إبراهيم بن مسلم الهجري: لين الحديث
وھو ضعيف الحديث علي الراجح
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 436

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
54. بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْمَيِّتِ يُعَذَّبُ بِمَا نِيحَ عَلَيْهِ
باب: میت پر نوحہ خوانی سے اس کو عذاب ہوتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1593
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا شَاذَانُ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ . ح وحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، وَوَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْمَيِّتُ يُعَذَّبُ بِمَا نِيحَ عَلَيْهِ".
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میت پر نوحہ کرنے کی وجہ سے اسے عذاب دیا جاتا ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1593]
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میت پر نوحہ کیا جائے تو اس کی وجہ سے میت کو عذاب ہوتا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1593]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الجنائز 33 (1292)، صحیح مسلم/الجنائز 9 (927)، سنن النسائی/الجنائز 15 (1854)، (تحفة الأشراف: 10536)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الجنائز 24 (1002)، مسند احمد (1/26، 36، 47، 50، 51، 54) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: میت پر آواز کے ساتھ رونے کو نوحہ کہتے ہیں۔ یہ عذاب اس شخص پر ہو گا جو اپنے ورثاء کو اس کی وصیت کر کے مرا ہو یا اس کا عمل بھی زندگی میں ایسا ہی رہا ہو اور اس کی پیروی میں اس کے گھر والے بھی اس پر نوحہ کر رہے ہوں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1594
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ ، حَدَّثَنَا أَسِيدُ بْنُ أَبِي أَسِيدٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْمَيِّتُ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَيِّ إِذَا قَالُوا: وَاعَضُدَاهُ، وَاكَاسِيَاهُ، وَانَاصِرَاهُ، وَاجَبَلَاهُ، وَنَحْوَ هَذَا يُتَعْتَعُ، وَيُقَالُ: أَنْتَ كَذَلِكَ أَنْتَ كَذَلِكَ"، قَالَ أَسِيدٌ: فَقُلْتُ: سُبْحَانَ اللَّهِ، إِنَّ اللَّهَ، يَقُولُ: وَلا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى سورة الأنعام آية 164، قَالَ: وَيْحَكَ، أُحَدِّثُكَ أَنَّ أَبَا مُوسَى، حَدَّثَنِي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَرَى أَنَّ أَبَا مُوسَى كَذَبَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ تَرَى أَنِّي كَذَبْتُ عَلَى أَبِي مُوسَى.
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مردے کو زندوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے، جب لوگ کہتے ہیں: «واعضداه واكاسياه. واناصراه واجبلاه» ہائے میرے بازو، ہائے میرے کپڑے پہنانے والے، ہائے میری مدد کرنے والے، ہائے پہاڑ جیسے قوی و طاقتور اور اس طرح کے دوسرے کلمات، تو اسے ڈانٹ کر کہا جاتا ہے: کیا تو ایسا ہی تھا؟ کیا تو ایسا ہی تھا؟ اسید کہتے ہیں کہ میں نے کہا: سبحان اللہ، اللہ تعالیٰ تو یہ فرماتا ہے: «ولا تزر وازرة وزر أخرى» کوئی کسی کا بوجھ نہ اٹھائے گا تو انہوں (موسیٰ) نے کہا: تمہارے اوپر افسوس ہے، میں تم سے بیان کرتا ہوں کہ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث بیان فرمائی، تو کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھا ہے؟ یا تم یہ سمجھتے ہو کہ میں نے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ پر جھوٹ باندھا ہے؟۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1594]
حضرت اسید بن ابی اسید رحمہ اللہ نے موسیٰ بن ابی موسیٰ اشعری رحمہ اللہ سے، انہوں نے اپنے والد حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زندہ کے رونے سے فوت شدہ کو عذاب ہوتا ہے، جب وہ (رونے والے) کہتے ہیں: «وَا عَضُدِي! وَا كَاسِيِي! وَا نَاصِرِي! وَا جَبَلَاهُ!» ہائے میرا بازو! ہائے مجھے لباس دینے والا! ہائے میری مدد کرنے والا! ہائے وہ پہاڑ (جیسی عظیم شخصیت)! اور اس طرح کے الفاظ کہتے ہیں تو اسے جھڑکا اور جھنجھوڑا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے: کیا تو (واقعی) ایسا ہی ہے؟ کیا تو ایسا ہی ہے؟ حضرت اسید رحمہ اللہ نے فرمایا: میں نے کہا: سبحان اللہ! اللہ تعالیٰ نے تو فرمایا ہے: ﴿وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ﴾ [سورة الفاطر: 18] کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ موسیٰ رحمہ اللہ نے فرمایا: تیرا بھلا ہو! میں تجھے یہ بتا رہا ہوں کہ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے مجھے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث سنائی ہے (لیکن تجھے یقین نہیں آتا) کیا تیرا خیال ہے کہ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھا ہے؟ یا تیرا یہ خیال ہے کہ میں نے حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ پر جھوٹ باندھا ہے؟ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1594]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9031، ومصباح الزجاجة: 576)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الجنائز 24 (1003)، مسند احمد (4/ 414) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1595
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: إِنَّمَا كَانَتْ يَهُودِيَّةٌ مَاتَتْ، فَسَمِعَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْكُونَ عَلَيْهَا، قَالَ:" فَإِنَّ أَهْلَهَا يَبْكُونَ عَلَيْهَا، وَإِنَّهَا تُعَذَّبُ فِي قَبْرِهَا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک یہودی عورت کا انتقال ہو گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کو اس پر روتے ہوئے سنا، تو فرمایا: اس کے گھر والے اس پر رو رہے ہیں جب کہ اسے قبر میں عذاب ہو رہا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1595]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ایک یہودی عورت مر گئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو اس پر روتے ہوئے سنا تو فرمایا: اس کے گھر والے اس پر رو رہے ہیں اور اسے قبر میں عذاب ہو رہا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1595]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 16259)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجنائز 32 (1289)، صحیح مسلم/الجنائز9 (932)، سنن الترمذی/الجنائز 25 (1004)، سنن النسائی/الجنائز15 (1857)، موطا امام مالک/الجنائز12 (37)، مسند احمد (6/107، 255) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
55. بَابُ: مَا جَاءَ فِي الصَّبْرِ عَلَى الْمُصِيبَةِ
باب: مصیبت پر صبر کرنے کا ثواب۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1596
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ سِنَانٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا الصَّبْرُ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الْأُولَى".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صبر تو وہ ہے جو مصیبت کے اول وقت میں ہو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1596]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صبر ابتدائے صدمہ کے وقت ہی ہوتا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1596]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الجنائز 13 (988)، (تحفة الأشراف: 848)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجنائز 31 (1283)، 42 (1302)، الأحکام 11 (7154)، صحیح مسلم/الجنائز 8 (926)، سنن ابی داود/الجنائز 27 (3124)، سنن النسائی/الجنائز 22 (1870)، مسند احمد (3/130، 143، 217) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1597
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ عَجْلَانَ ، عَنْ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" يَقُولُ اللَّهُ سُبْحَانَهُ: ابْنَ آدَمَ إِنْ صَبَرْتَ وَاحْتَسَبْتَ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الْأُولَى، لَمْ أَرْضَ لَكَ ثَوَابًا دُونَ الْجَنَّةِ".
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے آدمی! اگر تم مصیبت پڑتے ہی صبر کرو، اور ثواب کی نیت رکھو، تو میں جنت سے کم ثواب پر تمہارے لیے راضی نہیں ہوں گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1597]
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتا ہے: اے آدم کے بیٹے! اگر ابتدائے صدمہ کے وقت تو صبر کرے اور حصولِ ثواب کی نیت کرے تو میں تیرے لیے جنت سے کم ثواب پسند نہیں کروں گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1597]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4911، ومصباح الزجاجة: 577)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/258) (حسن)» ‏‏‏‏ (شواہد کی بنا پر حسن ہے)
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1598
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ قُدَامَةَ الْجُمَحِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ حَدَّثَهَا، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُصَابُ بِمُصِيبَةٍ، فَيَفْزَعُ إِلَى مَا أَمَرَ اللَّهُ بِهِ مِنْ قَوْلِهِ: إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، اللَّهُمَّ عِنْدَكَ احْتَسَبْتُ مُصِيبَتِي فَأْجُرْنِي فِيهَا وَعُضْنِي مِنْهَا، إِلَّا آجَرَهُ اللَّهُ عَلَيْهَا وَعَاضَهُ خَيْرًا مِنْهَا"، قَالَتْ: فَلَمَّا تُوُفِّيَ أَبُو سَلَمَةَ، ذَكَرْتُ الَّذِي حَدَّثَنِي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، اللَّهُمَّ عِنْدَكَ احْتَسَبْتُ مُصِيبَتِي هَذِهِ فَأْجُرْنِي عَلَيْهَا، فَإِذَا أَرَدْتُ أَنْ أَقُولَ: وَعِضْنِي خَيْرًا مِنْهَا، قُلْتُ فِي نَفْسِي: أُعَاضُ خَيْرًا مِنْ أَبِي سَلَمَةَ، ثُمَّ قُلْتُهَا، فَعَاضَنِي اللَّهُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَآجَرَنِي فِي مُصِيبَتِي.
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ابوسلمہ رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا: انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جس مسلمان کو کوئی مصیبت پیش آئے، تو وہ گھبرا کر اللہ کے فرمان کے مطابق یہ دعا پڑھے: «إنا لله وإنا إليه راجعون اللهم عندك احتسبت مصيبتي فأجرني فيها وعضني منها» ہم اللہ ہی کی ملک ہیں اور اسی کی جانب لوٹ کر جانے والے ہیں، اے اللہ! میں نے تجھی سے اپنی مصیبت کا ثواب طلب کیا، تو مجھے اس میں اجر دے، اور مجھے اس کا بدلہ دے جب یہ دعا پڑھے گا تو اللہ تعالیٰ اس کا اجر دے گا، اور اس سے بہتر اس کا بدلہ عنایت کرے گا۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: جب (میرے شوہر) ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا، تو مجھے وہ حدیث یاد آئی، جو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر مجھ سے بیان کی تھی، چنانچہ میں نے کہا: «إنا لله وإنا إليه راجعون اللهم عندك احتسبت مصيبتي فأجرني فيها وعضني منها» اور جب «وعضني خيرا منها» مجھے اس سے بہتر بدلا دے کہنے کا ارادہ کیا تو دل میں سوچا: کیا مجھے ابوسلمہ رضی اللہ عنہ سے بہتر بدلہ دیا جا سکتا ہے؟ پھر میں نے یہ جملہ کہا، تو اللہ تعالیٰ نے مجھے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے بدلہ میں دے دیا اور میری مصیبت کا بہترین اجر مجھے عنایت فرمایا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1598]
حضرت ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہیں ابو سلمہ رضی اللہ عنہ نے حدیث سنائی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے: جس مسلمان کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے اور وہ اس پریشانی میں اللہ کے حکم (کی تعمیل) کا سہارا لیتا ہے، یعنی کہتا ہے: «إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، اللَّهُمَّ عِنْدَكَ احْتَسَبْتُ مُصِيبَتِي فَأْجُرْنِي فِيهَا وَعَوِّضْنِي مِنْهَا» ہم اللہ کے ہیں اور اسی کی طرف واپس جانے والے ہیں۔ اے اللہ! میں تجھ سے اپنی مصیبت (پر صبر) کا ثواب چاہتا ہوں، مجھے اس کا اجر و ثواب عطا فرما اور اس کا بدل عطا فرما۔ اللہ تعالیٰ اس (مسلمان) کو اس (مصیبت پر صبر) کا ثواب عنایت فرماتا ہے اور اسے اس (چھن جانے والی نعمت) سے بہتر متبادل عطا فرماتا ہے۔ ام المومنین رضی اللہ عنہا نے فرمایا: جب ابو سلمہ رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے تو مجھے وہ حدیث یاد آئی جو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر مجھے سنائی تھی۔ تب میں نے کہا: «إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، اللَّهُمَّ عِنْدَكَ احْتَسَبْتُ مُصِيبَتِي فَأْجُرْنِي فِيهَا وَعَوِّضْنِي مِنْهَا» ہم اللہ ہی کے ہیں اور ہم اسی کی طرف واپس جانے والے ہیں۔ اے اللہ! میں تجھ سے اپنی اس مصیبت (پر صبر) کا ثواب چاہتی ہوں۔ تو مجھے اس کا اجر و ثواب عطا فرما۔ جب میں نے یہ کہنا چاہا «وَعَوِّضْنِي خَيْرًا مِنْهَا» مجھے اس کا بہتر متبادل عطا فرما تو میں نے دل میں سوچا: کیا مجھے ابو سلمہ رضی اللہ عنہ سے بہتر متبادل بھی مل سکتا ہے؟ پھر میں نے (دعا کے) یہ الفاظ بھی پڑھ دیے (اور حدیث کی تعمیل میں یہ دعا مانگ ہی لی) تو اللہ تعالیٰ نے مجھے ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کے بدلے محمد صلی اللہ علیہ وسلم دے دیے اور میری مصیبت کا اجر بھی عطا فرما دیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1598]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الدعوات 84 (3511)، (تحفة الأشراف: 6577)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/27) (صحیح)» ‏‏‏‏ (سند میں عبد الملک بن قدامہ ضعیف ہیں، لیکن دوسرے طریق سے یہ صحیح ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1599
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السُّكَيْنِ ، حَدَّثَنَا أَبُو هَمَّامٍ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ ، حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: فَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَابًا بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّاسِ، أَوْ كَشَفَ سِتْرًا، فَإِذَا النَّاسُ يُصَلُّونَ وَرَاءَ أَبِي بَكْرٍ، فَحَمِدَ اللَّهَ عَلَى مَا رَأَى مِنْ حُسْنِ حَالِهِمْ، رَجَاءَ أَنْ يَخْلُفَهُ اللَّهُ فِيهِمْ بِالَّذِي رَآهُمْ، فَقَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَيُّمَا أَحَدٍ مِنَ النَّاسِ، أَوْ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أُصِيبَ بِمُصِيبَةٍ، فَلْيَتَعَزَّ بِمُصِيبَتِهِ بِي عَنِ الْمُصِيبَةِ الَّتِي تُصِيبُهُ بِغَيْرِي، فَإِنَّ أَحَدًا مِنْ أُمَّتِي لَنْ يُصَابَ بِمُصِيبَةٍ بَعْدِي أَشَدَّ عَلَيْهِ مِنْ مُصِيبَتِي".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (مرض الموت میں) ایک دروازہ کھولا جو آپ کے اور لوگوں کے درمیان تھا، یا پردہ ہٹایا تو دیکھا کہ لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھ رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اچھی حالت میں دیکھ کر اللہ کا شکر ادا کیا، اور امید کی کہ اللہ تعالیٰ اس عمل کو ان کے درمیان آپ کے انتقال کے بعد بھی باقی رکھے گا، اور فرمایا: اے لوگو! لوگوں میں سے یا مومنوں میں سے جو کوئی کسی مصیبت میں مبتلا ہو جائے، تو وہ میری وفات کی مصیبت کو یاد کر کے صبر کرے، اس لیے کہ میری امت میں سے کسی کو میرے بعد ایسی مصیبت نہ ہو گی جو میری وفات کی مصیبت سے اس پر زیادہ سخت ہو ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1599]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (آخری مرض کے ایام میں ایک دن) وہ دروازہ کھولا یا پردہ ہٹایا جو آپ کے اور (مسجد میں نماز پڑھنے والے) لوگوں کے درمیان حائل تھا۔ دیکھا تو لوگ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی اقتدا میں نماز پڑھ رہے تھے۔ آپ نے انہیں اس اچھے حال میں دیکھ کر اللہ کا شکر ادا کیا (کہ اللہ کی عبادت میں مشغول ہیں۔) آپ کو یہ امید ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نبی صلی اللہ علیہ وسلم (کی وفات) کے بعد بھی ان کو ایسے ہی (اچھے) حال میں رکھے گا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ملاحظہ فرمایا، پھر فرمایا: اے لوگو! جس شخص کو۔ یا فرمایا: جس مومن کو کوئی مصیبت پہنچے تو اسے چاہیے کہ کسی دوسرے کی (وفات کی) وجہ سے پہنچنے والی مصیبت کا غم ہلکا کرنے کے لیے میری (وفات کی) وجہ سے پہنچنے والی مصیبت کو یاد کر لے کیونکہ میری امت کے کسی فرد کو میری (وفات کی) مصیبت سے بڑھ کر کوئی مصیبت نہیں پہنچ سکتی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1599]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17774، ومصباح الزجاجة: 578) (صحیح)» ‏‏‏‏ (سند میں موسیٰ بن عبیدہ ضعیف راوی ہیں، لیکن دوسرے طریق سے یہ صحیح ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 1106)
وضاحت: ۱؎: اس لئے کہ مومن وہی ہے جس کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اولاد اور والدین اور سارے رشتہ داروں سے زیادہ ہو، پس جب وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کو یاد کرے گا تو ہر طرح کے رشتہ داروں اور دوست و احباب کی موت اس کے سامنے بے حقیقت ہو گی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
موسي بن عبيدة: ضعيف
ولحديثه شواھدضعيفة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 436

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1600
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْحُسَيْنِ ، عَنْ أَبِيهَا ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أُصِيبَ بِمُصِيبَةٍ، فَذَكَرَ مُصِيبَتَهُ، فَأَحْدَثَ اسْتِرْجَاعًا وَإِنْ تَقَادَمَ عَهْدُهَا، كَتَبَ اللَّهُ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلَهُ يَوْمَ أُصِيبَ".
حسین بن علی رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جسے کوئی مصیبت پیش آئی ہو، پھر وہ اسے یاد کر کے نئے سرے سے: «إنا لله وإنا إليه راجعون» کہے، اگرچہ مصیبت کا زمانہ پرانا ہو گیا ہو، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے اتنا ہی ثواب لکھے گا جتنا اس دن لکھا تھا جس دن اس کو یہ مصیبت پیش آئی تھی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1600]
حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جسے کوئی مصیبت آئی (بعد میں) پھر اسے وہ مصیبت (دوبارہ) یاد آئی تو اس نے نئے سرے سے ﴿إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ﴾ [سورة البقرة: 156] پڑھ لیا اگرچہ اس کو گزرے طویل عرصہ گزر گیا ہو، اللہ تعالیٰ اس کے لیے اتنا ہی ثواب لکھے گا جتنا (اس دن ملا تھا) جس دن مصیبت آئی تھی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1600]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3414، ومصباح الزجاجة: 579)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/201) (ضعیف جدا)» ‏‏‏‏ (سند میں ہشام بن زیاد متروک اور ان کی والدہ مجہول ہیں، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 4551)
وضاحت: ۱؎: مثلاً نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی مصیبت یاد کرکے ہم اس وقت «إنا لله وإنا إليه راجعون» کہیں تو وہی ثواب ہم کو ملے گا جو صحابہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت ملا تھا، بعض لوگوں نے کہا کہ حدیث خاص ہے اس مصیبت سے جو خود اسی شخص پر گزر چکی ہو۔ واللہ اعلم
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
ھشام بن زياد: متروك
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 436

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
56. بَابُ: مَا جَاءَ فِي ثَوَابِ مَنْ عَزَّى مُصَابًا
باب: غم زدہ کی تعزیت کرنے والے کا ثواب۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1601
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنِي قَيْسٌ أَبُو عُمَارَةَ مَوْلَى الْأَنْصَارِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" مَا مِنْ مُؤْمِنٍ يُعَزِّي أَخَاهُ بِمُصِيبَةٍ إِلَّا كَسَاهُ اللَّهُ سُبْحَانَهُ مِنْ حُلَلِ الْكَرَامَةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
محمد بن عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی مسلمان اپنے مسلمان بھائی کو کسی مصیبت میں تسلی دے، تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے عزت کا جوڑا پہنائے گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1601]
حضرت عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو مومن اپنے بھائی کو کسی مصیبت پر تسلی دیتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن عزت افزائی کا خلعت عطا فرمائے گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1601]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏(ابو عمارہ قیس میں کلام ہے، اور عبد اللہ بن أبی بکر بن محمد بن عمرو بن حزم عن أبیہ عن جدہ میں جد (دادا) محمد بن عمر و بن حزم ہیں، جن کو رویت حاصل ہے، لیکن صرف صحابہ کرام سے ہی سماع ہے، رسول اکرم ﷺ سے سماع نہیں ہے، لیکن انس رضی اللہ عنہ کے شاہد سے تقویت پاکر یہ حسن ہے، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: 764، وسلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 195، تراجع الألبانی: رقم: 55)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
قيس أبو عمارة: فيه لين (تقريب: 5598) ضعيف (التحرير 3/ 190)
وللحديث شواهد ضعيفة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 436

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں