صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
49. بَابُ مَنْ قَامَ لِجَنَازَةِ يَهُودِيٍّ:
باب: اس شخص کے بارے میں جو یہودی کا جنازہ دیکھ کر کھڑا ہو گیا۔
حدیث نمبر: 1313
وَقَالَ أَبُو حَمْزَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ عَمْرٍو، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى , قَالَ: كُنْتُ مَعَ قَيْسٍ وسَهْلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , فَقَالَا: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ زَكَرِيَّاءُ: عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى: كَانَ أَبُو مَسْعُودٍ وقَيْسٌ يَقُومَانِ لِلْجَنَازَةِ.
اور ابوحمزہ نے اعمش سے بیان کیا ‘ ان سے عمرو نے ‘ ان سے ابن ابی لیلیٰ نے کہ میں قیس اور سہل رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا۔ ان دونوں نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ اور زکریا نے کہا ان سے شعبی نے اور ان سے ابن ابی لیلیٰ نے کہ ابومسعود اور قیس رضی اللہ عنہما جنازہ کے لیے کھڑے ہو جاتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1313]
حضرت ابن ابی لیلیٰ ہی سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں حضرت قیس اور حضرت سہل رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا، ان دونوں نے فرمایا کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے۔ ابن ابی لیلیٰ سے ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت ابو مسعود اور حضرت قیس رضی اللہ عنہما دونوں جنازے کے لیے کھڑے ہو جاتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1313]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
50. بَابُ حَمْلِ الرِّجَالِ الْجِنَازَةَ دُونَ النِّسَاءِ:
باب: اس بارے میں کہ عورتیں نہیں بلکہ مرد ہی جنازے کو اٹھائیں۔
حدیث نمبر: 1314
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" إِذَا وُضِعَتِ الْجِنَازَةُ وَاحْتَمَلَهَا الرِّجَالُ عَلَى أَعْنَاقِهِمْ، فَإِنْ كَانَتْ صَالِحَةً قَالَتْ: قَدِّمُونِي، وَإِنْ كَانَتْ غَيْرَ صَالِحَةٍ قَالَتْ: يَا وَيْلَهَا أَيْنَ يَذْهَبُونَ بِهَا يَسْمَعُ صَوْتَهَا كُلُّ شَيْءٍ، إِلَّا الْإِنْسَانَ وَلَوْ سَمِعَهُ صَعِقَ".
ہم سے عبدالعزیز نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے لیث نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے سعید مقبری نے بیان کیا ‘ ان سے ان کے باپ کیسان نے کہ انہوں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب میت چارپائی پر رکھی جاتی ہے اور مرد اسے کاندھوں پر اٹھاتے ہیں تو اگر وہ نیک ہو تو کہتا ہے کہ مجھے آگے لے چلو۔ لیکن اگر نیک نہیں تو کہتا ہے ہائے بربادی! مجھے کہاں لیے جا رہے ہو۔ اس آواز کو انسان کے سوا تمام اللہ کی مخلوق سنتی ہے۔ اگر انسان کہیں سن پائے تو بیہوش ہو جائے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1314]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب جنازہ (تیار کر کے) رکھ دیا جاتا ہے اور لوگ اسے اپنے کندھوں پر اٹھا لیتے ہیں، پھر اگر وہ نیک ہوتا ہے تو کہتا ہے: مجھے جلدی لے چلو، اور اگر نیک نہیں ہوتا تو کہتا ہے: ہائے افسوس! مجھے کہاں لیے جاتے ہو؟ اس کی آواز انسان کے علاوہ ہر چیز سنتی ہے، اگر انسان سن لے تو (مارے دہشت کے) بے ہوش ہو جائے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1314]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
51. بَابُ السُّرْعَةِ بِالْجِنَازَةِ:
باب: جنازے کو جلد لے چلنا۔
حدیث نمبر: Q1315
وَقَالَ أَنَسٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنْتُمْ مُشَيِّعُونَ وَامْشِ بَيْنَ يَدَيْهَا وَخَلْفَهَا وَعَنْ يَمِينِهَا وَعَنْ شِمَالِهَا , وَقَالَ غَيْرُهُ: قَرِيبًا مِنْهَا.
اور انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم جنازے کو پہنچا دینے والے ہو تم اس کے سامنے بھی چل سکتے ہو پیچھے بھی ‘ دائیں بھی اور بائیں بھی ‘ سب طرف چل سکتے ہو اور انس رضی اللہ عنہ کے سوا اور لوگوں نے کہا جنازے کے قریب چلنا چاہیے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: Q1315]
حدیث نمبر: 1315
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , قَالَ: حَفِظْنَاهُ مِنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" أَسْرِعُوا بِالْجِنَازَةِ فَإِنْ تَكُ صَالِحَةً فَخَيْرٌ تُقَدِّمُونَهَا إِلَيْهِ، وَإِنْ يَكُ سِوَى ذَلِكَ فَشَرٌّ تَضَعُونَهُ عَنْ رِقَابِكُمْ".
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے سفیان نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم نے زہری سے سن کر یہ حدیث یاد کی ‘ انہوں نے سعید بن مسیب سے اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جنازہ لے کر جلد چلا کرو کیونکہ اگر وہ نیک ہے تو تم اس کو بھلائی کی طرف نزدیک کر رہے ہو اور اگر اس کے سوا ہے تو ایک شر ہے جسے تم اپنی گردنوں سے اتارتے ہو۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1315]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنازے کو جلدی لے کر چلو کیونکہ اگر وہ نیک ہے تو تم اسے خیر کی طرف لے جا رہے ہو اور اگر وہ برا ہے تو بری چیز کو اپنی گردنوں سے اتار کر سبکدوش ہو جاؤ گے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1315]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
52. بَابُ قَوْلِ الْمَيِّتِ وَهُوَ عَلَى الْجِنَازَةِ قَدِّمُونِي:
باب: نیک میت چارپائی پر کہتا ہے کہ مجھے آگے بڑھائے چلو (جلد دفناؤ)۔
حدیث نمبر: 1316
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" إِذَا وُضِعَتِ الْجِنَازَةُ فَاحْتَمَلَهَا الرِّجَالُ عَلَى أَعْنَاقِهِمْ، فَإِنْ كَانَتْ صَالِحَةً قَالَتْ: قَدِّمُونِي، وَإِنْ كَانَتْ غَيْرَ صَالِحَةٍ قَالَتْ لِأَهْلِهَا: يَا وَيْلَهَا أَيْنَ يَذْهَبُونَ بِهَا , يَسْمَعُ صَوْتَهَا كُلُّ شَيْءٍ، إِلَّا الْإِنْسَانَ وَلَوْ سَمِعَ الْإِنْسَانُ لَصَعِقَ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے لیث نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے سعید مقبری نے بیان کیا۔ ان سے ان کے والد (کیسان) نے اور انہوں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ آپ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ جب میت چارپائی پر رکھی جاتی ہے اور لوگ اسے کاندھوں پر اٹھاتے ہیں اس وقت اگر وہ مرنے والا نیک ہوتا ہے تو کہتا ہے کہ مجھے جلد آگے بڑھائے چلو۔ لیکن اگر نیک نہیں ہوتا تو کہتا ہے کہ ہائے بربادی! مجھے کہاں لیے جا رہے ہو۔ اس کی یہ آواز انسان کے سوا ہر اللہ کہ مخلوق سنتی ہے۔ کہیں اگر انسان سن پائے تو بیہوش ہو جائے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1316]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب جنازہ تیار کر کے رکھ دیا جاتا ہے اور لوگ اسے اپنے کندھوں پر اٹھا لیتے ہیں تو اگر وہ نیک ہو تو کہتا ہے: مجھے جلدی آگے لے چلو اور اگر وہ نیک نہ ہو تو وہ اپنے گھر والوں سے کہتا ہے: افسوس! تم مجھے کہاں لے جا رہے ہو؟ انسانوں کے علاوہ اس کی آواز کو ہر چیز سنتی ہے۔ اگر انسان اسے سن لیں تو (مارے دہشت کے) بے ہوش ہو جائیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1316]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
53. بَابُ مَنْ صَفَّ صَفَّيْنِ أَوْ ثَلاَثَةً عَلَى الْجِنَازَةِ خَلْفَ الإِمَامِ:
باب: امام کے پیچھے جنازہ کی نماز کے لیے دو یا تین صفیں کرنا۔
حدیث نمبر: 1317
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ , عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى النَّجَاشِيِّ، فَكُنْتُ فِي الصَّفِّ الثَّانِي أَوِ الثَّالِثِ".
ہم سے مسدد نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے ابوعوانہ وضاح یشکری نے بیان کیا ‘ ان سے قتادہ نے بیان کیا ‘ ان سے عطاء نے اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاشی کی نماز جنازہ پڑھی تو میں دوسری یا تیسری صف میں تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1317]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاشی کی نماز جنازہ پڑھی اور میں دوسری یا تیسری صف میں تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1317]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
54. بَابُ الصُّفُوفِ عَلَى الْجِنَازَةِ:
باب: جنازہ کی نماز میں صفیں باندھنا۔
حدیث نمبر: 1318
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ:" نَعَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَصْحَابِهِ النَّجَاشِيَّ، ثُمَّ تَقَدَّمَ فَصَفُّوا خَلْفَهُ فَكَبَّرَ أَرْبَعًا".
ہم سے مسدد نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے معمر نے ‘ ان سے زہری نے ‘ ان سے سعید نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو نجاشی کی وفات کی خبر سنائی ‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھ گئے اور لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صفیں بنا لیں ‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار مرتبہ تکبیر کہی۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1318]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو حضرت نجاشی کے فوت ہونے کی خبر دی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے آپ کے پیچھے صفیں باندھیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار تکبیریں کہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1318]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1319
حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ، عَنْ الشَّعْبِيِّ , قَالَ: أَخْبَرَنِي مَنْ شَهِدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى عَلَى قَبْرٍ مَنْبُوذٍ فَصَفَّهُمْ , وَكَبَّرَ أَرْبَعًا"، قُلْتُ: يَا أَبَا عَمْرٍو مَنْ حَدَّثَكَ؟ قَالَ: ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا.
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے شیبانی نے ‘ ان سے شعبی نے بیان کیا کہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی نے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک قبر پر آئے جو اور قبروں سے الگ تھلگ تھی۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے صف بندی کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار تکبیریں کہیں۔ میں نے پوچھا کہ یہ حدیث آپ سے کس نے بیان کی ہے؟ انہوں نے بتایا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1319]
حضرت شعبی رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: مجھے اس شخص نے خبر دی جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک الگ تھلگ قبر پر تشریف لائے اور صحابہ رضی اللہ عنہم کی صف بندی فرمائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار تکبیریں کہیں۔ شیبانی کہتے ہیں: میں نے دریافت کیا: اے ابو عمرو! شعبی! تم سے کس نے بیان کیا؟ تو انہوں نے کہا: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے (یہ حدیث بیان کی تھی)۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1319]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1320
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ أَخْبَرَهُمْ , قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , يَقُولُ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدْ تُوُفِّيَ الْيَوْمَ رَجُلٌ صَالِحٌ مِنَ الْحَبَشِ، فَهَلُمَّ فَصَلُّوا عَلَيْهِ , قَالَ: فَصَفَفْنَا، فَصَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِ وَنَحْنُ صُفُوفٌ"، قَالَ: أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، كُنْتُ فِي الصَّفِّ الثَّانِي.
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم کو ہشام بن یوسف نے خبر دی کہ انہیں ابن جریج نے خبر دی ‘ انہوں نے بیان کیا کہ مجھے عطاء بن ابی رباح نے خبر دی ‘ انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آج حبش کے ایک مرد صالح (نجاشی حبش کے بادشاہ) کا انتقال ہو گیا ہے۔ آؤ ان کی نماز جنازہ پڑھو۔ جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر ہم نے صف بندی کر لی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی۔ ہم صف باندھے کھڑے تھے۔ ابوالزبیر نے جابر رضی اللہ عنہ کے حوالہ سے نقل کیا کہ میں دوسری صف میں تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1320]
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آج ملک حبشہ کا ایک صالح شخص فوت ہو گیا ہے، آؤ، اس کی نماز جنازہ پڑھو۔“ حضرت جابر رضی اللہ عنہما نے کہا: ہم نے صفیں درست کیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر نماز جنازہ پڑھی جبکہ ہم آپ کے پیچھے صف بستہ تھے۔ ابو زبیر حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا: میں دوسری صف میں تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1320]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
55. بَابُ صُفُوفِ الصِّبْيَانِ مَعَ الرِّجَالِ عَلَى الْجَنَائِزِ:
باب: جنازے کی نماز میں بچے بھی مردوں کے برابر کھڑے ہوں۔
حدیث نمبر: 1321
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ، عَنْ عَامِرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِقَبْرٍ قَدْ دُفِنَ لَيْلًا , فَقَالَ: مَتَى دُفِنَ هَذَا؟ , قَالُوا: الْبَارِحَةَ، قَالَ: أَفَلَا آذَنْتُمُونِي؟ , قَالُوا: دَفَنَّاهُ فِي ظُلْمَةِ اللَّيْلِ فَكَرِهْنَا أَنْ نُوقِظَكَ، فَقَامَ فَصَفَفْنَا خَلْفَهُ، قَالَ: ابْنُ عَبَّاسٍ وَأَنَا فِيهِمْ، فَصَلَّى عَلَيْهِ".
ہم سے موسیٰ ابن اسماعیل نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے عبدالواحد نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے شیبانی نے بیان کیا ‘ ان سے عامر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک قبر پر ہوا۔ میت کو ابھی رات ہی دفنایا گیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ دفن کب کیا گیا ہے؟ لوگوں نے کہا کہ گذشتہ رات۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے کیوں نہیں اطلاع کرائی؟ لوگوں نے عرض کیا کہ اندھیری رات میں دفن کیا گیا ‘ اس لیے ہم نے آپ کو جگانا مناسب نہ سمجھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صفیں بنا لیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں بھی انہیں میں تھا (نابالغ تھا لیکن) نماز جنازہ میں شرکت کی۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1321]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسی قبر کے پاس سے گزرے جس میں رات کے وقت میت کو دفن کیا گیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”اسے کب دفن کیا گیا تھا؟“ لوگوں نے عرض کیا: گزشتہ رات۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے مجھے اطلاع کیوں نہ دی؟“ لوگوں نے عرض کیا: ہم نے اسے اندھیری رات میں دفن کیا تھا اور آپ کو اس وقت بیدار کرنا مناسب خیال نہ کیا، چنانچہ آپ کھڑے ہوئے اور ہم نے آپ کے پیچھے صف بندی کی۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں بھی ان لوگوں میں شامل تھا، پھر آپ نے اس پر نماز جنازہ پڑھی۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1321]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة