صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
75. بَابُ مَنْ يُقَدَّمُ فِي اللَّحْدِ:
باب: بغلی قبر میں کون آگے رکھا جائے۔
حدیث نمبر: Q1347
وَسُمِّيَ اللَّحْدَ لِأَنَّهُ فِي نَاحِيَةٍ وَكُلُّ جَائِرٍ مُلْحِدٌ مُلْتَحَدًا مَعْدِلًا وَلَوْ كَانَ مُسْتَقِيمًا كَانَ ضَرِيحًا.
امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ بغلی قبر کو لحد اس لیے کہا گیا کہ یہ ایک کونے میں ہوتی ہے اور ہر «جائر» (اپنی جگہ سے ہٹی ہوئی چیز) کو ملحد کہیں گے۔ اسی سے ہے (سورۃ الکہف میں) لفظ «ملتحدا» یعنی پناہ کا کونہ اور اگر قبر سیدھی (صندوقی) ہو تو اسے «ضريح» کہتے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: Q1347]
حدیث نمبر: 1347
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَجْمَعُ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ مِنْ قَتْلَى أُحُدٍ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، ثُمَّ يَقُولُ: أَيُّهُمْ أَكْثَرُ أَخْذًا لِلْقُرْآنِ؟، فَإِذَا أُشِيرَ لَهُ إِلَى أَحَدِهِمَا قَدَّمَهُ فِي اللَّحْدِ , وَقَالَ: أَنَا شَهِيدٌ عَلَى هَؤُلَاءِ، وَأَمَرَ بِدَفْنِهِمْ بِدِمَائِهِمْ، وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِمْ، وَلَمْ يُغَسِّلْهُمْ".
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہمیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی ‘ انہوں نے کہا کہ ہمیں لیث بن سعد نے خبر دی۔ انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابن شہاب نے بیان کیا ‘ ان سے عبدالرحمٰن بن کعب بن مالک نے اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احد کے دو دو شہید مردوں کو ایک ہی کپڑے میں کفن دیتے اور پوچھتے کہ ان میں قرآن کس نے زیادہ یاد کیا ہے، پھر جب کسی ایک طرف اشارہ کر دیا جاتا تو لحد میں اسی کو آگے بڑھاتے اور فرماتے جاتے کہ میں ان پر گواہ ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خون سمیت انہیں دفن کرنے کا حکم دیا، نہ ان کی نماز جنازہ پڑھی اور نہ انہیں غسل دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1347]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شہدائے احد میں سے دو دو آدمیوں کو ایک کپڑے میں جمع کرتے تھے، پھر فرماتے: ”ان میں سے کس کو قرآن زیادہ یاد ہے؟“ جب ان دونوں میں سے ایک کی طرف اشارہ کیا جاتا تو اسے لحد میں آگے کرتے اور فرماتے: ”میں ان پر گواہ ہوں۔“ نیز انہیں خون سمیت دفن کرنے کا حکم دیا اور ان پر نماز جنازہ نہ پڑھی اور نہ انہیں غسل ہی دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1347]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1348
أَخْبَرَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِقَتْلَى أُحُدٍ: أَيُّ هَؤُلَاءِ أَكْثَرُ أَخْذًا لِلْقُرْآنِ؟ , فَإِذَا أُشِيرَ لَهُ إِلَى رَجُلٍ قَدَّمَهُ فِي اللَّحْدِ قَبْلَ صَاحِبِهِ، وَقَالَ جَابِرٌ: فَكُفِّنَ أَبِي وَعَمِّي فِي نَمِرَةٍ وَاحِدَةٍ.
پھر ہمیں امام اوزاعی نے خبر دی۔ انہیں زہری نے اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پوچھتے جاتے تھے کہ ان میں قرآن زیادہ کس نے حاصل کیا ہے؟ جس کی طرف اشارہ کر دیا جاتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم لحد میں اسی کو دوسرے سے آگے بڑھاتے۔ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میرے والد اور چچا کو ایک ہی کمبل میں کفن دیا گیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1348]
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شہدائے احد کے متعلق فرماتے تھے: ”ان میں سے کس کو قرآن زیادہ یاد ہے؟“ جب کسی آدمی کی طرف اشارہ کیا جاتا تو اسے لحد میں اس کے ساتھی سے پہلے رکھتے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میرے والد گرامی اور چچا محترم کو ایک ہی سفید و سیاہ دھاری دار موٹی چادر میں کفن دیا گیا تھا۔ سلیمان بن کثیر بیان کرتے ہیں کہ مجھے زہری نے خبر دی، انہوں نے کہا: مجھے اس نے بتایا جس نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے سنا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1348]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: Q1349
وَقَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ: حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ جَابِرًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.
اور سلیمان بن کثیر نے بیان کیا کہ مجھ سے زہری نے بیان کیا ‘ ان سے اس شخص نے بیان کیا جنہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: Q1349]
76. بَابُ الإِذْخِرِ وَالْحَشِيشِ فِي الْقَبْرِ:
باب: اذخر اور سوکھی گھاس قبر میں بچھانا۔
حدیث نمبر: 1349
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَوْشَبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" حَرَّمَ اللَّهُ مَكَّةَ فَلَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِي وَلَا لِأَحَدٍ بَعْدِي، أُحِلَّتْ لِي سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ لَا يُخْتَلَى خَلَاهَا، وَلَا يُعْضَدُ شَجَرُهَا، وَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهَا، وَلَا تُلْتَقَطُ لُقَطَتُهَا إِلَّا لِمُعَرِّفٍ"، فَقَالَ الْعَبَّاسُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: إِلَّا الْإِذْخِرَ لِصَاغَتِنَا وَقُبُورِنَا؟، فَقَالَ: إِلَّا الْإِذْخِرَ، وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لِقُبُورِنَا وَبُيُوتِنَا، وَقَالَ أَبَانُ بْنُ صَالِحٍ: عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ، وَقَالَ مُجَاهِدٌ: عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا لِقَيْنِهِمْ وَبُيُوتِهِمْ.
ہم سے محمد بن عبداللہ بن حوشب نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے عبدالوہاب نے بیان کیا۔ کہا ہم سے خالد حذاء نے ‘ ان سے عکرمہ نے ‘ ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مکہ کو حرم کیا ہے۔ نہ مجھ سے پہلے کسی کے لیے (یہاں قتل و خون) حلال تھا اور نہ میرے بعد ہو گا اور میرے لیے بھی تھوڑی دیر کے لیے (فتح مکہ کے دن) حلال ہوا تھا۔ پس نہ اس کی گھاس اکھاڑی جائے نہ اس کے درخت قلم کئے جائیں۔ نہ یہاں کے جانوروں کو (شکار کے لیے) بھگایا جائے اور سوا اس شخص کے جو اعلان کرنا چاہتا ہو (کہ یہ گری ہوئی چیز کس کی ہے) کسی کے لیے وہاں سے کوئی گری ہوئی چیز اٹھانی جائز نہیں۔ اس پر عباس رضی اللہ عنہ نے کہا ”لیکن اس سے اذخر کا استثناء کر دیجئیے کہ یہ ہمارے سناروں کے اور ہماری قبروں میں کام آتی ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مگر اذخر کی اجازت ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت میں ہے۔ ”ہماری قبروں اور گھروں کے لیے۔“ اور ابان بن صالح نے بیان کیا ‘ ان سے حسن بن مسلم نے ‘ ان سے صفیہ بنت شیبہ نے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح سنا تھا۔ اور مجاہد نے طاؤس کے واسطہ سے بیان کیا اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ الفاظ بیان کئے۔ ہمارے قین (لوہاروں) اور گھروں کے لیے (اذخر اکھاڑنا حرم سے) جائز کر دیجئیے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1349]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے مکہ مکرمہ کو حرام قرار دیا ہے۔ مجھ سے پہلے بھی کسی کے لیے حلال نہیں ہوا اور نہ میرے بعد ہی کسی کے لیے حلال ہو گا۔ میرے لیے بھی دن کے کچھ حصے میں حلال کیا گیا تھا، اس بنا پر نہ تو اس کی تازہ گھاس کو اکھاڑا جائے اور نہ اس کے درخت ہی کاٹے جائیں، نیز اس کے شکار کو بھی خوفزدہ نہ کیا جائے اور نہ اس کی گری پڑی چیز ہی کو اٹھایا جائے، ہاں! اس کے متعلق اعلان کرنے والا اٹھا سکتا ہے۔“ اس پر حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ اذخر گھاس تو ہمارے زرگروں اور ہماری قبروں کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ آپ نے فرمایا: ”ہاں! اذخر گھاس (اس سے مستثنیٰ ہے)۔“ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہوئے فرمایا: ”خشک گھاس ہماری قبروں اور ہمارے گھر کے لیے ہے۔“ حضرت صفیہ بنت شیبہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح سنا ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بروایت مجاہد یہ الفاظ منقول ہیں کہ خشک گھاس ان کے لوہاروں اور گھروں کے لیے ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1349]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
77. بَابُ هَلْ يُخْرَجُ الْمَيِّتُ مِنَ الْقَبْرِ وَاللَّحْدِ لِعِلَّةٍ:
باب: باب کہ میت کو کسی خاص وجہ سے قبر یا لحد سے باہر نکالا جا سکتا ہے؟
حدیث نمبر: 1350
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ عَمْرٌو سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , قَالَ:" أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَيٍّ بَعْدَ مَا أُدْخِلَ حُفْرَتَهُ، فَأَمَرَ بِهِ فَأُخْرِجَ، فَوَضَعَهُ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، وَنَفَثَ عَلَيْهِ مِنْ رِيقِهِ، وَأَلْبَسَهُ قَمِيصَهُ"، فَاللَّهُ أَعْلَمُ , وَكَانَ كَسَا عَبَّاسًا قَمِيصًا، قَالَ سُفْيَانُ: وَقَالَ أَبُو هَارُونَ: وَكَانَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَمِيصَانِ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلْبِسْ أَبِي قَمِيصَكَ الَّذِي يَلِي جِلْدَكَ؟ قَالَ سُفْيَانُ: فَيُرَوْنَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلْبَسَ عَبْدَ اللَّهِ قَمِيصَهُ مُكَافَأَةً لِمَا صَنَعَ.
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے سفیان نے بیان کیا ‘ عمرو نے کہا کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا ‘ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو عبداللہ بن ابی (منافق) کو اس کی قبر میں ڈالا جا چکا تھا۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد پر اسے قبر سے نکال لیا گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے گھٹنوں پر رکھ کر لعاب دہن اس کے منہ میں ڈالا اور اپنا کرتہ اسے پہنایا۔ اب اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ (غالباً مرنے کے بعد ایک منافق کے ساتھ اس احسان کی وجہ یہ تھی کہ) انہوں نے عباس رضی اللہ عنہ کو ایک قمیص پہنائی تھی (غزوہ بدر میں جب عباس رضی اللہ عنہ مسلمانوں کے قیدی بن کر آئے تھے) سفیان نے بیان کیا کہ ابوہارون موسیٰ بن ابی عیسیٰ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے استعمال میں دو کرتے تھے۔ عبداللہ کے لڑکے (جو مومن مخلص تھے رضی اللہ عنہ) نے کہا کہ یا رسول اللہ! میرے والد کو آپ وہ قمیص پہنا دیجئیے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسد اطہر کے قریب رہتی ہے۔ سفیان نے کہا لوگ سمجھتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا کرتہ اس کے کرتے کے بدل پہنا دیا جو اس نے عباس رضی اللہ عنہ کو پہنایا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1350]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی کے پاس آئے جبکہ اسے قبر میں داخل کر دیا گیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نکالنے کا حکم دیا۔ چنانچہ اسے باہر نکالا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے گھٹنوں پر رکھ لیا اور اس کے منہ میں اپنا لعابِ مبارک ڈالا، نیز اسے اپنی قمیص پہنائی۔ ویسے تو اس کی وجہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے، البتہ اس نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو اپنی قمیص پہنائی تھی۔ ابو ہارون کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بدن پر دو قمیصیں تھیں اور حضرت عبداللہ بن عبداللہ بن ابی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے باپ کو نیچے والی قمیص پہنائیں جو آپ کے بدن سے لگ چکی ہے۔ سفیان رحمہ اللہ نے کہا: لوگوں کے خیال کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رئیس المنافقین عبداللہ کو قمیص بدلہ چکانے کے لیے پہنائی تھی، کیونکہ اس نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو پہنائی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1350]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1351
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ: لَمَّا حَضَرَ أُحُدٌ دَعَانِي أَبِي مِنَ اللَّيْلِ , فَقَالَ:" مَا أُرَانِي إِلَّا مَقْتُولًا فِي أَوَّلِ مَنْ يُقْتَلُ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنِّي لَا أَتْرُكُ بَعْدِي أَعَزَّ عَلَيَّ مِنْكَ غَيْرَ نَفْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنَّ عَلَيَّ دَيْنًا فَاقْضِ , وَاسْتَوْصِ بِأَخَوَاتِكَ خَيْرًا , فَأَصْبَحْنَا فَكَانَ أَوَّلَ قَتِيلٍ , وَدُفِنَ مَعَهُ آخَرُ فِي قَبْرٍ، ثُمَّ لَمْ تَطِبْ نَفْسِي أَنْ أَتْرُكَهُ مَعَ الْآخَرِ فَاسْتَخْرَجْتُهُ بَعْدَ سِتَّةِ أَشْهُرٍ، فَإِذَا هُوَ كَيَوْمِ وَضَعْتُهُ هُنَيَّةً غَيْرَ أُذُنِهِ".
ہم سے مسدد نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم کو بشر بن مفضل نے خبر دی ‘ کہا کہ ہم سے حسین معلم نے بیان کیا ‘ ان سے عطاء بن ابی رباح نے ‘ ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب جنگ احد کا وقت قریب آ گیا تو مجھے میرے باپ عبداللہ نے رات کو بلا کر کہا کہ مجھے ایسا دکھائی دیتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سب سے پہلا مقتول میں ہی ہوں گا اور دیکھو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا دوسرا کوئی مجھے (اپنے عزیزوں اور وارثوں میں) تم سے زیادہ عزیز نہیں ہے ‘ میں مقروض ہوں اس لیے تم میرا قرض ادا کر دینا اور اپنی (نو) بہنوں سے اچھا سلوک کرنا۔ چنانچہ جب صبح ہوئی تو سب سے پہلے میرے والد ہی شہید ہوئے۔ قبر میں آپ کے ساتھ میں نے ایک دوسرے شخص کو بھی دفن کیا تھا۔ پر میرا دل نہیں مانا کہ انہیں دوسرے صاحب کے ساتھ یوں ہی قبر میں رہنے دوں۔ چنانچہ چھ مہینے کے بعد میں نے ان کی لاش کو قبر سے نکالا دیکھا تو صرف کان تھوڑا سا گلنے کے سوا باقی سارا جسم اسی طرح تھا جیسے دفن کیا گیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1351]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ جب احد کا واقعہ پیش آیا تو میرے والد گرامی حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے مجھے اس رات بلایا اور فرمایا کہ میرے گمان کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے جو شہید ہوں گے، ان میں پہلا مقتول میں خود ہوں گا اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ کریمہ کے سوا اپنے بعد کسی کو تجھ سے زیادہ عزیز نہیں چھوڑ رہا ہوں، مجھ پر قرض ہے، اسے ادا کر دینا اور اپنی بہنوں سے اچھا برتاؤ کرنا۔ صبح ہوئی تو سب سے پہلے شہید ہونے والے وہی تھے، چنانچہ ان کے ساتھ قبر میں ایک دوسرے شہید کو بھی دفن کر دیا گیا، لیکن میرے دل کو یہ بات اچھی نہ لگی کہ میں اپنے والد گرامی کو دوسرے شخص کے ساتھ چھوڑ دوں، اس لیے میں نے چھ ماہ بعد انہیں قبر سے نکال لیا، وہ اسی طرح تھے جس طرح میں نے انہیں دفن کیا تھا، صرف کان کا تھوڑا سا حصہ متاثر ہوا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1351]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1352
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ:" دُفِنَ مَعَ أَبِي رَجُلٌ، فَلَمْ تَطِبْ نَفْسِي حَتَّى أَخْرَجْتُهُ، فَجَعَلْتُهُ فِي قَبْرٍ عَلَى حِدَةٍ".
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے سعید بن عامر نے بیان کیا ‘ ان سے شعبہ نے ‘ ان سے ابن ابی نجیح نے ‘ ان سے عطاء بن ابی رباح اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میرے باپ کے ساتھ ایک ہی قبر میں ایک اور صحابی (جابر رضی اللہ عنہ کے چچا) دفن تھے۔ لیکن میرا دل اس پر راضی نہیں ہو رہا تھا۔ اس لیے میں نے ان کی لاش نکال کر دوسری قبر میں دفن کر دی۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1352]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میرے والد گرامی کے ہمراہ ایک اور شہید بھی دفن کیا گیا تھا، لیکن میری طبیعت کو یہ پسند نہ آیا، اس لیے میں نے انہیں نکالا اور علیحدہ قبر میں دفن کر دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1352]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
78. بَابُ اللَّحْدِ وَالشَّقِّ فِي الْقَبْرِ:
باب: بغلی یا صندوقی قبر بنانا۔
حدیث نمبر: 1353
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ , قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْمَعُ بَيْنَ رَجُلَيْنِ مِنْ قَتْلَى أُحُدٍ، ثُمَّ يَقُولُ: أَيُّهُمْ أَكْثَرُ أَخْذًا لِلْقُرْآنِ؟، فَإِذَا أُشِيرَ لَهُ إِلَى أَحَدِهِمَا قَدَّمَهُ فِي اللَّحْدِ , فَقَالَ: أَنَا شَهِيدٌ عَلَى هَؤُلَاءِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَأَمَرَ بِدَفْنِهِمْ بِدِمَائِهِمْ، وَلَمْ يُغَسِّلْهُمْ".
ہم سے عبدان نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہمیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی ‘ انہوں نے کہا ہمیں لیث بن سعد نے خبر دی ‘ انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابن شہاب نے بیان کیا۔ ان سے عبدالرحمٰن بن کعب بن مالک نے ‘ اور ان سے جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ احد کے شہداء کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک کفن میں دو دو کو ایک ساتھ کر کے پوچھتے تھے کہ قرآن کس کو زیادہ یاد تھا۔ پھر جب کسی ایک کی طرف اشارہ کر دیا جاتا تو بغلی قبر میں اسے آگے کر دیا جاتا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے کہ میں قیامت کو ان (کے ایمان) پر گواہ بنوں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بغیر غسل دئیے خون سمیت دفن کرنے کا حکم دیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1353]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شہدائے احد میں سے دو دو آدمیوں کو (ایک قبر کے لیے) جمع کرتے، پھر فرماتے: ”ان میں سے کس کو قرآن زیادہ یاد ہے؟“ جب ان میں سے کسی ایک کی طرف اشارہ کیا جاتا تو اسے لحد میں آگے رکھتے اور فرماتے: ”میں قیامت کے دن ان لوگوں کے متعلق گواہی دوں گا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ان کے خون سمیت ہی دفن کرنے کا حکم فرمایا اور انہیں غسل بھی نہ دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1353]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
79. بَابُ إِذَا أَسْلَمَ الصَّبِيُّ فَمَاتَ هَلْ يُصَلَّى عَلَيْهِ وَهَلْ يُعْرَضُ عَلَى الصَّبِيِّ الإِسْلاَمُ:
باب: ایک بچہ اسلام لایا پھر اس کا انتقال ہو گیا، تو کیا اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی؟ اور کیا بچے کے سامنے اسلام کی دعوت پیش کی جا سکتی ہے؟
حدیث نمبر: Q1354
وَقَالَ الْحَسَنُ وَشُرَيْحٌ وَإِبْرَاهِيمُ وَقَتَادَةُ إِذَا أَسْلَمَ أَحَدُهُمَا فَالْوَلَدُ مَعَ الْمُسْلِمِ وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا مَعَ أُمِّهِ مِنَ الْمُسْتَضْعَفِينَ , وَلَمْ يَكُنْ مَعَ أَبِيهِ عَلَى دِينِ قَوْمِهِ , وَقَالَ الْإِسْلَامُ: يَعْلُو وَلَا يُعْلَى.
حسن ‘ شریح ‘ ابراہیم اور قتادہ رحمہم اللہ نے کہا کہ والدین میں سے جب کوئی اسلام لائے تو ان کا بچہ بھی مسلمان سمجھا جائے گا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما بھی اپنی والدہ کے ساتھ (مسلمان سمجھے گئے تھے اور مکہ کے) کمزور مسلمانوں میں سے تھے۔ آپ اپنے والد کے ساتھ نہیں تھے جو ابھی تک اپنی قوم کے دین پر قائم تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اسلام غالب رہتا ہے مغلوب نہیں ہو سکتا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: Q1354]