سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. بَابُ: الرَّجُلِ يَسْتَقِي كُلَّ دَلْوٍ بِتَمْرَةٍ وَيَشْتَرِطُ جَلْدَةً
باب: ایک ڈول پانی کھینچنے پر ایک عمدہ کھجور لینے کی شرط لگانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2446
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ حَنَشٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" أَصَابَ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَصَاصَةٌ فَبَلَغَ ذَلِكَ عَلِيًّا فَخَرَجَ يَلْتَمِسُ عَمَلًا يُصِيبُ فِيهِ شَيْئًا لِيُغِيثَ بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَى بُسْتَانًا لِرَجُلٍ مِنَ الْيَهُودِ، فَاسْتَقَى لَهُ سَبْعَةَ عَشَرَ دَلْوًا كُلُّ دَلْوٍ بِتَمْرَةٍ فَخَيَّرَهُ الْيَهُودِيُّ مِنْ تَمْرِهِ سَبْعَ عَشَرَةَ عَجْوَةً فَجَاءَ بِهَا إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک بار بھوک لگی یہ خبر علی رضی اللہ عنہ کو پہنچی، تو وہ کام کی تلاش میں نکلے جسے کر کے کچھ پائیں تو لے کر آئیں تاکہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھلا سکیں، چنانچہ وہ ایک یہودی کے باغ میں آئے، اور اس کے لیے سترہ ڈول پانی کھینچا، ہر ڈول ایک کھجور کے بدلے، یہودی نے ان کو اختیار دیا کہ وہ اس کی کھجوروں میں سے سترہ عجوہ کھجوریں چن لیں، وہ انہیں لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2446]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ”اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فاقہ آ گیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اس کا علم ہوا تو وہ کسی کام کی تلاش میں نکلے تاکہ اس کے ذریعے سے کچھ (اجرت) ملے جس سے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانا کھلائیں۔ وہ ایک یہودی کے باغ میں جا پہنچے اور اس کے لیے، ایک ڈول پر ایک کھجور مزدوری کی شرط پر، سترہ ڈول پانی نکالا۔ یہودی نے آپ کو اختیار دیا کہ سترہ عجوہ کھجوریں چن کر لے لیں۔ وہ ان (کھجوروں) کو لے کر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گئے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2446]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6032، ومصباح الزجاجة: 863) (ضعیف جدا)» (سند میں حنش حسین بن قیس الرحبی) متروک الحدیث ہے، ملاحظہ ہو: الإروا ء: 5 /314)
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
حنش: متروك
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 467
إسناده ضعيف جدًا
حنش: متروك
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 467
حدیث نمبر: 2447
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ أَبِي حَيَّةَ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ:" كُنْتُ أَدْلُو الدَّلْوَ بِتَمْرَةٍ وَأَشْتَرِطُ أَنَّهَا جَلْدَةٌ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک کھجور کے بدلے ایک ڈول پانی نکالتا تھا، اور یہ شرط لگا لیتا تھا کہ وہ کھجور خشک اور عمدہ ہو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2447]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں ایک کھجور کے بدلے میں ایک ڈول پانی نکالتا تھا اور یہ شرط لگا لیتا تھا کہ وہ عمدہ ہو گی۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2447]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10325، ومصباح الزجاجة: 864) (حسن)» (سند میں ابواسحاق مدلس و مختلط راوی ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حدیث حسن ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: 5/ 314- 315 تحت رقم: 91 14)
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سفيان الثوري و أبو إسحاق عنعنا
وللحديث شواهد ضعيفة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 467
إسناده ضعيف
سفيان الثوري و أبو إسحاق عنعنا
وللحديث شواهد ضعيفة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 467
حدیث نمبر: 2448
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لِي أَرَى لَوْنَكَ مُنْكَفِئًا، قَالَ:" الْخَمْصُ" فَانْطَلَقَ الْأَنْصَارِيُّ إِلَى رَحْلِهِ فَلَمْ يَجِدْ فِي رَحْلِهِ شَيْئًا فَخَرَجَ يَطْلُبُ فَإِذَا هُوَ بِيَهُودِيٍّ يَسْقِي نَخْلًا، فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ لِلْيَهُودِيِّ: أَسْقِي نَخْلَكَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: كُلُّ دَلْوٍ بِتَمْرَةٍ. وَاشْتَرَطَ الْأَنْصَارِيُّ أَنْ لَا يَأْخُذَ خَدِرَةً وَلَا تَارِزَةً وَلَا حَشَفَةً، وَلَا يَأْخُذَ إِلَّا جَلْدَةً، فَاسْتَقَى بِنَحْوٍ مِنْ صَاعَيْنِ، فَجَاءَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک انصاری نے آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا وجہ ہے کہ میں آپ کا رنگ بدلا ہوا پاتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھوک سے“، یہ سن کر انصاری اپنے گھر گئے، وہاں انہیں کچھ نہ ملا، پھر کوئی کام ڈھونڈنے نکلے، تو دیکھا کہ ایک یہودی اپنے کھجور کے درختوں کو پانی دے رہا ہے، انصاری نے یہودی سے کہا: میں تمہارے درختوں کو سینچ دوں؟ اس نے کہا: ہاں، سینچ دو، کہا: ہر ڈول کے بدلے ایک کھجور لوں گا، اور انصاری نے یہ شرط بھی لگا لی کہ کالی، سوکھی اور خراب کھجوریں نہیں لوں گا، صرف اچھی ہی لوں گا، اس طرح انہوں نے دو صاع کے قریب کھجوریں حاصل کیں، اور انہیں لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2448]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ انصار میں سے ایک صاحب نے آکر عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے آپ (کے چہرہ مبارک) کا رنگ بدلا ہوا کیوں محسوس ہو رہا ہے؟“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھوک (کی وجہ سے) ہے۔“ انصاری صحابی اپنے گھر گئے، گھر میں انہیں (کھانے کی) کوئی چیز نہ ملی۔ وہ (کام کی) تلاش میں نکل کھڑے ہوئے۔ دیکھا کہ ایک یہودی کھجور کے درختوں کو پانی دے رہا تھا۔ انصاری صحابی نے یہودی سے کہا: ”کیا میں تمہارے درختوں کو پانی دے دوں؟“ اس نے کہا: ”ہاں (دے دو)“ اور کہا: ”ہر ڈول کا معاوضہ ایک کھجور ہو گی۔“ انصاری نے شرط لگا لی کہ وہ کالی، سوکھی اور خراب کھجور نہیں لیں گے بلکہ عمدہ کھجور ہی لیں گے۔ انہوں نے (باغ کو) پانی دے کر اس کے عوض تقریباً دو صاع کھجوریں حاصل کر لیں اور انہیں لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گئے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2448]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 14335، ومصباح الزجاجة: 865) (ضعیف جدا)» (سند میں عبداللہ بن سعید بن کیسان متہم بالکذب ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
عبد اللّٰه بن سعيد المقبري:متروك
والسند ضعفه البوصيري
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 467
إسناده ضعيف جدًا
عبد اللّٰه بن سعيد المقبري:متروك
والسند ضعفه البوصيري
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 467
7. بَابُ: الْمُزَارَعَةِ بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ
باب: تہائی یا چوتھائی پیداوار پر کھیت کو بٹائی پر دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2449
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ، وَقَالَ: إِنَّمَا يَزْرَعُ ثَلَاثَةٌ رَجُلٌ لَهُ أَرْضٌ فَهُوَ يَزْرَعُهَا وَرَجُلٌ مُنِحَ أَرْضًا فَهُوَ يَزْرَعُ مَا مُنِحَ وَرَجُلٌ اسْتَكْرَى أَرْضًا بِذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ".
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ بیع و مزابنہ سے منع کیا، اور فرمایا: ”کھیتی تین آدمی کریں: ایک وہ جس کی خود زمین ہو، وہ اپنی زمین میں کھیتی کرے، دوسرے وہ جس کو زمین (ہبہ یا مستعار) دی گئی ہو، تو وہ اس دی گئی زمین میں کھیتی کرے، تیسرے وہ جو سونا یا چاندی (نقد) دے کر زمین ٹھیکے پر لے لے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2449]
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «الْمُحَاقَلَةِ» ”محاقلہ“ اور «الْمُزَابَنَةِ» ”مزابنہ“ سے منع فرمایا اور ارشاد فرمایا: ”تین طرح کے افراد کاشت کر سکتے ہیں: ایک وہ آدمی جس کی زمین ہے، وہ اسے کاشت کر سکتا ہے، دوسرا وہ جسے کچھ زمین (تحفے کے طور پر) دی گئی، وہ اس زمین کو کاشت کر سکتا ہے جو اسے دی گئی، تیسرا وہ جو سونے یا چاندی کے عوض زمین کرائے پر لیتا ہے۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2449]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/البیوع 32 (3400)، سنن النسائی/المزراعة 2 (3921)، (تحفة الأشراف: 3557)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحرث 18 (2340)، الھبة 35 (2632)، صحیح مسلم/البیوع 17 (1547)، موطا امام مالک/کراء الارض 1 (1)، مسند احمد (3/302، 304، 354، 363، 464، 465، 466) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث میں محاقلہ سے مراد مزارعت (بٹائی) ہی ہے، اور اس کی ممانعت کا معاملہ اخلاقاً ہے نہ کہ بطور حرمت، یہ حکم ابتدائے اسلام میں تھا بعد میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ یہ کہ اس کی اجازت دی، بلکہ خود اہل خیبر سے بٹائی پر معاملہ کیا جیسا کہ «باب النخيل والكرم» میں آئے گا۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
حدیث نمبر: 2450
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ:" كُنَّا نُخَابِرُ وَلَا نَرَى بِذَلِكَ بَأْسًا حَتَّى سَمِعْنَا رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ ، يَقُولُ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُ فَتَرَكْنَاهُ لِقَوْلِهِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم مزارعت (بٹائی کھیتی) کیا کرتے تھے، اور اس میں کوئی حرج نہیں محسوس کرتے تھے، یہاں تک کہ ہم نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے تو پھر ہم نے ان کے کہنے سے اسے چھوڑ دیا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2450]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”ہم مخابرہ پر عمل کرتے تھے اور اس میں حرج نہیں سمجھتے تھے حتیٰ کہ ہم نے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے ان کا یہ فرمان سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے، تو ان کی بات سن کر ہم نے مخابرہ ترک کر دیا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2450]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/البیوع 21 (1547)، سنن ابی داود/البیوع 31 (3389)، سنن النسائی/المزراعة 2 (3927، 3928)، (تحفة الأشراف: 3566)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/234، 2/11، 3/463)، 465، 4/142) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ کی حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ممانعت تنزیہی، یعنی خلاف اولیٰ تھی، تحریمی نہیں کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مطلب یہ تھا کہ اپنے مسلمان بھائی کو کھیتی کے لئے مفت زمین دینی چاہئے، اسے بٹائی پر دینا کیا ضروری ہے، چونکہ عرب میں زمین کی کمی نہیں، پس جس قدر اپنے سے ہو سکے اس میں خود زراعت کرے، اور جو بچ رہے وہ اپنے مسلمان بھائی کو عاریت کے طور پر دے دے تاکہ ثواب حاصل ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
حدیث نمبر: 2451
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي عَطَاءٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: كَانَتْ لِرِجَالٍ مِنَّا فُضُولُ أَرَضِينَ يُؤَاجِرُونَهَا عَلَى الثُّلُثِ وَالرُّبُعِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ كَانَتْ لَهُ فُضُولُ أَرْضِينَ فَلْيَزْرَعْهَا أَوْ لِيُزْرِعْهَا أَخَاهُ فَإِنْ أَبَى فَلْيُمْسِكْ أَرْضَهُ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم میں سے کچھ لوگوں کے پاس زائد زمینیں تھیں، جنہیں وہ تہائی یا چوتھائی پیداوار پر بٹائی پر دیا کرتے تھے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے پاس زائد زمینیں ہوں تو ان میں وہ یا تو خود کھیتی کرے یا اپنے بھائی کو کھیتی کے لیے دیدے، اگر یہ دونوں نہ کرے تو اپنی زمین اپنے پاس ہی روکے رہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2451]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”ہم میں سے کچھ افراد کے پاس (ضرورت سے) زائد زمینیں تھیں، وہ انہیں تہائی یا چوتھائی پیداوار کے عوض بٹائی پر دیتے تھے۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے پاس زائد زمین ہو تو وہ اسے خود کاشت کرے یا اپنے بھائی کو کاشت کرنے دے، اگر وہ ایسے نہیں کرنا چاہتا تو اپنی زمین اپنے پاس رکھے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2451]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحرث 18 (2340)، الہبة 35 (2632)، صحیح مسلم/البیوع 17 (1536)، سنن النسائی/المزارعة 2 (3907)، (تحفة الأشراف: 2424)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/302، 304، 312، 354، 363)، سنن الدارمی/البیوع 72 (2657) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
حدیث نمبر: 2452
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا أَوْ لِيَمْنَحْهَا أَخَاهُ فَإِنْ أَبَى فَلْيُمْسِكْ أَرْضَهُ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے پاس زمین ہو وہ خود کھیتی کرے یا اپنے بھائی کو (مفت) دیدے، ورنہ اپنی زمین اپنے پاس ہی روکے رہے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2452]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے پاس زمین ہے تو وہ اسے کاشت کرے یا اپنے بھائی کو کاشت کے لیے (بلامعاوضہ) دے دے۔ وہ ایسا نہیں کرنا چاہتا تو اپنی زمین اپنے پاس رکھے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2452]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحرث 18 (2341)، صحیح مسلم/البیوع 17 (1544)، (تحفة الأشراف: 15415) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس مفہوم کی احادیث کو ابتدائے اسلام کے احکام پر محمول کیا جائے، کیونکہ سونے اور چاندی کے عوض تو کرایہ پر زمین دینا بالاتفاق جائز ہے جبکہ ان میں اس کی بھی ممانعت ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
8. بَابُ: كِرَاءِ الأَرْضِ
باب: زمین کرایہ پر دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2453
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، وَأَبُو أُسَامَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ أَوْ قَالَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ: عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ كَانَ يُكْرِي أَرْضًا لَهُ مَزَارِعًا فَأَتَاهُ إِنْسَانٌ فَأَخْبَرَهُ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْمَزَارِعِ"، فَذَهَبَ ابْنُ عُمَرَ وَذَهَبْتُ مَعَهُ حَتَّى أَتَاهُ بِالْبَلَاطِ فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ، فَأَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْمَزَارِعِ" فَتَرَكَ عَبْدُ اللَّهِ كِرَاءَهَا.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ اپنی زمین کرایہ پر کھیتی کے لیے دیا کرتے تھے، ان کے پاس ایک شخص آیا اور انہیں رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ والی حدیث کی خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھیتوں کو کرائیے پر دینے سے منع کیا ہے، یہ سن کر ابن عمر رضی اللہ عنہما چلے اور میں بھی ان کے ساتھ چلا یہاں تک کہ بلاط میں رافع رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، اور ان سے اس حدیث کے متعلق سوال کیا، تو انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھیتوں کو کرائیے پر دینے سے منع کیا ہے، اس پر عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ان زمینوں کو کرایہ پر دینا چھوڑ دیا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2453]
حضرت نافع رحمہ اللہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ اپنی زمین کے کھیت کرائے (ٹھیکے) پر دیا کرتے تھے۔ ان کے پاس ایک شخص آیا اور حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کی حدیث بیان کی کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھیتوں کو کرائے پر دینے سے منع فرمایا ہے۔“ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ (حضرت رافع رضی اللہ عنہ کے پاس) گئے اور میں بھی آپ کے ساتھ گیا۔ انہوں نے مقام بلاط پر ان سے ملاقات کی اور یہ مسئلہ دریافت کیا تو حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھیتوں کو کرائے پر دینے سے منع فرمایا ہے“، چنانچہ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے زمین کرائے پر دینی ترک کر دی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2453]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الإجارة 22 (2285)، الحرث 18 (2345)، صحیح مسلم/البیوع 17 (1547)، سنن ابی داود/البیوع 31 (3394)، سنن النسائی/المزارعة 2 (3921)، (تحفة الأشراف: 3586)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/کراء الأرض 1 (3)، مسند احمد (1/234، 4/142) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: بلاط: مسجد نبوی کے پاس ایک مقام کا نام ہے۔ یہ رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کی اگلی حدیث کے خلاف ہے، اس میں بٹائی سے منع کیا ہے، لیکن سونے چاندی کے بدلے زمین کا کرایہ پر دینا درست بیان ہوا ہے،اور اس روایت میں مطلقاً کرایہ پر دینے سے ممانعت ہے اسی واسطے اہل حدیث نے رافع رضی اللہ عنہ کی حدیث کو ترک کیا کیونکہ وہ مضطرب ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
حدیث نمبر: 2454
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ الْحِمْصِيُّ ، حَدَّثَنَا ضَمْرَةُ بْنُ رَبِيعَةَ ، عَنْ ابْنِ شَوْذَبٍ ، عَنْ مَطَرٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا أَوْ لِيُزْرِعْهَا وَلَا يُؤَاجِرْهَا".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا تو فرمایا: ”جس کے پاس زمین ہو وہ اس میں خود کھیتی کرے، یا کسی کو کھیتی کے لیے دیدے، لیکن کرائے پر نہ دے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2454]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا: ”جس کے پاس زمین ہو تو وہ اسے کاشت کرے، یا کسی سے کاشت کرا لے، اور اسے کرائے پر نہ دے۔“” [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2454]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/البیوع 17 (1536)، سنن النسائی/المزارعة 2 (3908)، (تحفة الأشراف: 2486)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحرث 18 (2340)، الھبة 35 (2632)، مسند احمد (3/302، 304، 312، 354، 363)، سنن الدارمی/البیوع 72 (2657) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
حدیث نمبر: 2455
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا مُطَرِّفُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ مَوْلَى ابْنِ أَبِي أَحْمَدَ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُحَاقَلَةُ اسْتِكْرَاءُ الْأَرْضِ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ سے منع کیا ہے، اور محاقلہ زمین کو کرایہ پر دینا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2455]
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «الْمُحَاقَلَةِ» (محاقلہ) سے منع فرمایا اور محاقلہ کا مطلب ہے: ”زمین کرائے پر دینا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2455]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/البیوع 81 (2186)، صحیح مسلم/البیوع 17 (1546)، (تحفة الأشراف: 4418)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/البیوع 13 (24)، مسند احمد (3/6، 8، 60)، سنن الدارمی/البیوع 23 (2599) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح ق وليس عند خ تفسير المحاقلة
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه