سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابُ: الْعَقِيقَةِ
باب: عقیقہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 3162
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سِبَاعِ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ أُمِّ كُرْزٍ ، قَالَتْ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" عَنِ الْغُلَامِ شَاتَانِ مُتَكَافِئَتَانِ، وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ".
ام کرز رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”لڑکے کی طرف سے دو ہم عمر بکریاں ہیں، اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ہے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الذبائح/حدیث: 3162]
حضرت ام کرز رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”لڑکے کی طرف سے دو ایک جیسی بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری (عقیقہ کے طور پر ذبح کی جائے۔)““ [سنن ابن ماجه/كتاب الذبائح/حدیث: 3162]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الضحایا 21 (2835، 2836)، سنن النسائی/العقیقة 3 (4222، 4223)، (تحفة الأشراف: 17833)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الأضاحي 17 (1516)، مسند احمد (6/381، 422)، سنن الدارمی/الأضاحي 9 (2009) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: جو جانور نومولود کی طرف سے ذبح کیا جاتا ہے اسے عقیقہ کہتے ہیں، اور نومولود کے بالوں کو بھی عقیقہ کہا جاتا ہے، جو جانور کے ذبح کے وقت اتارے جاتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
حدیث نمبر: 3163
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنْ نَعُقَّ عَنِ الْغُلَامِ شَاتَيْنِ، وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةً".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا: ہم لڑکے کی طرف سے دو بکریاں اور لڑکی طرف سے ایک بکری کا عقیقہ کریں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الذبائح/حدیث: 3163]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم لڑکے کی طرف سے دو بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری عقیقہ کے طور پر ذبح کریں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الذبائح/حدیث: 3163]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الأضاحي 16 (1513)، (تحفة الأشراف: 17833)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/31، 82، 158، 251)، سنن الدارمی/الأضاحي 9 (2009) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
حدیث نمبر: 3164
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ ، عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ مَعَ الْغُلَامِ عَقِيقَةً فَأَهْرِيقُوا عَنْهُ دَمًا، وَأَمِيطُوا عَنْهُ الْأَذَى".
سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”لڑکے کا عقیقہ ہے تو تم اس کی طرف سے خون بہاؤ، اور اس سے گندگی کو دور کرو“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الذبائح/حدیث: 3164]
حضرت سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: ”بچے کے ساتھ عقیقہ ہے، چنانچہ اس کی طرف سے خون بہاؤ اور اس کا میل کچیل دور کرو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الذبائح/حدیث: 3164]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/العقیقة 2 (71 54)، سنن ابی داود/الضحایا21 (2839)، سنن الترمذی/الضحایا 17 (1515)، (تحفة الأشراف: 4485)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/العقیقة 1 (4219)، مسند احمد (4/17، 18، 214)، سنن الدارمی/الأضاحي 9 (2010) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
حدیث نمبر: 3165
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاق ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" كُلُّ غُلَامٍ مُرْتَهَنٌ بِعَقِيقَتِهِ، تُذْبَحُ عَنْهُ يَوْمَ السَّابِعِ، وَيُحْلَقُ رَأْسُهُ وَيُسَمَّى".
سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر لڑکا اپنے عقیقہ میں گروی ہے، اس کی طرف سے ساتویں دن عقیقہ کیا جائے، اس کا سر مونڈا جائے، اور نام رکھا جائے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الذبائح/حدیث: 3165]
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر لڑکا اپنے عقیقے کے بدلے گروی ہے، ساتویں دن اس کی طرف سے (عقیقے کا جانور) ذبح کیا جائے، اس کے سر کے بال اتارے جائیں اور اس کا نام رکھا جائے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الذبائح/حدیث: 3165]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الأضاحي 23 (1522)، سنن ابی داود/الضحایا 21 (2837، 2838)، سنن النسائی/العقیقة 4 (4225)، (تحفة الأشراف: 4581)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/العقیقة 2 (5472)، مسند احمد (5/7، 8، 12، 17، 18، 22)، سنن الدارمی/الأضاحي 9 (2012) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
حدیث نمبر: 3166
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّ يَزِيدَ بْنَ عَبْدٍ الْمُزَنِيَّ ، حَدَّثَهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" يُعَقُّ عَنِ الْغُلَامِ، وَلَا يُمَسُّ رَأْسُهُ بِدَمٍ".
یزید بن عبدالمزنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لڑکے کی طرف سے عقیقہ کیا جائے، اور اس کے سر میں عقیقہ کے جانور کا خون نہ لگایا جائے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الذبائح/حدیث: 3166]
حضرت یزید بن عبد مزنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لڑکے کی طرف سے عقیقہ کیا جائے، اور اس کے سر کو خون نہ لگایا جائے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الذبائح/حدیث: 3166]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11832) (صحیح) (یزید بن عبد المزنی مجہول ہے، لیکن عائشہ وبریدہ رضی اللہ عنہما کی حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: 4/ 388 / 399)»
وضاحت: ۱؎: جیسا کہ جاہلیت میں رواج تھا، سنن ابی داود کی روایت رقم (۲۸۳۷) جس میں عقیقہ کا خون بچے کے سر پر لگانے کا ذکر ہے یہ روایت منسوخ ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
2. بَابُ: الْفَرَعَةِ وَالْعَتِيرَةِ
باب: فرعہ اور عتیرہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 3167
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ ، عَنْ نُبَيْشَةَ ، قَالَ: نَادَى رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا كُنَّا نَعْتِرُ عَتِيرَةً فِي الْجَاهِلِيَّةِ فِي رَجَبٍ، فَمَا تَأْمُرُنَا؟، قَالَ:" اذْبَحُوا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي أَيِّ شَهْرٍ مَا كَانَ، وَبَرُّوا لِلَّهِ، وَأَطْعِمُوا"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا كُنَّا نُفْرِعُ فَرَعًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَمَا تَأْمُرُنَا بِهِ؟، قَالَ:" فِي كُلِّ سَائِمَةٍ فَرَعٌ تَغْذُوهُ مَاشِيَتُكَ، حَتَّى إِذَا اسْتَحْمَلَ ذَبَحْتَهُ، فَتَصَدَّقْتَ بِلَحْمِهِ أُرَهُ، قَالَ عَلَى: ابْنِ السَّبِيلِ فَإِنَّ ذَلِكَ هُوَ خَيْرٌ".
نبیشہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آواز دی اور کہا: اللہ کے رسول! ہم زمانہ جاہلیت میں ماہ رجب میں «عتیرہ» کرتے تھے، اب آپ اس سلسلے میں ہمیں کیا حکم فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس مہینے میں چاہو اللہ کے لیے قربانی کرو، اللہ تعالیٰ کے لیے نیک عمل کرو، اور (غریبوں کو) کھانا کھلاؤ“، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم لوگ زمانہ جاہلیت میں «فرع» کرتے تھے، اب آپ اس سلسلے میں ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر «سائمہ» (چرنے والے جانور) میں «فرع» ہے جس کو تمہارا جانور جنے یہاں تک کہ جب وہ بوجھ لادنے کے لائق (یعنی جوان) ہو جائے تو اسے ذبح کرو، اور اس کا گوشت (میرا خیال ہے انہوں نے کہا) مسافروں پر صدقہ کر دے تو یہ بہتر ہے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الذبائح/حدیث: 3167]
حضرت نبیشہ (بن عبداللہ ہذلی) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آواز دے کر (اپنی طرف متوجہ کیا اور) کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم زمانہ جاہلیت میں رجب کے مہینے میں عتیرہ ذبح کیا کرتے تھے، اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں کیا حکم فرماتے ہیں؟“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے نام پر ذبح کرو، چاہے کسی بھی مہینے میں ہو، اور اللہ (کی رضا) کے لیے نیکی کرو اور کھانا کھلاؤ۔“ حاضرین نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم زمانہ جاہلیت میں فرع کے نام سے جانور ذبح کیا کرتے تھے، اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا حکم ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر چرنے والے جانوروں (کے ریوڑ) میں فرع (مشروع) ہے، جو تیرے مویشی سے پیدا ہو، حتیٰ کہ جب وہ بوجھ اٹھانے (یا جفتی) کے قابل ہو جائے تو اسے ذبح کر کے اس کا گوشت مسافروں پر صدقہ کر دے، یہی بات بہتر ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الذبائح/حدیث: 3167]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الضحایا 10 (2813)، 20 (2830)، سنن النسائی/الفرع والعتیرة 1 (4235)، (تحفة الأشراف: 11586)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/75، 76)، سنن الدارمی/الأضي 6 (2001) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: «عتیرہ» رجب کی قربانی ہے، اور «فرع» جاہلیت میں جو مروج تھا وہ اونٹنی کا پہلونٹا بچہ ہوتا تھا، جس کو مشرک بتوں کے لئے ذبح کرتے تھے اور بعضوں نے کہا کہ جب سو اونٹ کسی کے پاس پورے ہو جاتے تو وہ ایک بچہ ذبج کرتا،اس کو «فرع» کہتے ہیں، اسلام میں یہ لغو ہو گیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بچہ کاٹنے سے تو یہ بہتر ہے کہ اس کو جوان ہونے دے، جب مضبوط اور تیار ہو جائے تو اس کو اس وقت ذبح کر کے مسافروں کو کھلا دیا جائے“، بعضوں نے کہا: «فرع» اور «عتیرہ» اب بھی مستحب ہے لیکن اللہ تعالی کے لئے کرنا چاہئے، اور اس حدیث سے «فرع» کا جواز نکلتا ہے، دوسری روایت میں ہے کہ جب وہ جوان ہو جائے، تو اس کو اللہ تعالی کی راہ میں دے دے تاکہ جہاد میں اس پر سواری یا بوجھ لایا جائے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
حدیث نمبر: 3168
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا فَرَعَةَ وَلَا عَتِيرَةَ"، قَالَ هِشَامٌ فِي حَدِيثِهِ: وَالْفَرَعَةُ: أَوَّلُ النَّتَاجِ، وَالْعَتِيرَةُ: الشَّاةُ يَذْبَحُهَا أَهْلُ الْبَيْتِ فِي رَجَبٍ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ «فرعہ» ہے اور نہ «عتیرہ» “ (یعنی واجب اور ضروری نہیں ہے)، ہشام کہتے ہیں: «فرعہ»: جانور کے پہلوٹے بچے کو کہتے ہیں، ۱؎ اور «عتیرہ: وہ بکری ہے جسے گھر والے رجب میں ذبح کرتے ہیں ۲؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الذبائح/حدیث: 3168]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی «فَرَعَ» (فرعہ) نہیں اور کوئی «عَتِيرَةَ» (عتیرہ) نہیں۔“ (ابن ماجہ کے استاذ) ہشام بن عمار رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: ” «الْفَرَعُ» (فرعہ) (جانور کا) پہلا بچہ ہوتا تھا اور «الْعَتِيرَةُ» (عتیرہ) اس بکری کو کہتے تھے جو گھر والے رجب میں ذبح کرتے تھے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الذبائح/حدیث: 3168]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/العقیقة 4 (5474)، صحیح مسلم/الأضاحي 6 (1976)، سنن ابی داود/الأضاحي 20 (2831)، سنن النسائی/الفرع والعتیرة (4227)، (تحفة الأشراف: 13127)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الأضاحي 15 (1512)، مسند احمد (2/239، 254، 285)، سنن الدارمی/الأضاحي 8 (2007) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: جاہلیت میں اونٹنی کے پہلوٹے بچے کو لوگ اپنے معبودوں کے نام پر ذبح کر دیا کرتے تھے اسے «فرعہ» کہتے تھے۔
۲؎: اسے «رجبیہ» بھی کہا جاتا ہے۔ یعنی وہ جانور جسے رجب کے مہینے میں ایک خاص نیت و ارادہ سے ذبح کیا جائے۔
۲؎: اسے «رجبیہ» بھی کہا جاتا ہے۔ یعنی وہ جانور جسے رجب کے مہینے میں ایک خاص نیت و ارادہ سے ذبح کیا جائے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
حدیث نمبر: 3169
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا فَرَعَةَ وَلَا عَتِيرَةَ"، قَالَ ابْن مَاجَةَ: هَذَا مِنْ فَرَائِدِ الْعَدَنِيِّ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ «فرعہ» (واجب) ہے اور نہ «عتیرہ» “۔ ابن ماجہ کہتے ہیں: یہ حدیث محمد بن ابی عمر عدنی کے تفردات میں سے ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الذبائح/حدیث: 3169]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «لَا فَرَعَ وَلَا عَتِيرَةَ» ”کوئی فرعہ نہیں اور کوئی عتیرہ نہیں۔“”ابن ماجہ رحمہ اللہ نے فرمایا: ”یہ حدیث عدنی کی نادر حدیثوں میں سے ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الذبائح/حدیث: 3169]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6648، ومصباح الزجاجة: 1096) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
3. بَابُ: إِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذَّبْحَ
باب: جب جانور ذبح کرو تو اچھی طرح ذبح کرو۔
حدیث نمبر: 3170
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ كَتَبَ الْإِحْسَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ، فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ، وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذَّبْحَ، وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ، وَلْيُرِحْ ذَبِيحَتَهُ".
شداد بن اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک اللہ عزوجل نے ہر چیز میں احسان (رحم اور انصاف) کو فرض قرار دیا ہے، پس جب تم قتل کرو تو اچھی طرح قتل کرو (تاکہ مخلوق کو تکلیف نہ ہو) اور جب ذبح کرو تو اچھی طرح ذبح کرو، اور چاہیئے کہ تم میں سے ہر ایک اپنی چھری کو تیز کر لے، اور اپنے ذبیحہ کو آرام پہنچائے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الذبائح/حدیث: 3170]
حضرت شداد بن اوس (بن ثابت) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ عزوجل نے ہر چیز پر احسان کرنا فرض کیا ہے، لہٰذا جب تم قتل کرو تو اچھے انداز سے قتل کرو اور جب تم ذبح کرو تو اچھے انداز سے ذبح کرو۔ آدمی کو چاہیے کہ اپنی چھری تیز کرے اور ذبح ہونے والے جانور کو آرام پہنچائے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الذبائح/حدیث: 3170]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصید 11 (1955)، سنن ابی داود/الأضاحي 12 (2815)، سنن الترمذی/الدیات 14 (1409)، سنن النسائی/الضحایا 21 (4410)، 26 (4419)، (تحفة الأشراف: 4817)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/123، 124، 125)، سنن الدارمی/الأضاحي10 (2013) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی ذبح کے بعد تھوڑی دیر ٹھہر جائے، یہاں تک کہ جانور ٹھنڈا ہو جائے،اس وقت کھال اتارے اور کاٹے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
حدیث نمبر: 3171
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ مُوسَى بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ وَهُوَ يَجُرُّ شَاةً بِأُذُنِهَا، فَقَالَ:" دَعْ أُذُنَهَا وَخُذْ بِسَالِفَتِهَا".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک ایسے شخص پر ہوا جو ایک بکری کا کان پکڑے اسے گھسیٹ رہا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا کان چھوڑ دو، اور اس کی گردن کی طرف پکڑ لو (تاکہ اسے تکلیف نہ ہو)“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الذبائح/حدیث: 3171]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی کے پاس سے گزرے جو ایک بکری کو کان سے پکڑ کر کھینچے لیے جا رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا کان چھوڑ دے، گردن سے پکڑ لے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الذبائح/حدیث: 3171]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4293، ومصباح الزجاجة: 1097) (ضعیف جدا)» (سند میں موسیٰ بن محمد منکر الحدیث راوی ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد جدا
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
قال أبو حاتم الرازي: ’’ ھذه أحاديث منكرة كأنھا موضوعة،وموسي(بن محمد بن إبراهيم التيمي): ضعيف الحديث جدًا و أبوه …… لم يسمع من جابر ولا أبي سعيد ‘‘ (علل الحديث 241/2 ح 2214)
وانظر الحديث الآتي (3185)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 490
إسناده ضعيف جدًا
قال أبو حاتم الرازي: ’’ ھذه أحاديث منكرة كأنھا موضوعة،وموسي(بن محمد بن إبراهيم التيمي): ضعيف الحديث جدًا و أبوه …… لم يسمع من جابر ولا أبي سعيد ‘‘ (علل الحديث 241/2 ح 2214)
وانظر الحديث الآتي (3185)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 490