🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
18. بَابُ: النَّهْيِ عَنْ بَيْعِ الْمَاءِ
باب: پانی بیچنے کی ممانعت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2476
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ ، سَمِعْتُ إِيَاسَ بْنَ عَبْدٍ الْمُزَنِيَّ ، وَرَأَى نَاسًا يَبِيعُونَ الْمَاءَ، فَقَالَ: لَا تَبِيعُوا الْمَاءَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَى أَنْ يُبَاعَ الْمَاءُ".
ابومنہال کہتے ہیں کہ میں نے ایاس بن عبداللہ مزنی رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کچھ لوگوں کو پانی بیچتے ہوئے دیکھا تو کہا: پانی نہ بیچو اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی بیچنے سے منع کیا ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2476]
حضرت ایاس بن عبد مزنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کچھ لوگوں کو پانی فروخت کرتے دیکھا تو فرمایا: پانی نہ بیچو، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پانی فروخت کرنے سے منع کرتے سنا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2476]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/البیوع 63 (3478)، سنن الترمذی/البیوع 44 (1271)، سنن النسائی/البیوع 86 (4665)، (تحفة الأشراف: 1747)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/138، 417)، سنن الدارمی/البیوع 69 (2654) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یہ جب ہے کہ پانی کسی قدرتی دریا یا چشمہ میں موجود ہو تو وہ کسی کی ملکیت نہیں، اس کا بیچنا ناجائز ہے، لیکن اگر کوئی پانی بھر کر لائے اور گھڑے یا مشک یا بوتل وغیرہ میں رکھے تو اس کا استعمال بغیر اس کی اجازت کے درست نہیں ہے، اور اس کا بیچنا جائز ہے، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمان رضی اللہ عنہ کو بئر رومہ خریدنے کے لئے فرمایا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت سے پانی لیا جو اونٹ پر لائی تھی پھر لوگوں سے اس کی قیمت دلائی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2477
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ فَضْلِ الْمَاءِ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زائد پانی بیچنے سے منع فرمایا ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2477]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ضرورت پوری کرنے کے بعد) بچا ہوا پانی فروخت کرنے سے منع فرمایا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2477]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساقاة 8 (1565)، (تحفة الأشراف: 2829)، و قد أخرجہ: مسند احمد (3/356) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: زائد پانی سے مراد وہ پانی ہے جو اپنی اور اہل و عیال، جانوروں اور کھیتی کی ضرورت سے زائد ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
19. بَابُ: النَّهْيِ عَنْ مَنْعِ فَضْلِ الْمَاءِ لِيَمْنَعَ بِهِ الْكَلأَ
باب: ضرورت سے زائد پانی سے روکنا تاکہ وہاں کی گھاس بھی روک لے منع ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2478
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا يَمْنَعْ أَحَدُكُمْ فَضْلَ مَاءٍ لِيَمْنَعَ بِهِ الْكَلَأَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص ضرورت سے زائد پانی اس مقصد سے نہ روکے کہ وہاں کی گھاس بھی روکے رکھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2478]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کسی کو زائد پانی سے منع نہیں کرنا چاہیے تاکہ اس کے ذریعے سے گھاس روک لے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2478]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 13725)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/المساقاة 2 (2353)، صحیح مسلم/المساقاة 8 (2566)، موطا امام مالک/الأقضیة 26 (32)، مسند احمد (2/244، 463) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2479
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ حَارِثَةَ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يُمْنَعُ فَضْلُ الْمَاءِ وَلَا يُمْنَعُ نَقْعُ الْبِئْرِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ضرورت سے زائد پانی سے اور کنوئیں میں بچے ہوئے پانی سے کسی کو نہ روکا جائے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2479]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زائد پانی نہ روکا جائے اور کنویں کے پانی سے منع نہ کیا جائے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2479]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17886، ومصباح الزجاجة: 872)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/252، 268) (صحیح)» ‏‏‏‏ (سند میں حارثہ بن أبی الرجال ضعیف ہے، لیکن سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے)
وضاحت: ۱؎: اس لئے کہ کنویں سے پانی نکالنے میں اپنا نقصان نہیں اور دوسرے کا فائدہ ہے، اور اس سے کنویں کا پانی زیادہ صاف اور عمدہ ہو جاتا ہے اور اس میں اور تازہ پانی بھر آتا ہے، اور بعضوں نے اس کا یہ مطلب بتایا ہے کہ جو پانی اپنی ضرورت سے زیادہ ہو اس کا بیچنا منع ہے جب کوئی اس کو پینا چاہے یا اپنے جانوروں کو پلانا چاہے لیکن اگر باغ یا درختوں کو سینچنا چاہے تو اس کا بیچنا درست ہے، اور کنویں کا پانی بھی روکنا درست نہیں ہے اس سے جو اس کو پینا چاہے یا اپنے جانوروں کو پلانا چاہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
20. بَابُ: الشُّرْبِ مِنَ الأَوْدِيَةِ وَمِقْدَارِ حَبْسِ الْمَاءِ
باب: وادیوں سے آنے والے پانی کا استعمال کیسے کیا جائے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2480
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ خَاصَمَ الزُّبَيْرَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شِرَاجِ الْحَرَّةِ الَّتِي يَسْقُونَ بِهَا النَّخْلَ، فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ: سَرِّحْ الْمَاءَ يَمُرَّ، فَأَبَى عَلَيْهِ، فَاخْتَصَمَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اسْقِ يَا زُبَيْرُ، ثُمَّ أَرْسِلِ الْمَاءَ إِلَى جَارِكَ"، فَغَضِبَ الْأَنْصَارِيُّ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَنْ كَانَ ابْنَ عَمَّتِكَ؟ فَتَلَوَّنَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ:" يَا زُبَيْرُ! اسْقِ، ثُمَّ احْبِسْ الْمَاءَ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى الْجَدْرِ"، قَالَ: فَقَالَ الزُّبَيْرُ: وَاللَّهِ إِنِّي لَأَحْسِبُ هَذِهِ الْآيَةَ نَزَلَتْ فِي ذَلِكَ فَلا وَرَبِّكَ لا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لا يَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا سورة النساء آية 65.
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک انصاری ۱؎ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حرہ کے نالے کے سلسلے میں جس سے لوگ کھجور کے درخت سیراب کرتے تھے، (ان کے والد) زبیر رضی اللہ عنہ سے جھگڑا کیا، انصاری کہہ رہا تھا: پانی کو چھوڑ دو کہ آگے بہتا رہے، زبیر رضی اللہ عنہ نہیں مانے ۲؎ بالآخر دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس معاملہ لے گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زبیر (پانی روک کر) اپنے درختوں کو سینچ لو پھر اپنے پڑوسی کے لیے پانی چھوڑ دو، انصاری نے یہ سنا تو ناراض ہو گیا اور بولا: اللہ کے رسول! وہ آپ کی پھوپھی کے بیٹے ہیں نا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سنا تو آپ کے چہرے کا رنگ بدل گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زبیر! اپنے درختوں کو سینچ لو اور پانی روک لو یہاں تک کہ وہ مینڈوں تک بھر جائے۔ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم، میں سمجھتا ہوں کہ آیت کریمہ: «فلا وربك لا يؤمنون حتى يحكموك فيما شجر بينهم ثم لا يجدوا في أنفسهم حرجا مما قضيت ويسلموا تسليما» (سورة النساء: 65) سو قسم ہے تیرے رب کی! یہ مومن نہیں ہو سکتے، جب تک کہ تمام آپس کے اختلافات میں آپ کو حاکم نہ مان لیں، پھر جو فیصلے آپ ان میں کر دیں ان سے اپنے دل میں کسی طرح کی تنگی اور ناخوش نہ پائیں اور فرمانبرداری کے ساتھ قبول کر لیں، اسی معاملہ میں اتری ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2480]
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک انصاری آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کے خلاف حرہ کے ندی نالوں کے بارے میں شکایت کی، وہ اس سے کھجوروں کے باغات سیراب کرتے تھے۔ انصاری نے کہا: پانی گزر کر (میری زمین میں) آنے دیجیے۔ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے انکار کیا، چنانچہ وہ دونوں اپنا مقدمہ لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (دونوں کے بیانات سن کر) فرمایا: زبیر! (اپنے باغ کو) پانی دے کر اپنے ہمسائے (کے باغ) کی طرف پانی چھوڑ دیا کرو۔ انصاری کو (اس فیصلے سے) ناگواری محسوس ہوئی تو اس نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! (آپ نے ان کے حق میں فیصلہ دیا ہے) کیونکہ وہ آپ کی پھوپھی کا بیٹا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کا رنگ تبدیل (ہو کر سرخ) ہو گیا۔ پھر آپ نے فرمایا: اے زبیر! (باغ کو) پانی دو، پھر پانی روک رکھو حتی کہ وہ منڈیروں تک پہنچ جائے۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! میرے خیال میں یہ آیت اسی بارے میں نازل ہوئی ہے: ﴿فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا﴾ [سورة النساء: 65] چنانچہ (اے نبی!) آپ کے رب کی قسم! وہ ایمان والے نہیں ہو سکتے جب تک آپس کے اختلاف میں آپ کو حاکم نہ مان لیں، پھر جو فیصلے آپ ان میں کر دیں، ان سے اپنے دل میں کسی طرح کی تنگی اور ناخوشی محسوس نہ کریں، اور وہ اسے دل و جان سے مان لیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2480]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: (15) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: انصاری کا نام اطب تھا، انہوں نے ناسمجھی کی بنیاد پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں ایسی بات کہہ دی، کہ اگر کوئی شخص جان بوجھ کر ایسا گستاخانہ جملہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں کہے تو وہ کافر ہو جائے گا، بعض لوگوں کا خیال ہے کہ وہ مسلمان نہیں بلکہ کافر تھا، لیکن یہ قول مرجوح ہے، «‏‏‏‏واللہ اعلم» ‏‏‏‏ ۲؎: کیونکہ ان کا باغ نہر کی جانب اونچائی پر تھا اور انصاری کا ڈھلان پر جس سے زبیر رضی اللہ عنہ کے باغ سے سارا پانی بہہ کر نکل جا رہا تھا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2481
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ مَنْظُورِ بْنِ ثَعْلَبَةَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُقْبَةَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ ، عَنْ عَمِّهِ ثَعْلَبَةَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ ، قَالَ:" قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَيْلِ مَهْزُورٍ الْأَعْلَى فَوْقَ الْأَسْفَلِ، يَسْقِي الْأَعْلَى إِلَى الْكَعْبَيْنِ، ثُمَّ يُرْسِلُ إِلَى مَنْ هُوَ أَسْفَلُ مِنْهُ".
ثعلبہ بن ابی مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وادی مہزور کے نالہ کے سلسلہ میں یہ فیصلہ کیا کہ اوپری حصہ نچلے حصہ سے برتر ہے، جس کا کھیت اونچائی پر ہو، پہلے سینچ لے، اور ٹخنوں تک پانی اپنے کھیت میں بھر لے، پھر پانی کو اس شخص کے لیے چھوڑ دے جس کا کھیت نشیب (ترائی) میں ہو ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2481]
حضرت ثعلبہ بن ابومالک قرظی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وادی مہزور کے سیلابی پانی کے بارے میں یہ فیصلہ دیا کہ اوپر والا نیچے والے سے (پانی لینے کا) زیادہ حق رکھتا ہے۔ اوپر والا (کھیت کو) ٹخنوں تک پانی دے، پھر اپنے سے نیچے والے کی طرف پانی چھوڑ دے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2481]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2074، ومصباح الزجاجة: 873)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الأقضیة 31 (3639) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏ (سند میں زکریا بن منظور ضعیف، اور محمد بن عقبہ مستور راوی ہیں، لیکن شاہد سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے)
وضاحت: ۱؎: وہ بھی اپنے کھیت میں اتنا ہی پانی بھر کر تیسرے کی طرف چھوڑ دے جو اس سے نیچے علاقہ میں ہو،اسی طرح اخیر کیفیت تک عمل کیا جائے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2482
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، أَنْبَأَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَضَى فِي سَيْلِ مَهْزُورٍ أَنْ يُمْسِكَ حَتَّى يَبْلُغَ الْكَعْبَيْنِ ثُمَّ يُرْسِلَ الْمَاءَ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وادی مہزور کے نالے کے متعلق یہ فیصلہ کیا کہ پانی ٹخنوں تک روک لیا جائے، پھر اسے چھوڑ دیا جائے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2482]
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وادیِ مہزور کے سیلابی پانی کے بارے میں یہ فیصلہ دیا کہ: آدمی پانی روکے حتی کہ ٹخنوں تک پانی پہنچ جائے، پھر وہ (دوسرے کے لیے) پانی چھوڑ دے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2482]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الاقضیة 31 (3639)، (تحفة الأشراف: 8735) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2483
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغَلِّسِ ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ يَحْيَى بْنِ الْوَلِيدِ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَضَى فِي شُرْبِ النَّخْلِ مِنَ السَّيْلِ أَنَّ الْأَعْلَى فَالْأَعْلَى يَشْرَبُ قَبْلَ الْأَسْفَلِ وَيُتْرَكُ الْمَاءُ إِلَى الْكَعْبَيْنِ، ثُمَّ يُرْسَلُ الْمَاءُ إِلَى الْأَسْفَلِ الَّذِي يَلِيهِ وَكَذَلِكَ حَتَّى تَنْقَضِيَ الْحَوَائِطُ أَوْ يَفْنَى الْمَاءُ".
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کھجور کے درختوں کو نالہ سے سینچنے کے سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ کیا کہ جس کا باغ اونچائی پر ہو، پہلے وہ اپنے باغ کو ٹخنوں تک پانی سے بھر لے، پھر پانی کو نیچے کی طرف جو اس کے قریب ہے اس کے لیے چھوڑ دے، اسی طرح سلسلہ بہ سلسلہ سیراب کیا جائے، یہاں تک کہ باغات سینچ کر ختم ہو جائیں یا پانی ختم ہو جائے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2483]
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیلاب کے پانی سے کھجوروں کے باغ کو سینچنے کے بارے میں یہ فیصلہ دیا کہ اوپر والا نیچے والے سے پہلے پانی لے، اور پانی ٹخنوں تک چھوڑا جائے، پھر پانی اس سے متصل نیچے والے کی طرف چھوڑ دیا جائے، اسی طرح (سلسلہ جاری رہے) حتی کہ باغ ختم ہو جائیں یا پانی ختم ہو جائے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2483]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5066، ومصباح الزجاجة: 874) (صحیح)» ‏‏‏‏ (سند میں اسحاق بن یحییٰ مجہول راوی ہیں، اور ان کا عبادہ رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں ہے، لیکن سابقہ حدیث سے تقویت پاکر صحیح ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
ضعيف
انظر الحديث السابق (2213)
قال البوصيري: ’’ ھذا إسناد ضعيف،إسحاق بن يحيي لم يدرك عبادة بن الصامت،قاله البخاري ‘‘
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 468

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
21. بَابُ: قِسْمَةِ الْمَاءِ
باب: پانی کی تقسیم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2484
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ ، أَنْبَأَنَا أَبُو الْجَعْدِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ الْمُزَنِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يُبَدَّأُ بِالْخَيْلِ يَوْمَ وِرْدِهَا".
عمرو بن عوف مزنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب گھوڑے اپنی باری کے دن پانی پلانے کے لیے لائے جائیں تو الگ الگ لائے جائیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2484]
حضرت عمرو بن عوف مزنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانی پلانے کے دن پہلے گھوڑوں کو پلایا جائے (اونٹوں اور بکروں سے پہلے گھوڑوں کو پانی پلایا جائے)۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2484]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10783، ومصباح الزجاجة: 875) (ضعیف جدا)» ‏‏‏‏ (سند میں عمرو بن عوف المزنی ضعیف راوی ہیں، اور کثیر بن عبد اللہ سخت ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 3384)
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
كثير بن عبد اللّٰه العوفي: ضعيف جدًا
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 468

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2485
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الطَّائِفِيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كُلُّ قَسْمٍ قُسِمَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَهُوَ عَلَى مَا قُسِمَ، وَكُلُّ قَسْمٍ أَدْرَكَهُ الْإِسْلَامُ فَهُوَ عَلَى قَسْمِ الْإِسْلَامِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زمانہ جاہلیت میں جو تقسیم ہو چکی ہے وہ اسی طرح باقی رہے گی جیسی وہ ہوئی ہے، اور جو تقسیم زمانہ اسلام میں ہوئی ہے وہ اسلام کے اصولوں کے مطابق ہو گی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2485]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو تقسیم زمانہ جاہلیت میں ہو چکی ہے، وہ جس طرح تقسیم ہو گئی ہے اسی طرح رہے گی اور جو تقسیم اسلام کے زمانے میں ہو گی، وہ اسلام کے طریقہ تقسیم کے مطابق ہو گی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2485]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الفرائض 11 (2914)، (تحفة الأشراف: 5383) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں