سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
9. بَابُ: الرُّخْصَةِ فِي كِرَاءِ الأَرْضِ الْبَيْضَاءِ بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ
باب: خالی زمین کو سونے چاندی کے بدلے کرایہ پر دینے کی رخصت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2456
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ لَمَّا سَمِعَ إِكْثَارَ النَّاسِ فِي كِرَاءِ الْأَرْضِ قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ، إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَا مَنَحَهَا أَحَدُكُمْ أَخَاهُ وَلَمْ يَنْهَ عَنْ كِرَائِهَا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب انہوں نے سنا کہ لوگ زمین کو کرائیے پر دینے کے سلسلے میں کثرت سے گفتگو کر رہے ہیں، تو «سبحان اللہ» کہہ کر تعجب کا اظہار کیا، اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یوں فرمایا تھا: ”تم میں سے کسی نے اپنے بھائی کو زمین مفت کیوں نہیں دے دی“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کرائے پر دینے سے منع نہیں کیا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2456]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے جب لوگوں کو بٹائی پر زمین دینے کے بارے میں بہت باتیں کرتے سنا (کہ یہ منع ہے) تو فرمایا: «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے! اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہ فرمایا تھا: ”آدمی اپنے بھائی کو زمین کیوں نہیں دے دیتا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کرائے پر دینے سے منع نہیں فرمایا تھا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2456]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحرث والمزارعة 10 (2330)، الھبة 35 (2634)، صحیح مسلم/البیوع 21 (1550)، سنن ابی داود/البیوع 31 (3389)، سنن الترمذی/الأحکام 42 (1385)، سنن النسائی/المزراعة 2 (3904)، (تحفة الأشراف: 5735)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/234، 281، 349)، (2342) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس سے معلوم ہوتا ہے کہ رافع رضی اللہ عنہ کو حدیث کا مطلب سمجھنے میں دھوکہ ہوا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
حدیث نمبر: 2457
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَأَنْ يَمْنَحَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ أَرْضَهُ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَأْخُذَ عَلَيْهَا كَذَا وَكَذَا" لِشَيْءٍ مَعْلُومٍ. قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: هُوَ الْحَقْلُ وَهُوَ بِلِسَانِ الْأَنْصَارِ الْمُحَاقَلَةُ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی اپنی زمین اپنے بھائی کو مفت دے تو یہ اس کے لیے اس بات سے بہتر ہے کہ وہ اس سے اتنی اور اتنی“ یعنی کوئی متعین رقم لے۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ یہی «حقل» ہے، اور انصار کی زبان میں اس کو محاقلہ کہتے ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2457]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی کا اپنے بھائی کو (کاشت کے لیے بلا معاوضہ) اپنی زمین دے دینا اس بات سے بہتر ہے کہ اس پر اتنی اتنی چیز، یعنی مقرر مقدار وصول کرے۔“ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”اس معاملے کو «حَقْل» کہتے ہیں، اور انصار کی بولی میں یہی «مُحَاقَلَة» کہلاتا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2457]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/البیوع 21 1550)، (تحفة الأشراف: 5718)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/313) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
حدیث نمبر: 2458
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ ، قَالَ: كُنَّا نُكْرِي الْأَرْضَ عَلَى أَنَّ لَكَ مَا أَخْرَجَتْ هَذِهِ وَلِي مَا أَخْرَجَتْ هَذِهِ" فَنُهِينَا أَنْ نُكْرِيَهَا بِمَا أَخْرَجَتْ وَلَمْ نُنْهَ أَنْ نُكْرِيَ الْأَرْضَ بِالْوَرِقِ".
حنظلہ بن قیس کہتے ہیں کہ میں نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ہم زمین کو اس شرط پر کرایہ پر دیتے تھے کہ فلاں جگہ کی پیداوار میری ہو گی، اور فلاں جگہ کی تمہاری، تو ہم کو پیداوار پر زمین کرائے پر دینے سے منع کر دیا گیا، البتہ چاندی کے بدلے یعنی نقد کرائے پر دینے سے ہمیں منع نہیں کیا گیا ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2458]
حضرت حنظلہ بن قیس رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں نے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے مسئلہ دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: ”ہم اس شرط پر زمین کرائے پر دیتے تھے کہ جو کچھ اس ٹکڑے میں پیدا ہو، وہ تیرا ہے اور جو کچھ اس ٹکڑے میں پیدا ہو، وہ میرا ہے، تو ہمیں پیداوار کے عوض (اس انداز سے) زمین کرائے پر دینے سے منع کر دیا گیا۔ چاندی (مقرر رقم) کے عوض زمین کرائے پر دینے سے منع نہیں کیا گیا۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2458]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحرث 7 (2327)، 12 (2332)، 19 (2346)، الشروط 7، (2722)، صحیح مسلم/البیوع 19 (1547)، سنن ابی داود/البیوع 31 (3392، 3393)، سنن النسائی/المزارعة 2 (3930، 3931، 3933)، (تحفة الأشراف: 3553)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/کراء الارض 1 (1)، مسند احمد (4/142) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس قسم کی شرط بٹائی کی زمین میں درست نہیں ہے، کیونکہ اس میں اس بات کا خطرہ ہے کہ کسی قطعہ زمین کی پیداوار خوب ہوا، اور دوسرے قطعہ میں کچھ پیدا نہ ہو، دراصل اسی قسم کی بٹائی سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا تھا، صحابی رسول رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے اس سے مطلق بٹائی کی ممانعت سمجھ لی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
10. بَابُ: مَا يُكْرَهُ مِنَ الْمُزَارَعَةِ
باب: مکروہ مزارعت (بٹائی) کا بیان۔
حدیث نمبر: 2459
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبُو النَّجَاشِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ يُحَدِّثُ، عَنْ عَمِّهِ ظُهَيْرٍ ، قَالَ: نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَنَا رَافِقًا، فَقُلْتُ: مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهُوَ حَقٌّ، فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا تَصْنَعُونَ بِمَحَاقِلِكُمْ"، قُلْنَا نُؤَاجِرُهَا عَلَى الثُّلُثِ وَالرُّبُعِ وَالْأَوْسُقِ مِنَ الْبُرِّ وَالشَّعِيرِ، فَقَالَ:" فَلَا تَفْعَلُوا ازْرَعُوهَا أَوْ أَزْرِعُوهَا".
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے چچا ظہیر رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک ایسے کام سے جو ہمارے لیے مفید تھا منع فرمایا، رافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ، تو میں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فرمایا ہے وہی حق ہے، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تم اپنے کھیتوں کو کیا کرتے ہو“؟ تو ہم نے عرض کیا: ہم اسے تہائی اور چوتھائی پیداوار پر اور گیہوں یا جو کے چند وسق پر کرائے پر دیتے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا نہ کرو، تم یا تو خود اس میں کھیتی کرو یا دوسرے کو کھیتی کرنے دو“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2459]
حضرت ابو نجاشی (عطا بن صہیب انصاری رحمہ اللہ) سے روایت ہے، انہوں نے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کو اپنے چچا حضرت ظہیر بن رافع رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے سنا کہ انہوں نے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک ایسے کام سے منع فرما دیا جس میں ہمارے لیے آسانی تھی۔“ میں نے کہا: ”جو کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، وہی درست ہے۔“ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے کھیتوں کے ساتھ کیا کرتے ہو؟“ ہم نے کہا: ”ہم انہیں (پیداوار کے) تیسرے حصے یا چوتھے حصے کے عوض یا گندم اور جو کے چند وسق (مقررہ مقدار) کے عوض کرائے پر دے دیتے ہیں۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسے نہ کیا کرو، خود کاشت کرو یا کسی کو کاشت کے لیے دے دو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2459]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحرث 18 (2339)، صحیح مسلم/البیوع 18 (548)، سنن النسائی/الأیمان المزراعة 2 (3955)، (تحفة الأشراف: 5029)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/کراء الأرض 1 (3) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
حدیث نمبر: 2460
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا الثَّوْرِيُّ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أُسَيْدِ بْنِ ظُهَيْرٍ ابْن أَخِي رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ: كَانَ أَحَدُنَا إِذَا اسْتَغْنَى عَنْ أَرْضِهِ أَعْطَاهَا بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ وَالنِّصْفِ وَاشْتَرَطَ ثَلَاثَ جَدَاوِلَ وَالْقُصَارَةَ وَمَا يَسْقِي الرَّبِيعُ، وَكَانَ الْعَيْشُ إِذْ ذَاكَ شَدِيدًا، وَكَانَ يَعْمَلُ فِيهَا بِالْحَدِيدِ وَبِمَا شَاءَ اللَّهُ وَيُصِيبُ مِنْهَا مَنْفَعَةً فَأَتَانَا رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَاكُمْ عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَكُمْ نَافِعًا، وَطَاعَةُ اللَّهِ وَطَاعَةُ رَسُولِهِ أَنْفَعُ لَكُمْ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَنْهَاكُمْ عَنِ الْحَقْلِ وَيَقُولُ:" مَنِ اسْتَغْنَى عَنْ أَرْضِهِ فَلْيَمْنَحْهَا أَخَاهُ أَوْ لِيَدَعْ".
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کسی کو زمین کی حاجت نہیں ہوتی تھی تو اسے تہائی یا چوتھائی یا آدھے کی بٹائی پردے دیتا، اور تین شرطیں لگاتا کہ نالیوں کے قریب والی زمین کی پیداوار، صفائی کے بعد بالیوں میں بچ جانے والا غلہ اور فصل ربیع کے پانی سے جو پیداوار ہو گی وہ میں لوں گا، اس وقت لوگوں کی گزر بسر مشکل سے ہوتی تھی، وہ ان میں پھاؤڑے سے اور ان طریقوں سے جن سے اللہ چاہتا محنت کرتا اور اس سے فائدہ حاصل کرتا، آخر رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آئے اور کہنے لگے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں ایک کام سے جو تمہارے لیے مفید تھا منع فرما دیا ہے، اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت تمہارے لیے زیادہ سود مند ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں زمین کو کرایہ پر دینے سے منع کرتے ہیں، اور فرماتے ہیں: ”جس کو اپنی زمین کی ضرورت نہ ہو وہ اسے اپنے بھائی کو مفت (بطور عطیہ) دیدے، یا اسے خالی پڑی رہنے دے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2460]
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”ہم میں سے کسی کو جب اپنی زمین کی ضرورت نہ ہوتی تو وہ اسے تہائی، چوتھائی یا نصف پیداوار کے عوض (کسی کاشت کے لیے) دے دیتا اور شرط لگا لیتا کہ ندی کے قریب والی زمین (کی پیداوار) میں سے تین چوتھائی، اور گاہی ہوئی گندم کی (گاہے جانے سے بچ رہنے والی) بالیاں، اور (پانی کی چھوٹی) نالی سے سیراب ہونے والی زمین (کی پیداوار) اس کی ہو گی۔ اس زمانے میں گزران بہت مشکل تھی اور زمین میں لوہے (کے آلات کسی اور پھاوڑے وغیرہ) سے اور جیسے اللہ کو منظور ہوتا، سے کام ہوتا تھا۔ وہ اس سے کچھ نفع کما لیتا تھا۔ پھر ہمارے پاس حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ آئے اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں ایک کام سے منع فرما دیا ہے جس میں (بظاہر) تمہارا فائدہ تھا۔ (لیکن) اللہ کی اطاعت اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت میں تمہارا زیادہ فائدہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں «الْمُحَاقَلَةِ» ”محاقلہ“ سے منع فرماتے ہیں اور ارشاد فرماتے ہیں: ”جس کو زمین کی ضرورت نہ ہو تو وہ اپنے بھائی کو عطیہ کے طور پر دے دے، یا رہنے دے۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2460]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/البیوع 32 (3398)، سنن النسائی/المزارعة 2 (3894)، (تحفة الأشراف: 3549)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/کراء الأرض 1 (1) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
حدیث نمبر: 2461
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاق ، حَدَّثَنِي أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي الْوَلِيدِ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ: قَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ : يَغْفِرُ اللَّهُ لِرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، أَنَا، وَاللَّهِ!، أَعْلَمُ بِالْحَدِيثِ مِنْهُ. إِنَّمَا أَتَى رَجُلَانِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدِ اقْتَتَلَا، فَقَالَ:" إِنْ كَانَ هَذَا شَأْنُكُمْ فَلَا تُكْرُوا الْمَزَارِعَ"، فَسَمِعَ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ قَوْلَهُ:" فَلَا تُكْرُوا الْمَزَارِعَ".
عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کو بخشے، اللہ کی قسم! یہ حدیث میں ان سے زیادہ جانتا ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو شخص آئے، ان دونوں میں لڑائی ہوئی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تمہارا یہی حال ہے تو کھیتوں کو کرائے پہ نہ دیا کرو“، رافع رضی اللہ عنہ نے صرف اتنا ہی سنا کہ کھیتوں کو کرائے پر نہ دیا کرو ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2461]
حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کی غلطی معاف فرمائے۔ قسم ہے اللہ کی! یہ حدیث مجھے ان سے زیادہ معلوم ہے۔ دو آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے جو آپس میں لڑ پڑے تھے۔ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم لوگوں کا یہی حال ہے تو کھیت بٹائی پر نہ دیا کرو۔“ حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے اتنا جملہ سن لیا: ”کھیت بٹائی پر نہ دیا کرو۔“” [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2461]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/البیوع 31 (3390)، سنن النسائی/الأیمان المزارعة 2 (3959)، (تحفة الأشراف: 3730)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/182، 187) (صحیح) (غایة المرام: 366- الإرواء: 1478 - 1479)»
وضاحت: ۱؎: معلوم ہوا کہ ممانعت اس وقت ہو گی جب لڑائی اور جھگڑے کا سبب بنے، ورنہ ملطلقاً کھیت بٹائی پر دینے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں روکا ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
11. بَابُ: الرُّخْصَةِ فِي الْمُزَارَعَةِ بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ
باب: تہائی یا چوتھائی پیداوار پر بٹائی کی رخصت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2462
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِطَاوُسٍ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ لَوْ تَرَكْتَ هَذِهِ الْمُخَابَرَةَ فَإِنَّهُمْ يَزْعُمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُ، فَقَالَ: أَيْ عَمْرُو إِنِّي أُعِينُهُمْ وَأُعْطِيهِمْ وَإِنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ أَخَذَ النَّاسَ عَلَيْهَا عِنْدَنَا، وَإِنَّ أَعْلَمَهُمْ يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَنِي، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَنْهَ عَنْهَا وَلَكِنْ قَالَ:" لَأَنْ يَمْنَحَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَأْخُذَ عَلَيْهَا أَجْرًا مَعْلُومًا".
عمرو بن دینار کہتے ہیں کہ میں نے طاؤس سے کہا: اے ابوعبدالرحمٰن! کاش آپ اس بٹائی کو چھوڑ دیتے، اس لیے کہ لوگ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے، تو وہ بولے: عمرو! میں ان کی مدد کرتا ہوں، اور ان کو (زمین بٹائی پر) دیتا ہوں، اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے ہماری موجودگی میں لوگوں سے ایسا معاملہ کیا ہے، اور ان کے سب سے بڑے عالم یعنی ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے بتایا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع نہیں کیا، بلکہ یوں فرمایا: ”اگر تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو یوں ہی بغیر کرایہ کے دیدے، تو وہ اس سے بہتر ہے کہ زمین کا ایک معین کرایہ لے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2462]
حضرت عمرو بن دینار رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے حضرت طاوس (بن کیسان) رحمہ اللہ سے کہا: ”اے ابو عبدالرحمٰن! کاش آپ «الْمُخَابَرَةُ» (بٹائی پر زمین دینا) چھوڑ دیں کیونکہ لوگ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا۔“ انہوں نے فرمایا: ”اے عمرو! میں ان کی مدد کرتا ہوں اور انہیں دیتا ہوں اور حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے ہمارے ہاں اس پر عمل کرایا ہے“ اور ان کے بڑے عالم، یعنی حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع نہیں فرمایا لیکن یہ فرمایا تھا: ”کوئی اپنے بھائی کو (بلا معاوضہ زمین) دے دے تو یہ اس پر مقرر معاوضہ لینے سے بہتر ہے۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2462]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
حدیث نمبر: 2463
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ ثَابِتٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ أَكْرَى الْأَرْضَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ عَلَى الثُّلُثِ وَالرُّبُعِ فَهُوَ يُعْمَلُ بِهِ إِلَى يَوْمِكَ هَذَا.
طاؤس سے روایت ہے کہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکرو عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے عہد میں زمین کو تہائی اور چوتھائی کرائے پر دیا، اور آج تک اسی پر عمل کیا جا رہا ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2463]
حضرت طاوس رحمہ اللہ سے روایت ہے، (انہوں نے فرمایا): ”حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں، حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہم کے زمانہ خلافت میں تہائی اور چوتھائی کی شرط پر زمین کرائے پر دی اور آج تک اسی پر عمل ہوتا آ رہا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2463]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11317، ومصباح الزجاجة: 866)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/230، 236) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
طاوس لم يسمع من معاذ رضي اللّٰه عنه شيئًا (جامع التحصيل للعلائي ص 201)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 467
إسناده ضعيف
طاوس لم يسمع من معاذ رضي اللّٰه عنه شيئًا (جامع التحصيل للعلائي ص 201)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 467
حدیث نمبر: 2464
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَأَنْ يَمْنَحَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ الْأَرْضَ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَأْخُذَ خَرَاجًا مَعْلُومًا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو صرف یہ فرمایا تھا: ”کوئی اپنے بھائی کو اپنی زمین یوں ہی مفت کھیتی کے لیے دیدے، تو یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ اس سے کوئی معین محصول لے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2464]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا تھا: ”اگر کوئی اپنے بھائی کو زمین بلا معاوضہ دے دے تو یہ کام اس کے لیے مقرر کردہ ٹھیکہ لینے سے بہتر ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2464]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظرحدیث (رقم: 2456) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
12. بَابُ: اسْتِكْرَاءِ الأَرْضِ بِالطَّعَامِ
باب: غلہ کے بدلے زمین کرایہ پر دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2465
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ: كُنَّا نُحَاقِلُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَزَعَمَ أَنَّ بَعْضَ عُمُومَتِهِ أَتَاهُمْ، فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلَا يُكْرِيهَا بِطَعَامٍ مُسَمَّى".
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں محاقلہ کیا کرتے تھے، پھر ان کا خیال ہے کہ ان کے چچاؤں میں سے کوئی آیا اور کہنے لگا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”جس کے پاس زمین ہو وہ اس کو متعین غلے کے بدلے کرائے پر نہ دے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2465]
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں محاقلہ کرتے تھے۔“ انہوں نے بیان کیا کہ پھر ان کے ایک چچا (حضرت ظہیر بن رافع رضی اللہ عنہ) نے آ کر انہیں کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ”جس کے پاس زمین ہو تو وہ اسے غلے کی مقرر مقدار کے عوض کرائے پر نہ دے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2465]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/البیوع 18 (1548)، سنن ابی داود/البیوع 32 (3395، 3396)، سنن النسائی/المزارعة 2 (3926)، (تحفة الأشراف: 3559)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/کراء الأرض 1 (1)، مسند احمد (3/464، 465، 466) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم