🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. بَابُ: الْحَجِّ عَلَى الرَّحْلِ
باب: سواری پر حج کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2890
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ الرَّبِيعِ بْنِ صَبِيحٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبَانَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: حَجَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَحْلٍ رَثٍّ، وَقَطِيفَةٍ تُسَاوِي أَرْبَعَةَ دَرَاهِمَ أَوْ لَا تُسَاوِي، ثُمَّ قَالَ:" اللَّهُمَّ حَجَّةٌ لَا رِيَاءَ فِيهَا، وَلَا سُمْعَةَ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک پرانے کجاوے پر سوار ہو کر ایک ایسی چادر میں حج کیا جس کی قیمت چار درہم کے برابر رہی ہو گی، یا اتنی بھی نہیں، پھر فرمایا: اے اللہ! یہ ایسا حج ہے جس میں نہ ریا کاری ہے اور نہ شہرت ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2890]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کجاوے پر اور ایک ایسی (معمولی) چادر اوڑھ کر حج ادا کیا جس کی قیمت چار درہم کے برابر بھی نہ تھی اور فرمایا: حج (کے فرض کی ادائیگی مقصود) ہے، دکھلاوا اور شہرت (مقصود) نہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2890]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1672، ومصباح الزجاجة: 1019)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحج 3 (1517)، عن ثمامة بن عبد اللہ بن أنس قال: حج أنس علی رحل ولم یکن شحیحاً وحدث أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حج علی رحل وکانت زاعلتہ (صحیح)» ‏‏‏‏ (الربیع بن صبیح و یزید بن ابان دونوں ضعیف ہیں، لیکن حدیث متابعت اور شواہد کی بناء پر صحیح ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 2617، و مختصر الشمائل: 288، فتح الباری: 3؍ 387)
وضاحت: ۱؎: یعنی خالص تیری رضا مندی اور ثواب کے لیے حج کرتا ہوں، نہ نمائش اور فخر و مباہات کے لیے، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حج میں زیادہ زیب و زینت کرنا اور زیادہ عمدہ سواری یا عمدہ لباس رکھنا خلاف سنت ہے، حج میں بندہ اپنے مالک کے حضور میں جاتا ہے تو جس قدر عاجزی کے ساتھ جائے پھٹے پرانے حال سے اتنا ہی بہتر ہے تاکہ مالک کی رحمت جوش میں آئے، اور یہی وجہ ہے کہ حج میں سلے ہوئے کپڑے پہننے سے اور خوشبو لگانے سے منع کیا گیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
يزيد بن أبان الرقاشي ضعيف
وله شاھد ضعيف عند ابن خزيمة (2836)
وللحديث شواھد ضعيفة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 482

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2891
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ فَمَرَرْنَا بِوَادٍ، فَقَالَ:" أَيُّ وَادٍ هَذَا؟"، قَالُوا: وَادِي الْأَزْرَقِ، قَالَ:" كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلام فَذَكَرَ مِنْ طُولِ شَعَرِهِ شَيْئًا لَا يَحْفَظُهُ دَاوُدُ وَاضِعًا إِصْبَعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ، لَهُ جُؤَارٌ إِلَى اللَّهِ بِالتَّلْبِيَةِ مَارًّا بِهَذَا الْوَادِي"، قَالَ: ثُمَّ سِرْنَا حَتَّى أَتَيْنَا عَلَى ثَنِيَّةٍ، فَقَالَ:" أَيُّ ثَنِيَّةٍ هَذِهِ"؟، قَالُوا: ثَنِيَّةُ هَرْشَى أَوْ لَفْتٍ، قَالَ:" كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى يُونُسَ عَلَى نَاقَةٍ حَمْرَاءَ عَلَيْهِ جُبَّةُ صُوفٍ، وَخِطَامُ نَاقَتِهِ خُلْبَةٌ مَارًّا بِهَذَا الْوَادِي مُلَبِّيًا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ اور مدینہ کے درمیان تھے، ہمارا گزر ایک وادی سے ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ کون سی وادی ہے؟ لوگوں نے عرض کیا: وادی ازرق ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گویا میں موسیٰ علیہ السلام کو دیکھ رہا ہوں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے موسیٰ علیہ السلام کے بالوں کی لمبائی کا تذکرہ کیا (جو راوی داود کو یاد نہیں رہا) اپنی دو انگلیاں اپنے دونوں کانوں میں ڈالے ہوئے بلند آواز سے، لبیک کہتے ہوئے، اللہ سے فریاد کرتے ہوئے اس وادی سے گزرے۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم چلے یہاں تک کہ ہم ایک وادی میں پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ کون سی وادی ہے؟ لوگوں نے عرض کیا: «هرشى أو لفت» کی وادی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گویا میں یونس علیہ السلام کو دیکھ رہا ہوں جو بالوں کا جبہ پہنے ہوئے، سرخ اونٹنی پر سوار ہیں، ان کی اونٹنی کی نکیل کھجور کے پتوں کی رسی کی ہے، اور وہ اس وادی سے لبیک کہتے ہوئے گزر رہے ہیں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2891]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم مکے اور مدینے کے درمیان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے۔ ہم ایک وادی سے گزرے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کون سی وادی ہے؟ صحابہ نے عرض کیا: یہ وادئ ازرق ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گویا میں موسیٰ علیہ السلام کو دیکھ رہا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بالوں کی لمبائی کے بارے میں کچھ فرمایا (جو راوی حدیث) داؤد (بن ابی ہند) کو یاد نہیں رہا۔ انہوں نے کانوں میں انگلیاں ڈالی ہوئی ہیں، وہ اللہ سے بلند آواز سے فریاد کرتے ہوئے «لَبَّيْكَ» لبیک پکارتے ہوئے اس وادی سے گزر رہے ہیں۔ صحابی نے فرمایا: پھر ہم نے سفر جاری رکھا حتیٰ کہ ایک گھاٹی تک پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کون سی گھاٹی ہے؟ لوگوں نے کہا: ہرشیٰ یا لفت کی گھاٹی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں گویا یونس علیہ السلام کو دیکھ رہا ہوں جو سرخ اونٹنی پر سوار ہیں، اون کا جبہ اوڑھے ہوئے ہیں، ان کی اونٹنی کی مہار کھجور کی رسی کی ہے اور وہ «لَبَّيْكَ» لبیک پکارتے ہوئے اس وادی سے گزر رہے ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2891]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الإیمان 74 (166)، (تحفة الأشراف: 5424)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحج 30 (1555) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: «هرشى أو لفت» دونوں ٹیلوں کے نام ہیں۔
۲؎: احتمال ہے کہ عالم ارواح میں موسیٰ اور یونس علیہما السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس وقت اسی طرح سے گزرے ہوں، یا یہ واقعہ ان کے زمانہ کا ہے، اللہ تبارک وتعالی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پھر دکھلا دیا، یا یہ تشبیہ ہے کمال علم اور یقین کی جیسے اس بات کو دیکھ رہے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. بَابُ: فَضْلِ دُعَاءِ الْحَجِّ
باب: حاجی کی دعا کی فضیلت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2892
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَالِحٍ مَوْلَى بَنِي عَامِرٍ، حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" الْحُجَّاجُ وَالْعُمَّارُ وَفْدُ اللَّهِ، إِنْ دَعَوْهُ أَجَابَهُمْ، وَإِنِ اسْتَغْفَرُوهُ غَفَرَ لَهُمْ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حجاج اور معتمرین (حج اور عمرہ کرنے والے) اللہ کے وفد (مہمان) ہیں، اگر وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں تو وہ ان کی دعاؤں کو قبول کرتا ہے، اور اگر وہ اس سے مغفرت طلب کرتے ہیں تو وہ انہیں معاف کر دیتا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2892]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حج اور عمرہ کرنے والے اللہ تعالیٰ کے ملاقاتی (اور مہمان) ہیں۔ اگر وہ اللہ سے دعا کریں تو اللہ ان کی دعا قبول کرتا ہے اور اگر وہ بخشش مانگیں تو انھیں بخش دیتا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2892]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12888، ومصباح الزجاجة: 1020) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں صالح بن عبد اللہ منکر الحدیث راوی ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
صالح بن عبد اللّٰه بن صالح: منكر الحديث،قاله البخاري (التاريخ الكبير 285/4)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 482

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2893
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْغَازِي فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَالْحَاجُّ وَالْمُعْتَمِرُ وَفْدُ اللَّهِ، دَعَاهُمْ فَأَجَابُوهُ، وَسَأَلُوهُ فَأَعْطَاهُمْ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا، حج کرنے والا اور عمرہ کرنے والا اللہ تعالیٰ کا مہمان ہے، اللہ تعالیٰ نے ان کو بلایا تو انہوں نے حاضری دی، اور انہوں نے اللہ تعالیٰ سے مانگا تو اس نے انہیں عطا کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2893]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی راہ میں جنگ کرنے والا (مجاہد)، حاجی اور عمرہ کرنے والا اللہ کے مہمان ہیں۔ اس نے انہیں بلایا تو انہوں نے تعمیل کی۔ انہوں نے اللہ سے مانگا تو اللہ نے انہیں دے دیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2893]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 7406، ومصباح الزجاجة: 1021) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عطاء بن السائب اختلط وحديث النسائي (5/ 113 ح 2626،6/ 16ح 3123) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 482

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2894
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ عُمَرَ أَنَّهُ اسْتَأْذَنَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعُمْرَةِ، فَأَذِنَ لَهُ، وَقَالَ:" يَا أُخَيَّ، أَشْرِكْنَا فِي شَيْءٍ مِنْ دُعَائِكَ وَلَا تَنْسَنَا".
عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عمرہ کی اجازت طلب کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت عطا فرمائی، اور ان سے فرمایا: اے میرے بھائی! ہمیں بھی دعاؤں میں شریک رکھنا، اور ہمیں نہ بھولنا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2894]
حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عمرہ کرنے کی اجازت چاہی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دے دی اور فرمایا: «أَيْ أُخَيَّ، أَشْرِكْنَا فِي دُعَائِكَ، وَلَا تَنْسَنَا» بھائی! اپنی کسی دعا میں ہمیں بھی شریک کر لینا اور (دعا میں) ہمیں نہ بھلانا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2894]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 358 (1498)، سنن الترمذی/الدعوات 110 (3562)، (تحفة الأشراف: 10522)، وقد أٰخرجہ: مسند احمد (/29) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں عاصم بن عبید اللہ ضعیف راوی ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (1498) ترمذي (3562)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 482

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2895
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ ، قَالَ: وَكَانَتْ تَحْتَهُ ابْنَةُ أَبِي الدَّرْدَاءِ، فَأَتَاهَا فَوَجَدَ أُمَّ الدَّرْدَاءِ ، وَلَمْ يَجِدْ أَبَا الدَّرْدَاءِ، فَقَالَتْ لَهُ: تُرِيدُ الْحَجَّ الْعَامَ؟، قَالَ: نَعَمْ، قَالَتْ: فَادْعُ اللَّهَ لَنَا بِخَيْرٍ، فَإِنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ:" دَعْوَةُ الْمَرْءِ مُسْتَجَابَةٌ لِأَخِيهِ بِظَهْرِ الْغَيْبِ، عِنْدَ رَأْسِهِ مَلَكٌ يُؤَمِّنُ عَلَى دُعَائِهِ كُلَّمَا دَعَا لَهُ بِخَيْرٍ، قَالَ: آمِينَ، وَلَكَ بِمِثْلِهِ"، قَالَ: ثُمَّ خَرَجْتُ إِلَى السُّوقِ، فَلَقِيتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ فَحَدَّثَنِي عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ ذَلِكَ.
صفوان بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ان کی زوجیت میں ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی تھیں، وہ ان کے پاس گئے، وہاں ام الدرداء یعنی ساس کو پایا، ابو الدرداء کو نہیں، ام الدرداء نے ان سے پوچھا: کیا تمہارا امسال حج کا ارادہ ہے؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں، تو انہوں نے کہا: ہمارے لیے اللہ تعالیٰ سے خیر کی دعا کرنا، اس لیے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: آدمی کی وہ دعا جو وہ اپنے بھائی کے لیے اس کے غائبانے میں کرتا ہے قبول کی جاتی ہے، اس کے سر کے پاس ایک فرشتہ ہوتا ہے، جو اس کی دعا پر آمین کہتا ہے، جب وہ اس کے لیے خیر کی دعا کرتا ہے تو وہ آمین کہتا ہے، اور کہتا ہے: تیرے لیے بھی ایسا ہی ہو۔ صفوان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پھر میں بازار کی طرف چلا گیا، تو میری ملاقات ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو انہوں نے بھی مجھ سے اسی کے مثل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2895]
حضرت صفوان بن عبداللہ بن صفوان رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ کی بیٹی ان (صفوان) کے نکاح میں تھیں۔ وہ ان کے ہاں آئے تو ام الدرداء رضی اللہ عنہا سے ملاقات ہوئی، حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ (گھر میں) نہ ملے۔ ام الدرداء رضی اللہ عنہا نے کہا: آپ کا اس سال حج کا ارادہ ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ فرمایا: تو ہمارے لیے بھی دعائے خیر کرنا کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: آدمی کی اپنے بھائی کے حق میں اس کی عدم موجودگی میں کی ہوئی دعا مقبول ہے۔ دعا کرنے والے کے سر کے قریب ایک فرشتہ اس کی دعا پر آمین کہتا ہے۔ جب بھی وہ اس (غیر موجود بھائی) کے حق میں دعا کرتا ہے فرشتہ کہتا ہے: «آمِينَ، وَلَكَ بِمِثْلٍ» آمین اور تجھے بھی یہ کچھ نصیب ہو۔ انہوں نے فرمایا: پھر میں بازار گیا تو حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہو گئی تو انہوں نے بھی مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی فرمان سنایا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2895]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الذکر والدعاء 23 (2732)، (تحفة الأشراف: 10939) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
6. بَابُ: مَا يُوجِبُ الْحَجَّ
باب: حج کو کون سی چیز واجب کر دیتی ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2896
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَعَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَزِيدَ الْمَكِّيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ الْمَخْزُومِيِّ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَامَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا يُوجِبُ الْحَجَّ؟، قَالَ:" الزَّادُ وَالرَّاحِلَةُ"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَا الْحَاجُّ؟، قَالَ:" الشَّعِثُ التَّفِلُ"، وَقَامَ آخَرُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ومَا الْحَجُّ؟، قَالَ:" الْعَجُّ وَالثَّجُّ"، قَالَ وَكِيعٌ: يَعْنِي بِالْعَجِّ الْعَجِيجَ: بِالتَّلْبِيَةِ، وَالثَّجُّ: نَحْرُ الْبُدْنِ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑا ہوا، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! کون سی چیز حج کو واجب کر دیتی ہے،؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: زاد سفر اور سواری (کا انتظام) اس نے پوچھا: اللہ کے رسول! حاجی کیسا ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پراگندہ سر اور خوشبو سے عاری ایک دوسرا شخص اٹھا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! حج کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «عج» اور «ثج» ۔ وکیع کہتے ہیں کہ «عج» کا مطلب ہے لبیک پکارنا، اور «ثج» کا مطلب ہے خون بہانا یعنی قربانی کرنا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2896]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ایک شخص اٹھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب گیا اور کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کس چیز سے حج واجب ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سفر خرچ اور سواری سے۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! حاجی کون ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پراگندہ بالوں والا، سادہ لباس والا۔ ایک اور شخص نے اٹھ کر کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! حج کیا ہوتا ہے؟ فرمایا: آواز بلند کرنا اور خون بہانا۔ امام وکیع رحمہ اللہ نے فرمایا: آواز بلند کرنے سے مراد بلند آواز سے لبیک پکارنا ہے اور خون بہانے سے مراد اونٹ قربان کرنا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2896]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الحج 4 (813)، (تحفة الأشراف: 7440) (ضعیف جدا)» ‏‏‏‏ (ابراہیم بن یزید مکی متروک الحدیث راوی ہے، لیکن «العج و الثج» کا جملہ دوسری حدیث سے ثابت ہے، جو 2924 نمبر پر آئے گا، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: 988)
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا لكن جملة العج والثج ثبتت في حديث آخر
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (813،2998)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 482

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2897
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْقُرَشِيُّ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِيهِ أَيْضًا عَنْ ابْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الزَّادُ وَالرَّاحِلَةُ" يَعْنِي قَوْلَهُ: مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلا سورة آل عمران آية 97.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے فرمان: «من استطاع إليه سبيلا» کا مطلب زاد سفر اور سواری ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2897]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا﴾ [سورة آل عمران: 97] جس کو بیت اللہ تک راستہ طے کرنے کی طاقت ہو۔ کی وضاحت میں فرمایا: (اس طاقت سے مراد ہے) سفر خرچ اور سواری۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2897]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6152، 6163، ومصباح الزجاجة: 1022) (ضعیف جدا) (سوید بن سعید متکلم فیہ اور عمر بن عطاء ضعیف راوی ہیں، نیز ملاحظہ ہو: الإروا ء: 988)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی قرآن میں جو آیا ہے کہ جو حج کے راہ کی طاقت رکھے اس سے مراد یہ ہے کہ کھانا اور سواری کا خرچ اس کے پاس ہو جائے تو حج فرض ہو گیا۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عمر بن عطاء بن وراز: ضعيف
هشام بن سليمان: مقبول (تقريب: 7296) أي مجهول الحال و سويدبن سعيد: ضعيف
وللحديث طريق موقوف عند البيهقي (331/4) وسنده ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 482

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
7. بَابُ: الْمَرْأَةِ تَحُجُّ بِغَيْرِ وَلِيٍّ
باب: عورت محرم اور ولی کے بغیر حج نہ کرے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2898
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تُسَافِرُ الْمَرْأَةُ سَفَرًا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَصَاعِدًا، إِلَّا مَعَ أَبِيهَا أَوْ أَخِيهَا أَوِ ابْنِهَا أَوْ زَوْجِهَا، أَوْ ذِي مَحْرَمٍ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورت تین یا اس سے زیادہ دنوں کا سفر باپ یا بھائی یا بیٹے یا شوہر یا کسی محرم کے بغیر نہ کرے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2898]
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی عورت تین دن یا زیادہ کا سفر نہ کرے مگر اپنے باپ، بھائی، بیٹے، خاوند یا کسی اور محرم کی معیت میں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2898]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحج 74 (1340)، سنن ابی داود/الحج 2 (1726)، سنن الترمذی/الرضاع 15 (1169)، (تحفة الأشراف: 4004)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/جزء الصید 26 (1864 مختصراً)، مسند احمد (3/ 54)، سنن الدارمی/الاستئذان 46 (2720) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: محرم: شوہر یا وہ شخص جس سے ہمیشہ کے لیے نکاح حرام ہو مثلاً باپ دادا، نانا، بیٹا، بھائی، چچا، ماموں، بھتیجا، داماد وغیرہ یا رضاعت سے ثابت ہونے والے رشتہ دار۔ محرم سے مراد وہ شخص ہے جس سے نکاح حرام ہو، تو دیور یا جیٹھ کے ساتھ عورت کا سفر کرنا جائز نہیں، اسی طرح بہنوئی، چچا زاد یا خالہ زاد یا ماموں زاد بھائی کے ساتھ کیونکہ یہ لوگ محرم نہیں ہیں، محرم سے مراد وہ شخص ہے جس سے ہمیشہ کے لیے نکاح حرام ہو۔ اور اس حدیث میں تین دن کی قید اتفاقی ہے، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تین دن سے کم سفر غیر محرم کے ساتھ جائز ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ایک دن کا ذکر ہے۔ اور اہل حدیث کے نزدیک سفر کی کوئی حد مقرر نہیں جس کو لوگ عرف عام میں سفر کہیں وہ عورت کو بغیر محرم کے جائز نہیں، البتہ جس کو سفر نہ کہیں وہاں عورت بغیر محرم کے جا سکتی ہے جیسے شہر میں ایک محلہ سے دوسرے محلہ میں، یا نزدیک کے گاؤں میں جس کی مسافت ایک دن کی راہ سے بھی کم ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2899
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُسَافِرَ مَسِيرَةَ يَوْمٍ وَاحِدٍ، لَيْسَ لَهَا ذُو حُرْمَةٍ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی عورت کے لیے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہو، یہ درست نہیں ہے کہ وہ ایک دن کی مسافت کا سفر کرے، اور اس کے ساتھ کوئی محرم نہ ہو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2899]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو عورت اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتی ہے اس کے لیے ایک دن کا سفر کرنا حلال نہیں جب کہ اس کے ساتھ محرم نہ ہو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2899]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 13035)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/تقصیر الصلاة 4 (1088)، صحیح مسلم/الحج 74 (1339)، سنن ابی داود/الحج 2 (1723)، سنن الترمذی/الرضاع 15 (1669)، موطا امام مالک/الإستئتذان 14 (37)، مسند احمد (2/236، 340، 347، 423، 437، 445، 493) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں