🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
56. بَابُ سُنَّةِ الصَّلاَةِ عَلَى الْجَنَائِزِ:
باب: جنازے پر نماز کا مشروع ہونا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q1322
وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ صَلَّى عَلَى الْجَنَازَةِ؟ وَقَالَ: صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ وَقَالَ: صَلُّوا عَلَى النَّجَاشِيِّ سَمَّاهَا صَلَاةً لَيْسَ فِيهَا رُكُوعٌ , وَلَا سُجُودٌ , وَلَا يُتَكَلَّمُ فِيهَا , وَفِيهَا تَكْبِيرٌ , وَتَسْلِيمٌ , وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ لَا يُصَلِّي إِلَّا طَاهِرًا , وَلَا يُصَلِّي عِنْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ , وَلَا غُرُوبِهَا , وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ , وَقَالَ الْحَسَنُ: أَدْرَكْتُ النَّاسَ , وَأَحَقُّهُمْ بِالصَّلَاةِ عَلَى جَنَائِزِهِمْ مَنْ رَضَوْهُمْ لِفَرَائِضِهِمْ , وَإِذَا أَحْدَثَ يَوْمَ الْعِيدِ أَوْ عِنْدَ الْجَنَازَةِ يَطْلُبُ الْمَاءَ , وَلَا يَتَيَمَّمُ , وَإِذَا انْتَهَى إِلَى الْجَنَازَةِ وَهُمْ يُصَلُّونَ يَدْخُلُ مَعَهمْ بِتَكْبِيرَةٍ , وَقَالَ ابْنُ الْمُسَيَّبِ: يُكَبِّرُ بِاللَّيْلِ , وَالنَّهَارِ , وَالسَّفَرِ , وَالْحَضَرِ أَرْبَعًا , وَقَالَ أَنَسٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: التَّكْبِيرَةُ الْوَاحِدَةُ اسْتِفْتَاحُ الصَّلَاةِ , وَقَالَ: وَلَا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا وَفِيهِ صُفُوفٌ وَإِمَامٌ.
‏‏‏‏ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص جنازے پر نماز پڑھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا تم اپنے ساتھی پر نماز جنازہ پڑھ لو۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نجاشی پر نماز پڑھو۔ اس کو نماز کہا اس میں نہ رکوع ہے نہ سجدہ اور نہ اس میں بات کی جا سکتی ہے اور اس میں تکبیر ہے اور سلام ہے۔ اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جنازے کی نماز نہ پڑھتے جب تک باوضو نہ ہوتے اور سورج نکلنے اور ڈوبنے کے وقت نہ پڑھتے اور جنازے کی نماز میں رفع یدین کرتے اور امام حسن بصری رحمہ اللہ نے کہا کہ میں نے بہت سے صحابہ اور تابعین کو پایا وہ جنازے کی نماز میں امامت کا زیادہ حقدار اسی کو جانتے جس کو فرض نماز میں امامت کا زیادہ حقدار سمجھتے اور جب عید کے دن یا جنازے پر وضو نہ ہو تو پانی ڈھونڈھے ‘ تیمم نہ کرے اور جب جنازے پر اس وقت پہنچے کہ لوگ نماز پڑھ رہے ہوں تو اللہ اکبر کہہ کر شریک ہو جائے۔ اور سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے کہا رات ہو یا دن ‘ سفر ہو یا حضر جنازے میں چار تکبیریں کہے۔ اور انس رضی اللہ عنہ نے کہا پہلی تکبیر جنازے کی نماز شروع کرنے کی ہے اور اللہ جل جلالہ نے (سورۃ التوبہ میں) فرمایا ان منافقوں میں جب کوئی مر جائے تو ان پر کبھی نماز نہ پڑھیو۔ اور اس میں صفیں ہیں اور امام ہوتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: Q1322]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1322
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ , قَالَ: أَخْبَرَنِي مَنْ مَرَّ مَعَ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَبْرٍ مَنْبُوذٍ: فَأَمَّنَا فَصَفَفْنَا خَلْفَهُ , فَقُلْنَا: يَا أَبَا عَمْرٍو مَنْ حَدَّثَكَ؟ , قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا.
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے شعبہ نے ‘ ان سے شیبانی نے اور ان سے شعبی نے بیان کیا کہ مجھے اس صحابی نے خبر دی تھی جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک الگ تھلگ قبر پر سے گزرا۔ وہ کہتا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری امامت کی اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صفیں بنا لیں۔ ہم نے پوچھا کہ ابوعمرو (یہ شعبی کی کنیت ہے) یہ آپ سے بیان کرنے والے کون صحابی ہیں؟ فرمایا کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1322]
حضرت شعبی رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: مجھے اس شخص نے خبر دی جس کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک ایسی قبر سے گزر ہوا جو دوسری قبروں سے الگ تھلگ ایک طرف تھی۔ (انہوں نے کہا کہ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری امامت کرائی اور ہم نے آپ کے پیچھے صف بندی کی (اور آپ کے ہمراہ نماز جنازہ ادا کی) ہم نے کہا: اے ابو عمرو! تم سے کس شخص نے یہ حدیث بیان کی تھی؟ انہوں نے جواب دیا: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1322]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
57. بَابُ فَضْلِ اتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ:
باب: جنازہ کے ساتھ جانے کی فضیلت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q1323
وَقَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: إِذَا صَلَّيْتَ فَقَدْ قَضَيْتَ الَّذِي عَلَيْكَ , وَقَالَ: حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ مَا عَلِمْنَا عَلَى الْجَنَازَةِ إِذْنًا , وَلَكِنْ مَنْ صَلَّى ثُمَّ رَجَعَ فَلَهُ قِيرَاطٌ.
‏‏‏‏ اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نماز پڑھ کر تم نے اپنا حق ادا کر دیا۔ حمید بن ہلال (تابعی) نے فرمایا کہ ہم نماز پڑھ کر اجازت لینا ضروری نہیں سمجھتے۔ جو شخص بھی نماز جنازہ پڑھے اور پھر واپس آئے تو اسے ایک قیراط کا ثواب ملتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: Q1323]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1323
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ , قَالَ: سَمِعْتُ نَافِعًا , يَقُولُ: حُدِّثَ ابْنُ عُمَرَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ , يَقُولُ: مَنْ تَبِعَ جَنَازَةً فَلَهُ قِيرَاطٌ، فَقَالَ: أَكْثَرَ أَبُو هُرَيْرَةَ عَلَيْنَا.
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا ‘ ان سے جریر بن حازم نے بیان کیا ‘ کہا کہ میں نے نافع سے سنا ‘ آپ نے بیان کیا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جو دفن تک جنازہ کے ساتھ رہے اسے ایک قیراط کا ثواب ملے گا۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ ابوہریرہ احادیث بہت زیادہ بیان کرتے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1323]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، ان سے کہا گیا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ”جو شخص جنازے کے ساتھ جائے گا اسے ایک قیراط ثواب ملے گا۔“ اس پر حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بہت زیادہ احادیث بیان کرتے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1323]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1324
فَصَدَّقَتْ يَعْنِي عَائِشَةَ أَبَا هُرَيْرَةَ وَقَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُهُ"، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: لَقَدْ فَرَّطْنَا فِي قَرَارِيطَ كَثِيرَةٍ فَرَّطْتُ ضَيَّعْتُ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ.
پھر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی عائشہ رضی اللہ عنہا نے بھی تصدیق کی اور فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ارشاد خود سنا ہے۔ اس پر ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ پھر تو ہم نے بہت سے قیراطوں کا نقصان اٹھایا۔ (سورۃ الزمر میں جو لفظ) «فرطت‏» آیا ہے اس کے یہی معنی ہیں میں نے ضائع کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1324]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی تصدیق فرمائی اور کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے ہی فرماتے سنا ہے۔ اس پر حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ہم نے تو بہت سے قیراط کا نقصان کر لیا ہے۔ قرآن کریم میں ﴿فَرَّطْتُ﴾ [سورة الزمر: 56] کے معنی ہیں: ”میں نے اللہ کا حکم ضائع کیا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1324]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
58. بَابُ مَنِ انْتَظَرَ حَتَّى تُدْفَنَ:
باب: جو شخص دفن ہونے تک ٹھہرا رہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1325
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ , قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَأَلَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , فَقَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ شَبِيبِ بْنِ سَعِيدٍ , قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا يُونُسُ , قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجُ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ شَهِدَ الْجَنَازَةَ حَتَّى يُصَلِّيَ فَلَهُ قِيرَاطٌ، وَمَنْ شَهِدَ حَتَّى تُدْفَنَ كَانَ لَهُ قِيرَاطَانِ" , قِيلَ: وَمَا الْقِيرَاطَانِ؟ , قَالَ: مِثْلُ الْجَبَلَيْنِ الْعَظِيمَيْنِ.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ میں نے ابن ابی ذئب کے سامنے یہ حدیث پڑھی ‘ ان سے ابوسعید مقبری نے بیان کیا ‘ ان سے ان کے باپ نے ‘ انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا۔ (دوسری سند) ہم سے احمد بن شبیب نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا ‘ ان سے یونس نے بیان کیا کہ ابن شہاب نے کہا کہ (مجھ سے فلاں نے یہ بھی حدیث بیان کی) اور مجھ سے عبدالرحمٰن اعرج نے بھی کہا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے جنازہ میں شرکت کی پھر نماز جنازہ پڑھی تو اسے ایک قیراط کا ثواب ملتا ہے اور جو دفن تک ساتھ رہا تو اسے دو قیراط کا ثواب ملتا ہے۔ پوچھا گیا کہ دو قیراط کتنے ہوں گے؟ فرمایا کہ دو عظیم پہاڑوں کے برابر۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1325]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص جنازے میں شریک ہوا یہاں تک کہ نماز جنازہ پڑھی تو اس کے لیے ایک قیراط کا ثواب ہے، اور جو کوئی جنازے میں اس کے دفن ہونے تک شریک رہا اسے دو قیراط ثواب ملتا ہے“۔ عرض کیا گیا کہ یہ دو قیراط کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو بڑے بڑے پہاڑوں کی مانند ہیں“۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1325]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
59. بَابُ صَلاَةِ الصِّبْيَانِ مَعَ النَّاسِ عَلَى الْجَنَائِزِ:
باب: بڑوں کے ساتھ بچوں کا بھی نماز جنازہ میں شریک ہونا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1326
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ , حَدَّثَنَا زَائِدَةُ , حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيُّ , عَنْ عَامِرٍ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , قَالَ:" أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْرًا , فَقَالُوا: هَذَا دُفِنَ أَوْ دُفِنَتِ الْبَارِحَةَ , قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: فَصَفَّنَا خَلْفَهُ ثُمَّ صَلَّى عَلَيْهَا".
ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ بن ابی بکیر نے ‘ انہوں نے کہا ہم سے زائدہ نے بیان کیا ‘ ان سے ابواسحاق شیبانی نے ‘ ان سے عامر نے ‘ ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک قبر پر تشریف لائے۔ صحابہ نے عرض کیا کہ اس میت کو گزشتہ رات دفن کیا گیا ہے۔ (صاحب قبر مرد تھا یا عورت تھی) ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ پھر ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صف بندی کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز جنازہ پڑھائی۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1326]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک قبر کے پاس تشریف لائے تو لوگوں نے عرض کیا: اسے گزشتہ رات دفن کیا گیا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ ہم نے آپ کے پیچھے صف بندی کی، پھر آپ نے اس پر نماز جنازہ ادا کی۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1326]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
60. بَابُ الصَّلاَةِ عَلَى الْجَنَائِزِ بِالْمُصَلَّى وَالْمَسْجِدِ:
باب: نماز جنازہ عیدگاہ میں اور مسجد میں (ہر دو جگہ جائز ہے)۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1327
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ , حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ وَأَبِي سَلَمَةَ , أَنَّهُمَا حَدَّثَاهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ:" نَعَى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّجَاشِيَّ صَاحِبَ الْحَبَشَةِ يَوْمَ الَّذِي مَاتَ فِيهِ , فَقَالَ: اسْتَغْفِرُوا لِأَخِيكُمْ".
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے لیث نے بیان کیا ‘ ان سے عقیل نے بیان کیا ‘ ان سے ابن شہاب نے بیان کیا ‘ ان سے سعید بن مسیب اور ابوسلمہ نے بیان کیا اور ان دونوں حضرات سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے روایت کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حبشہ کے نجاشی کی وفات کی خبر دی ‘ اسی دن جس دن ان کا انتقال ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے بھائی کے لیے اللہ سے مغفرت چاہو۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1327]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حبشہ کے فرمانروا نجاشی کے فوت ہونے کی خبر اسی دن سنائی جس دن وہ فوت ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے بھائی کے لیے استغفار کرو۔“ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1327]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1328
وَعَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَفَّ بِهِمْ بِالْمُصَلَّى فَكَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعًا.
‏‏‏‏ اور ابن شہاب سے یوں بھی روایت ہے انہوں نے کہا کہ مجھ سے سعید بن مسیب نے بیان کیا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدگاہ میں صف بندی کرائی پھر (نماز جنازہ کی) چار تکبیریں کہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1328]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عید گاہ میں لوگوں کی صف بندی کی اور اس (نجاشی) پر چار تکبیریں کہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1328]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1329
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا أَبُو ضَمْرَةَ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا،" أَنَّ الْيَهُودَ جَاءُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ مِنْهُمْ , وَامْرَأَةٍ زَنَيَا , فَأَمَرَ بِهِمَا فَرُجِمَا قَرِيبًا مِنْ مَوْضِعِ الْجَنَائِزِ عِنْدَ الْمَسْجِدِ".
ہم سے ابراہیم بن منذر نے بیان کیا، ان سے ابوضمرہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ یہود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور میں اپنے ہم مذہب ایک مرد اور عورت کا، جنہوں نے زنا کیا تھا، مقدمہ لے کر آئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے مسجد کے نزدیک نماز جنازہ پڑھنے کی جگہ کے پاس انہیں سنگسار کر دیا گیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1329]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ یہودی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک مرد اور عورت کو لے کر آئے جنہوں نے بدکاری کا ارتکاب کیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رجم کرنے کا حکم دیا، چنانچہ مسجد کے پاس جنازے پڑھانے کی جگہ کے قریب انہیں سنگسار کیا گیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1329]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں