🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
13. بَابُ: مَنْ زَرَعَ فِي أَرْضِ قَوْمٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ
باب: بلا اجازت دوسرے کی زمین میں کھیتی کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2466
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ زَرَعَ فِي أَرْضِ قَوْمٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ فَلَيْسَ لَهُ مِنَ الزَّرْعِ شَيْءٌ وَتُرَدُّ عَلَيْهِ نَفَقَتُهُ".
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی کی زمین میں بغیر اس کی اجازت کے کھیتی کرے تو اس میں سے اس کو کچھ نہیں ملے گا، البتہ اس کا خرچ دلا دیا جائے گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2466]
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کچھ لوگوں کی زمین میں ان کی اجازت کے بغیر فصل کاشت کر لی تو اسے اس فصل میں سے کچھ نہیں ملے گا، اور اس کا خرچ اسے واپس کر دیا جائے گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2466]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/البیوع 33 (3403)، سنن الترمذی/الأحکام 29 (1366)، (تحفة الأشراف: 3570)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/465، 4/141) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (3403) ترمذي (1366)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 467

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
14. بَابُ: مُعَامَلَةِ النَّخِيلِ وَالْكُرُومِ
باب: کھجور اور انگور کی کھیتی کو بٹائی پر دینے کا معاملہ۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2467
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، وَسَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ ، وإسحاق بن منصور ، قَالُوا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَامَلَ أَهْلَ خَيْبَرَ بِالشَّطْرِ مِمَّا يَخْرُجُ مِنْ ثَمَرٍ أَوْ زَرْعٍ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر والوں سے پھل اور غلہ کی نصف پیداوار پر (بٹائی کا) معاملہ کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2467]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر والوں سے پھلوں اور غلے کی نصف پیداوار کے عوض (کاشت کاری کا) معاہدہ فرمایا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2467]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحرث 8 (2329)، صحیح مسلم/المساقاة 1 (1551)، سنن ابی داود/البیوع 35 (3408)، سنن الترمذی/الأحکام 41 (1383)، سنن النسائی/الأیمان والنذور 45 (3931)، (تحفة الأشراف: 8138)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/17، 22، 37)، سنن الدارمی/البیوع 71 (2656) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2468
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ تَوْبَةَ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَعْطَى خَيْبَرَ أَهْلَهَا عَلَى النِّصْفِ نَخْلِهَا وَأَرْضِهَا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر والوں کو خیبر کی زمین اور درختوں کو نصف پیداوار کی بٹائی پر دیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2468]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے رہنے والوں (یہودیوں) کو وہاں کے کھجوروں کے باغات اور زمین نصف پیداوار کے عوض (کام کرنے کے لیے) عطا فرمائی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2468]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6483، ومصباح الزجاجة: 867)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/250) (صحیح)» ‏‏‏‏ (حکم بن عتیبہ نے مقسم سے صرف چار احایث سنی ہیں، اور محمد بن عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ ضعیف ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر حدیث صحیح ہے، کما تقدم)
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2469
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ مُسْلِمٍ الْأَعْوَرِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:" لَمَّا افْتَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ أَعْطَاهَا عَلَى النِّصْفِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب خیبر کو فتح کیا، تو اسے نصف پیداوار کی بٹائی پردے دیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2469]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر فتح کیا تو اسے نصف (پیداوار) کے عوض (کاشت کے لیے) دے دیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2469]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1590، ومصباح الزجاجة: 868)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/138) (صحیح)» ‏‏‏‏ (سند میں مسلم بن کیسان کوفی ضعیف راوی ہیں، لیکن سابقہ شواہد سے حدیث صحیح ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
15. بَابُ: تَلْقِيحِ النَّخْلِ
باب: کھجور کے درخت میں پیوند کاری کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2470
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ مُوسَى بْنَ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: مَرَرْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَخْلٍ فَرَأَى قَوْمًا يُلَقِّحُونَ النَّخْلَ، فَقَالَ: مَا يَصْنَعُ هَؤُلَاءِ؟، قَالُوا: يَأْخُذُونَ مِنَ الذَّكَرِ فَيَجْعَلُونَهُ فِي الْأُنْثَى، قَالَ: مَا أَظُنُّ ذَلِكَ يُغْنِي شَيْئًا فَبَلَغَهُمْ، فَتَرَكُوهُ فَنَزَلُوا عَنْهَا فَبَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" إِنَّمَا هُوَ الظَّنُّ، إِنْ كَانَ يُغْنِي شَيْئًا فَاصْنَعُوهُ فَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ وَإِنَّ الظَّنَّ يُخْطِئُ وَيُصِيبُ وَلَكِنْ مَا قُلْتُ لَكُمْ: قَالَ اللَّهُ: فَلَنْ أَكْذِبَ عَلَى اللَّهِ".
طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھجور کے باغ میں گزرا، تو آپ نے دیکھا کہ کچھ لوگ نر کھجور کا گابھا لے کر مادہ میں ڈالتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ لوگ کیا کر رہے ہیں؟ لوگوں نے عرض کیا: نر کا گابھا لے کر مادہ میں ڈالتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نہیں سمجھتا ہوں کہ اس سے کوئی فائدہ ہو گا، یہ خبر جب ان صحابہ کو پہنچی تو انہوں نے ایسا کرنا چھوڑ دیا، لیکن اس سے درختوں میں پھل کم آئے، پھر یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ میرا گمان تھا، اگر اس میں فائدہ ہے تو اسے کرو، میں تو تمہی جیسا ایک آدمی ہوں گمان کبھی غلط ہوتا ہے اور کبھی صحیح، لیکن جو میں تم سے کہوں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے (تو وہ غلط نہیں ہو سکتا ہے) کیونکہ میں اللہ تعالیٰ پر ہرگز جھوٹ نہیں بولوں گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2470]
حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھجوروں کے ایک باغ میں سے گزرا تو آپ نے دیکھا کہ لوگ کھجوروں کو پیوند لگا رہے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ لوگ کیا کر رہے ہیں؟ میں نے کہا: نر درخت (کے گابھے) سے لے کر مادہ درخت کے (پھولوں کے خوشے کے) اندر رکھ رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے خیال میں تو اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو یہ ارشاد معلوم ہوا تو یہ کام چھوڑ کر درختوں سے اتر آئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع ہوئی تو فرمایا: یہ تو (میرا) خیال تھا۔ اگر اس سے فائدہ ہوتا ہے تو کر لیا کرو۔ میں تو تم جیسا انسان ہی ہوں اور (انسان کا) خیال غلط بھی ہو سکتا ہے اور صحیح بھی ہو سکتا ہے۔ لیکن میں جس مسئلے میں تمہیں یوں کہوں: اللہ نے فرمایا، تو میں اللہ پر کبھی جھوٹ نہیں بولوں گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2470]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الفضائل 38 (2361)، (تحفة الأشراف: 5012)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/162) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2471
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، وَهِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ أَصْوَاتًا فَقَالَ:" مَا هَذَا الصَّوْتُ" قَالُوا: النَّخْلُ يُؤَبِّرُونَهَا، فَقَالَ:" لَوْ لَمْ يَفْعَلُوا لَصَلَحَ" فَلَمْ يُؤَبِّرُوا عَامَئِذٍ فَصَارَ شِيصًا، فَذَكَرُوا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" إِنْ كَانَ شَيْئًا مِنْ أَمْرِ دُنْيَاكُمْ فَشَأْنُكُمْ بِهِ، وَإِنْ كَانَ مِنْ أُمُورِ دِينِكُمْ فَإِلَيَّ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ آوازیں سنیں تو پوچھا: یہ کیسی آواز ہے؟ لوگوں نے کہا: لوگ کھجور کے درختوں میں پیوند لگا رہے ہیں ۱؎، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسا نہ کریں تو بہتر ہو گا چنانچہ اس سال ان لوگوں نے پیوند نہیں لگایا تو کھجور خراب ہو گئی، لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہاری دنیا کا جو کام ہو، اس کو تم جانو، البتہ اگر وہ تمہارے دین سے متعلق ہو تو اسے مجھ سے معلوم کیا کرو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2471]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ (لوگوں کی) آوازیں سنائی دیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ آواز کیسی ہے؟ عرض کیا گیا: لوگ کھجوروں کو پیوند لگا رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر وہ ایسے نہ کریں تو بھی درست ہے۔ چنانچہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس سال پیوند نہ لگائے تو پھل بہت خراب آیا۔ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ صورت حال عرض کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہاری دنیا کا کوئی معاملہ ہو تو اسے خود (اپنے تجربات اور رائے کی روشنی میں) انجام دے لیا کرو۔ اگر تمہارے دین کا معاملہ ہو تو میری طرف رجوع کیا کرو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2471]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الفضائل 38 (2363)، (تحفة الأشراف: 338، 16875)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/123، 152) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: «تأبیر» یا «تلقیح» : نر کھجور کے شگوفے (کلی) مادہ کھجور میں ڈالنے کو «تلقیح» یا «تأبیر» کہتے ہیں، ایسا کرنے سے کھجور کے درخت خوب پھل لاتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
16. بَابُ: الْمُسْلِمُونَ شُرَكَاءُ فِي ثَلاَثٍ
باب: تین چیزوں میں سارے مسلمانوں کی شرکت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2472
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خِرَاشِ بْنِ حَوْشَبٍ الشَّيْبَانِيُّ ، عَنِ الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْمُسْلِمُونَ شُرَكَاءُ فِي ثَلَاثٍ: فِي الْمَاءِ وَالْكَلَإِ وَالنَّارِ، وَثَمَنُهُ حَرَامٌ"، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: يَعْنِي الْمَاءَ الْجَارِيَ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین چیزوں میں سارے مسلمانوں کی شرکت (ساجھے داری) ہے: پانی، گھاس اور آگ، ان کی قیمت لینا حرام ہے ۱؎۔ ابوسعید کہتے ہیں: پانی سے مراد بہتا پانی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2472]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان تین چیزوں میں شریک ہیں: پانی، گھاس اور آگ میں۔ اور ان کی قیمت لینا حرام ہے۔ (امام ابن ماجہ رحمہ اللہ کے استاد) حضرت ابو سعید (عبداللہ بن سعید بن حصین) نے فرمایا: پانی سے مراد جاری پانی (دریا، نہر، ندی وغیرہ) ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2472]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6418، ومصباح الزجاجة: 869) (صحیح)» ‏‏‏‏ (سند میں عبداللہ بن خراش ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر یہ صحیح ہے، «وثمنہ حرام» کا جملہ شاہد نہ ہونے سے ضعیف ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح دون وثمنه حرام
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
عبد اللّٰه بن خراش: ضعيف
والحديث صحيح دون قوله’’ وثمنه حرام ‘‘
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 468

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2473
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" ثَلَاثٌ لَا يُمْنَعْنَ: الْمَاءُ وَالْكَلَأُ وَالنَّارُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین چیزیں ایسی ہیں جن سے کسی کو روکا نہیں جا سکتا: پانی، گھاس اور آگ۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2473]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین چیزوں سے روکا نہ جائے: پانی، گھاس اور آگ سے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2473]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 13726، ومصباح الزجاجة: 870) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2474
حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ خَالِدٍ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ غُرَابٍ ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ مَرْزُوقٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جَدْعَانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ؟ قَالَ:" الْمَاءُ وَالْمِلْحُ وَالنَّارُ"، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا الْمَاءُ قَدْ عَرَفْنَاهُ فَمَا بَالُ الْمِلْحِ وَالنَّارِ، قَالَ: يَا حُمَيْرَاءُ! مَنْ أَعْطَى نَارًا، فَكَأَنَّمَا تَصَدَّقَ بِجَمِيعِ مَا أَنْضَجَتْ تِلْكَ النَّارُ، وَمَنْ أَعْطَى مِلْحًا، فَكَأَنَّمَا تَصَدَّقَ بِجَمِيعِ مَا طَيَّبَ ذَلِكَ الْمِلْحُ، وَمَنْ سَقَى مُسْلِمًا شَرْبَةً مِنْ مَاءٍ حَيْثُ يُوجَدُ الْمَاءُ، فَكَأَنَّمَا أَعْتَقَ رَقَبَةً، وَمَنْ سَقَى مُسْلِمًا شَرْبَةً مِنْ مَاءٍ حَيْثُ لَا يُوجَدُ الْمَاءُ، فَكَأَنَّمَا أَحْيَاهَا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! کون سی ایسی چیز ہے جس کا روکنا جائز نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانی، نمک اور آگ میں نے کہا: اللہ کے رسول! پانی تو ہمیں معلوم ہے کہ اس کا روکنا جائز اور حلال نہیں؟ لیکن نمک اور آگ کیوں جائز نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے حمیراء! ۱؎ جس نے آگ دی گویا اس نے وہ تمام کھانا صدقہ کیا جو اس پر پکا، اور جس نے نمک دیا گویا اس نے وہ تمام کھانا صدقہ کیا جس کو اس نمک نے مزے دار بنایا، اور جس نے کسی مسلمان کو جہاں پانی ملتا ہے، ایک گھونٹ پانی پلایا گویا اس نے ایک غلام آزاد کیا، اور جس نے کسی مسلمان کو ایسی جگہ ایک گھونٹ پانی پلایا جہاں پانی نہ ملتا ہو گویا اس نے اس کو نئی زندگی بخشی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2474]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کون سی چیز کو روک رکھنا حلال نہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانی، نمک اور آگ کو۔ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے عرض کیا: یہ پانی جو ہے اس (کی اہمیت) کو ہم نے جان لیا۔ نمک اور آگ کا کیا معاملہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے حمیراء! جس نے (کسی کو) آگ دی، اس نے گویا وہ سارا کھانا صدقہ کیا جو اس آگ پر تیار ہوا۔ اور جس نے نمک دیا، اس نے گویا وہ سب کچھ صدقہ کر دیا جو اس نمک سے درست ہوا۔ اور جس نے کسی مسلمان کو اس جگہ پانی کا گھونٹ پلایا جہاں پانی پایا جاتا ہے تو اس نے گویا ایک غلام آزاد کیا۔ اور جس نے مسلمان کو وہاں پانی کا گھونٹ پلایا جہاں پانی نہیں پایا جاتا تو اس نے اسے زندہ کر دیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2474]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 16121، ومصباح الزجاجة: 871) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (علی بن زید بن جدعان ضعیف راوی ہیں، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 3384)
وضاحت: ۱؎: حمیراء: حمراء کی تصغیر ہے یعنی اے گوری چٹی سرخی مائل رنگت والی۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن جدعان: ضعيف
وتلميذه زهير بن مرزوق: مجهول (تقريب: 2050)
وعلي بن غراب عنعن (كان يدلس: تق 4783)
وللحديث شاهدان ضعيفان جدًا
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 468

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
17. بَابُ: إِقْطَاعِ الأَنْهَارِ وَالْعُيُونِ
باب: نہروں اور چشموں کو جاگیر میں دینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2475
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ ، حَدَّثَنَا فَرَجُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ عَلْقَمَةَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبْيَضَ بْنِ حَمَّالٍ ، حَدَّثَنِي عَمِّي ثَابِتُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبْيَضَ بْنِ حَمَّالٍ ، عَنْ أَبِيهِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ أَبْيَضَ بْنِ حَمَّالٍ ، أَنَّهُ اسْتَقْطَعَ الْمِلْحَ الَّذِي يُقَالُ لَهُ مِلْحُ سُدِّ مَأْرِبٍ فَأَقْطَعَهُ لَهُ، ثُمَّ إِنَّ الْأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ التَّمِيمِيَّ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي قَدْ وَرَدْتُ الْمِلْحَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَهُوَ بِأَرْضٍ لَيْسَ بِهَا مَاءٌ، وَمَنْ وَرَدَهُ أَخَذَهُ، وَهُوَ مِثْلُ الْمَاءِ الْعِدِّ، فَاسْتَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْيَضَ بْنَ حَمَّالٍ فِي قَطِيعَتِهِ فِي الْمِلْحِ فَقَالَ: قَدْ أَقَلْتُكَ مِنْهُ عَلَى أَنْ تَجْعَلَهُ مِنِّي صَدَقَةً، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هُوَ مِنْكَ صَدَقَةٌ، وَهُوَ مِثْلُ الْمَاءِ الْعِدِّ مَنْ وَرَدَهُ أَخَذَهُ" قَالَ فَرَجٌ: وَهُوَ الْيَوْمَ عَلَى ذَلِكَ مَنْ وَرَدَهُ أَخَذَهُ، قَالَ: فَقَطَعَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْضًا وَنَخْلًا بِالْجُرْفِ جُرْفِ مُرَادٍ مَكَانَهُ حِينَ أَقَالَهُ مِنْهُ.
ابیض بن حمال رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اس نمک کو جو نمک سدمآرب کے نام سے جانا جاتا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بطور جاگیر طلب کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے انہیں جاگیر میں دے دیا، پھر اقرع بن حابس تمیمی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور عرض کیا: میں زمانہ جاہلیت میں اس نمک کی کان پر سے گزر چکا ہوں، وہ ایسی زمین میں ہے جہاں پانی نہیں ہے، جو وہاں جاتا ہے، وہاں سے نمک لے جاتا ہے، وہ بہتے پانی کی طرح ہے، جس کا سلسلہ کبھی بند نہیں ہوتا، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابیض بن حمال سے نمک کی اس جاگیر کو فسخ کر دینے کو کہا، ابیض رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: میں اس کو اس شرط پر فسخ کرتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے میری طرف سے صدقہ کر دیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا وہ تمہاری طرف سے صدقہ ہے اور وہ جاری پانی کے مثل ہے، جو آئے اس سے لے جائے۔ فرج بن سعید کہتے ہیں: اور وہ آج تک ویسے ہی ہے، جو وہاں جاتا ہے اس میں سے نمک لے جاتاہے۔ ابیض رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس جاگیر کے عوض جو آپ نے فسخ کر دی تھی «جرف» یعنی «جرف» مراد (ایک مقام کا نام ہے) میں زمین اور کھجور کے کچھ درخت جاگیر کے طور پر دیے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2475]
حضرت ابیض بن حمال رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نمک کی کان طلب کی جسے سد مارب کا نمک کہا جاتا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ انہیں عطا فرما دی۔ اس کے بعد حضرت اقرع بن حابس تمیمی رضی اللہ عنہ نے حاضر ہو کر عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے زمانہ جاہلیت میں نمک کا وہ ذخیرہ دیکھا ہے، وہ ایسے علاقے میں ہے جہاں (پینے کا) پانی نہیں پایا جاتا۔ جو شخص وہاں جاتا ہے (حسب ضرورت) نمک لے لیتا ہے۔ وہ مسلسل حاصل ہونے والے پانی کی طرح ہے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابیض بن حمال رضی اللہ عنہ سے نمک کی وہ جاگیر واپس طلب فرما لی۔ انہوں نے کہا: میں اس شرط پر واپس کرتا ہوں کہ آپ اسے میری طرف سے صدقہ قرار دیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ تیری طرف سے صدقہ ہے۔ وہ مسلسل حاصل ہونے والے پانی کی طرح ہے۔ جو وہاں جائے گا، اس میں سے لے لے گا۔ فرج بن سعید رحمہ اللہ نے فرمایا: وہ آج تک اسی طرح ہے۔ جو کوئی وہاں جاتا ہے (حسب ضرورت نمک) لے لیتا ہے۔ راوی کہتا ہے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان سے نمک کا ذخیرہ واپس لیا تو اس کے بدلے میں انہیں جرف مراد کے مقام پر زمین کا ٹکڑا دیا اور کھجوروں کا باغ عطا فرمایا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2475]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الخراج 36 (3064)، سنن الترمذی/الأحکام 39 (1380)، (تحفة الأشراف: 1)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/البیوع 66 (2650) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (3066)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 468

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں