صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
61. بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنِ اتِّخَاذِ الْمَسَاجِدِ عَلَى الْقُبُورِ:
باب: قبروں پر مسجد بنانا مکروہ ہے۔
حدیث نمبر: Q1330
وَلَمَّا مَاتَ الْحَسَنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ضَرَبَتِ امْرَأَتُهُ الْقُبَّةَ عَلَى قَبْرِهِ سَنَةً , ثُمَّ رُفِعَتْ فَسَمِعُوا صَائِحًا , يَقُولُ: أَلَا هَلْ وَجَدُوا مَا فَقَدُوا؟ فَأَجَابَهُ الْآخَرُ بَلْ يَئِسُوا فَانْقَلَبُوا.
اور جب حسن بن حسن بن علی رضی اللہ عنہم فوت ہوئے تو ان کی بیوی (فاطمہ بنت حسین) نے ایک سال تک قبر پر خیمہ لگائے رکھا۔ آخر خیمہ اٹھایا گیا تو لوگوں نے ایک آواز سنی ”کیا ان لوگوں نے جن کو کھویا تھا ‘ ان کو پایا؟ دوسرے نے جواب دیا نہیں بلکہ ناامید ہو کر لوٹ گئے“۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: Q1330]
حدیث نمبر: 1330
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ شَيْبَانَ، عَنْ هِلَالٍ هُوَ الْوَزَّانُ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ:" لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ، وَالنَّصَارَى اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسْجِدًا"، قَالَتْ: وَلَوْلَا ذَلِكَ لَأَبْرَزُوا قَبْرَهُ غَيْرَ أَنِّي أَخْشَى أَنْ يُتَّخَذَ مَسْجِدًا.
ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا ‘ ان سے شیبان نے ‘ ان سے ہلال وزان نے ‘ ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مرض وفات میں فرمایا کہ یہود اور نصاریٰ پر اللہ کی لعنت ہو کہ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مساجد بنا لیا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ اگر ایسا ڈر نہ ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کھلی رہتی (اور حجرہ میں نہ ہوتی) کیونکہ مجھے ڈر اس کا ہے کہ کہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر بھی مسجد نہ بنا لی جائے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1330]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مرضِ وفات میں فرمایا: ”اللہ تعالیٰ یہود و نصاریٰ پر لعنت کرے کہ انھوں نے اپنے پیغمبروں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: اگر یہ ڈر نہ ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک کو بالکل ظاہر کر دیا جاتا، مگر مجھے اندیشہ ہے کہ مبادا اسے بھی سجدہ گاہ بنا لیا جائے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1330]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
62. بَابُ الصَّلاَةِ عَلَى النُّفَسَاءِ إِذَا مَاتَتْ فِي نِفَاسِهَا:
باب: اگر کسی عورت کا نفاس کی حالت میں انتقال ہو جائے تو اس پر نماز جنازہ پڑھنا۔
حدیث نمبر: 1331
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ , عَنْ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ:" صَلَّيْتُ وَرَاءَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى امْرَأَةٍ مَاتَتْ فِي نِفَاسِهَا فَقَامَ عَلَيْهَا وَسَطَهَا".
ہم سے مسدد نے بیان کیا۔ کہا کہ ہم سے یزید ین زریع نے ‘ ان سے حسین معلم نے ‘ ان سے عبداللہ بن بریدہ نے ‘ ان سے سمرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں ایک عورت (ام کعب) کی نماز جنازہ پڑھی تھی جس کا نفاس میں انتقال ہو گیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی کمر کے مقابل کھڑے ہوئے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1331]
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ایک ایسی عورت کی نمازِ جنازہ پڑھی جو دورانِ زچگی فوت ہوئی تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے درمیان میں کھڑے ہوئے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1331]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
63. بَابُ أَيْنَ يَقُومُ مِنَ الْمَرْأَةِ وَالرَّجُلِ:
باب: اس بارے میں کہ عورت اور مرد کی نماز جنازہ میں کہاں کھڑا ہوا جائے؟
حدیث نمبر: 1332
حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مَيْسَرَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ، حَدَّثَنَا سَمُرَةُ بْنُ جُنْدَبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ:" صَلَّيْتُ وَرَاءَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى امْرَأَةٍ مَاتَتْ فِي نِفَاسِهَا فَقَامَ عَلَيْهَا وَسَطَهَا".
ہم سے عمران بن میسرہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا ‘ ان سے حسین نے بیان کیا اور ان سے ابن بریدہ نے کہ ہم سے سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ایک عورت کی نماز جنازہ پڑھی تھی جس کا زچگی کی حالت میں انتقال ہو گیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بیچ میں کھڑے ہوئے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1332]
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ایک عورت کی نمازِ جنازہ پڑھی جو بحالتِ نفاس فوت ہو گئی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے وسط میں کھڑے ہوئے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1332]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
64. بَابُ التَّكْبِيرِ عَلَى الْجَنَازَةِ أَرْبَعًا:
باب: نماز جنازہ میں چار تکبیریں کہنا۔
حدیث نمبر: Q1333
وَقَالَ حُمَيْدٌ صَلَّى بِنَا أَنَسٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , فَكَبَّرَ ثَلَاثًا , ثُمَّ سَلَّمَ فَقِيلَ لَهُ: فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ , ثُمَّ كَبَّرَ الرَّابِعَةَ ثُمَّ سَلَّمَ.
اور حمید طویل نے بیان کیا کہ ہمیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھائی تو تین تکبیریں کہیں پھر سلام پھیر دیا۔ اس پر انہیں لوگوں نے یاد دہانی کرائی تو دوبارہ قبلہ رخ ہو کر چوتھی تکبیر بھی کہی پھر سلام پھیرا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: Q1333]
حدیث نمبر: 1333
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَى النَّجَاشِيَّ فِي الْيَوْمِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، وَخَرَجَ بِهِمْ إِلَى الْمُصَلَّى فَصَفَّ بِهِمْ وَكَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعَ تَكْبِيرَاتٍ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہمیں امام مالک رحمہ اللہ نے خبر دی ‘ انہیں ابن شہاب نے ‘ انہیں سعید بن مسیب نے ‘ انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نجاشی کا جس دن انتقال ہوا اسی دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی وفات کی خبر دی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کے ساتھ عیدگاہ گئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صف بندی کرائی اور چار تکبیریں کہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1333]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جس دن حبشہ کے بادشاہ نجاشی کی وفات ہوئی تو اسی روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ان کے فوت ہونے کی خبر سنائی، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ہمراہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عید گاہ تشریف لے گئے، ان کی صف بندی کی اور ان کی نماز جنازہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار تکبیریں کہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1333]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1334
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ، حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى أَصْحَمَةَ النَّجَاشِيِّ فَكَبَّرَ أَرْبَعًا"، وَقَالَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ: عَنْ سَلِيمٍ أَصْحَمَةَ، وَتَابَعَهُ عَبْدُ الصَّمَدِ.
ہم سے محمد بن سنان نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے سلیم بن حیان نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے سعید بن میناء نے بیان کیا اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اصحمہ نجاشی کی نماز جنازہ پڑھائی تو چار تکبیریں کہیں۔ یزید بن ہارون واسطی اور عبدالصمد نے سلیم سے اصحمہ نام نقل کیا ہے اور عبدالصمد نے اس کی متابعت کی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1334]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اصحمہ نجاشی کی نماز جنازہ پڑھی تو چار تکبیریں کہیں۔ یزید بن ہارون اور عبدالصمد نے بھی سلیم بن حیان سے اصحمہ بیان کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1334]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
65. بَابُ قِرَاءَةِ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ عَلَى الْجَنَازَةِ:
باب: نماز جنازہ میں سورۃ فاتحہ پڑھنا (ضروری ہے)۔
حدیث نمبر: Q1335
وَقَالَ الْحَسَنُ يَقْرَأُ عَلَى الطِّفْلِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ , وَيَقُولُ: اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ لَنَا فَرَطًا وَسَلَفًا وَأَجْرًا.
اور امام حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا کہ بچے کی نماز جنازہ میں پہلے سورۃ فاتحہ پڑھی جائے پھر یہ دعا پڑھی جائے «اللهم اجعله لنا فرطا وسلفا وأجرا» یا اللہ! اس بچے کو ہمارا امیر ساماں اور آگے چلنے والا ‘ ثواب دلانے والا کر دے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: Q1335]
حدیث نمبر: 1335
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدٍ، عَنْ طَلْحَةَ , قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ , قَالَ:" صَلَّيْتُ خَلْفَ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَلَى جَنَازَةٍ، فَقَرَأَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ , قَالَ: لِيَعْلَمُوا أَنَّهَا سُنَّةٌ.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا۔ کہا کہ ہم سے غندر (محمد بن جعفر) نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ ان سے سعد بن ابراہیم نے اور ان سے طلحہ نے کہا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کی اقتداء میں نماز (جنازہ) پڑھی (دوسری سند) ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہمیں سفیان ثوری نے خبر دی ‘ انہیں سعد بن ابراہیم نے ‘ انہیں طلحہ بن عبداللہ بن عوف نے ‘ انہوں نے بتلایا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پیچھے نماز جنازہ پڑھی تو آپ نے سورۃ فاتحہ (ذرا پکار کر) پڑھی۔ پھر فرمایا کہ تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ یہی طریقہ نبوی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1335]
حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پیچھے نماز جنازہ پڑھی۔ اس میں آپ نے سورہ فاتحہ کی قراءت فرمائی۔ فراغت کے بعد فرمایا (کہ میں نے اس لیے پڑھی ہے) تاکہ تمہیں اس کے سنت ہونے کا علم ہو جائے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1335]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
66. بَابُ الصَّلاَةِ عَلَى الْقَبْرِ بَعْدَ مَا يُدْفَنُ:
باب: مردہ کو دفن کرنے کے بعد قبر پر نماز جنازہ پڑھنا۔
حدیث نمبر: 1336
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , قَالَ: حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ الشَّيْبَانِيُّ , قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ , قَالَ:" أَخْبَرَنِي مَنْ مَرَّ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَبْرٍ مَنْبُوذٍ فَأَمَّهُمْ وَصَلَّوْا خَلْفَهُ"، قُلْتُ: مَنْ حَدَّثَكَ هَذَا يَا أَبَا عَمْرٍو؟ قَالَ: ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا.
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے سلیمان شیبانی نے بیان کیا ‘ کہا کہ میں نے شعبی سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ مجھے اس صحابی نے خبر دی جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک الگ تھلگ قبر سے گزرے تھے۔ قبر پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم امام بنے اور صحابہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز جنازہ پڑھی۔ شیبانی نے کہا کہ میں نے شعبی سے پوچھا کہ ابوعمرو! یہ آپ سے کس صحابی نے بیان کیا تھا تو انہوں نے بتلایا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1336]
حضرت شعبی رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: مجھے اس شخص نے حدیث بیان کی جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک الگ تھلگ قبر کے پاس سے گزرا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں لوگوں کی امامت کی اور لوگوں نے آپ کے پیچھے نماز (جنازہ) پڑھی۔ شیبانی کہتے ہیں: میں نے ابو عمرو شعبی رحمہ اللہ سے دریافت کیا: آپ کو یہ حدیث کس نے بیان کی تھی؟ انہوں نے فرمایا: مجھے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس کے متعلق بتایا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1336]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة