سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابُ: الْخُرُوجِ إِلَى الْحَجِّ
باب: حج کے لیے نکلنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2882
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، وَأَبُو مُصْعَبٍ الزُّهْرِيُّ ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" السَّفَرُ قِطْعَةٌ مِنَ الْعَذَابِ يَمْنَعُ أَحَدَكُمْ نَوْمَهُ وَطَعَامَهُ وَشَرَابَهُ، فَإِذَا قَضَى أَحَدُكُمْ نَهْمَتَهُ مِنْ سَفَرِهِ فَلْيُعَجِّلِ الرُّجُوعَ إِلَى أَهْلِهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سفر عذاب کا ایک ٹکڑا ہے، وہ تمہارے سونے، اور کھانے پینے (کی سہولتوں) میں رکاوٹ بنتا ہے، لہٰذا تم میں سے کوئی جب اپنے سفر کی ضرورت پوری کر لے، تو جلد سے جلد اپنے گھر لوٹ آئے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2882]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سفر عذاب کا ایک ٹکڑا ہے۔ وہ آدمی کو نیند سے اور کھانے سے روک دیتا ہے، اس لیے جب کوئی اپنے سفر سے مقصود کام پورا کر لے تو اسے چاہیے کہ جلدی گھر لوٹ آئے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2882]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/العمرة 19 (1804)، الجہاد 136 (3001)، الأطعمة 30 (5429)، صحیح مسلم/الإمارة 55 (1927)، (تحفة الأشراف: 12572)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الاستئذان 15 (39)، مسند احمد (2/236، 445)، سنن الدارمی/الاستئذان 40 (2712) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بلا ضرورت سفر میں رہنا اور تکلیفیں اٹھانا صحیح نہیں ہے، یہ بھی معلوم ہوا کہ سفر گرچہ حج یا جہاد کے لیے ہو تب بھی کام پورا ہونے کے بعد جلدی گھر لوٹنا بہتر ہے، اس میں خود اس شخص کو بھی آرام ہے اور اس کے گھر والوں کو بھی جو جدائی سے پریشان رہتے ہیں، اور مدت دراز تک شوہر کا اپنی بیوی سے علاحدہ رہنا بھی مناسب نہیں ہے، حاجت بشری اور خواہش انسانی ساتھ لگی ہوئی ہے مبادا گناہ میں گرفتاری ہو، اللہ بچائے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
الف: متفق عليه، ب: صحيح
الف: متفق عليه، ب: صحيح
حدیث نمبر: 2882M
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ.
اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی طرح مروی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2882M]
قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث نمبر: 2883
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَعَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل أَبُو إِسْرَائِيلَ ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ الْفَضْلِ ، أَوْ أَحَدِهِمَا عَنِ الْآخَرِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَرَادَ الْحَجَّ فَلْيَتَعَجَّلْ، فَإِنَّهُ قَدْ يَمْرَضُ الْمَرِيضُ، وَتَضِلُّ الضَّالَّةُ، وَتَعْرِضُ الْحَاجَةُ".
عبداللہ بن عباس، فضل رضی اللہ عنہم سے روایت کرتے ہیں یا ان میں ایک دوسرے سے روایت کرتے ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص حج کا قصد کرے تو اسے جلدی سے انجام دے لے، اس لیے کہ کبھی آدمی بیمار پڑ جاتا ہے یا کبھی کوئی چیز گم ہو جاتی ہے، (جیسے سواری وغیرہ) یا کبھی کوئی ضرورت پیش آ جاتی ہے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2883]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ یا حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص حج کا ارادہ رکھتا ہو اسے چاہیے کہ جلدی کرے، کیونکہ ممکن ہے آدمی بیمار ہو جائے یا اس کی سواری گم ہو جائے یا کوئی اور ضرورت پیش آ جائے۔ (جس کی وجہ سے وہ حج نہ کر سکے)۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2883]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11047، ومصباح الزجاجة: 1015)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/المناسک 6 (1732)، مسند احمد (1/225، 323، 355)، سنن الدارمی/الحج 1 (1825) (حسن)» (سند میں اسماعیل بن خلیفہ ضعیف ہیں، لیکن متابعات و شواہد کی وجہ سے یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: 990)
وضاحت: ۱؎: تاخیر کی صورت میں اس قسم کے حالات سے دو چار ہو سکتا ہے، اور آدمی ایک فرض کا تارک ہو سکتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
2. بَابُ: فَرْضِ الْحَجِّ
باب: حج کی فرضیت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2884
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ وَرْدَانَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلا سورة آل عمران آية 97، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الْحَجُّ فِي كُلِّ عَامٍ؟، فَسَكَتَ، ثُمَّ قَالُوا: أَفِي كُلِّ عَامٍ؟، فَقَالَ:" لَا، وَلَوْ قُلْتُ: نَعَمْ، لَوَجَبَتْ، فَنَزَلَتْ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ سورة المائدة آية 101".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت کریمہ: «ولله على الناس حج البيت من استطاع إليه سبيلا» ”اللہ کے لیے ان لوگوں پر بیت اللہ کا حج کرنا فرض ہے، جو وہاں تک پہنچنے کی قدرت رکھتے ہوں“ (سورۃ آل عمران: ۹۷) نازل ہوئی تو لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا حج ہر سال فرض ہے ۱؎؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، لوگوں نے پھر سوال کیا: کیا ہر سال حج فرض ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، اور اگر میں، ہاں، کہہ دیتا تو (ہر سال) واجب ہو جاتا“، اس پر آیت کریمہ: «يا أيها الذين آمنوا لا تسألوا عن أشياء إن تبد لكم تسؤكم» ”اے ایمان والو! تم ان چیزوں کے بارے میں سوال نہ کرو اگر وہ تم پر ظاہر کر دی جائیں تو تمہارے لیے بار خاطر ہوں گی“ (سورۃ المائدہ: ۱۰۱) نازل ہوئی ۲؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2884]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا﴾ [سورة آل عمران: 97] ”اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں پر جو اس کی طرف راہ پا سکتے ہوں اس گھر کا حج فرض کر دیا ہے“ تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہر سال حج کرنا فرض ہے؟“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ انہوں نے پھر عرض کیا: ”کیا ہر سال؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔ اور اگر میں کہہ دیتا تو (ہر سال ادا کرنا) فرض ہو جاتا۔“ تب یہ آیت نازل ہوئی: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِن تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ﴾ [سورة المائدة: 101] ”اے ایمان والو! ایسی باتیں مت پوچھو کہ اگر تم پر ظاہر کر دی جائیں تو تمہیں ناگوار ہوں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2884]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الحج 5 (814)، (تحفة الأشراف: 10111)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/113) (ضعیف)» (سند میں عبدالاعلی ضعیف راوی ہیں، لیکن متن حدیث نزول آیت کے علاوہ صحیح و ثابت ہے، ملاحظہ ہو: آگے حدیث نمبر 2885)
وضاحت: ۱؎: حج اسلام کا پانچواں بنیادی رکن ہے جو ۵ ھ یا ۶ ھ میں فرض ہوا، بعض لوگوں کے نزدیک ۹ ھ یا ۱۰ ھ میں فرض ہوا ہے زادالمعاد میں حافظ ابن القیم کا رجحان اسی طرف ہے۔
۲؎: بلا ضرورت سوال کرنا منع ہے، کیونکہ سوال سے ہر چیز کھول کر بیان کی جاتی ہے اور جو سوال نہ ہو تو مجمل رہتی ہے اور مجمل میں بڑی گنجائش رہتی ہے، اسی حج کی آیت میں دیکھیں کہ اس میں تفصیل نہیں تھی کہ ہر سال حج فرض ہے یا زندگی میں ایک بار، پس اگر زندگی میں ایک بار بھی حج کر لیا تو آیت پر عمل ہو گیا، اور یہ کافی تھا پوچھنے کی حاجت نہ تھی، لیکن صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے پوچھا، اگر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہاں فرما دیتے تو ہر سال حج فرض ہو جاتا اور امت کو بڑی تکلیف ہوتی خصوصاً دور دراز ملک والوں کو وہ ہر سال حج کے لیے کیونکر جا سکتے ہیں، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت پر رحم فرمایا، اور خاموش رہے جب انہوں نے پھر سوال کیا تو انکار میں جواب دیا یعنی ہر سال فرض نہیں، اور آئندہ کے لیے ان کو بلاضرورت سوال کرنے سے منع فرمایا۔
۲؎: بلا ضرورت سوال کرنا منع ہے، کیونکہ سوال سے ہر چیز کھول کر بیان کی جاتی ہے اور جو سوال نہ ہو تو مجمل رہتی ہے اور مجمل میں بڑی گنجائش رہتی ہے، اسی حج کی آیت میں دیکھیں کہ اس میں تفصیل نہیں تھی کہ ہر سال حج فرض ہے یا زندگی میں ایک بار، پس اگر زندگی میں ایک بار بھی حج کر لیا تو آیت پر عمل ہو گیا، اور یہ کافی تھا پوچھنے کی حاجت نہ تھی، لیکن صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے پوچھا، اگر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہاں فرما دیتے تو ہر سال حج فرض ہو جاتا اور امت کو بڑی تکلیف ہوتی خصوصاً دور دراز ملک والوں کو وہ ہر سال حج کے لیے کیونکر جا سکتے ہیں، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت پر رحم فرمایا، اور خاموش رہے جب انہوں نے پھر سوال کیا تو انکار میں جواب دیا یعنی ہر سال فرض نہیں، اور آئندہ کے لیے ان کو بلاضرورت سوال کرنے سے منع فرمایا۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (814)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 482
إسناده ضعيف
ترمذي (814)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 482
حدیث نمبر: 2885
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الْحَجُّ فِي كُلِّ عَامٍ؟، قَالَ:" لَوْ قُلْتُ: نَعَمْ، لَوَجَبَتْ، وَلَوْ وَجَبَتْ، لَمْ تَقُومُوا بِهَا، وَلَوْ لَمْ تَقُومُوا بِهَا عُذِّبْتُمْ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا حج ہر سال واجب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: ”اگر میں ہاں کہہ دوں تو وہ (ہر سال) واجب ہو جائے گا، اور اگر (ہر سال) واجب ہو گیا تو تم اسے انجام نہ دے سکو گے، اور اگر انجام نہ دے سکے تو تمہیں عذاب دیا جائے گا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2885]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا حج ہر سال فرض ہے؟“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں ہاں کہہ دیتا تو وہ فرض ہو جاتا اور اگر وہ ہو جاتا تو تم اسے (پابندی سے) ادا نہ کر سکتے اور اگر اسے پابندی سے ادا نہ کرتے تو تمہیں عذاب ہوتا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2885]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 927، ومصباح الزجاجة: 1016)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/387) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سليمان الأعمش عنعن
و روي مسلم (1337): ((لو قلت: نعم،لوجبت و لما استطعتم)) وھو يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 482
إسناده ضعيف
سليمان الأعمش عنعن
و روي مسلم (1337): ((لو قلت: نعم،لوجبت و لما استطعتم)) وھو يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 482
حدیث نمبر: 2886
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ الْأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ، سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الْحَجُّ فِي كُلِّ سَنَةٍ أَوْ مَرَّةً وَاحِدَةً؟، قَالَ:" بَلْ مَرَّةً وَاحِدَةً فَمَنِ اسْتَطَاعَ فَتَطَوَّعَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا اور کہا: اللہ کے رسول! کیا حج ہر سال فرض ہے، یا صرف ایک بار؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، صرف ایک مرتبہ فرض ہے، البتہ جو (مزید کی) استطاعت رکھتا ہو تو وہ اسے بطور نفل کرے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2886]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا اور کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا حج ہر سال (ادا کرنا فرض) ہے یا (زندگی میں) ایک ہی بار؟“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلکہ ایک ہی بار (فرض ہے) پھر جسے طاقت ہو تو وہ نفلی حج ادا کرلے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2886]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الحج 1 (1721)، سنن النسائی/الحج 1 (2621)، (تحفة الأشراف: 6556، ومصباح الزجاجة: 1017)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/255، 290، 301، 303، 323، 325، 352، 370، 371)، سنن الدارمی/الحج 4 (1829) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
3. بَابُ: فَضْلِ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ
باب: حج اور عمرہ کی فضیلت۔
حدیث نمبر: 2887
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ ، عَنْ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" تَابِعُوا بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ، فَإِنَّ الْمُتَابَعَةَ بَيْنَهُمَا تَنْفِي الْفَقْرَ وَالذُّنُوبَ، كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ".
عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حج اور عمرہ کو یکے بعد دیگرے ادا کرو، اس لیے کہ انہیں باربار کرنا فقر اور گناہوں کو ایسے ہی دور کر دیتا ہے جیسے بھٹی لوہے کے میل کو“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2887]
حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حج اور عمرے مسلسل کرتے رہا کرو کیونکہ انہیں پے درپے ادا کرنا مفلسی اور گناہوں کو اس طرح دور کر دیتا ہے جس طرح بھٹی لوہے کی میل کچیل دور کر دیتی ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2887]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10477، ومصباح الزجاجة: 1018) (صحیح)» (سند میں عاصم بن عبید اللہ ضعیف راوی ہیں، لیکن اصل حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ وغیرہ سے ثابت ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 1200)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
حدیث نمبر: 2887M
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ.
اس سند سے بھی عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2887M]
قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث نمبر: 2888
حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْعُمْرَةُ إِلَى الْعُمْرَةِ كَفَّارَةُ مَا بَيْنَهُمَا، وَالْحَجُّ الْمَبْرُورُ لَيْسَ لَهُ جَزَاءٌ إِلَّا الْجَنَّةُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک عمرے سے دوسرے عمرے تک جتنے گناہ ہوں ان سب کا کفارہ یہ عمرہ ہوتا ہے، اور حج مبرور (مقبول) کا بدلہ سوائے جنت کے کچھ اور نہیں“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2888]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک عمرے کے بعد دوسرا عمرہ دونوں کی درمیانی مدت کے گناہوں کا کفارہ ہو جاتا ہے، اور حج مبرور (نیکیوں والے حج) کا بدلہ محض جنت ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2888]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/العمرة 1 (1773)، صحیح مسلم/الحج 79 (1349)، سنن النسائی/الحج 5 (2630)، (تحفة الأشراف: 12573)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحج 90 (933)، موطا امام مالک/الحج 21 (65)، مسند احمد (2/246، 461، 462)، سنن الدارمی/الحج 7 (1836) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: حج مبرور: حج مقبول کو کہتے ہیں اور بعض کے نزدیک مبرور وہ حج ہے جس میں کوئی گنا ہ سرزد نہ ہو، نیز ایک قول یہ بھی ہے کہ حج مبرور وہ حج ہے جس میں حج کے تمام شرائط اور آداب کی پابندی کی گئی ہو، اور بعضوں نے کہاکہ حج مبرور کی نشانی یہ ہے کہ اس کے بعد حاجی کا حال بدل جائے یعنی توجہ الی اللہ اور عبادت میں مصروف رہے، اور جن گناہوں کو حج سے پہلے کیا کرتا تھا ان سے باز رہے۔ واللہ اعلم۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
حدیث نمبر: 2889
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، وَسُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ حَجَّ هَذَا الْبَيْتَ فَلَمْ يَرْفُثْ وَلَمْ يَفْسُقْ، رَجَعَ كَمَا وَلَدَتْهُ أُمُّهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اس گھر (کعبہ) کا حج کیا، اور نہ (ایام حج میں) جماع کیا، اور نہ گناہ کے کام کئے، تو وہ اس طرح واپس آئے گا جیسے اس کی ماں نے اسے جنم دیا ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2889]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اس گھر (کعبہ شریف) کا حج کرے اور (حج کے دوران میں) بے ہودہ گوئی نہ کرے اور گناہ نہ کرے وہ واپس آتا ہے، اس طرح (گناہوں سے پاک) ہوتا ہے جیسے وہ اپنی ماں سے پیدا ہوتے وقت تھا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2889]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الإیمان 18 (26)، الحج 4 (1519و1521)، المحصر 9 (1819)، 10 (1820)، صحیح مسلم/الحج 78 (1350)، سنن الترمذی/الحج 2 (811)، سنن النسائی/الحج 4 (2628)، (تحفة الأشراف: 13431)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/229، 248، 410، 484، 494)، سنن الدارمی/الحج 7 (1836) (صحیح) (تراجع الألبانی: رقم: 342)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه