سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
22. بَابُ: حَرِيمِ الْبِئْرِ
باب: کنویں کی چوحدی (رقبہ) کا بیان۔
حدیث نمبر: 2486
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سُكَيْنٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُثَنَّى ، ح وحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل الْمَكِيُّ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ حَفَرَ بِئْرًا فَلَهُ أَرْبَعُونَ ذِرَاعًا عَطَنًا لِمَاشِيَتِهِ".
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کنواں کھودے تو اس کے گرد چالیس ہاتھ تک کی زمین اس کی ہو گی، اس کے جانوروں کو پانی پلانے اور بٹھانے کے لیے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2486]
حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کنواں کھودا تو چالیس ہاتھ زمین اس کے مویشیوں کے بیٹھنے کے لیے ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2486]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9655، ومصباح الزجاجة: 876)، سنن الدارمی/البیوع 82 (2668) (حسن)» (سند میں اسماعیل بن مسلم المکی ضعیف راوی ہیں، اور حسن بصری مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، لیکن شاہد کی وجہ سے حدیث حسن ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 251)
وضاحت: ۱؎: یعنی کنویں کی ہر جانب چالیس ہاتھ تک اس کا علاقہ ہو گا کیونکہ عادتاً اتنی جگہ جانوروں کے لئے کافی ہو جاتی ہے، اور بعضوں نے کہا یہ جب ہے کہ کنویں کی گہرائی چالیس ہاتھ ہو اگر اس سے زیادہ ہو تو اتنے ہی ہاتھ ہر طرف جگہ ملے گی۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
حدیث نمبر: 2487
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ أَبِي الصُّغْدِيِّ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ صُقَيْرٍ ، حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ نَافِعٍ أَبِي غَالِبٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" حَرِيمُ الْبِئْرِ مَدُّ رِشَائِهَا".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کنویں کی چوحدی اس کی رسی کی لمبائی کے برابر ہو گی“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2487]
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کنویں کا حریم (متعلقہ رقبہ) اس کے رسے کی لمبائی کے برابر ہوتا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2487]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4386، ومصباح الزجاجة: 877) (ضعیف)» (سند میں ثابت بن محمد ہے صحیح محمد بن ثابت ہے اور منصور بن صقیر ضعیف راوی ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
قال البوصيري: ’’ ھذا إسناد ضعيف،ثابت بن محمد انقلب علي ابن ماجة وصوابه محمد بن ثابت كما ذكره الذھبي في الكاشف وقد ضعفوه ومنصور بن صقير متفق علي ضعفه ‘‘ منصور بن صقير: ضعيف (تقريب: 2903)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 468
إسناده ضعيف
قال البوصيري: ’’ ھذا إسناد ضعيف،ثابت بن محمد انقلب علي ابن ماجة وصوابه محمد بن ثابت كما ذكره الذھبي في الكاشف وقد ضعفوه ومنصور بن صقير متفق علي ضعفه ‘‘ منصور بن صقير: ضعيف (تقريب: 2903)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 468
23. بَابُ: حَرِيمِ الشَّجَرِ
باب: درخت کی چوحدی (رقبہ) کا بیان۔
حدیث نمبر: 2488
حَدَّثَنَا عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ خَالِدٍ النُّمَيْرِيُّ أَبُو الْمُغَلِّسِ ، حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، أَخْبَرَنِي إِسْحَاق بْنُ يَحْيَى بْنِ الْوَلِيدِ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَضَى فِي النَّخْلَةِ وَالنَّخْلَتَيْنِ وَالثَّلَاثَةِ لِلرَّجُلِ فِي النَّخْلِ فَيَخْتَلِفُونَ فِي حُقُوقِ ذَلِكَ فَقَضَى أَنَّ لِكُلِّ نَخْلَةٍ مِنْ أُولَئِكَ مِنَ الْأَسْفَلِ مَبْلَغُ جَرِيدِهَا حَرِيمٌ لَهَا".
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ باغ میں کسی شخص کے ایک یا دو یا تین درخت ہوں، پھر لوگ اختلاف کریں کہ کتنی زمین پر ان کا حق ہے؟ تو اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا: ”ہر درخت کے لیے نیچے کی اتنی زمین ہے جہاں تک اس کی ڈالیاں پھیلی ہیں، وہی اس درخت کی چوحدی ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2488]
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اگر کھجوروں کے باغ میں ایک، دو یا تین درخت کسی دوسرے شخص کے ہوں، اور ان میں اختلاف ہو جائے (کہ کس کی کتنی زمین ہے) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ دیا: ”ہر درخت کی جڑ سے لے کر جہاں تک اس کی شاخیں پہنچتی ہیں، وہ اس درخت کا رقبہ ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2488]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5067، ومصباح الزجاجة: 878) (صحیح)» (سند میں اسحاق بن یحییٰ مجہول ہیں، اور ان کی عبادہ رضی اللہ عنہ سے روایت میں انقطاع ہے کیونکہ عبادہ رضی اللہ عنہ سے ان کا سماع ثابت نہیں ہے، لیکن شاہد سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے: ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 250)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
حدیث نمبر: 2489
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ أَبِي الصُّغْدِيِّ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ صُقَيْرٍ ، حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَبْدِيُّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" حَرِيمُ النَّخْلَةِ مَدُّ جَرِيدِهَا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کھجور کے درخت کی چوحدی اس کی ڈالیوں کی لمبائی کے برابر ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2489]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کھجور کے درخت کا حریم اس کی شاخوں کے پھیلاؤ تک ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2489]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6665، ومصباح الزجاجة: 879) (صحیح)» (سند میں ثابت بن محمد غلط ہے، صحیح محمد بن ثابت ہے، نیز منصور بن صقیر ضعیف ہے، لیکن دوسری سند سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 250)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
منصور بن صقير: ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 468
إسناده ضعيف
منصور بن صقير: ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 468
24. بَابُ: مَنْ بَاعَ عَقَارًا وَلَمْ يَجْعَلْ ثَمَنَهُ فِي مِثْلِهِ
باب: جو شخص جائیداد بیچ ڈالے اور اس سے دوسری جائیداد نہ خریدے تو اس کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 2490
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ حُرَيْثٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ بَاعَ دَارًا أَوْ عَقَارًا فَلَمْ يَجْعَلْ ثَمَنَهُ فِي مِثْلِهِ كَانَ قَمِنًا أَنْ لَا يُبَارَكَ فِيهِ".
سعید بن حریث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جو کوئی گھر یا غیر منقولہ جائیداد بیچے اور پھر ویسی ہی جائیداد اس کی قیمت سے نہ خریدے، تو وہ اس لائق ہے کہ اس میں اس کو برکت نہ دی جائے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2490]
حضرت سعید بن حریث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کوئی گھر یا زمین کا ٹکڑا (کھیت یا باغ وغیرہ) فروخت کیا اور اس کی قیمت کو اس جیسی چیز میں خرچ نہ کیا تو وہ اس لائق ہے کہ اس میں برکت نہ دی جائے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2490]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4453، ومصباح الزجاجة: 88)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/467، 4/307)، سنن الدارمی/البیوع 81 (2667) (حسن)» (سند میں اسماعیل بن ابراہیم ضعیف ہیں، لیکن متابعت کی وجہ سے حدیث حسن ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 2327)
وضاحت: ۱؎: سبحان اللہ یہ حدیث دنیاداروں کے لئے بڑی نصیحت ہے، نقد پیسہ ہمیشہ صرف ہو جاتا ہے کبھی چوری ہو جاتا ہے یا لٹ جاتا ہے، برخلاف جائیداد غیر منقولہ کے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جائیداد بیچنے کو مکروہ جانا جب اس کے بدل دوسری جائیداد نہ خریدے، کیونکہ نقد پیسہ رکھنے سے تو یہی بہتر تھا کہ جائیداد اپنے پاس رہنے دیتا۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
إسماعيل بن إبراهيم بن مھاجر: ضعيف (تقريب:417)
وللحديث طريق آخر عند البيهقي (6/ 34) وسنده ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 468
إسناده ضعيف
إسماعيل بن إبراهيم بن مھاجر: ضعيف (تقريب:417)
وللحديث طريق آخر عند البيهقي (6/ 34) وسنده ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 468
حدیث نمبر: 2490M
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ ، عَنْ أَخِيهِ سَعِيدِ بْنِ حُرَيْثٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.
اس سند سے بھی اسی کے مثل مروی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2490M]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ماقبلہ، تحفة الأشراف: 4453) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
حدیث نمبر: 2491
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، وَعَمْرُو بْنُ رَافِعٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مَالِكٍ النَّخَعِيُّ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ حُذَيْفَةَ ، عَنْ أَبِيهِ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ بَاعَ دَارًا وَلَمْ يَجْعَلْ ثَمَنَهَا فِي مِثْلِهَا لَمْ يُبَارَكْ لَهُ فِيهَا".
حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کوئی گھر بیچے اور پھر اس کی قیمت سے ویسا ہی دوسرا گھر نہ خریدے، تو اس میں اس کو برکت نہیں ہو گی“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2491]
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے مکان بیچا اور اس کی قیمت کو اس جیسی چیز میں خرچ نہ کیا تو اسے اس میں برکت حاصل نہیں ہو گی۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2491]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3394، ومصباح الزجاجة: 882) (حسن)» (سند میں یوسف بن میمون ضعیف راوی ہیں، لیکن یزید بن أبی خالد کی بیہقی میں متابعت سے یہ حسن ہے)
وضاحت: ۱؎: بلکہ نقد پیسہ اٹھا اٹھا کر ختم کر دے گا، اور ایک رہنے کا آسرا بھی ہاتھ سے جاتا رہے گا۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
ضعيف
يوسف بن ميمون المخزومي: ضعيف (تقريب: 7889)
و قال الھيثمي: وضعفه الجمھور (مجمع الزوائد 200/10) وأبومالك النخعي: متروك
وللحديث شاھد ضعيف عند البيهقي (6/ 33،34)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 469
ضعيف
يوسف بن ميمون المخزومي: ضعيف (تقريب: 7889)
و قال الھيثمي: وضعفه الجمھور (مجمع الزوائد 200/10) وأبومالك النخعي: متروك
وللحديث شاھد ضعيف عند البيهقي (6/ 33،34)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 469