🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
66. بَابُ الصَّلاَةِ عَلَى الْقَبْرِ بَعْدَ مَا يُدْفَنُ:
باب: مردہ کو دفن کرنے کے بعد قبر پر نماز جنازہ پڑھنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1337
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،" أَنَّ أَسْوَدَ رَجُلًا , أَوِ امْرَأَةً , كَانَ يَقُمُّ الْمَسْجِدَ فَمَاتَ , وَلَمْ يَعْلَمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَوْتِهِ، فَذَكَرَهُ ذَاتَ يَوْمٍ , فَقَالَ: مَا فَعَلَ ذَلِكَ الْإِنْسَانُ؟ , قَالُوا: مَاتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: أَفَلَا آذَنْتُمُونِي، فَقَالُوا: إِنَّهُ كَانَ كَذَا , وَكَذَا قِصَّتُهُ، قَالَ: فَحَقَرُوا شَأْنَهُ، قَالَ فَدُلُّونِي عَلَى قَبْرِهِ فَأَتَى قَبْرَهُ فَصَلَّى عَلَيْهِ".
ہم سے محمد بن فضل نے کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ‘ ان سے ثابت نے بیان کیا ‘ ان سے ابورافع نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ کالے رنگ کا ایک مرد یا ایک کالی عورت مسجد کی خدمت کیا کرتی تھیں ‘ ان کی وفات ہو گئی لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی وفات کی خبر کسی نے نہیں دی۔ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود یاد فرمایا کہ وہ شخص دکھائی نہیں دیتا۔ صحابہ نے کہا کہ یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! ان کا تو انتقال ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر تم نے مجھے خبر کیوں نہیں دی؟ صحابہ نے عرض کی کہ یہ وجوہ تھیں (اس لیے آپ کو تکلیف نہیں دی گئی) گویا لوگوں نے ان کو حقیر جان کر قابل توجہ نہیں سمجھا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چلو مجھے ان کی قبر بتا دو۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی قبر پر تشریف لائے اور اس پر نماز جنازہ پڑھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1337]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک سیاہ فام (مرد یا عورت) مسجد میں رہتا اور جھاڑو دیا کرتا تھا۔ اس کا انتقال ہو گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی موت کا علم نہ ہو سکا۔ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ذکر فرمایا اور دریافت کیا: ”وہ شخص کہاں ہے؟“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اس کی وفات ہو گئی ہے۔ آپ نے فرمایا: ”تم لوگوں نے مجھے مطلع کیوں نہ کیا؟“ انہوں نے عرض کیا: حضرت! اس کا قصہ تو اس طرح ہے، گویا انہوں نے اس کا معاملہ اتنا اہم نہ سمجھا۔ آپ نے فرمایا: ”مجھے اس کی قبر سے آگاہ کرو۔“ چنانچہ آپ اس کی قبر پر تشریف لائے اور نماز جنازہ پڑھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1337]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
67. بَابُ الْمَيِّتُ يَسْمَعُ خَفْقَ النِّعَالِ:
باب: اس بیان میں کہ مردہ لوٹ کر جانے والوں کے جوتوں کی آواز سنتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1338
حَدَّثَنَا عَيَّاشٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ , قَالَ: وَقَالَ لِي خَلِيفَةُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ , حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" الْعَبْدُ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ , وَتُوُلِّيَ , وَذَهَبَ أَصْحَابُهُ حَتَّى إِنَّهُ لَيَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِهِمْ، أَتَاهُ مَلَكَانِ فَأَقْعَدَاهُ , فَيَقُولَانِ لَهُ: مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَيَقُولُ: أَشْهَدُ أَنَّهُ عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ، فَيُقَالُ: انْظُرْ إِلَى مَقْعَدِكَ مِنَ النَّارِ أَبْدَلَكَ اللَّهُ بِهِ مَقْعَدًا مِنَ الْجَنَّةِ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَيَرَاهُمَا جَمِيعًا، وَأَمَّا الْكَافِرُ أَوِ الْمُنَافِقُ , فَيَقُولُ: لَا أَدْرِي كُنْتُ أَقُولُ مَا يَقُولُ النَّاسُ، فَيُقَالُ: لَا دَرَيْتَ وَلَا تَلَيْتَ، ثُمَّ يُضْرَبُ بِمِطْرَقَةٍ مِنْ حَدِيدٍ ضَرْبَةً بَيْنَ أُذُنَيْهِ فَيَصِيحُ صَيْحَةً يَسْمَعُهَا مَنْ يَلِيهِ إِلَّا الثَّقَلَيْنِ".
ہم سے عیاش بن ولید نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے عبدالاعلیٰ نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے سعید بن ابی عروبہ نے بیان کیا۔ (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ مجھ سے خلیفہ بن خیاط نے بیان کیا ‘ ان سے یزید بن زریع نے ‘ ان سے سعید بن ابی عروبہ نے ‘ ان سے قتادہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آدمی جب قبر میں رکھا جاتا ہے اور دفن کر کے اس کے لوگ پیٹھ موڑ کر رخصت ہوتے ہیں تو وہ ان کے جوتوں کی آواز سنتا ہے۔ پھر دو فرشتے آتے ہیں اسے بٹھاتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ اس شخص (محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) کے متعلق تمہارا کیا اعتقاد ہے؟ وہ جواب دیتا ہے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ اس جواب پر اس سے کہا جاتا ہے کہ یہ دیکھ جہنم کا اپنا ایک ٹھکانا لیکن اللہ تعالیٰ نے جنت میں تیرے لیے ایک مکان اس کے بدلے میں بنا دیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اس بندہ مومن کو جنت اور جہنم دونوں دکھائی جاتی ہیں اور رہا کافر یا منافق تو اس کا جواب یہ ہوتا ہے کہ مجھے معلوم نہیں ‘ میں نے لوگوں کو ایک بات کہتے سنا تھا وہی میں بھی کہتا رہا۔ پھر اس سے کہا جاتا ہے کہ نہ تو نے کچھ سمجھا اور نہ (اچھے لوگوں کی) پیروی کی۔ اس کے بعد اسے ایک لوہے کے ہتھوڑے سے بڑے زور سے مارا جاتا ہے اور وہ اتنے بھیانک طریقہ سے چیختا ہے کہ انسان اور جن کے سوا اردگرد کی تمام مخلوق سنتی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1338]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب بندے کو اس کی قبر میں رکھ دیا جاتا ہے اور اس کے ساتھی دفن سے فارغ ہو کر واپس ہوتے ہیں تو وہ ان کے جوتوں کی آواز سنتا ہے۔ اس وقت اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں اور اسے بٹھا کر پوچھتے ہیں: تو اس شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کیا اعتقاد رکھتا تھا؟ اگر وہ جواب دے: میں گواہی دیتا تھا کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں تو اسے کہا جاتا ہے: تو اپنے دوزخی مقام کو دیکھ، اس کے عوض اللہ تعالیٰ نے تجھے جنت میں ٹھکانا دیا ہے۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ دونوں مقامات کو دیکھتا ہے۔ لیکن کافر یا منافق کا یہ جواب ہوتا ہے: میں کچھ نہیں جانتا، جو دوسرے لوگ کہتے تھے وہی میں کہہ دیتا تھا، پھر اس سے کہا جاتا ہے: تو نے عقل سے کام لیا نہ انبیاء کی پیروی کی، پھر اس کے دونوں کانوں کے درمیان لوہے کے ہتھوڑے سے ایک ضرب لگائی جاتی ہے کہ وہ چیخ اٹھتا ہے۔ اس کی چیخ پکار جن و انس کے علاوہ اس کے آس پاس کی تمام چیزیں سنتی ہیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1338]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
68. بَابُ مَنْ أَحَبَّ الدَّفْنَ فِي الأَرْضِ الْمُقَدَّسَةِ أَوْ نَحْوِهَا:
باب: جو شخص ارض مقدس یا ایسی ہی کسی برکت والی جگہ دفن ہونے کا آرزو مند ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1339
حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ:" أُرْسِلَ مَلَكُ الْمَوْتِ إِلَى مُوسَى عَلَيْهِمَا السَّلَام، فَلَمَّا جَاءَهُ صَكَّهُ فَرَجَعَ إِلَى رَبِّهِ ,فَقَالَ: أَرْسَلْتَنِي إِلَى عَبْدٍ لَا يُرِيدُ الْمَوْتَ، فَرَدَّ اللَّهُ عَلَيْهِ عَيْنَهُ , وَقَالَ: ارْجِعْ، فَقُلْ لَهُ يَضَعُ يَدَهُ عَلَى مَتْنِ ثَوْرٍ فَلَهُ بِكُلِّ مَا غَطَّتْ بِهِ يَدُهُ بِكُلِّ شَعْرَةٍ سَنَةٌ، قَالَ: أَيْ رَبِّ، ثُمَّ مَاذَا؟ , قَالَ: ثُمَّ الْمَوْتُ، قَالَ: فَالْآنَ فَسَأَلَ اللَّهَ أَنْ يُدْنِيَهُ مِنْ الْأَرْضِ الْمُقَدَّسَةِ رَمْيَةً بِحَجَرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَلَوْ كُنْتُ، ثَمَّ لَأَرَيْتُكُمْ قَبْرَهُ إِلَى جَانِبِ الطَّرِيقِ عِنْدَ الْكَثِيبِ الْأَحْمَرِ".
ہم سے محمود بن غیلان نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم کو معمر نے خبر دی ‘ انہیں عبداللہ بن طاؤس نے ‘ انہیں ان کے والد نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ملک الموت (آدمی کی شکل میں) موسیٰ علیہ السلام کے پاس بھیجے گئے۔ وہ جب آئے تو موسیٰ علیہ السلام نے (نہ پہچان کر) انہیں ایک زور کا طمانچہ مارا اور ان کی آنکھ پھوڑ ڈالی۔ وہ واپس اپنے رب کے حضور میں پہنچے اور عرض کیا کہ یا اللہ! تو نے مجھے ایسے بندے کی طرف بھیجا جو مرنا نہیں چاہتا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی آنکھ پہلے کی طرح کر دی اور فرمایا کہ دوبارہ جا اور ان سے کہہ کہ آپ اپنا ہاتھ ایک بیل کی پیٹھ پر رکھئے اور پیٹھ کے جتنے بال آپ کے ہاتھ تلے آ جائیں ان کے ہر بال کے بدلے ایک سال کی زندگی دی جاتی ہے۔ (موسیٰ علیہ السلام تک جب اللہ تعالیٰ کا یہ پیغام پہنچا تو) آپ نے کہا کہ اے اللہ! پھر کیا ہو گا؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ پھر بھی موت آنی ہے۔ موسیٰ علیہ السلام بولے تو ابھی کیوں نہ آ جائے۔ پھر انہوں نے اللہ سے دعا کی کہ انہیں ایک پتھر کی مار پر ارض مقدس سے قریب کر دیا جائے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر میں وہاں ہوتا تو تمہیں ان کی قبر دکھاتا کہ لال ٹیلے کے پاس راستے کے قریب ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1339]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ ملک الموت کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس بھیجا گیا۔ جب وہ ان کے پاس آئے تو انہوں نے ایک طمانچہ رسید کیا (جس سے اس کی ایک آنکھ پھوٹ گئی)، فرشتے نے اپنے رب کے پاس جاکر عرض کیا: ”تو نے مجھے ایک ایسے بندے کے پاس بھیجا ہے جو مرنا نہیں چاہتا۔“ اللہ تعالیٰ نے اس کی آنکھ درست کردی اور فرمایا: ”ان (موسیٰ علیہ السلام) کے پاس دوبارہ جا کر کہو کہ وہ اپنا ہاتھ ایک بیل کی پیٹھ پر رکھیں، جتنے بھی بال ان کے ہاتھ کے نیچے آئیں گے تو ہر بال کے بدلے انہیں ایک سال کی زندگی دی جائے گی۔“ اس پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا: ”اے پروردگار! پھر کیا ہوگا؟“ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”پھر مرنا ہوگا۔“ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا: ”تو پھر ابھی آجائے۔“ انہوں نے اللہ سے دعا کی کہ انہیں ایک پتھر پھینکنے کی مقدار کے برابر ارضِ مقدس سے قریب کردے۔ راویِ حدیث (حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ) نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں وہاں ہوتا تو موسیٰ (علیہ السلام) کی قبر سرخ ٹیلے کے پاس راستے کے کنارے پر تمہیں دکھا دیتا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1339]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
69. بَابُ الدَّفْنِ بِاللَّيْلِ:
باب: رات میں دفن کرنا کیسا ہے؟ اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ رات میں دفن کئے گئے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1340
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , قَالَ:" صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَجُلٍ بَعْدَ مَا دُفِنَ بِلَيْلَةٍ، قَامَ هُوَ , وَأَصْحَابُهُ وَكَانَ سَأَلَ عَنْهُ , فَقَالَ: مَنْ هَذَا؟ , فَقَالُوا: فُلَانٌ، دُفِنَ الْبَارِحَةَ فَصَلَّوْا عَلَيْهِ".
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے جریر نے بیان کیا ‘ ان سے شیبانی نے ‘ ان سے شعبی نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسے شخص کی نماز جنازہ پڑھی جن کا انتقال رات کے وقت ہوا (اور اسے رات ہی میں دفن کر دیا گیا تھا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے متعلق پوچھا تھا کہ یہ کن کی قبر ہے۔ لوگوں نے بتایا کہ فلاں کی ہے جسے کل رات ہی دفن کیا گیا ہے۔ پھر سب نے (دوسرے روز) نماز جنازہ پڑھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1340]
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کی نماز جنازہ پڑھی جو رات دفن کیا گیا تھا۔ آپ اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اٹھے اور آپ نے اس شخص کے متعلق دریافت کیا اور فرمایا: ”یہ کون ہے؟“ لوگوں نے عرض کیا: یہ فلاں شخص ہے جسے گزشتہ رات دفن کیا گیا تھا، چنانچہ آپ اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس پر نماز جنازہ پڑھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1340]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
70. بَابُ بِنَاءِ الْمَسْجِدِ عَلَى الْقَبْرِ:
باب: قبر پر مسجد تعمیر کرنا کیسا ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1341
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ , قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا , قَالَتْ:" لَمَّا اشْتَكَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَتْ بَعْضُ نِسَائِهِ كَنِيسَةً رَأَيْنَهَا بِأَرْضِ الْحَبَشَةِ , يُقَالُ لَهَا: مَارِيَةُ، وَكَانَتْ أُمُّ سَلَمَةَ وَأُمُّ حَبِيبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , أَتَتَا أَرْضَ الْحَبَشَةِ فَذَكَرَتَا مِنْ حُسْنِهَا وَتَصَاوِيرَ فِيهَا، فَرَفَعَ رَأْسَهُ , فَقَالَ: أُولَئِكِ إِذَا مَاتَ مِنْهُمُ الرَّجُلُ الصَّالِحُ، بَنَوْا عَلَى قَبْرِهِ مَسْجِدًا , ثُمَّ صَوَّرُوا فِيهِ تِلْكَ الصُّورَةَ، أُولَئِكِ شِرَارُ الْخَلْقِ عِنْدَ اللَّهِ".
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا ‘ کہا مجھ سے امام مالک نے بیان کیا ‘ ان سے ہشام بن عروہ نے ‘ ان سے ان کے باپ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار پڑے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض بیویوں (ام سلمہ رضی اللہ عنہا اور ام حبیبہ رضی اللہ عنہا) نے ایک گرجے کا ذکر کیا جسے انہوں نے حبشہ میں دیکھا تھا جس کا نام ماریہ تھا۔ ام سلمہ اور ام حبیبہ رضی اللہ عنہا دونوں حبش کے ملک میں گئی تھیں۔ انہوں نے اس کی خوبصورتی اور اس میں رکھی ہوئی تصاویر کا بھی ذکر کیا۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سر مبارک اٹھا کر فرمایا کہ یہ وہ لوگ ہیں کہ جب ان میں کوئی صالح شخص مر جاتا تو اس کی قبر پر مسجد تعمیر کر دیتے۔ پھر اس کی مورت اس میں رکھتے۔ اللہ کے نزدیک یہ لوگ ساری مخلوق میں برے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1341]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے تو آپ کی بعض بیویوں نے ایک گرجے کا تذکرہ کیا جسے انہوں نے حبشہ کی سرزمین میں دیکھا تھا اور اسے ماریہ کہا جاتا تھا۔ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا اور حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا حبشہ گئی تھیں۔ انہوں نے گرجے کی خوبصورتی اور اس میں رکھی ہوئی تصویر کا بھی آپ سے ذکر کیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر مبارک اٹھایا اور فرمایا: ”یہ وہ لوگ ہیں جب ان میں کوئی نیک شخص مر جاتا تو اس کی قبر پر مسجد بنا لیتے، پھر اس میں یہ تصاویر بنا کر لگا دیتے۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ لوگ تمام مخلوق سے بدترین ہیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1341]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
71. بَابُ مَنْ يَدْخُلُ قَبْرَ الْمَرْأَةِ:
باب: عورت کی قبر میں کون اترے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1342
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ، حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا هِلَالُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ:" شَهِدْنَا بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ عَلَى الْقَبْرِ، فَرَأَيْتُ عَيْنَيْهِ تَدْمَعَانِ , فَقَالَ: هَلْ فِيكُمْ مِنْ أَحَدٍ لَمْ يُقَارِفْ اللَّيْلَةَ؟ , فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ: أَنَا، قَالَ: فَانْزِلْ فِي قَبْرِهَا , فَنَزَلَ فِي قَبْرِهَا فَقَبَرَهَا"، قَالَ ابْنُ مُبَارَكٍ: قَالَ فُلَيْحٌ: أُرَاهُ يَعْنِي: الذَّنْبَ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: لِيَقْتَرِفُوا أَيْ لِيَكْتَسِبُوا.
ہم سے محمد بن سنان نے بیان کیا ‘ ان سے فلیح بن سلیمان نے بیان کیا ‘ ان سے ہلال بن علی نے بیان کیا ‘ ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی کے جنازہ میں حاضر تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قبر پر بیٹھے ہوئے تھے ‘ میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیا ایسا آدمی بھی کوئی یہاں ہے جو آج رات کو عورت کے پاس نہ گیا ہو۔ اس پر ابوطلحہ رضی اللہ عنہ بولے کہ میں حاضر ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر تم قبر میں اتر جاؤ۔ انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ وہ اتر گئے اور میت کو دفن کیا۔ عبداللہ بن مبارک نے بیان کیا کہ فلیح نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ «لم يقارف» کا معنی یہ ہے کہ جس نے گناہ نہ کیا ہو۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ سورۃ الانعام میں جو «ليقترفوا‏» آیا ہے اس کا معنی یہی ہے تاکہ گناہ کریں۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1342]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لخت جگر کے جنازے میں شریک ہوئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبر کے پاس تشریف فرما تھے۔ میں نے دیکھا کہ آپ کی آنکھیں اشکبار تھیں۔ آپ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص ایسا ہے جو آج رات اپنی بیوی سے ہم بستر نہ ہوا ہو؟“ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: میں ہوں۔ آپ نے فرمایا: ”تم قبر میں اترو۔“ چنانچہ وہ صاحبزادی کی قبر میں اترے اور انہیں لحد میں رکھا۔ عبداللہ بن مبارک اپنے شیخ فلیح کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ «لَمْ يُقَارِفْ» کے معنی ”جس نے گناہ نہ کیا ہو“ ہیں۔ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ﴿لِيَقْتَرِفُوا﴾ [سورة الأنعام: 113] کے معنی ”تاکہ وہ گناہ کا کسب کریں“ کے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1342]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
72. بَابُ الصَّلاَةِ عَلَى الشَّهِيدِ:
باب: شہید کی نماز جنازہ پڑھیں یا نہیں؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1343
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ , قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْمَعُ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ مِنْ قَتْلَى أُحُدٍ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، ثُمَّ يَقُولُ: أَيُّهُمْ أَكْثَرُ أَخْذًا لِلْقُرْآنِ؟، فَإِذَا أُشِيرَ لَهُ إِلَى أَحَدِهِمَا قَدَّمَهُ فِي اللَّحْدِ , وَقَالَ: أَنَا شَهِيدٌ عَلَى هَؤُلَاءِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَأَمَرَ بِدَفْنِهِمْ فِي دِمَائِهِمْ، وَلَمْ يُغَسَّلُوا، وَلَمْ يُصَلَّ عَلَيْهِمْ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابن شہاب نے بیان کیا ‘ ان سے عبدالرحمٰن بن کعب بن مالک نے ‘ ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے احد کے دو دو شہیدوں کو ملا کر ایک ہی کپڑے کا کفن دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دریافت فرماتے کہ ان میں قرآن کسے زیادہ یاد ہے۔ کسی ایک کی طرف اشارہ سے بتایا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بغلی قبر میں اسی کو آگے کرتے اور فرماتے کہ میں قیامت میں ان کے حق میں شہادت دوں گا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کو ان کے خون سمیت دفن کرنے کا حکم دیا۔ نہ انہیں غسل دیا گیا اور نہ ان کی نماز جنازہ پڑھی گئی۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1343]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم شہدائے احد میں سے دو دو کو ایک ایک چادر میں رکھ کر فرماتے تھے: ”ان میں سے قرآن کا علم کس کو زیادہ تھا؟“ تو جب ان میں سے کسی کی طرف اشارہ کیا جاتا تو لحد میں آپ اسے آگے رکھتے اور فرماتے: ”قیامت کے دن میں ان کے متعلق گواہی دوں گا۔“ پھر آپ نے انہیں اسی طرح خون لگے ہوئے غسل دیے بغیر دفن کرنے کا حکم دیا اور ان پر نمازِ جنازہ بھی نہ پڑھی گئی۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1343]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1344
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ , حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ،" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَوْمًا فَصَلَّى عَلَى أَهْلِ أُحُدٍ صَلَاتَهُ عَلَى الْمَيِّتِ ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى الْمِنْبَرِ , فَقَالَ: إِنِّي فَرَطٌ لَكُمْ وَأَنَا شَهِيدٌ عَلَيْكُمْ، وَإِنِّي وَاللَّهِ لَأَنْظُرُ إِلَى حَوْضِي الْآنَ، وَإِنِّي أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ خَزَائِنِ الْأَرْضِ أَوْ مَفَاتِيحَ الْأَرْضِ، وَإِنِّي وَاللَّهِ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تُشْرِكُوا بَعْدِي وَلَكِنْ أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تَنَافَسُوا فِيهَا".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ‘ ان سے یزید بن ابی حبیب نے بیان کیا ‘ ان سے ابوالخیر یزید بن عبداللہ نے ‘ ان سے عقبہ بن عامر نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن باہر تشریف لائے اور احد کے شہیدوں پر اس طرح نماز پڑھی جیسے میت پر پڑھی جاتی ہے۔ پھر منبر پر تشریف لائے اور فرمایا۔ دیکھو میں تم سے پہلے جا کر تمہارے لیے میر ساماں بنوں گا اور میں تم پر گواہ رہوں گا۔ اور قسم اللہ کی میں اس وقت اپنے حوض کو دیکھ رہا ہوں اور مجھے زمین کے خزانوں کی کنجیاں دی گئی ہیں یا (یہ فرمایا کہ) مجھے زمین کی کنجیاں دی گئی ہیں اور قسم اللہ کی مجھے اس کا ڈر نہیں کہ میرے بعد تم شرک کرو گے بلکہ اس کا ڈر ہے کہ تم لوگ دنیا حاصل کرنے میں رغبت کرو گے (نتیجہ یہ کہ آخرت سے غافل ہو جاؤ گے)۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1344]
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن باہر تشریف لائے اور شہدائے اُحد پر نماز پڑھی جس طرح اموات پر نماز جنازہ پڑھی جاتی ہے، پھر منبر کی طرف لوٹے اور فرمایا: ”میں تمہارا میرِ کارواں اور تم پر گواہ ہوں۔ اللہ کی قسم! میں اب اپنے حوض کو دیکھ رہا ہوں اور مجھے زمین یا زمین کے خزانوں کی کنجیاں عطا کی گئی ہیں۔ اللہ کی قسم! میں اپنے بعد تمہارے متعلق شرک میں مبتلا ہونے کا اندیشہ نہیں رکھتا، لیکن مجھے خطرہ ہے کہ تم دنیا میں رغبت رکھتے ہوئے ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو گے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1344]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
73. بَابُ دَفْنِ الرَّجُلَيْنِ وَالثَّلاَثَةِ فِي قَبْرٍ وَاحِدٍ:
باب: دو یا تین آدمیوں کو ایک قبر میں دفن کرنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1345
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبٍ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَخْبَرَهُ،" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَجْمَعُ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ مِنْ قَتْلَى أُحُدٍ".
ہم سے سعید بن سلیمان نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے لیث نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے ابن شہاب نے بیان کیا۔ ان سے عبدالرحمٰن بن کعب نے کہ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے انہیں خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے احد کے دو دو شہیدوں کو دفن کرنے میں ایک ساتھ جمع فرمایا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1345]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم شہدائے احد کے دو دو آدمیوں کو جمع فرماتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1345]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
74. بَابُ مَنْ لَمْ يَرَ غَسْلَ الشُّهَدَاءِ:
باب: اس شخص کی دلیل جو شہداء کا غسل مناسب نہیں سمجھتا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1346
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ جَابِرٍ , قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"ادْفِنُوهُمْ فِي دِمَائِهِمْ يَعْنِي يَوْمَ أُحُدٍ، وَلَمْ يُغَسِّلْهُمْ".
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ان سے ابن شہاب نے، ان سے عبدالرحمٰن بن کعب نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں خون سمیت دفن کر دو یعنی احد کی لڑائی کے موقع پر اور انہیں غسل نہیں دیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1346]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے احد کے دن فرمایا: ”ان شہداء کو خون سمیت دفن کر دو۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں غسل بھی نہ دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1346]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں